Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chun Liya Dil Ne Dilbar by Alaya Rajpoot Episode09(Part02)

Chun Liya Dil Ne Dilbar by Alaya Rajpoot Episode09(Part02)

… صبح جاتا ہوا گھر سے مِیر شاہ ویز مہر ماہ کو اپنی فیورٹ شرٹ پریس کرنے کا بول کر گیا تھا کیوں کہ شام میں اسے اپنے سینئیر کے ساتھ میٹِنگ کے لئے جانا تھا اسی کیس کے بارے میں کیونکہ اب ساری معلومات مل چکی تھی اور بس اب ریڈ کرنا باقی تھی اسی کی اجازت لینے وہ شام کو جا رہا تھا باس سے . بات سنو مس چشمش وہ مہر ماہ کے قریب آکے بولا . جی بولیں مہر ماہ نے نرمی سے کہہ کر سر جھکا لیا یہ میری فیورٹ شرٹ ہے اس کو شام تک اچھے سے پریس کر کے رکھنا اور ہاں اس بار دھیان سے کام کرنا وہ تیزی سے کہتا باہر کو لپکا اور مہر ماہ سر جھکا کر رہ گئی شام تک وہ گھر کے سارے کام کر کے فارغ ہوئی تو اسے یاد آیا کہ میر شاہ ویز کی شرٹ پریس کرنے کا یاد تو آیا دودھ کی دیگچی کے نیچے آنچ ہلکی کرتی وہ باہر آئی اور شرٹ پریس کرنے لگی جب شرٹ کے پچھلے حصے کی باری آئی تو اسے لگا کہ کچن میں دودھ ابل رہا ہے تبھی وہ بھاگتی ہوئی کچن میں پہنچی تو دودھ ابل کر باہر گر رہا تھا دیگچی سے باہر اففف سارا چولہا گندا ہوگیا اور دودھ بھی آدھا گر چکا تھا .ادھر وہ دودھ کا افسوس کرتی یہ بھول گئی کہ باہر شرٹ پر استری رکھ آئی ہے جب کچھ جلنے کی سمیل اسےمحسوس ہوئی تو کچن سے باہر نکل کے دیکھا تو اس کے پیروں تلے سے جان نکل گئی کیونکہ شرٹ کے پچھلے حصے پر پڑی استری نے کپڑا ہی جلا دیا تھا سارا اس جگہ سے استری اٹھا کہ مہر ماہ سر پکڑ کے بیٹھ گئی ابھی وہ یونہی بیٹھی تھی پریشانی میں کہ اوپر سے ہی مِیر شاہ ویز آ گیا اور سامنے کا منظر اسے بھڑکانے کے لئے کافی تھا یہ کیا ا ا ا میری سب سے پیاری شرٹ پتہ ہے میرے بابا نے مجھے کتنے پیار سے تحفے میں دی تھی اور تم اتنی لا پرواہ میرے کہنے کے باوجود کے سب دھیان سے کرنا تم نے میری فیورٹ شرٹ جلادی غصے سے بھرا وہ کچن میں پانی پینے گیا تو چولہے کہ حالت دیکھ اس کا دماغ مزید گرم ہو گیا اب یہ کیا کِیا تم نے پھوہڑ لڑکی مجھے لگا تھا نظر ہی کمزور ہے پر اب پتہ چلا نکمی بھی ہو تم کچھ کام وام بھی آتا ہے یا بس نقصان کرنے آئی ہو دنیا میں وہ غصہ میں دوسری شرٹ پہن کر ہی میٹنگ میں چلا گیا. اور مہر ماہ آنسو بہا کر رہ گئی کیونکہ وہ مِیر شاہ ویز کے لئے دن رات کام کر کے اسے راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی اک مشرقی بیوی کی طرح کیونکہ اب دل سے وہ اسے اپنا شوہر مان چکی تھی اس نے سوچ لیا تھا کے اللّہ نے اگر اس سے اس کا رشتہ جوڑا ہے تو اس میں بھی بہتری ہی ہوگی اور انہیں کاموں میں بیچاری ٹھیک سے اپنے پیپر کی تیاری بھی نہیں کر پارہی تھی پھر بھی وہ شاہ ویز کو خوش کرنے کی بجائے ہر بار ڈانٹ کھا کے بیٹھ جاتی تھی 🙁 اور اس بار بھی شاہ ویز اس کے جذبات کا خیال کئے بنا اس کا دل بڑے آرام سے توڑ گیا تھا یہ سوچے بنا کہ وہ نازک سی لڑکی اس کے لئے کتنی بھاگ دوڑ کرتی اور صلہ ہمیشہ ڈانٹ کی صورت میں ہی ملتا. ………………………………😥 آج پہلا پیپر تھا اور شروع پیپر شروع ہونے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا مہر ماہ تینوں شیطاننیوں کے ساتھ گراؤنڈ میں بیٹھی پڑھ رہی تھی جب عمارہ انعم سے کھسر پسر کرتی ان کے قریب سے گزری تب ہی معاویہ کی نظر اس پر پڑی جس کے ہاتھ میں کوئی کتاب تک نہ تھی اور یہ بات معاویہ کو حیران کرنے کے لئے کافی تھی اس نے عمارہ کے ساتھ سکول کے وقت سے لی کے کالج تک کا وقت گزارا تھا وہ جانتی تھی عمارہ پڑھائی میں کتنی ہی نکمی کیوں نہ تھی پر پیپرز کے دنوں میں بکس میں منہ دے کے بیٹھی ہوتی تھی پر آج اسے وہی عمارہ عجیب سی لگی اور انعم جیسی عجیب سی لڑکی کے ساتھ اس کا چپکا رہنا بھی معاویہ کو پسند نہ تھا پر چاہتے ہوئے بھی وہ عمارہ کو کچھ کہہ نہیں پاتی تھی کیونکی عمارہ نے ان کو پل بھر میں بچپن کی دوستی کو پل بھر میں پرایا کر کے اس کا دل ہی توڑ دیا تھا. یہ سب باتیں سوچتے اس نے اپنا دھیان پڑھائی کی طرف لگانا چاہا پر جانے کیوں آج وہ عمارہ سے دھیان ہٹا ہی نہیں پا رہی تھی جانے کیوں اسے عمارہ حد سے زیادہ عجیب لگی تھی آج یہ وہ عمارہ تو نہیں تھی جس کے ساتھ اس نے بچپن گزارا تھا 🙄 جانے کس جذبے سے مجبور ہو کہ معاویہ اٹھی اور واش روم کا بہانہ بنا کر اسی طرف چوری چھپے چل پڑی جدھر ابھی عمارہ اور انعم گئیں تھیں . وہ آہستہ آہستی قدم اٹھاتی ان تک پہنچی اور دیوا ر کی اوٹ سے چھپ کر ان کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگی یہ کالج کا پچھلا حصہ تھا اور بہت ہی سنسان سی جگہ تھی یہاں جلدی کوئی لڑکی نہیں آتی تھی کیونکہ یہ جگہ بھوتیا مشہور تھی . معاویہ نے دیوار کے پیچھے چھپ کے جیسے ہی سامنے کا منظر دیکھا اسے شدید صدمے کا جھٹکا لگا…..کیونکہ سامنے انعم سگریٹ پے سگریٹ بھر کے عمارہ کو دے رہی تھی اور عمارہ دنیا جہان سے غافل جھومتی ہوئی سگریٹ پی رہی تھی 😱 معاویہ کانپتے جسم سے واپس بھاگی اور آکر گراؤنڈ میں بیٹھ گئی اور باقی شیطاننیوں کے لاکھ پوچھنے پر بھی کچھ نہیں بولی کے کانپ کیوں رہی ہے کیسے بتاتی کے وہ کیا دیکھ آئی ہے جو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا . اسی بحث میں پیپر کا وقت ہوگیا اور سب پیپر دینے چل دیں. ………………………….. پیپر دینے کے دوران بھی معاویہ کا ذہن عمارہ میں ہی اٹکا رہا جو ہال میں کہیں نظر نہیں آرہی تھی پریشانی کی انتہا پر پہنچ کر معاویہ نے فیصلہ کرلیا کے وہ پیپر کے ختم ہوتے ہی سب کچھ اپنی فرینڈز کو بتادے گی تاکہ مل کر وہ عمارہ کو اس دلدل سے نکالنے کا حل سوچیں…. اور اس نے ایسا ہی کیا جب باقی سب کو عمارہ کی حالت کے بارے میں پتہ چلا تو سب پیروں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی پھر ان سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ پل پل عمارہ پر نظر رکھیں گی پھر یہی ہوا چھٹی کے وقت انعم اور عمارہ اک ساتھ کالج سے نکلیں تو وہ چاروں بھی چوری چھپے ان کا پیچھا کرنے لگیں انعم اور عمارہ کالج سے تھوڑا دور گئیں تو انعم خود اک الگ کار میں بیٹھ گئی اور لڑکھڑاتی حالت میں عمارہ کو کسی لڑکے کے ساتھ دوسری کار میں سوار کر دیا . رکشہ پکڑ کے وہ چاروں بھی اس کے پیچھے لگ گئیں تو دیکھا کہ اک سنسان جگہ پر جاکر گاڑی رکی اور سوکھی سی جھاڑیوں کے پیچھے وہ لڑکا نشے میں دھت عمارہ کو کھینچتا ہوا لے گیا وہ چاروں بھی رکشے سے اتر کر ان کے پیچھے پیچھے تھیں جھاڑیوں کے دوسری طرف سے جب ان چاروں نے چھپ کے سامنے کا منظر دیکھا تب ان آسمان سر پے گرتا ہوا محسوس ہوا وہ عمارہ کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا تب مہر ماہ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بڑا سا پتھر اٹھایا اور اسے پیچھے سے جاکر اس لڑکے سر پر مار دیا وہ لڑکا وہیں خون میں لت پت ہو کہ بے ہوش ہوگیا ….کہیں یہ مر تو نہیں گیا سمیرا نے ڈر کے پوچھا تم کو جیل ہو جائے گی مہر ماہ….. مرتا ہے تو مر جائے جیل ہوتی ہے تو ہو جائے مجھے کوئی ڈر نہیں کیونکہ دنیا میں کچھ بھی میرے گھر کی عزت سے بڑھ کے نہیں مجھے مہر ماہ نے سخت لہجے میں کہا …. جو بھی ہوگا ہم تمہارے ساتھ ہیں مہر ماہ معاویہ نے بھی مضبوط لہجہ اپنایا صباء نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی جسے دیکھ کر سمیرا میں بھی حوصلہ پیدا ہوا اور وہ اسی رکشے میں بیٹھ نشے میں دھت عمارہ کو مہر ماہ کے حوالے کرتیں کالج کے باہر رکشے سے اتر کر اپنے اپنے گھر چل دیں اور مہر ماہ مجبوری میں عمارہ کو اپنے اور مِیر شاہ ویز کے فلیٹ پر لے آئی اور اسے سٹور میں چھپا کرلیٹا دیا اس کے بعد اس نے پہلا کام معاویہ کو کال کر کے اعتماد میں لینے کا کِیا اور اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کا بتا کر کہا کہ صباء اور سمیرا کو ساتھ لےاور عمارہ کی دوست کی حیثیت سے گھر جاؤ اور چچی کو سب سے چھپ کر عمارہ کی حالت بتاؤ چچی تم لوگوں پے اعتبار بھی کریں گی کیونکہ تم سب اس کی بچپن کی فرینڈز ہو پھر کہنا کہ عمارہ تم لوگوں کے پاس ہے تم لوگ اس کا علاج کروا کہ واپس بھیجو گی اور چچی سے کہنا کہ گھر میں سب کو یہی کہیں کے عمارہ اپنےاموں کے گھر رہنے گئی ہے ایسے ہمارے گھر کی عزت بچی رہے گی اور ہاں میرا ذکر غلطی سے بھی مت کرنا چچی چڑ نہ جائیں کہیں…🙁 تم میری سوچ سے بڑھ لے عظیم ہو مہر ماہ اسی چچی کی بیٹی کی عزت پر حرف آنے سے بچا رہی ہو جس نے تمہاری عزت کو سرِ بازار اچھالا تھا 🤔 خیر میں جاتی ہوں ابھی صباء اور سمیرا کو لے کر تم پریشان نہ ہو کہہ کر عمارہ نے کال منقطع کر دی اور دوسری طرف مہر ماہ نے دل میں شاہ ویز کو لاکھوں دعائیں دیں جس نے اسے دو دن پہلے موبائل دیا تھا ضرورت کے وقت شاہ ویز کو کال کرنے کے لئے ,اور وہ اسی موبائل سے اپنی دوستوں سے رابطہ کر رہی تھی………………. جاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *