Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gehraiyan by Ujala Naaz

ہمدانی انٹیرئیرز کے پارکنگ ایریا میں اپنی گاڑی پارک کر کے وہ باہر نکلا جب اسکی نگاہیں چاروں جانب گھوم رہی تھیں ۔۔ شاید کسی کی تلاش میں۔۔
’’ واؤ ۔۔ ایک گھنٹے پہلےنکلنے کے باوجود برو یہاں نہیں ہے ؟ کیا بات ہے ‘‘ ارحم کی گاڑی وہاں نا پاکر اسے بے حد خوشی ہوئی تھی ۔۔ اور کیوں نہ ہوتی آخر وہ اس سےپہلے پہنچ چکا تھا ۔۔لیٹ اٹھنے کے باوجود ۔۔
اندر آتے ہی اسکی نظر ریسپشن پر بیٹھی لڑکی پر پڑی تھی ۔۔ لان کا پیلے رنگ کا سوٹ پہنے ، دائیں کاندھے پر لٹکایا دوپٹہ اور کھلے ہوئے بالوں کے ساتھ وہ اپنی تیز چلتی انگلیوں سے کمپیوٹر پر جانے کیا کیا ٹائپ کر رہی تھی ۔۔
’’ ویسے یہاں آنا اتنا بھی برا نہیں ہے ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اپنا کالر ٹھیک کرتے ہوئے اب وہ اسکی جانب بڑھا ۔۔
’’ ایکسکیوزمی ؟ ‘‘ اس کے کہنے پر اس نے نظر کمپیوٹر سے ہٹا کر اسکی جانب دیکھا۔۔
’’ یس ؟ ‘‘ پرافیشل انداز تھا ۔۔ گڈ ۔۔
’’ آئی ایم شہروز ہمدانی ۔۔‘‘ اسےنظروں کے حصار میں لیتے ہوئے فخریہ انداز میں اپنا تعارف کروایا تھا ۔۔
’’ اوہ باس ۔۔ آپ ۔۔ویلکم ‘‘ ایک مشینی کیفیت میں وہ فوراً کھڑی ہوئی تھی ۔
’’ تھینک یو ۔۔ کیسا چل رہا ہے آپ کا کام ؟ ‘‘ ارد گردنظر دوڑاتے ہوئے پوچھا تھا ۔
’’ اچھا ۔۔ ‘‘
’’ گڈ ۔۔ واٹس یور نیم مس۔۔ ؟؟ ‘‘
’’ آئی ایم مسز اریشہ طارق ‘‘ اور اس نام نے شہروز ہمدانی کے دل کے سارے ارمان مٹی میں ملا دیئے تھے ۔۔
’’ بیسٹ آف لگ مسز طارق ‘‘ زبردستی کی مسکراہٹ کے ساتھ اسے کہتے ہوئے وہ پلٹا اور بائیں جانب لفٹ کی جانب آیا۔
’’ پتہ نہیں خوبصورت لڑکیاں اتنی جلدی شادی کیوں کرلیتی ہیں ؟ ‘‘ بڑبڑاتے ہوئے اس نے ٹاپ فلور کا بٹن پریس کیا تھا جہاں اسکا شاندار آفس اسکا انتظار کر رہا تھا۔
اور کچھ دیر بعد اپنے اس شاندار آفس کے اندر آتے ہی اسے دوسرا جھٹکا سامنے بیٹھے اپنے پیارے برو ارحم کو دیکھ کر لگا تھا۔
’’ آپ ؟ یہاں ؟ ‘‘ حیرانگی سےاسے دیکھتے ہوئے وہ آگے بڑھا تھا ۔۔
’’ مجھے تو یہی ہونا تھا نہ ؟ تم اتنا حیران کیوں ہورہے ہو ؟‘‘ ارحم کو اسکا رئیکشن سمجھ نہیں آیا ۔
’’ نہیں وہ ۔۔ آپکی گاڑی نہیں تھی تو مجھے لگا کہ آپ شاید ابھی پہنچے نہیں ہیں ‘‘ اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ گاڑی ہادی کے پاس ہے اسے ایک ضروری کام تھا ‘‘ سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے میز پر رکھی ایک فائل اٹھائی تھی۔
’’ تمہارے آنے سے پہلے میں نے اس نئے پراجیکٹ کو ریڈ کیا ہے ۔۔ تم بھی دیکھ لو ‘‘ فائل اب اسکی جانب بڑھائی جسے شہروز نے کھول کر دیکھنا شروع کیا ۔
’’ گریڈ ۔۔ یہ ہمارے لئے بہت فائدے مند ہے ‘‘ کچھ دیر بعد فائل بند کرتے ہوئے شہروز نے کہا۔
’’ وہ تو ہے ۔۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ ہمارے ہاتھ سے جانے والا ہے ‘‘
’’ کیوں ؟ ‘‘
’’ منیجر کو بلایا ہے میں نے ۔۔ ڈیٹیلز اسی سے معلوم ہونگی ‘‘ ارحم نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔ا ور کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی ۔۔
’’ کم ان ‘‘ شہروز کے کہنے پر بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک درمیانی عمر کا آدمی جو شاید یہاں کا منیجر تھا اندر آیا ۔۔
’’ سٹ ‘‘ ارحم نے اپنے بائیں جانب رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔
’’ ارحم بھائی کہہ رہے ہیں کہ یہ پراجیکٹ ہمارے ہاتھ سے جاسکتاہے ؟ کیوں ؟ ‘‘ اب وہ بلکل فرافیشنل لگ رہا تھا ۔
’’ جی باس ۔۔ ایکچولی یہ ایک تین منزلہ ریسٹورانٹ کے انٹیرئیڑ ڈیزائن کا پراجیکٹ ہے ۔۔ ہماری کمپنی کو اس سے لاکھوں کو فائدہ ہوسکتا ہے اور کیونکہ ہماری کمپنی اس شہر کی سب سے بیسٹ انٹیرئیر ڈیزائینر کمپنی ہے تو یہ پراجیکٹ سب سے پہلے ہمارے پاس آیا ہے لیکن ۔۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا۔۔
’’ لیکن کیا ؟ ‘‘
’’ لیکن انہیں ہمارا ڈیزائن پسند نہیں آرہا ہے ۔۔ حالانکہ ہمارا ڈیزائینر اس شہر کا بیسٹ انٹیرئیر ڈیزائینر ہے ۔۔ لیکن اسکی تیار کی ہوئی پریزنٹیشن انہیں پسند نہیں آئی ۔۔ اور یہ دو بار ہوچکا ہے ‘‘
’’ دو بار ؟ ‘‘ ارحم نے حیرانگی سے کہا تھا ۔۔
’’ جی باس ۔۔ اس نے دو بار گراف چینچ کیا ۔۔ اور دونوں بار اسے ریجیکٹ کر دیا گیا ہے ۔۔ اور اب انہوں نے یہ آخری ایک ہفتہ دیا ہے ۔۔ اگر ایک ہفتے میں ہم نے انہیں بہترین پریزنٹیشن نہیں دی ۔۔تو یہ پراجیکٹ دوسری کمپنی کے ہاتھ میں چلا جائے گا ۔۔ اور ۔۔ اس سے ہمیں لاکھوں کا نقصان ہوگا باس ‘‘ منیجر کی بات پر شہروز کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
’’ جس انسان کو تم اس شہر کا سب سے بہترین ڈیزائینر کہتے ہو اسکی وجہ سے اتنا اہم پراجیکٹ کھو دینگے ہم۔۔ یہ کس قسم کا سٹاف رکھا ہے یہاں ‘‘ اسکی آواز اچانک ہی تیز ہوئی تھی ۔۔جس پر منیجر بھی کانپ گیا تھا ۔۔
’’ باس وہ ۔۔ وہ بہت سالوں سے ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔۔ ‘‘
’’اور اتنے سالوں کے کام کے بعد بھی یہ حال ہے ۔۔ مجھے یہ پراجیکٹ ہر حال میں اس کمپنی کے ہاتھ میں چاہئے مسٹر حسیب ‘‘
’’ ریلیکس شہروز ۔۔ غصہ کرنے کے بجائے ہمیں اسکا کوئی حل نکالنا ہوگا ‘‘ ارحم نے نرمی سے کہا تھا ۔۔
’’ ہمارے پاس صرف ایک ہفتہ ہے بھائی ۔۔ ہمارا بنایا ہوا ڈیزائن دو بار ریجیکٹ ہوچکا ہے ۔۔اب تیسری باربھی یہی ہوگا ۔۔ ہم کیا کرسکتے ہیں اب ؟ ‘‘
’’ ایک نیا ڈیزائینر اپانٹ کر سکتے ہیں ہم ‘‘ ارحم نے ایک حل نکال ہی لیا تھا ۔۔
’’ نیا ڈیزائینر ؟ آر یو کٹنگ می ! ‘‘ شہروز کو اب ارحم پر حیرانی ہوئی تھی ۔۔
’’ نو آئی ایم ناٹ ۔۔ ہم کل ہی انٹرویوز رکھے گیں ۔۔ آپ جاکر ویب پر ایڈ دیں مسٹر حسیب۔۔ سیلیری ڈبل کر دیں ۔۔ مجھے کل یہاں اس شہر کے سب ڈیزائینرز چاہئے ۔۔ ‘‘ ارحم نے اپنا آرڈر جاری کیا تھا جس پر منیجر سر ہلاتے وہاں سے جاچکا تھا جبکہ شہروز دانت پیستے رہ گیا ۔۔
’’ یہ آپ کیا کر رہے ہیں بھائی ؟ اتنے بڑے پراجیکٹ کے لئے ہم اس وقت ایک نیا ڈیزائینر کیسے اپانٹ کر سکتے ہیں ؟ اس سے ہمیں مزید نقصان ہوسکتا ہے برو ‘‘ وہ اپنی طرف سے ارحم کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔جبکہ ارحم کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
’’ تم شاید بھول رہے ہو شہروز کہ میں بھی ایک ڈیزائینر ہی ہوں ۔۔ اب یہ پراجیکٹ میں خود ہینڈل کرونگا اپنے نئے پارٹنر کے ساتھ ‘‘ اور اسی کے ساتھ ان دونوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔ مگر ۔۔ دونوں کی مسکراہٹ بہت الگ تھی ۔۔ شہروز مسئلہ حل ہونے پر مسکرا رہا تھا ۔۔ جبکہ ارحم ۔۔۔ اسکی مسکراہٹ کچھ الگ تھی ۔۔ جیسے کوئی خاص بات اسکے دماغ میں چل رہی ہو ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *