Haveli by Khanzadi NovelR50492 Haveli (Episode 02)
Rate this Novel
Haveli (Episode 02)
Haveli by Khanzadi
دوپہر تک وہ لوگ گاوں پہنچ گئے بس سے اتر کر وہ لوگ تانگے پر بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اپنے گھر کے سامنے تھے۔۔۔تین سال بعد گھر کو دیکھ کر شانو کے اماں ابا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔
نواب نے آگے بڑھ کر ابا کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔اندر گئے تو سامنے ماں کو بیٹھے دیکھ جلدی سے آگے بڑھے۔۔۔اور ماں کے ہاتھ چومتے ہوئے ان کے گلے لگ گئے۔۔
تین سال بعد ماں بیٹے کو گھر میں دیکھ کر آبدیدہ ہو گئی۔۔۔ارے اماں اب کیا بس بیٹے کو ہی سارا پیار دے دیں گی تھوڑا ہمارے لیے بھی بچا لیں شانو کی ماں بھی جلدی سے آگے بڑھ کر ان کے گلے لگ گئی۔۔
شانو اور نواب کو دور کھڑے دیکھ دادی نے ان کو پاس آنے کا اشارہ دیا۔۔۔وہ دونوں بھی دادی کے گلے لگ گئے۔۔۔کیسے ہیں میرے بچے وہ دونوں کو باری باری پیار کرتے ہوئے بولی۔۔۔
میں تو ٹھیک ہوں دادی لیکن یہ آپ کی پوتی اب بھی ویسی کی ویسی ہی ہے چڑیل نواب کہتے ہوئے وہاں سے۔۔۔دادی جان دیکھا آپ نے ایسے ہی تنگ گرتا رہتا ہے یہ مجھے شانو منہ پھلاتے ہوئے بولی۔۔۔اگر ابا یہاں ہوتے تو اس کی ہمت نہی ہونی تھی بولنے کی۔۔۔
آنے دیں ابا کو پھر بتاتی ہوں اس کو۔۔ارے کوئی بات نہی شانو بھائی ہے تیرا چھوٹا وہ بھی ایک ہی۔۔
مزاق کر لیتا ہے تیرے ساتھ نہی مزاق نہی کرے گا تو کون کرے گا۔۔۔
دیکھو کون آیا ہے ولید دروازے سے اندر آتے اپنے ہی خیالوں میں مگن اوپر کی طرف جانے ہی لگا تھا کہ دادو نے ولید کو ٹوکا۔۔ ولید ادھر تو آو دیکھو تو زرا کون آیا ہے۔۔
ولید نے ایک نظر سر تا پاوں شانو کو دیکھا۔۔اسلام و علیکم شانو نے سلام کیا اور نظریں جھکا گئی۔۔۔ولید ابھی بھی شانو کی طرف دیکھ رہا تھا شاید پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
کون ہیں یہ دادو میں نے پہچانا نہی۔۔۔ولید کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔۔۔۔لو کر لو گل۔۔۔یہ شانو ہے جس کی باتیں بتاتی رہتی ہوں میں تمہیں۔۔کل بتایا تو تھا شانو آنے والی ہے۔۔۔پر تم تو جب سے انگریزوں کے ملک سے پڑھائی کر کے آئے ہو اپنوں کو بھول ہی گئے ہو۔۔۔
اوہ اچھا تو یہ ہے شانو ولید دادو کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا۔۔اب طبیعت ّکیسی ہے آپ کی ولید نے کہا تو شانو حیرانگی سے اس کی طرف دیکھنے لگ پڑی۔۔۔مجھے کیا ہوا تھا۔۔شانو حیرانگی سے بولی۔۔
اس سے پہلے کے ولید کچھ بولتا دادو نے ولید کو کہنی ماری۔۔۔چلو اٹھو جا کر منہ ہاتھ دھو کیا حلیہ بنا رکھا ہے اپنا جاو اوپر باتیں تو ہوتی رہے گی۔۔دادو نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا تو ولید کندھے اچکاتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔
میں تایی جان سے مل کر آتی ہوں دادو۔۔۔شانو اٹھ کر تائی جی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔دروازے کے پاس رک کر دروازہ ناک کیا۔۔۔اسلام و علیکم تائی جان۔۔کہتے ہوئے شانو کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
جیسے ہی ان کے گلے لگنے کے لیے آگے بڑھی۔۔۔وہ بول اٹھی بس بس ٹھیک ہے وعلیکم اسلام۔۔۔کہتے ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔تایا جی پچھلے لان میں تھے شانو بھی وہی چل پڑی۔۔۔باقی سب بھی وہی پر تھے۔۔۔
اسلام و علیکم تایا ابو شانو کہتے ہوئے ان کے ساتھ لگ گئی۔۔۔وعلیکم اسلام کیسی ہے میری بیٹی شانو کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔۔۔الحمدللہ بلکل ٹھیک۔۔۔کہتے ہوئے شانو کرسی پر بیٹھ گئی۔۔
ارے بھئی چلیں سب اماں کے پاس اماں اکیلی بیٹھی ہیں اماں کو وہاں اکیلا چھوڑ کر سب یہاں آ گئے ہیں شانو کے ابا نے کہا تو سب وہاں چل پڑے۔۔اور جا کر چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔۔۔
تائی اماں سب کے لیے چائے لے کر آئی تو شانو نے جلدی سے آگے بڑھ کر ٹرے ان کے ہاتھ سے پکڑ لی۔۔لائیے تائی جان میں دے دیتی ہوں سب کو شانو مسکراتے ہوئے سب کو چائے سرو کرنے لگ پڑی۔۔۔
چائے پینے کے بعد شانو تائی جی کے پیچھے پیچھے کچن میں چلی گئی۔۔تائی جی لائیں میں آپ کی مدد کروا دوں کھانا دستر خوان پر لگوانے میں کہتے ہوئے شانو کھانا اٹھانے ہی لگی تھی کہ انہوں نے ٹوک دیا۔۔
خبردار جو کسی چیز کو بھی ہاتھ لگایا تو مجھے تمہاری کسی مدد کی ضرورت نہی ہے جاو یہاں سے۔۔۔اب کیا کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ۔۔۔تب ہی ولید کچن میں داخل ہوا امی کھانا جلدی لگا دیں۔۔۔
تب ہی اس کی نظر شانو پر پڑی جس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔۔۔۔ولید کو دیکھتے ہی شانو آنسو صاف کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئی۔۔۔
امی یہ شانو کو کیا ہوا وہ رو کیوں رہی تھی۔۔کچھ کہا کیا آپ نے۔۔ولید جانچتی نظروں سے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔
کچھ نہی کہا میں نے اسے اس کی تو عادت ہے بات بات پر رونے کی ہر بات کا الٹا مطلب سمج لیتی ہے میں نے تو بس اتنا ہی کہا کہ باہر جا کر بیٹھو کھانا میں خود لگا لوں گی اتنی بات پر رونے لگ پڑی۔۔
اچھا اماں جلدی کر لیں بہت بھوک لگی ہے۔۔۔اچھا تم چلو میں لے کر آ رہی ہوں کھانا۔۔۔سب نے مل کر کھانا کھایا۔۔۔ولید کی نظریں شانو پر تھی۔۔وہ چپ چاپ کھانا کھا رہی تھی۔۔
خود پر ولید کی نظریں محسوس ہوئی تو شانو نے نظریں اٹھا کر ولید کی طرف دیکھا۔۔۔تو وہ مسکرا دیا اور کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔۔
کھانے کے بعد شانو پچھلے لان میں چلی گئی۔۔پچھلے لان میں جھولے پر بیٹھ گئی۔۔۔ابھی وہ جھولے پر بیٹھی ہی تھی کہ نواب وہاں آ گیا اس نے تیزی سے جھولا جھولانا شروع کر دیا۔۔۔
شانو چلا رہی تھی نواب رک جاو۔۔۔نہ کرو میں گر جاو گی لیکن نواب نے اس کی ایک نہ سنی اور تیز تیز جھولا جھولاتا رہا۔۔۔
آخر کار جب تھک گیا تو رک گیا شانو جلدی سے نیچے اتری اور نواب کے پیچھے دوڑ پڑی نواب نے شانو کو اپنی طرف آتے دیکھ کر سامنے کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔
شانو بھاگتے بھاگتے حویلی میں داخل ہو چکی تھی۔ نواب اسے کہی نظر نہی آ رہا تھا۔شانو نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو اس کا سر چکرانے لگ پڑا۔۔اور وہ زمین پر گر گئی۔۔
جب ہوش میں آئی تو خود کو بستر پر پایا۔۔سب اس کے اردگرد جمع تھے۔۔۔ایک نظر سب کو دیکھتے ہی اس نے آنکھیں بند کر لی۔۔۔
سب کمرے سے باہر نکل گئے۔۔۔آخر شانو وہاں گئی کیسے۔۔۔دادو نے پوچھا۔۔۔؟؟
دادو وہ ہم دونوں کھیل رہے تھے کہ دوڑتے دوڑتے مجھے پتہ ہی نہی چلا کب شانو اندر چلی گئی۔۔۔ہمیں پتہ بھی نہی چلتا اگر ولید بھائی نے اپنے کمرے کی بالکونی سے اسے اندر جاتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو۔۔۔
دھیان رکھا کرو آئیندہ شانو وہاں نہ جائے تم بچے تو نہی ہو نواب اور نہ ہی کسی بات سے انجان ہو تم جانتے بھی ہو سب کچھ بہت مشکلوں سے ہم نے اسے اس جھنجال سے باہر نکالا ہے۔۔
میں نہی چاہتا کہ پھر سے شانو کی طبیعت خراب ہو بہت مشکلوں سے اس کی طبیعت سنبھلی ہے اور اگر پھر سے یہ سب کچھ شروع ہو گیا تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔۔سمجھے تم۔۔۔؟؟
جی ابا جی آئیندہ میں دھیان رکھوں گا۔۔نواب شرمندہ سا سر جھکا گیا۔۔
شانو ظہر کی نماز ادا کر کے چھت پر چلی گئی۔اور حویلی کی طرف دیکھنے لگ پڑی۔حویلی میں ایسا کیا تھا جو میں بے حوش ہو گئی۔اور یہ لوگ حویلی میں کیوں نہی جاتے وہ بھی تو اس گھر کا حصہ ہے۔
شانو اپنے ہی خیالوں میں مگن کھڑی تھی کہ اسے پتہ ہی نہی چلا کب ولید اس کے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا۔۔کیا سوچ رہی ہو۔۔؟؟ ولید نے بولا
ولید بولا تو شانو ڈر گئی اس کی آواز پر۔۔ولید۔۔۔تتتم کب آئے۔۔۔الٹا اسی سے سوال کر دیا۔۔
میں تو بہت دیر سے یہاں کھڑا ہوں تم ہی پتہ نہی کن خیالوں میں گم ہو۔۔اتنا ڈرتی کیوں ہو تم میں کوئی بھوت تو نہی ہوں۔۔
ولید کی بات پر شانو مسکرا دی۔۔پتہ نہی کیوں میرا دل کیوں ڈر جاتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر۔۔اچھا یہ سب چھوڑو مجھے یہ بتاو کے حویلی میں کیوں نہی جا سکتے ہم لوگ۔۔یہ بھی تو اس گھر کا حصہ ہے تو پھر۔۔۔؟؟
شانو کی بات پر ولید نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔کیا تم واقعی ہی نہی جانتی کہ کیوں نہی جا سکتے ہم لوگ حویلی میں۔۔۔؟؟الٹا ولید نے اسی سے سوال پوچھ ڈالا۔۔
نہی میں نہی جانتی۔۔۔شانو نے سر نا میں ہلا دیا۔۔اس سے پہلے کے ولید کچھ بولتا تائی جی وہاں آ گئی۔۔۔ولید تم یہاں کیا کر رہے ہو کلینک نہی جانا کیا۔۔۔؟؟
بس امی جانے ہی لگا تھا۔۔۔یونہی چھت پر آ گیا۔۔سوچا کچھ دیر دھوپ میں بیٹھ جاو لیکن دھوپ ہی نہی ہے بلکہ بارش کا موسم لگ رہا ہے۔۔چلو شانو نیچے ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔
اس کی فکر مت کرو تم بچی نہی ہے وہ اپنا خیال خود رکھ سکتی ہے۔۔تم جاو کلینک کے لیے دیر ہو رہی ہے تمہے۔۔۔۔ماں کی بات پر ولید سر ہلاتا ہوا نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔
اس کے جاتے ہی وہ شانو پر تپ گئی۔۔۔دور رہو میرے بیٹے سے۔۔۔۔خبردار جو آئیندہ میرے ولید کے آس پاس بھی نظر آئی تو۔۔۔سب جانتی ہوں میں تم لوگوں کا یہاں آنے کا مقصد۔۔۔پہلے کے دکھ میں بھولی نہی ہوں ابھی۔۔۔۔اب اور نہی آئیندہ مجھے ولید کے پاس نظر بھی آئی تو جان سے مار دوں گی تمہے۔۔۔
اس سے پہلے کے شانو کچھ بولتی وہ نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اور شانو بھی اپنے کمرے میں جا کر رو دی۔۔۔تائی جان آپ کیوں کر رہی ہیں میرے ساتھ ایسا میں نے کیا بگاڑا ہے آپکا۔۔
شانو سمجھ نہی پا رہی تھی ان کا رویہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہے۔۔روتے روتے شانو کی آنکھ لگ گئی۔۔۔دسمبر شروع ہو چکا تھا۔۔۔ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی تھی۔۔سردی میں اضافہ ہو چکا تھا۔۔
عصر کی نماز پڑھ کر باہر گئی تو سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔تائی جی سب کے چائے پکوڑے بنا کر لائی تھیں۔۔سب کھانے میں مصروف تھے شانو بھی وہاں جا کر بیٹھ گئی۔
باتیں کرتے کرتے پتہ ہی نہی چلا شام ہو گئ سب نماز پڑھ کر اپنے اپنے کمروں سے نکل کر ساتھ برآمدے میں بیٹھ گئے چارپائیوں پر درمیان میں تائی جی نے ایک بڑے سے لوہے کے برتن میں آگ جلا کر رکھی ہوئی تھی۔۔
شانو اپنے ہی دھیان میں بیٹھی تھی۔۔جب ولید گھر آیا وہ تھوڑا بھیگ چکا تھا بارش میں۔۔۔ولید کو دیکھتے ہی تائی جی جلدی سے آگے بڑھی۔۔۔یہ کیا حال بنا رکھا ہے ولید جب پتہ تھا کہ بارش کا موسم ہے تو چھتری ساتھ رکھتے۔۔
نہی تو گاڑی میں ہی بیٹھے رہتے فون کر دیتے میں چھتری لے آتی تمہارے لیے۔۔اپنے ڈوپٹے سے ولید کا سر صاف کرتے ہوئے وہ بے چینی سے بول رہی تھی۔۔
امی آپ پریشان نہ ہو میں ٹھیک ہوں۔۔کپڑے چینج کر کے آتا ہوں۔۔کہتے ہوئے ولید تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔۔اور کچھ دیر بعد کپڑے چینج کر کے واپس آ گیا۔۔۔
ولید آ کر شانو کے ساتھ بیٹھ گیا چارپائی پر۔۔۔کیسا گزرا آج کا دن مسکراتے ہوئے شانو سے پوچھنے لگ پڑا۔۔۔تائی جی کی نظریں شانو پر ہی تھیں۔۔وہ غصیلی نظروں سے شانو کی طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔
شانو بنا ولید کی بات کا جواب دئیے وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔شانو ابھی اپنے کمرے کے پاس پہنچی ہی تھی کہ کوئی اس سے ٹکراتے ہوئے تیزی سے گزرا۔۔اور اس کے پیچھے پیچھے کوئی لڑکی بھی شانو سے ٹکراتے ہوئے گزری۔۔
شانو گرتے گرتے بچی۔۔۔کون ہیں آپ لوگ۔۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔لیکن وہ دونوں رکے ہی نہی۔۔۔شانو اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔کون تھے یہ لوگ یہاں تو ہمارے علاوہ کوئی نہی رہتا۔۔۔شانو ان دونوں کا چہرہ نہی دیکھ سکی تھی۔۔
