180.1K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haveli (Episode 01)

Haveli by Khanzadi

جی لالہ ہم کل صبح آئیں گے گاوں یہاں دل تو نہی لگتا لیکن کیا کریں مجبوری میں رہ رہے ہیں یہاں بس دعا کریں صبح خیریت سے پہنچ جائیں ہم اور اماں کو بھی بتا دینا کہ آ رہے ہیں ہم۔۔۔

ٹھیک ہے شفیق میں اماں کو بتا دوں گا سب بہت خوش ہو گے تم سب کے واپس آنے پر۔۔نواب بھی آئے گا نہ ساتھ۔۔؟؟

ہاں ہاں لالہ نواب بھی آئے گا ساتھ اور شانو بھی سب آئیں گے اپنے گھر واپس بس اب اور نہی دور رہنا جو ہو گا دیکھا جائے گا۔۔ہم کل ہی آ رہے ہیں واپس۔۔

ٹھیک ہے شفیق ہم سب کل بے چینی سے تمہارے آنے کا انتظار کریں گے اور بچوں اور بھابی کا بھی حنیف بھائی مسکراتے ہوئے بولے۔۔اور فون بند کر دیا۔۔

شانو کی اماں کہاں ہو۔۔۔؟

یہی ہوں کیوں اتنی زور زور سے آوازیں دے رہیں ہیں آپ۔۔۔آپ نے تو ڈرا دیا مجھے۔۔۔اور اب ہنس رہے ہیں۔۔۔

کرماں والیے۔۔میں نے تو یہ پوچھنا تھا کہ ساری تیاری ہو گئی۔۔۔صبح جانا ہے ہمیں جلدی نکلنا ہے صبح نہی تو بس نکل جائے گی اور اگلی بس پھر شام کو ملے گی۔۔اسی لیے ساری تیاریاں ابھی ختم کر لو۔۔

اچھا یہ بات تھی تیاریاں تو ساری مکمل ہیں۔۔بس شانو اور نواب کو دیکھ لوں میں زرا ان کی تیاری مکمل ہوئی ہے یا نہی۔۔شانو نے جب سے سنا ہے گاوں جانے کا اداس بیٹھی ہے تب سے۔۔کہتی ہے مجھے گاوں نہی جانا مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔

ڈرنا کس بات کا اسے کہوں پریشان نہ ہو ہم ہیں اس کے ساتھ۔۔۔یہ گاوں کے نام پر اتنا ڈرتی کیوں ہے وہی تو پلی بڑھی ہے۔۔چند سال ہی تو ہوئے ہیں ہمیں یہاں آئے ہوئے۔۔اب واپس تو جانا ہی پڑے گا نا ساری زندگی یہاں تو نہی گزار سکتے نا۔۔تم دیکھو جا کر ان کو میں نماز پڑھ آوں۔۔نواب کو بھی بھیج دو۔۔

اچھا کہتے ہوئے اماں شانو کے کمرے کی طرف چل پڑی۔۔شانو بستر میں منہ چھپائے لیٹی ہوئی تھی اماں نے آواز دی تو ڈر کر اٹھ بیٹھی۔۔ککککون ہے۔۔۔؟؟

ارے میں ہوں تمہاری اماں۔۔۔شانو کیا ہو گیا ہے اتنا کیوں ڈرتی ہو۔۔میری بیٹی پہلے تو ایسی نہی تھی۔۔اسی لیے تو نواب مزاق بناتا رہتا ہے تمہارا۔۔۔اتنا مت ڈرا کرو میری بیٹی بہادر بنو۔۔۔وہ شانو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔

شانو جلدی سے اماں کے گلے لگ گئی اماں مجھے نہی جانا گاوں مجھے یہی رہنا ہے۔۔مجھے وہ مار دے گا آپ لوگ سمجھتے کیوں نہی۔۔۔ووووہ مجھے اپنے پاس بلاتا ہے اگر میں یہاں سے گئی تو وہاں بھی آ جائے گا میرے پیچھے مجھے مارنے کے لیے۔۔۔

شانو کون مار دے گا تجھے۔۔۔۔اور کون بلاتا ہے تجھے اپنے پاس۔۔نہ ڈرو ہم ہیں تمہارے ساتھ وہ بس تمہارا وہم ہے اور کچھ نہی۔۔اس بات کو سمجھو میری بچی۔۔۔یہ سب بس وہم ہے اور کچھ نہی ہے۔۔

نہی اماں یہ سب وہم نہی ہے۔۔۔وہ مجھے روز نظر آتا ہے خواب میں اس کا چہرہ نہی دیکھ پاتی میں۔۔لیکن اس کی آواز مجھے کچھ سنی سنی لگتی ہے لیکن یاد نہی آتی وہ آواز کس کی ہے۔۔

میں اسی ڈر سے سو نہی پاتی کہ اگر سوئی تو پھر سے اس کی آوازیں میرے کانوں میں گونجنے لگ پڑتی ہیں وہ مجھے مار ڈالے گا۔۔۔کہتا ہے میں بس اس کی ہوں کسی اور کے بارے میں سوچا تو مار دے گا مجھے۔۔

اماں آپ لوگ چلے جائیں مجھے یہی رہنے دیں اگر میں یہاں سے گئی تو وہ مجھے نہی چھوڑے گا۔۔آپ لوگ سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔شانو پاگلوں کی طرح اماں کے سینے میں سر چھپائے روتے ہوئے ڈرتے ہوئے بول رہی تھی۔۔

نہی شانو وہ جو کوئی بھی ہے تمہارا کچھ نہی بگاڑ سکے گا۔۔ہم سب ہیں نا تمہارے ساتھ اور سب سے بڑھ کر اللہ تمہارے ساتھ ہے۔۔۔تمہے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔۔

چلو اب اٹھ کر وضو کرو نماز پڑھو۔۔میں زرا نواب کو دیکھ لوں۔۔اس کو مسجد بھیج کر آتی ہوں میں۔۔۔شانو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

نواب اٹھ جا چھوڑ دے اس فون کی جان تیرے ابا کب سے مسجد چلے گئے ہیں۔۔کہ رہے ہے تھے تجھے بھی بھیج دوں۔۔اپنے آپ تو توفیق ہونی نہی تجھے کہ کہے بغیر چلا جائے۔۔۔جا مسجد تیرے ابا انتظار کر رہے ہو گے تیرا۔۔

اچھا اماں جاتا ہوں بس یہ گیم ختم کر لوں۔۔۔آگ لگے تیرے فون کو جس نے ماں باپ کا نا فرمان بنا دیا ہے تجھے وہ تپ گئی۔۔۔کوئی شرم ہی نہی رہ گئی تجھ میں کہ باپ انتظار کر رہا ہے مسجد میں۔۔اور سب سے بڑھ کر اللہ کا پیغام آیا نماز کا۔۔۔اور تجھے گیم کھیلنے کی پڑی ہے۔۔

کچھ تو خدا کا خوف کرو چھوڑ دو اس گیم کو قبر میں اس گیم نے نہی بچانا تجھے۔۔۔نماز نے بچانا ہے۔۔اپنے اعمال درست کر لو اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔۔۔جاو مسجد اور آ کر اپنا سامان پیک کرو صبح جلدی نکلنا ہے ہمیں گاوں کے لیے۔۔

جی اماں میں چلتا ہوں۔۔نواب فون رکھ کر جلدی سے باہر نکل گیا۔۔۔اور وہ بھی نماز کی تیاری میں لگ گئی۔۔ان کی عادت تھی نماز کی دونوں میاں بیوی خود بھی پانچ وقت کی نماز پڑھتے تھے اور بچے بھی۔۔۔

نماز پڑھ کر سب سونے چلے گئے۔۔۔نواب نے اپنی پیکنگ کر لی کیونکہ اماں نے سختی سے کہا تھا کہ رات کو ہی پیکنگ کر کے سوئے۔۔۔شانو بھی اپنی پیکنگ کر چکی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی۔۔

اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔خود کو ایک انجانی سی جگہ دیکھتی ہے۔۔۔اور ایک شخص اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔جسے دیکھتے ہی شانو بھاگنے لگ پڑتی ہے۔۔۔بھاگتے بھاگتے وہ تھک جاتی ہے لیکن راستہ ختم ہی نہی ہوتا۔۔

وہ شخص اب بھی شانو کے پیچھے ہی آ رہا ہوتا ہے اس کی ہنسی کی آوازیں فضا میں گونج رہی ہوتی ہیں۔۔۔شانو بھاگتی چلی جاتی ہے کہ اچانک اس شخص سے ٹکرا کر گر جاتی ہے۔۔۔اور شانو کی آنکھ کھل جاتی ہے۔۔۔

شانو کا برا حال ہوتا ہے ڈر کے مارے۔۔۔اس کا چہرہ پسینے سے بھر گیا ہوتا ہے۔۔۔شانو کو بیٹھے دیکھ اماں کی بھی آنکھ کھل جاتی ہے۔۔کیا ہوا شانو وہ شانو کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھتی ہیں۔۔۔

کککچھ نہی اماں بس مجھے پیاس لگی تھی۔۔۔پانی پی کر سونے لگی ہوں۔۔۔شانو بہانہ گڑ دیتی ہے اور جلدی سے اٹھ کر پانی پی کر واپس آ کر لیٹ جاتی ہے۔۔۔جانتی ہے اگر اماں کو بتایا تو وہ پریشان ہو جائیں گی۔۔۔

یہ تو معمول کی بات تھی۔۔۔شانو سمجھنے سے قاصر تھی کہ کون ہے وہ شخص؟؟ کیوں پیچھا کرتا ہے میرا۔۔۔اس کا چہرہ کیوں نظر نہی آتا مجھے۔۔۔اور اس کی آواز جانی پہچانی سی لگتی ہے لیکن پھر بھی شانو پہچان نہی پاتی اسے۔۔۔

ساری رات شانو نے جاگ کر گزاری اس کے ساتھ اکثر ہی ایسا ہوتا رہتا تھا۔۔ ڈر کے مارے ساری ساری رات جاگتی رہتی تھی شانو۔۔۔۔۔فجر کی اذان کی آواز آئی تو شانو اور اماں نماز پڑھنے کی تیاری میں لگ گئی۔۔

نواب اور ابا بھی مسجد کی طرف چل پڑے۔۔۔نماز پڑھ کر اماں اور شانو دونوں ناشتہ بنانے میں مصروف ہو گئی۔۔۔جیسے ہی وہ دونوں نماز پڑھ کر گھر آئے سب نے مل کر ناشتہ کیا۔۔۔اور تیار ہو کر گاوں کے لیے روانہ ہو گئے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *