Dharkan by Sidraw Sheikh readelle50020 Episode 03
No Download Link
Rate this Novel
Episode 03
ولید صاحب آپکو پتا ہے نہ کیا کرنا ہے آپکو۔۔۔؟؟
۔
۔
(احتشام آفس ونڈو سے باہر کی دنیا کو دیکھتے ہوئے پوچھتا ہے۔۔۔۔۔
۔
۔
جی بیٹا۔۔۔۔۔
۔
۔
How Dare You….?
.
.
کون بیٹا۔۔۔؟ اوقات نہ بھولو اپنی۔۔۔۔۔ کام ہے اس لیئے تم احتشام ملک کے سامنے بیٹھے ہو۔۔۔۔۔
۔
۔
ورنہ تم جیسے لوگ ترستے ہیں۔۔۔ ہم ملک سے ملنے کے لیئے۔۔۔۔ Now Get Out…..
.
جو کام کہا ہے وہ کر دینا۔۔۔بنا کسی رکاوٹ کے۔۔۔۔۔۔
۔
۔
(احتشام ولید صاحب کی عمر کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔۔۔۔۔ اور بہت مغرور لہجے میں زلیل کر کے نکال دیتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔
۔
جی۔۔۔۔
۔
۔
(ولید صاحب شرمندہ ہوتے ہوئے بس اتنا ہی کہ پاتے ہیں۔۔۔۔۔
۔
۔
احتشام پھر سے باہر دیکھنے لگ جاتا ہے۔۔۔۔۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا منصوبہ بناتا ہے۔۔۔۔۔
۔
ایک نئی سازش۔۔۔۔۔۔
۔
۔
پر سب سے پہلے اس سے شادی کی بات تہ ہونی چاہیے۔۔۔۔۔
۔
۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ پھر ہر دن اسکی دنیا بدلا کریں گی۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
بیٹا اب کیسا محسوس کر رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟؟
۔
۔
(سحرش بیگم آہستہ سے بیڈ پر بیٹھ کے پوچھتی ہیں۔۔۔۔۔۔)
۔
۔
زندہ ہوں امی۔۔۔۔۔کافی نہیں۔۔۔۔ محسوس کرنے کے لیے تو دل چاہیے۔۔۔۔۔
۔
۔
(سحرش کچھ نہیں کہتی۔۔۔۔۔ وہ سمجھ جاتی ہیں کے ایشال کو وقت چاہیے۔۔۔۔۔)
۔
۔
بابا کہاں ہیں ماما۔۔۔۔؟
۔
۔
(سحرش چپ ہو جاتی ہیں۔۔۔۔)
۔
۔
ضرور آپ نے ڈانٹا ہو گا۔۔۔۔۔
۔
۔
اچھا جی۔۔۔۔؟ مجھے ہی نہ ڈانٹ دے وہ۔۔۔۔۔
۔
۔
اچھا جی۔۔۔۔۔ میں کبھی نہیں ڈانٹتا بیگم وہ تو آپ ہی اپنے معصوم شوہر پہ رؤب ڈالتی رہتی ہیں۔۔۔۔۔
۔
۔
(ہارون کھانے کی ٹرے ٹیبل پہ رکھتے ہوئے جواب دیتے ہیں۔۔۔۔۔)
۔
۔
معصوم اور اپ۔۔۔۔ہارون صاحب بس کیجئے۔۔۔۔۔۔
۔
۔
بیگم آپ بس کیجئے۔۔۔۔ جھوٹ پہ جھوٹ توبہ ہے ویسے۔۔۔۔۔
۔
۔
(ہارون سحرش کو چراتے ہوئے کہتے ہیں۔۔۔۔)
۔
۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا۔۔۔۔۔ماما۔۔۔۔ہاہاہاہا آپ دونوں بس کیجئے۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
ایشال ہنستے ہوئے دونوں کو دیکھتی ہے۔۔۔۔۔۔)
۔
۔
ایشال بیٹا میں تم سے۔۔۔۔
۔
۔
بس بابا آگے کچھ نہ کہیے گا۔۔۔۔۔ آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔۔ میں شرمندہ ہوں جس طرح میں نے بات کی آپ سے۔۔۔۔۔
۔
۔
(ایشال سر جُکھا لیتی ہے۔۔۔۔۔۔)
۔
۔
بس بچے اب اور نہیں رونا۔۔۔۔۔۔اور سحرش بیگم آپ بھی سُن لیجیئے۔۔۔۔اب اور آنسو نہیں۔۔۔۔۔
۔
۔
(ہارون دونوں کو گلے لگاتے ہوئے کہتے ہیں۔۔۔۔۔)
۔
۔
۔
۔
ایک مہینے بعد۔۔۔۔ ONE MONTH LATER
۔
۔
۔
ایشال پوری طرح ٹھیک ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ سب بہت خیال رکھتے ہیں۔۔۔۔
۔
گھر کا ماحول اُداسی سے نکل کر پھر سے خوشگوار ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
۔
۔
اور ایشال۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب کے سامنے تو خوش ہوتی ہے پر اکیلے میں وہی جانتی ہے کے کس طرح خود کو سنبھال رہی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔اُسے ابھی تک نہیں پتہ کے اُس کے جسم میں دل کس کا ہے۔۔۔۔۔
۔
۔
اس کی زندگی۔۔۔۔۔لاڈ پیار میں گزری ہمیشہ۔۔۔۔۔۔۔ سُمن کے جانے کا دُکھ بہت بڑا تھا۔۔۔۔۔ اور یہ اُسکی زندگی کا شاید پہلا دُکھ تھا۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
پر اُسے اندازہ نہیں تھا کے۔۔۔۔یہ دُکھ۔۔۔۔۔ آغاز ہے۔۔۔۔۔اُسکی زندگی میں آنے والے تمام دُکھوں کا۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
اُسے شاید پتہ نہیں تھا کے یہ دُکھ اُس سے اُسکا سب کچھ چھین لیں گے۔۔۔۔۔۔
۔
۔
اُس کے اپنے بھی۔۔۔۔ اُسکے نہیں رہے گے۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
گارڈ: سر ڈاکٹر صاحب آ گے ہیں۔۔۔۔
۔
احتشام: اُسے اندر بھیج کے تم جائو۔۔۔۔
۔
۔
(گارڈ وہاں سے چلا جاتا ہے۔۔۔)
۔
۔
ڈاکٹر: احتشام سر آپ نے مجھے یاد کیا۔۔؟
احتشام: یاد۔۔؟؟ کیوں تم کوئی رشتے دار ہو میرے۔۔۔؟ یاد نہیں کیا۔۔۔حُکم دیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
ڈاکٹر : جی جی۔۔۔وہی سر۔۔۔۔
۔
۔
(احتشام ایشال کی میڈیکل فائل اُٹھا کے ڈاکٹر کی طرف پھنکتا ہے۔۔۔۔ جو ڈاکٹر کے جوتے کے پاس گرتی ہے۔۔۔۔
۔
۔
ڈاکٹر: یہ تو۔۔۔پرسنل میڈیکل ہسڑی ہے۔۔۔۔سر یہ۔۔۔
۔
۔
احتشام: تمہیں اس فارم ہائوس سے زندہ جانا ہے یہ نہیں۔۔۔؟؟
۔
۔
(اور ڈاکٹر جلدی سے فائل کھول لیتا ہے۔۔۔
۔
۔
ڈاکٹر: انکی سرجری ہوئی ہے دل کی۔۔۔ انکے پچھلے دل میں سوراخ تھا ۔۔۔ جو شاید کچھ سال پہلے پتہ چلا۔۔۔۔ انکے دل نے رسپانس دینا بند کر دیا تھا۔۔۔
۔
۔
اور۔۔۔ان کو پھر ڈونر مل گیا تھا۔۔۔
۔
۔
(سُمن کے بے جان چہرے کا خیال آتے ہی۔۔۔احتشام نے کھڑکی کے شیشے پر اپنا ہاتھ مار کے توڑ دیا تھا۔۔۔)
۔
۔
احتشام: CUT THE CRAP DR
یہ بتائو کے اب اس دل کو روکا کیسے جائے گا۔۔؟؟
۔
۔
ڈاکٹر: WHAT..
مجھے لگا آپ یہ پوچھے گے کے اب انکا جسم انکا دل ریجیکٹ کر رہا ہے تو کوئی حل ڈھونڈا جائے۔۔۔پر آپ۔۔۔
۔
۔
آپ ایگزیکٹلی چاہتے کیا ہیں۔۔؟؟
۔
۔
(احتشام اپنا وہ ہاتھ ڈاکٹر کے سامنے کرتا ہے۔۔۔جس خون بہہ رہا ہوتا ہے۔۔۔)
۔
۔
احتشام: میں یہ چاہتا ہوں جس طرح میرے جسم سے خون کا ایک ایک قطرہ نکل رہا ہے۔۔۔۔
۔
۔
اُس کے جسم سے اُس کی دھڑکن ایسے نکلے۔۔۔۔ اُس کی سانسیں اسکے اندر گُھٹنا شروع ہو جائیں ۔۔۔
۔
۔
اب اُس کی میڈیکل رپورٹ دیکھ کے بتائو کیا ایسا ممکن ہے۔۔۔؟؟؟
۔
۔
(ڈاکٹر کا پورا چہرہ پسینے سے بھر جاتا ہے۔۔)
۔
۔
ڈاکٹر: جی۔۔۔ جی،،،سر۔۔۔ اُن کو۔۔۔ پہلا ہارٹ اٹیک آنا ۔۔۔ اس سے یہ ثابت ہے کہ اُن کا جسم دل کو ACCEPT
نہیں کر رہا۔۔۔۔
۔
۔
احتشام: ہاہاہا۔۔۔ دوسروں کی خوشیاں چھین کے خود کو کوئی آباد نہیں کر پایا کبھی۔۔۔
۔
۔
(احتشام کی ہنسی پورے کمرے میں گونجتی ہے۔۔۔)
احتشام: اب تم جا سکتے ہو ڈاکٹر۔۔۔ اور جاتے ہوئے اپنا انعام لے جانا۔۔۔
۔
۔
ڈاکٹر: نہیں سر اس کی ضرورت نہیں۔۔۔ البتہ میں دُعا کروں گا۔۔۔
پاک پروردگار۔۔ آپ کے دل میں رحم ڈالے۔۔۔
یا پھر۔۔۔ اُس بچی کو بہت ہمت دے۔۔۔
۔
۔
(اور احتشام ملک کچھ لمحوں کے لئے روک جاتا ہے وہی۔۔۔۔)
۔
۔
ـــــــ————————
کچھ دن ایسے ہی گرر جاتے ہیں۔۔۔۔
احتشام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہوتا ہے۔۔۔۔
۔
پر وہ اور کرتا بھی تو کیا۔۔۔؟؟
وہ پہلے ہی اپنی تاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اُسے تو اپنے سُسرال والوں کے دل میں جگہ بنانی تھی۔۔۔۔
۔
۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ جگہ مائی فٹ۔۔۔۔
۔
۔
پر میرے آگے کے پلان کے لئے ضروری ہے۔۔۔۔میرے سُسرال والے میری مٹھی میں ہوں۔۔۔۔
۔
تاکہ۔۔۔۔کل جب نواب زادی سُسرال جائیں تو۔۔۔۔ سب میری طرف کی بات کریں ۔۔۔۔ اور اپنی بیٹی کو جھوٹا سمجھے۔۔۔۔
۔
۔
ایک ہارٹ اٹیک تو اُسے وہیں آجائے گا۔۔۔۔۔
۔
۔
باقی کے۔۔۔ میں اپنی۔۔۔۔۔اُپسسس۔۔۔ باقی کے اُسکی بے وفائی پورے کر دے گی۔۔۔۔
۔
۔
وہ بے وفائی جو اُس نے کبھی کی ہی نہیں ہو گی۔۔۔۔
۔
۔
۔
۔
ایشال: آج کیا بات ہے کوئی خاص مہمان آ رہا ہے جو اتنی تیاریاں ہو رہی ہیں دادو۔۔۔؟؟
۔
۔
(ایشال صوفہ پہ بیٹھی دادی ماں کی گود میں سر رکھ کے نیچے کارپٹ پہ بیٹھ کے پوچھتی ہے۔۔۔
۔
۔
دادی ماں: ہاں۔۔۔ آج ہماری پری کو دیکھنے کچھ ملنے والے آ رہے ہیں۔۔۔
۔
۔
ایشال: کیا۔۔۔؟ اور مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں۔۔۔۔
۔
۔
بابا۔۔۔۔۔
۔
۔
(اور۔۔۔ پورے حال میں ایشال کی آواز گونج اُٹھتی ہے۔۔۔۔
۔
۔
ہارون: امی جی۔۔۔۔ کہا بھی تھا ابھی نہیں بتانا۔۔۔۔
۔
۔
(ہارون پھر سے ایشال سے نظریں چُرا کے بھا گ جاتے ہیں۔۔۔۔)
ایشال: بابا۔۔۔۔
۔
۔
دادی ماں: ہاہاہاہا۔۔۔۔ تمہارے بابا کتنا ڈرتے ہیں تم سے۔۔۔
۔
۔
ایشال: ہاہاہاہاہا۔۔۔۔
۔
۔
(ایشال سب بھول کے دادی ماں کے ساتھ ہنسنے لگ جاتی ہے۔۔۔)
۔
۔
۔
ــ———————
۔
۔
۔۔۔۔۔چوہدری ہائوس ۔۔۔۔۔
۔
۔
لیونگ روم سے مسلسل ہنسنے کی آوازیں آ رہی تھی۔۔۔۔ اور ایشال کو غُصہ بھی آرہا تھا اور بھوک بھی لگ رہی تھی۔۔۔
۔
۔
کب سے انتظار میں تھی کے اب اُسے کھانے کے لیے بُلایا جائے گا۔۔۔
۔
پر گھر والے جیسے احتشام صاحب کے دیوانے ہو گے تھے۔۔۔
۔
۔
جو بھی احتشام سے مل کے آتا۔۔۔ سیدھا ایشال کے روم میں جاتا تھا۔۔۔
۔
۔
احتشام یہ۔۔۔۔ احتشام وہ۔۔۔
۔
۔
ثناء: ہائے۔۔۔۔ ایشال آپی۔۔۔۔ اتنا ہینڈسم لڑکا۔۔۔۔ کیا آنکھیں ہیں۔۔۔ کیا خوبصورت ہنسی۔۔۔۔۔
کاش میرے لیے یہ رشتہ آیا ہوتا۔۔۔
۔
۔
ایشال: شرم تو نہیں آتی نہ ویسے۔۔۔۔ کسی نہ محرم کے بارے میں ایسے نہیں سوچتے۔۔۔
۔
۔
ثنا: اچھا۔۔۔۔ میں نہیں سوچھتی۔۔۔ پر آپ سوچ لو۔۔۔ آپ کے تو ، محرم ہونے والے ہیں۔۔۔۔
۔
۔
(ثنا ایشال کو آنکھ مارتے ہوئے کہتی ہے۔۔۔
۔
۔
ایشال: ایسے کیسے۔۔۔۔ ابھی تو بات۔۔۔
۔
۔
ثنا: بات پکی سمجھے۔۔۔۔ جس طرح سب گھر والے۔۔۔۔ پیار محبت سے گُھل مل کے باتیں کر رہے ہے نا۔۔با ت پکی سمجھے۔۔۔
۔
۔
۔
(اور ایشال گھبرا جاتی ہے۔۔۔ وہ تیار نہیں تھی شادی کے لیے۔۔۔
۔
۔
پر اب وہ کیا کر سکتی ہے۔۔۔ اُس نے آج تک انکار نہیں کیا تھا۔۔۔
۔
۔
اور اب بھی وہ اپنے گھر والوں کا فیصلہ مان لے گی۔۔۔۔
۔
۔
ـ——————-
۔
۔
ہارون : احتشام بیٹا۔۔۔ آپ بتائیں کیا آپ رضا مند ہیں۔۔۔؟؟
۔
۔
احتشام: جی انکل۔۔۔ جو میرے ماں باپ کی خوشی۔۔۔
۔
۔
(اور ہارون احتشام کے والد صاحب کو دیکھتے ہیں۔۔۔ جو مسلسل ٹیبل پر رکھی کھانے کی چیزیں دیکھتے رہتے ہیں۔۔۔)
ہارون: ملک صاحب۔۔۔
۔
۔
(اور احتشام غُصے سے ٹانگ مارتا ہے۔۔
۔
تب جا کے ملک صاحب گھبرا کے جواب دیتے ہیں۔۔۔)
۔
۔
جی ہمیں یہ رشتہ منظور ہے۔۔۔۔ پر اگر ایک بار۔۔۔ آپ ایشال بیٹی کو بُلا دیتے۔۔۔ اُن سے پوچھ لیتے۔۔۔
۔
۔
ہارون: اُس کی آپ فکر نہ کریں ۔۔۔
۔
ایشال کی رضا مندی سے ہی بات پکی ہوگی۔۔
۔
۔
(اور احتشام سمجھ جاتا ہے کے ایشال کو یہاں نہیں بُلایا جائے گا۔۔۔
۔
اُسکو غُصہ آتا ہے۔۔۔پر وہ کنٹرول کر جاتا ہے۔۔۔)
۔
۔
(سب پھر سے باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔۔۔ اور اتنے میں احتشام کی نظر باہر ایک خوبصورت لائون کی طرف پرتی ہے۔۔۔
۔
۔
احتشام: انکل یہ پھولوں کی دیکھ بھال کون کرتا ہے۔۔۔ بہت پیارے لگ رہے ہیں۔۔۔
۔
۔
سحرش: یہ۔۔۔ ایشال کو بہت شوق ہے گارڈننگ کا۔۔۔
۔
۔
(اور سب پھر سے اپنی باتوں میں لگ جاتے ہیں۔۔۔)
۔
۔
اور احتشام جو اس خوبصورت باغ کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔
۔
اس سے پہلے کے اُس کی نظریں واپس روم میں آے۔۔۔ اُسی باغ میں اُسے سر سے پاؤں تک ڈھکی ایک نقابی لڑکی نظر آتی ہے۔۔۔۔
۔
۔
ــــ———————
۔
۔
ایشال: چاچی کوئی بات نہیں میں دے دیتی ہوں رحیم چاچا کو کھانا۔۔۔
۔
۔
(اور ایشال کھانے کی ٹرے لے کر سرونٹ کواٹر کی طرف جاتی ہے۔۔۔
۔
۔
پر لاؤن تک پونچھتے ہی اُسے رحیم چاچا کے بیٹے حماد نظر آتے ہے۔۔۔
۔
۔
ایشال: حماد بھائی یہ کھانا۔۔۔ چاچا کو دے دیجیے۔۔۔
۔
جی اچھا۔۔۔
۔
۔
(حماد ٹرے نہیں پکڑتا۔۔۔ اُسے پتہ تھا۔۔۔ اگر وہ ہاتھ آگے بڑھا بھی دے تو۔۔۔ ایشال ٹرے پھر بھی ہاتھ میں نہیں پکڑائیں گی۔۔۔
۔
۔
ایشال: اور بھائی آپ بھی کھا لیجیے گا۔۔۔
۔
۔
(اور ایشال ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیتی ہے۔۔۔
۔
۔
اور ایک بات بھائی۔۔۔۔ اگر۔۔۔ سُمن آج زندہ ہوتی تو وہ آپ کی یہ حالت دیکھ کے بہت غُصہ ہوتی۔۔۔۔ اپنا خیال رکھئیے۔۔۔۔۔
۔
۔
(اور یہ پہلی بار اتنی لمبی بات ہوئی تھی ایشال کی اپنے فیملی DRIVER
سے۔۔۔۔
۔
۔
سُمن کے نا م پہ حماد کی آنکھیں بھر بھی جاتی ہیں۔۔۔۔ اور اُس کے چہرے پہ ایک اُداسی والی مُسکان بھی آجاتی ہے۔۔
)
۔۔
۔
۔
احتشام کو پہلی بار جلن محسوس ہوتی ہے۔۔۔
۔
اُسے پتہ نہیں تھا کہ یہ لڑکی کون ہے۔۔۔
۔
پر اُسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
۔
۔
اُس کی نظریں مُسلسل اُس لڑکی پہ ہوتی ہیں۔۔۔۔ کہ اُس کا فون بجنے لگ جاتا ہے۔۔۔
۔
۔
اور اُسکا موبائل سامنے میز پہ پڑا ہوتا ہے۔۔۔
۔
۔
اور موبائل سکرین پہ د
Dad Calling
شو ہو رہا ہوتا ہے۔۔۔۔
۔
۔
اور اس سے پہلے احتشام کے موبائل پہ کسی کی نظر پڑے۔۔۔۔ وہ جلدی سے اپنا سیل اُٹھا لیتا ہے۔۔۔
۔
۔
احتشام: ایکسیوز مئ یہ ضروری کال ہے میرے بزنس پارٹنر کی۔۔۔۔
۔
۔
ہارون: بلکل بیٹا۔۔۔
۔
۔
(اور احتشام اُسی جگہ جاتا ہے جہاں ابھی وہ لڑکی کھڑی تھی۔۔۔)
۔
۔
احتشام: ہیلو ڈیڈ۔۔۔
کتنی بار کہا ہے کہ سلام کیا کرو پہلے۔۔۔
۔
۔
احتشام: اچھا آپ نے اس لیے فون کیا ہے۔۔۔؟؟
۔
۔
نہیں۔۔۔ تمہاری خالہ نے سر درد لگا دی ہے۔۔۔
وہ جواب مانگ رہے ہیں نہیں تو وہ ۔۔۔
۔
۔
احتشام: نہیں تو کیا ڈیڈ۔۔؟؟
۔
۔
نہیں تو وہ زارا کی شادی کہیں اور کر دیں گے۔۔۔۔
۔
۔
احتشام: اُس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔
۔
۔
ویسے بھی۔۔۔۔ 3 مہینے میں میرا سارا کام ختم ہو جائے گا۔۔۔۔
۔
۔
ایسا کیا کام ہے احتشام۔۔۔؟؟ جو تم بنا بتائے پاکستان چلے گے تھے۔۔۔؟؟
۔
۔
(ابھی احتشام بات کر رہا ہوتا ہے کے وہ نقابی احتشام کے پاس سے گزر جاتی ہے۔۔۔)
۔
۔
احتشام: میں آپ کو بعد میں کال کرتا ہوں آپ نکاح کی تاریخ 3 مہینے بعد کی رکھ دے۔۔۔ میں یہاں سے سب کام ختم کر کے واپس آجاؤں گا۔۔۔
۔
۔
(احتشام جلدی سے کال کاٹ کے واپس مُرتا ہے تو کوئی نہیں ہوتا۔۔۔۔)
۔
۔
احتشام: واووو۔۔۔۔ کون تھی وہ جس نے مُڑ کے احتشام ملک کو نہیں دیکھا۔۔۔
۔
۔
ـ(اور بے دھانی میں احتشام کے جوتے ایک خوبصورت پھول پہ آنے لگتے ہیں کے پیچھے سے ایک بہت خوبصورت آواز احتشام کے کانوں پہ پڑتی ہے۔۔۔۔)
۔
۔
اہشال: رُکئیے۔۔۔۔۔
۔
آپ کے جوتے میرے پھول کو کچل دیں گے۔۔۔
۔
(اور احتشام پاؤں اُٹھا لیتا ہے۔۔ اُسے غُصہ ہوتا ہے کے اس لڑکی نہ اُسے بات کرنے کے لیے نہیں روکا۔۔۔وہ پھر سے چلنے لگتا ہے۔۔)
۔
۔
ایشال: پھر سے رُکئیے۔۔۔۔
۔
(اور اب کی بار احتشام کے چہرہ پہ ایک ہلکی سی مُسکُراہٹ ہوتی ہے۔۔۔۔
پھر سے رُکئیے لفظ پر۔۔۔)
۔
ایشال: یہ چابی شاید آپ کی ہے۔۔۔
۔
میں اسے یہاں رکھ رہی ہوں اُٹھا لیجئے گا۔۔۔
۔
۔
(ایشال جلدی سے چابی رکھ کے مُڑ جاتی ہے۔۔۔)
۔
۔
احتشام: رُکئیے۔۔۔۔
۔
۔
(اب احتشام ایشال کو پیچھے سے آواز دیتا ہے۔۔۔)
۔
۔
ایشال: جی۔۔۔
۔
احتشام: آپ کا نام جان سکتا ہوں۔۔؟
۔
۔
(ایشال پیچھے مُڑ کے نہیں دیکھتی۔۔۔)
۔
ایشال: جس کے رشتے کے لیے آے ہیں اُسکا نام بھی نہیں پتا۔۔؟؟
.
ایشال: جس کے رشتے کے لیے آے ہیں اُسکا نام بھی نہیں پتا۔۔؟؟
۔
(احتشام کچھ پل کے لیے بلکل چُپ ہو جاتا ہے۔۔۔)
۔
احتشام: بہت خوبصورتی سے سجایا آپ نے اس باغ کو۔۔۔
۔
ایشال: جزاک اللہ۔۔۔
۔
(ایشال پھر سے جانے لگتی )
۔
احتشام: پھر سے رُکئیے۔۔۔
۔
(احتشام اپنی مُسکان کنٹرول نہیں کر پاتا۔۔۔)
۔
احتشام: مجھے اُمید ہے۔۔۔۔ شادی کے بعد آپ ہمارے گھر کو بھی اسی طرح سجائیں گی۔۔۔۔
۔
جانِ احتشام
(اور ایشال بھاگ جاتی ہے وہاں سے۔۔۔۔)
۔
(بہت وقت کے بعد احتشام ہنستا ہے۔۔۔)
۔
۔
ایشال: جانِ احتشام۔۔۔؟؟
۔
(ایشال دروازے بند کر دیتی ہے اپنے روم کا اور بند دروازے کے ساتھ ٹیک لگائیں کھڑی رہتی ہے۔۔۔
۔
جانِ احتشام۔۔۔ یہ لفظ ایشال کے اِرد گرد گھومتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔
جانِ احتشام سچ میں۔۔۔؟؟
۔
کبھی نہیں ۔۔۔۔ مجھے ہو کیا گیا تھا۔۔۔ اُس لڑکی کو کبھی ایسی کو ئی خوشی نہیں ملے گی مجھ سے۔۔۔۔
۔
جانِ احتشام۔۔۔۔۔
