180.1K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haveli (Episode 03)

Haveli by Khanzadi

شانو کمرے میں آئی ہی تھی کہ ولید بھی پیچھے چلا آیا۔۔کیا بات ہے میری بات کا جواب نہی دیا تم نے ولید مسکراتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔۔

شانو گھبرا گئی اس کا ماتھا پسینے سے بھیگ گیا۔۔اس ڈر سے کہ اگر تائی جی نے ولید کو میرے کمرے میں دیکھ لیا تو پھر سے مجھ پر غصہ ہو گی۔۔

کیا ہوا ولید شانو کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر بول پڑا۔۔ککچھ نہی میری طبیعت تھوڑی خراب تھی اسی لیے کمرے میں آ گئی۔۔۔شانو کی نظریں بار بار دروازے کی طرف جا رہی تھی۔۔

کیا ہوا کوئی آنے والا ہے کیا۔۔۔؟؟ شانو کو بار بار دروازے کی طرف دیکھتے دیکھا تو ولید بول پڑا۔۔ میں نماز پڑھ لوں۔۔شانو کمرے سے نکلنے لگی تھی کہ ولید اس کے سامنے آ گیا۔۔

شانو تم مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو یار کزن ہوں تمہارا تم تو ایسے دور بھاگتی ہو جیسے میں تمہیں کھا جاوں گا۔۔ولید کہتے ہوئے مسکرا دیا۔۔

نہی ایسی بات نہی ہے۔۔۔میں زیادہ بات چیت کرنے کی عادی نہی ہوں نہ اسی لیے اپنے کمرے میں زیادہ ٹائم گزارنا پسند کرتی ہوں میں۔۔شانو نے بہانہ بنانا چاہا۔۔۔

اچھا جب میں باہر سے آیا تب تو سب کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی تم جیسے ہی میں آ کر تمہارے ساتھ بیٹھا تو اٹھ کر اوپر آ گئی تم۔۔۔مجھے سب سمجھ آتی ہے۔۔۔میں بچہ تو نہی ہوں۔۔

اچھا لاوں دیکھوں کیا ہوا تمہاری طبیعت کو ڈاکٹر ہوں میں ابھی دیکھتا ہوں۔۔۔ولید نے جلدی سے آگے بڑھ کر شانو کے ماتھے کو چھوا تو وہ جلدی سے پیچھے ہٹی۔۔۔نہی میں ٹھیک ہوں بخار نہی ہے مجھے بس زرا سا سر درد تھا۔۔

دوائی لوں گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔چلو اب نیچے اس طرح اکیلی مت بیٹھا کرو۔۔ولید نے اسے بازو سے پکڑ کر نیچے کی طرف جانے لگا ہی تھا کہ دروازے پے ماں کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے شانو کا بازو چھوٹ گیا۔۔

آ کر کھانا کھا لو ولید وہ بس اتنا کہتے ہوئے واپس پلٹ گئی۔۔۔شانو کا چہرہ پسینے سے بھر چکا تھا جس بات کا اسے ڈر تھا وہی ہوا تھا۔۔پتہ نہی تائی جی اب کیا سوچیں گی۔۔

چلیں اب یا یہی اکیلے بیٹھنے کا ارادہ ہے۔۔میں ایک بات بتا دوں یہاں پر اکیلی بیٹھنے کی کوشش مت کرنا یہاں بھوت ہیں تمہارے کمرے میں۔۔

کککیا۔۔شانو گھبراتے ہوئے ولید کی طرف بڑھی۔۔ولید ہنسی دباتے ہوئے بولا۔۔ ہاں اب جلدی چلو یہاں سے کہتے ہوئے ولید تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔شانو بھی تیزی سے اس کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

شانو نماز پڑھ کر کھانا کھانے لگ پڑی سب کے ساتھ ولید ہنس ہنس کر سب کے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔۔۔شانو کو آتے دیکھ تائی کے چہرے کے زاویے بدلنے لگ پڑے۔۔اور یہ بات شانو نے بہت اچھی طرح محسوس کی تھی۔۔

شانو کو وہ لڑکا اور لڑکی یاد آ گئے جو اس کے کمرے کے باہر اس سے ٹکرائے تھے۔۔۔اس نے سوچا شاید کوئی مہمان آئے ہو گے گھر میں لیکن دستر خوان پر تو اسے گھر کے لوگوں کے علاوہ کوئی نظر نہی آیا۔۔

شانو نواب سے آہستہ آواز میں بولی باقی لوگ کہاں ہیں گھر میں کوئی مہمان آئے ہیں کیا رازدانہ انداز میں نواب سے بولی۔۔۔تو نواب نے حیران ہوتے ہوئے شانو کی طرف دیکھا۔۔

مہمان تو کوئی بھی نہی آیا ہمارے علاوہ۔۔۔اس گھر میں بس اتنے ہی لوگ ہیں۔۔۔یہ تمہیں بھولنے کی بیماری ہے کیا۔۔نواب ہنستے ہوئے بولا۔۔

تو پھر وہ لوگ کون تھے اوپر۔۔۔شانو خواب سی کیفیت میں بولی۔۔۔کون کہاں۔۔نواب نے حیران ہوتےہوئے پوچھا۔۔

کچھ دیر پہلے جب میں اپنے کمرے میں گئی تو میرے سامنے سے تیزی سے ایک لڑکا اور لڑکی گزرے تھے میں نے آواز دی لیکن وہ دونوں رکے ہی نہی۔۔۔

شانو کی آواز پر سب نے شانو کی طرف دیکھا۔۔اسے پتہ ہی نہی چلا کب وہ اونچی آواز میں بول پڑی۔۔

نہی بیٹا ہم نے تو کسی کو اوپر جاتے ہوئے نہی دیکھا اور نہ ہی کوئی گھر میں آیا ہے تمہیں کوئی وہم ہوا ہو گا۔۔۔

نہی تایا ابو وہ دونوں میرے ساتھ ٹکراتے ہوئے گزرے تھے جب میں نے ان کو آواز دی کہ کون ہیں آپ لوگ تو وہ لوگ رکے نہی بلکہ چھت کی طرف بھاگ گئے۔۔۔میں سمجھی شاید کوئی مہمان آئے ہیں گھر میں اسی لیے میں نے دھیان نہی دیا۔۔

لیکن چھت پر تو بارش ہو رہی ہے اتنی ٹھنڈ میں کوئی چھت پر کیوں جائے گا شانو۔۔۔تائی جی کی آواز آئی۔۔۔

لیکن تائی جی میں نے خود دیکھا ہے۔۔بس کرو شانو بیٹا ہم سب کہ رہے ہیں کہ کسی کو اوپر جاتے نہی دیکھا۔۔تو پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔چپ چاپ کھانا کھاو۔۔۔شانو کی اماں بول پڑی۔۔

جی اماں۔۔۔شانو چپ چاپ کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔۔۔اس کے ذہن میں ولید کی کچھ دیر پہلے کی بات آ گئی۔۔اس کمرے میں بھوت ہیں۔۔۔اس کا مطلب وہ بھوت تھے۔۔۔

کھانا کھا کر سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔لیکن شانو ابھی تک وہی بیٹھی تھی آگ کے پاس۔اس کا دل نہی کر رہا تھا اوپر جانے کو۔۔آخر کار ہمت کر کے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

ابھی کمرے میں قدم رکھا ہی تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔شانو نے پیچھے مڑ کر دیکھا ہی تھا کہ اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔

اس سے پہلے کے شانو مزید چیختی ولید نے جلدی سے اپنے چہرے سے ماسک اتارا۔۔۔کیا یار تم تو بہت ڈرپوک ہو۔۔۔ہاہاہاہا ولید ہنس رہا تھا۔۔

شانو رو پڑی۔۔۔جب ولید نے شانو کو روتے ہوئے دیکھا تو اس کی ہنسی کو بریک لگی۔۔۔اچھا یار تم تو بہت حساس ہو چھوٹا سا مزاق کیا ہے رونے والی کونسی بات ہے۔۔پلیز چپ ہو جاو۔۔

شانو مسلسل روئے جا رہی تھی۔۔۔شانو چپ ہو جاو ورنہ میں سچ مچ کے بھوت بلا لوں گا۔۔۔۔

میں نے سچ میں کسی کو دیکھا تھا ایک لڑکا اور لڑکی یہاں سے مجھ سے ٹکراتے ہوئے گزرے تھے۔۔شانو دروازے سے باہر آتے ہوئے اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔

شانو کی بات پر ولید سوچ میں پڑ گیا۔۔۔تو تم نے ان کا چہرہ نہی دیکھا ولید سوچ میں ڈوبتے ہوئے بولا۔۔

نہی وہ لوگ بہت تیزی سے گزرے یہاں سے۔۔۔میں نے آواز بھی دی لیکن وہ نہی رکے اگر رکتے تو میں ان کا چہرہ دیکھ لیتی۔۔۔

اچھا میں ایسا کرتا ہوں چھت پر دیکھ کر آتا ہوں تم یہی رکو بارش رک چکی ہے میں خود دیکھ کر آتا ہوں وہ لوگ ابھی بھی چھت پر ہی ہو گے۔۔

نہی ولید تم رہنے دو اس ٹائم اکیلے چھت پر نہی جاناچاہیے۔۔۔میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے آو۔۔۔وہ دونوں چھت کی طرف چل پڑے۔۔شانو ڈرتے ڈرتے ولید کے پیچھے چل رہی تھی۔۔پوری چھت پر دیکھ لیا ان دونوں نے لیکن چھت پر کوئی نہی تھا۔۔

وہ دونوں نیچے واپس آ گئے۔۔۔چھت پر تو کوئی نہی ہے۔تو پھر وہ لوگ کہاں گئے۔شانو گھبراتے ہوئے بولی۔۔

میں نے تو پہلے ہی بتایا تھا تمہیں کہ یہاں بھوت ہیں۔۔ولید ہنسی دباتے ہوئے بولا۔۔چلو اب دروازہ بند کر کے سو جاو کہی وہ اندر ہی نہ آ جائے۔۔کہتے ہوئے ولید اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔

شانو نے جلدی سے دروازہ بند کر لیا۔۔نماز پڑھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔لیکن آج اسے نیند کہاں آنے والی تھی۔۔کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ شانو کو اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس سے کسی کی باتوں کی آواز آئی۔۔۔

شانو جلدی سے کھڑکی کے پاس گئی۔۔لیکن اسے کوئی نظر نہی آیا۔۔۔البتہ ہنس ہنس کر باتیں کرنے کی آواز اسے مسلسل آ رہی تھی۔۔اب تو شانو سچ میں ڈر گئی تھی۔۔

جب اس نے نیچے دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے وہی لڑکی جھولے پر بیٹھی تھی۔۔اور لڑکا اسے جھولا جھولا رہا تھا اور وہ ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔۔

اے سنو۔۔۔کون ہو تم شانو نے اوپر سے ہی ان کو آواز دی تھی۔۔لیکن ان دونوں نے کوئی جواب نہی دیا۔اور بھاگتے ہوئے حویلی میں چلے گئے۔۔شانو جلدی سے نیچے کی طرف بھاگی۔۔

اس کا رخ حویلی کی طرف تھا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ حویلی میں داخل ہوتی۔۔۔ولید اس کے سامنے آ گیا۔۔شانو کو کمرے سے باہر نکلتے دیکھ چکا تھا وہ۔۔اسی لیے اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔۔

کہاں جا رہی ہو۔۔۔تمہیں پتہ ہے نہ حویلی میں جانا منع ہے۔۔۔اور تم اس وقت وہاں جا رہی تھی۔۔اگر میں نہ آتا تو کچھ بھی ہو سکتا تھا۔۔ولید کا لہجہ تھوڑا سخت تھا۔۔

ولید وہ میں نے پھر سے ان دونوں کو دیکھا وہ لڑکی یہاں جھولے پر بیٹھی تھی۔۔اور وہ لڑکا یہاں کھڑا اسے جھولہ جھولا رہا تھا۔۔۔میں سچ کہ رہی ہوں ولید۔۔

اور اس کے بعد جب میں نے وہاں اوپر سے ان کو آواز دی تو وہ دونوں بھاگتے ہوئے حویلی کی طرف چلے گئے۔۔۔اسی لیے میں جلدی سے ان کے پیچھے جا رہی تھی۔۔لیکن تم نے مجھے روک لیا۔۔

شانو بس کرو یہ سب اس گھر میں ہمارے علاوہ اور کوئی نہی ہے یہ سب تمہارا وہم ہے بس اور کچھ نہی۔۔۔بس کرو کب تک بھاگتی رہو گی اس کے پیچھے جو اب ہے ہی نہی۔۔۔

بس کر دو چلو اپنے کمرے میں اور جا کر آرام کرو۔۔تم تھک چکی ہو۔۔۔ولید اسے بازو سے کھینچتے ہوئے اوپر لے گیا۔۔۔جاو اندر اور کھڑکی دروازہ بند کر کے سو جاو۔۔

شانو سونے کے لیے لیٹ گئی کھڑکی اور دروازہ بند کر کے۔۔۔اسے پھر سے وہی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔شانو کا سر درد سے پھٹے جا رہا تھا۔۔اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر لی تھی۔۔

تم جتنا مرضی دور بھاگ لو مجھ سے۔۔میرے اتنے ہی قریب آوں گی۔۔دیکھا آ گئی نہ تم صرف میری ہو۔۔شانو کو اپنے قریب سے یہ آواز سنائی دی۔۔اس نے جلدی سے آنکھیں کھول دیں۔۔۔لیکن اسے کوئی نظر نہی آیا۔۔

ولید اپنے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا۔۔۔دادو سہی کہ رہی تھی۔۔شانو یہاں آتے ہی ان یادوں میں کھو گئی۔۔مجھے اس سب سے باہر نکالنا ہو گا۔۔ورنہ تو یہ پاگل ہو جائے گی۔۔۔

اسے یہاں بلانے کا میرا فیصلہ بلکل درست تھا۔۔جو ہوا تھا اس سب سے باہر نہی نکلی ابھی تک یہ اس کی یاداشت کمزور تو ہو چکی ہے لیکن اتنی بھی نہی کہ سب بھول جائے۔۔

اب مجھے ہی سب کرنا ہو گا شانو کو زندگی کی طرف واپس لانا ہو گا۔۔۔ماضی کو بھولنا ہی پڑے گا اسے۔۔۔اور ایسا میں کر کے چھوڑو گا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *