Bheegi Raat By Laiba Arshad

بنگلے کا گیٹ کھُلا اور ایمبولینس اندر داخل ہوئ۔۔۔۔آریانہ جہاں کے سامنے اُس کی لاڈلی اور پھول جیسی نازک بہن تھی۔۔۔بلکہ اُس کی بہن کی لاش تھی۔۔۔۔
وہ وہیں ڈھیڑ ہو چکی تھی۔۔۔۔آنسو سے بھیگا چہرہ اُٹھا کر سامنے کھڑے اپنے بھائ کو دیکھا۔۔
خلیل و رحمان نے نظریں چُڑا لیں۔۔۔لیکین اُس کی آنکھوں میں غصہ ، وحشت اور بدلہ لینے کا جنون تھا۔۔۔
آپا جہاں مجھے اجازت دے دیں گھر کے پاس ہی تو ہے فارم میں دو گھنٹے میں ہی واپس آجاؤں گی۔۔۔۔
تب اُس کے بے پناہ اسرار اور خلیل کی بے وجہ ہی ڈھیل کی وجہ سے اُسے اپنی سہیلیوں کے سنگ فارم پر پارٹی کرنے کی اجازت دے دی گئ۔۔۔
اور وہ پھر دو گھنٹے عزیت میں گزار کر وہ دو راتوں بعد جگہ جگہ کے ہسپتالوں سے ہو کر گھر کو پہنچی جانے کتنے ہی ٹیسٹوں کی سوئیاں اور پاسمارٹم کی رپوٹیں اُس سے لی گئ ۔۔ اُس نور جہاں سے جس کو آجتک جھاڑو کا تنکہ تک نہ چُبنے دیا گیا تھا۔۔۔
**********
لاریب ۔۔۔ لاریب۔۔۔۔۔ انس پاگلوں کی طرح گھر میں داخل ہو کر اُسے آوازیں دے رہا تھا۔۔۔
جی بھائ وہ کچن سے نکلی۔۔۔
کتنی بار کہا ہے میں تمہارا بھائ نھی ہو تم میری ماں کی اولاد نھی ہو جو بھائ کہو مجھے۔۔۔
میں جا رہا ہوں دو ، تین دنوں کے لیے۔۔۔کوئ بھی میرے بارے میں پوچھنے آۓ تو کہہ دینا میں گھر ہی نئ آیا گارڈس کو میں نے سب سمجھا دیا ہے۔۔۔
وہ بولتے بولتے اپنے کمرے تک آگیا اور لاریب اُس کے پیچھے پیچھے ۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔وہ خاموشی سے پلٹ گئ۔۔۔۔۔۔
آنسو اُس کی آنکھوں سے نکل کر گالوں پر آۓ اور اُس کے سیدھے گال پر ڈمپل میں آگرے۔۔۔۔
اُس نے فوراً کمرے میں جا کر اپنی دوا لی۔۔۔
تم میری ماں کی اولاد نھی ہو۔۔۔۔یہ جملہ سُن سُن کر اور اِسی جملے کی وجہ تلاش کرنے میں اُسے جانے کتنی بار ۔۔۔ نروس بریک ڈائون ۔۔۔۔ ہوا۔۔۔اور اب اُس کے پاس آخری تین مواقعہ تھے۔۔۔کہ وہ اِس تکلیف کو اور برداشت کر سکتی۔۔۔۔۔۔
*************
حبیب خان نے اپنی پہلی شادی کے کئ سالوں بعد دوسری شادی کی جس کی وجہ نعمت اولاد تھی دوسری شادی کے چند ماہ گزرے تو نسرین بیگم جو کہ خان کی پہلی بیوی تھی اللہ نے اُنہے بھی نواز دیا اور دوسری بیوی نورین کو بھی یہ خوشی مل گئ ۔۔۔
نسرین کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئ جس کا نام انس حبیب خان رکھا گیا۔۔۔
جبکہ نورین کے ہاں اللہ تعالیٰ نے رحمت اُتاری ۔۔۔۔
خان بیٹی کی پیدائش پر زیادہ خوش تھے۔۔۔۔
جو کہ اُن کی پہلی بیوی کو برداشت نہی تھا۔۔
لاریب کی پیدائش کے کُچھ عرصے بعد ہی نورین کو دوبارہ اولاد کی خبر ملی تو نسرین نے اپنی چالاکیوں کا استمعال کرتے ہوۓ اُس کی جان ہی لے لی۔۔۔۔
گھر کے تمام ملازمین گواہی دیتے تھے کہ نورین کی گاڑی کی بریکس نسرین نے ہی بیکار کروائ تھیں۔۔۔۔۔لیکین خان حبیب بھی اب نسرین اور انس کے ساتھ وقت گزارتے ۔۔۔
لاریب گھر میں ایک شو پیس کی طرح رکھی گئ تھی۔۔۔۔
کوئ آتا تو اُس کے سامنے لاریب کو شہزادیوں کی طرح پیش کیا جاتا کہ وہ خان ہاؤس کی اکلوتی بیٹی ہے لیکین حقیقت بھت لوگ جانتے تھے۔۔۔۔
اور وہ پاک زات بھی سب دیکھ رہی تھی لمحہ لمحہ اُس کے ساتھ تھی۔۔۔۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *