Dhanak By Rabia Khan NovelR50501

Dhanak By Rabia Khan NovelR50501 Last updated: 2 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dhanak

Author: Rabia Khan

Novel code: NovelR50501

COMOLETE NOVEL DOWNLOD LINK AVAILABLE 

 
"مہربانی کریں۔۔ آپ میرے بستر سے ہٹ جائیے۔۔ مجھے نیند آرہی ہے۔۔"
ابھی اس کے لفظوں نے ساکت فضا میں اپنی جگہ بھی نہ بنائ تھی کہ اس لڑکی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ساتھ اس نے گھونگھٹ بھی اٹھالیا تھا۔ ارسل اب اپنی کلائ پر بندھی گھڑی اتار رہا تھا۔
"کیا کہا آپ نے۔۔؟"
اور اس کی توقع کے برعکس اس لڑکی نے جلدی سے بستر چھوڑنے کے بجاۓ ، حیران سا سوال کیا تھا۔
"میں نے کہا مجھے نیند آرہی ہے۔۔ میرے بیڈ سے اتریں۔۔"
"پھر کس کے بیڈ پر جاؤں۔۔"
اور اب کہ سر جھکا کر گھڑی اتارتا وہ چونکا تھا۔ ایک لمحے کے لیۓ چہرہ اٹھا کر سنگھار آئینے میں اس جھلملاتے عکس کو دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ اسے پتہ تھا کہ وہ خوبصورت ہوگی۔۔ وہ پٹھان تھی۔۔ اسکا خوبصورت ہونا بنتا تھا۔۔ لیکن وہ اتنی خوبصورت ہوگی۔۔ اسکا اسے اندازہ نہیں تھا۔
"کہیں بھی جائیں لیکن یہاں سے ہٹیں۔۔"
"میں آپکے رویے کو سمجھ نہیں پارہی ارسل۔۔ کیا کہنا چاہ رہے ہیں آپ۔۔؟"
وہ واقعی اسکے بے تکے سے مطالبے پر جزبز ہوئ تھی۔ ارسل ٹھنڈے تاثرات لیۓ پلٹا۔
"میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں مس لالہ رُخ۔۔ کہ مجھے نیند آرہی ہے۔۔ میں تھکا ہوا ہوں اور مجھے سونا ہے۔ اسی لیۓ بغیر کسی مزید بحث کے۔۔ آپ اپنا بھاری لباس سنبھالیں اور میرے سونے کی جگہ خالی کریں۔۔"
آن کی آن میں، رُخ کی آنکھیں جھلملا اٹھی تھیں۔ وہ آنکھیں جو ناسمجھی سے سکڑی ہوئ تھیں لمحے بھر میں سپاٹ ہوگئیں۔ پھر وہ اپنا فرشی لہنگا سنبھالتی بستر سے اتری اور ڈریسنگ روم میں داخل ہونے کے بعد دروازہ "ٹھاہ" کی آواز سے بند کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *