Chasham e Muntazir by Maryam Arif

رانیہ صبح اپنے گھر آئی، سب سو رہے تھے اس لئے اپنے کمرے میں چلے گئی اور سب سے پہلے منہ دھویا۔ نیند اتنی تھی کہ چہرا بھی شیشے میں نہ دیکھا اور کمرے میں آگئی۔ جب سونے کے لئے بیڈ کی طرف آئی تو وہی روڈ والا بندر سویا ہوا تھا ۔
"یہ میرا پیچھا کرتے یہاں تک آگیا" "او ییلو او مسٹر اٹھو یہ میرے بستر پر کیوں سو رہا ہے" اس نے اسے اٹھانا چاہا مگر سعد دنیا سے بے خبر سو رہا تھا۔
آخر میں ہار مان کر وہ باتھ روم سے بڑی بالٹی بھر کر آئی اور آتے ہی پوری ساتھ کے منہ پر گرادی۔
"سیلاب سیلاب آگیا" کہتے کہتے وہ اٹھا۔ اور نظر اچانک رانیہ کہ چہرے پر گئی جس میں کاجل پوری آنکھوں میں پھیلا ہوا تھا اور آنکھیں کالی ہو رہی تھی۔
"سیلاب میں جن چڑیل یا بھوتنی" سعد چلایا۔
رانیہ نے آس پاس دیکھا سعد نے آنکھیں پوری کھولیں اور رانیہ کو دیکھا۔
"تم میرے کمرے میں کیسے آئے میرا پیچھا کیوں کر رہے ہو" رانیہ بولی
"شکل دیکھو آئینے میں بھوتنی میں اور تمہارا پیچھا"سعد بھی بولا۔
سعد کے چلانے کی وجہ سے نور کمرے میں آئی.
"امی یہ لڑکا میرے بستر پر سویا ہے اور ہمارے گھر میں کیسے آیا" رانیہ نے نور کو دیکھتے ہوئے کہا
"بیٹا یہ لڑکا نہیں" نور نے آرام سے کہا۔
"میں لڑکا نہیں" سعد نے حیرانی سے پوچھا۔
رانیہ کبھی امی کو دیکھے کبھی سعد کو،
"اوہ ہو میرا مطلب ہے یہ تمھارا کزن سعد ہے"نور بولی
"کیااااااا" رانیہ کامنہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
"یہ کیا انڈین ڈراموں والی ایکٹنگ لگا کر رکھی ہے" نور نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
"نہیں۔۔۔ لیکن یہ میرے بیڈ پر کیوں" رانیہ سمجھ گئی نور کو کچھ نہیں پتا۔
"دوسرے کمرے کا اے سی خراب ہے اور تمھارا سامان اوپر والے روم میں شفٹ کردیا ہے اور اب سے یہی اس کا کمرا ہے"نور نے رانیہ کے سر پر بم پھاڑا۔
"نہیں"
"ہاں اور اب اس معاملے میں کوئی بحث نہیں، آؤ میرے پیچھے" نور یہ کہتے ہوئے اس کمرے سے نکل گئی۔
"ہیلو مس رانیہ اپنا کمرا چاہئیے تو میرا ایک کام کرنا ہوگا" سعد اس کے سامنے آتے ہوئے بولا
"کیا"
"یہ لو میری شرٹ اسے دھو دو بالکل صاف طریقے سے، تو میں تمہیں تمھارا کمرا دے دوں گا" سعد نے اسے وہی شرٹ تھماتے ہوئے کہا۔
"تو پھر پانچ منٹ میں کمرا خالی کرو" وہ یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی اور سعد پھر سے لیٹ گیا۔
پندرہ منٹ بعد رانیہ شرٹ دھو کر کمرے میں آئی, سعد بیڈ پر سویا ہوا تھا۔ رانیہ نے اسے اٹھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی، پھر گیلی شرٹ اس پر جھاڑی پانی کی وجہ سے اس نے فوراً آنکھ کھولی اور زوردار چیخ ماری۔
"کیا مسئلہ ہے کیوں ایسے چیخ رہے ہو جیسے لڑکیاں کاکروچ کو دیکھ کر چیختی ہیں" رانیہ نے غصے سے کہا۔
"تم کاکروچ سے کم ہو"
"اس کا مطلب تم لڑکی ہو"
"تم بھوتنی کو دیکھ کر چیخ نکل جاتی ہے" سعد نے بھی اسی انداز میں کہا۔
"تم نے مجھے بھوتنی کہا"
"سچ کہا ہے خود کو ذرا آئینے میں دیکھو"
رانیہ کی نظر آئینے پر پری اور خود کو دیکھ کر چیخ ہی نکل گئی۔
"سچ کہا تھا نا میں نے، بھوتنی کی بڑی بہن" سعد بولا
"چپ ہو جاؤ اور کمرہ خالی کرو" رانیہ نے شرٹ اس پر پھینکتے ہوئے کہا۔
"پہلے اسے سوکھ تو جانے دو جب سوکھ جائے گی تو میں دیکھ کر کمرا خالی کروں گا" سعد نے اطمینان سے کہا۔
"ایسی کوئی کہانی نہیں تم ابھی نکلو میرے کمرے سے" رانیہ غصے سے بولی
"سوچ لو ایک تو تم پر مہربانی کر رہا ہوں ایسا نہ ہو بعد میں خیال بدل جائے" سعد بولا
"ٹھیک" رانیہ سوچ کر بولی۔
"اچھا اب یہ لے جاؤ اور اچھی طرح سکھا لینا اور جاؤ مجھے سونے دو
"سست کہیں کے" یہ کہتی وہ شرٹ لے کر چلی گئی۔
نمرہ آدھے گھنٹے سے آملیٹ بنانے کی کوشش کر رہی تھی وہ اب تک تین انڈے خراب کر چکی تھی بالآخر اس نے آملیٹ بنا لیا اور ایسے ناچنے لگی جیسے کوئی قلع فتح کیا ہو۔ اب اس کا رخ دوسرے قلعے کی طرف ہوا۔ وہ گھبراہٹ میں چائے بنا رہی تھی اور اس بات کا خاص خیال رکھا کہ میٹھی زیادہ ہو۔
وہ ناشتہ لے کر اس کے کمرے میں آئی عرش جو لیٹ کر فون چلا رہا تھا اس کو دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔
"کسی کے کمرے میں ناک کرکے آنا چاہئے" عرش نے فون رکھتے ہوئے بولا۔
"سوری آپ کا ناشتہ" نمرہ نے ٹرے رکھتے ہوئے کہا۔
"ویسے تمھارے پانچ منٹ بڑی جلدی ہوگئے"
نمرہ خاموش رہی اور عرش نے چائے کا کپ اٹھالیا وہ وہاں سے جانے ہی والی تھی کہ عرش کی زوردار آواز سنی۔
"یہ کیا ہے" عرش بولا
"چائے" اس نے بھی معصومیت سے جواب دیا۔
"یہ کیسی چائے ہے"
"آپ نے ہی تو زیادہ چینی کا کہا تھا"
"پر یہ میٹھی تو نہیں"
"ہیں۔۔۔۔۔آپ کی کرواہٹ کا اثر چائے پر بھی ہوگیا"اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔
"کیا۔۔۔؟"
"نہیں"
"یہ لو اسے پی کر دیکھو" اس نے نمرہ کو کپ تھماتے ہوئے کہا۔
"میں آپ کا جھوٹا نہیں پی سکتی"
"میں مسلمان ہوں"
"ہاں لیکن میرے اندر کڑوا انداز آگیا تو"
"چپ کرکے پیو"
نمرہ نے جیسے ہی کپ منہ سے لگایا اس کا منہ برا بن گیا اور اسی وقت منہ سے چائے نکالی مگر افسوس ساری چائے عرش کے کپڑوں پر لگ گئی۔
"بدتمیز لڑکی یہ کیا کیا" عرش چلا پرا۔
"وہ۔۔۔وہ۔۔۔غل۔۔۔غلطی سے۔۔۔" نمرہ کا منہ رونے جیسا ہوگیا
"اچھا اب رو مت جانا اب یقین آیا میرا چائے بہت بری ہے" عرش تھورا دھیمے لہجے میں بولا۔
"پتا نہیں کیسے میں نے تو چینی ڈالی تھی کہیں آپ نے چائے میں ہاتھ تو نہیں ڈالا تھا" نمرہ نے ہوا میں تیر لگایا۔
"کیا بکواس ہے"
"نہیں تو چینی کے ڈبے میں"
"چپ ہو جاؤ لڑکی میں چینج کرکے آرہا ہوں اور چائے دوبارہ بناؤ اور ایک منٹ تمھارے آملیٹ کو دیکھو کہیں اسے بھی دوبارہ بنانے کی نوبت نہ پیش آئے"
اس نے آملیٹ دیکھا تو ٹکروں میں تھا اور پانی چھوڑ رہا تھا کہیں کالا، کہیں سے لال اور اجیب رنگ کا تھا"
"یہ تم نے کون سا عجوبہ بنایا ہے تم تو ہمارا نام روشن کرواؤگی، اگر اسے امریکی حکومت کو دے دیا جائے تو وہ اس بات کا اعتراف کرلے گی کہ پاکستان میں بھی ایک عجوبہ پایا گیا ہے اور اگر شیریں آپا کو دیں تو اس ڈش کو ایک نیا نام مل جائے گا" عرش نے طنز مارا۔
"ہائے سچی" نمرہ معصوم اس کا طنز سمجھ نا پائی۔
عرش نے بے بسی سے اپنے سر پر ہاتھ مارا
"ویسے شیریں آپا کو میں اجازت دے دوں گی لیکن امریکی حکومت کو نہیں دونگی بلکہ اسے پاکستان کے میوزیم میں رکھواؤنگی تاکہ پاکستان میں سیاحوں کی تعداد بڑھے"نمرہ نے گرم جوشی سے کہا۔
"ملک سے محبت کا اظہار بعد میں کرنا اسے جا کے پھیکو میں اپنے لئے ناشتہ باہر سے لے کر آتا ہوں" عرش الماری سے کپڑے نکالتے ہوئے بولا۔
"پلیز میرے لئے بھی پراٹھے لے کر آنا میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا" نمرہ نے التجا بھرے انداز میں کہا۔
"بھول جاؤ پراٹھے اور اسے لے کر جاؤ اور چاہو تو یہی کھا لینا" عرش یہ کہتا چینج کرنے چلا گیا اور نمرہ ڈریکولا کہتی برتن اٹھانے لگی۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *