Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anchal Mein Sitarae by Sehar Malik

یہ چھوٹی مامی کی آواز تھی۔کسی کی بھی ہوتی کیا فرق پڑنا تھا۔اندر سے آنے والی تائیدی آوازوں سے اس نے جان لیا تھا۔انہوں نے تو اتنا بھی لحاظ نہیں کیا تھا کہ ابھی دو دن پہلے اس نے ماں کھوئی ہے۔اس کا دل کچھ اور مضبوط ہوا تھا۔ذہنی طور پر وہ آنے والے ہر برے حالات کے لیے پہلے سے تیار تھی۔بہرحال دکھ پھر بھی اسے ہوا تھا۔
گزرتے دنوں میں سب کی نا پسندیدگی جاننے کے لیے اسے ریاضی کے کسی فارمولے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔علیشہ کا متکبرلہجہ،عبدالباسط کی نظروں میں تحقیر،رابی اور فریال کاعجیب نظروں سے اسے تکنا۔۔۔اسے کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونے دیتا تھا۔سبین کا رویہ متوازن تھا۔لیے دیے سے انداز والی سبین اس کے ساتھ اچھی نہیں تھی تو بری بھی نہیں تھی۔شیری لا ابالی بے پرواہ شرارتی سا زندہ دل لڑکا تھا۔اسے اس کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔باقی رہا ذیشان تو شاید اسے ہی اس کے آنے سے سب سے ذیادہ فرق پڑا تھا۔گندمی رنگت اور عام سے نقوش والے ذیشان حیدر کو اس گلابی چشمش نے بنا ڈور اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا تھا۔پہلی نظر کی محبت وہ بھی لا حاصل۔۔۔وہ جانتا تھا لاحاصل ہے اس کی چاہت اور اس کے باوجود اسے خود پر اختیار نہیں تھا۔
وہ اپنی ماں کی حرا کے لیے نا پسندیدگی جانتا تھا اور وہ خود بھی کبھی ان کا اتنا پسندیدہ نہیں رہا تھا کہ اس کی خوشی کی خاطر ہی ماما حرا کو قبول کر لیتیں۔ٹھنڈی مٹی سے اس کا خمیر اٹھا تھا۔ضد سے بات منوانا،اپنی بات پر اڑنا۔۔۔۔اسے کبھی آیا ہی نہیں تھا۔تب ہی تو وہ ہمیشہ زینب کے عتاب کا نشانہ بنا رہا۔عبدالباسط اس سے چھوٹا اور بے جا ضدی تھا۔بچپن میں اسے وہی کھلونا چاہیے ہوتا تھا جو ذیشان کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ذیشان چپ چاپ اسے کھلونا دے دیتا۔کوئی لڑائی جھگڑا،رونا واویلا کچھ نہیں ۔ زینب چاہتیں تھیں وہ اپنی چیزیں اسے نہ لینے دیا کرے۔شروع میں وہ اسے اکیلے میں سمجھاتیں تھیں لیکن وہ اپنی فطرت کا کیا کرتا۔ایک تو واجبی سی شکل و صورت اور اس پر مزاج بھی ایسا ٹھنڈا۔۔۔زینب کو ذیشان کی صلح پسند فطرت اس کی باسط سے ہار لگتی تھی۔باسط اکھڑ مزاج اور شہنشاہ فطرت تھا۔اللہ نے شکل بھی شہزادوں سی عطا کی تھی اور مزاج بھی۔اس کے سامنے ذیشان کی شخصیت دب سی جاتی تھی۔یہی بات زینب کو برداشت نہیں ہوتی تھی۔پتا نہیں کیوں ان کے اندر جیٹھانی کے بیٹے کے ساتھ اپنے بیٹے کا موازنہ چلتا رہتا تھا۔وہ چھپ کر ذیشان کو پیٹنے سے بھی گریز نہیں کرتی تھیں ۔جب علیشہ ان کی گود میں آئی تو جیسے ان کا اندر ٹھنڈا ہوا تھا ۔وہ لڑکی ہو کر باسط سے بھڑ جاتی تھی۔ہاں وہی تو اس کی ٹکر کی تھی۔زینب کی ساری توجہ علیشہ نے لے لی تھی۔مزاج کی تندی اور ماں کی شہ نے اسے حد سے ذیادہ خود سر بنا دیا تھا۔ذیشان کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔بیٹا ہو کر بھی وہ ماں کی نظر میں کچھ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ بعد میں آنے والی فریال بھی ان کی توجہ علیشہ سے ہٹانے میں ناکام رہی۔وقت گزر گیا وہ بڑے ہو گئے لیکن مقابلے کی فضا ختم نہیں ہوئی۔مضامین کے انتخاب سے لے کر ملنے والے گریڈز تک۔۔۔وہ کہیں بھی ماں کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا تھا۔ہاں ایک بات ایسی تھی جس پر زینب نے پہلی بار اس کے فیصلے کو سراہا تھا۔باسط نے پڑھائی پوری کرنے کے بعد نوکری کو ترجیح دی تھی جب کے وہ گھر کے مشترکہ کاروبار کی طرف چلا آیا تھا۔اس سب کے بعد دل میں اک موہوم سی امید ہی تھی کہ شاید ۔۔۔ پہلی بار وہ اپنی کوئی خوشی حاصل کر لے۔وہ خوشی جو ایک دم سے زندگی بن گئی تھی۔
’’حرا نام کی بلا لگتا ہے مرنے کے بعد بھی قبر میں سکون نہیں لینے دے گی‘‘ علیشہ کی آواز دروازے کے پیچھے سے ابھری تھی۔چوری چھپے باتیں سننے کی نہ تو اسے عادت تھی اور نا شوق۔اپنا نام سن کر ازخود اس کے قدم دہلیز پر رک گئے تھے۔
’’کیا ہوا؟؟‘‘ سبین نے پوچھا۔
’’ہونا کیا ہے ،دادو نے عذاب ڈال دیا ہے میرے گلے ۔ساری پرائیویسی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔اول تو اس کا اعتکاف ہی ختم نہیں ہوتا۔سارا دن کمرے کی جان نہیں چھوڑتی۔اب اگر کمرے سے نکلی ہی نکلی تھی تو میں نے سرمد کوسکائپ پہ کال کر لی۔میڈم بغیر ناک کیے کمرے میں آ دھمکی۔ جس دن سے یہ گھر آئی ہے میری سرمد سے بات ہی نہیں ہو پا رہی۔میسج پہ ٹرخا دیتی رہی ہوں۔اس کا اتنا موڈ بنا ہوا تھا۔‘‘ علیشہ کا موڈ بے حد خراب ہوا تھا۔
سبین کے کچھ کہنے سے پہلے وہ کمرے میں داخل ہو گئی۔علیشہ نے جتاتی سی ایک نظر سبین پر ڈالی یوں جیسے کہہ رہی ہو ’’ میں سچ کہا تھانا‘‘
امی کی تصویروں کا البم اپنے بیگ میں رکھ کر ایک دوستانہ مسکراہٹ ان دونوں کی طرف اچھال کروہ باہر نکل گئی۔اس کے انداز سے انہوں نے یہی اندازہ لگایا کہ اس نے کچھ نہیں سنا۔باہر نکل کر ایک گہری سانس بھر کراندر کی گھٹن باہر نکالتے خود کو نارمل کرتے وہ دوبارہ نانو کے کمرے میں چلی گئی۔آخراپنے محسنوں کی خاطر اتنا تو وہ برداشت کر ہی سکتی تھی۔اسے تو یوں بھی کسی سے کوئی گلہ نہیں تھا۔اکیس برس پہلے ناراضی کی چھاؤں تلے رخصت ہونے والی بیٹی کو ساری عمر جنہوں نے گھر کی دہلیز نہیں چڑھنے دیا۔اس کی بیٹی کو گھر کا تحفظ دینے والوں کی وہ گویا بال بال مقروض تھی۔یہ قرض اس نے خود اپنے کندھوں پر ڈالا تھا۔زندگی نے اسے انتخاب کی سہولت دی تھی۔اس گھر میں آنا اس کی اپنی مرضی تھی،مجبوری نہیں ۔
یہ اسی شام کی بات ہے جب وہ علیشاء کے کمرے میں بیٹھی آنے والے سخت سے سخت حالات کے لیے خود کو تیار کر رہی تھی تب ایک دم باہر شور بلند ہوا۔علیشہ کے ساتھ وہ بھی تیزی سے باہر بھاگی۔
نانو اوندھے منہ فرش پرپڑی تھیں۔ان کے گرنے کی آواز سن کر آنے والے بڑے ماموں اور شیری مل کر انہیں اٹھا رہے تھے۔نانو کئی سال سے فالج کی مریضہ تھیں۔کھانے پینے سے لے کر زندگی کی تمام تر ضروریات کے لیے وہ دوسروں کی محتاج تھیں۔کئی بار ان کے لیے کل وقتی ملازمہ رکھی گئی لیکن کوئی بھی ایک ڈیڑھ ماہ سے زیادہ نہیں نکالتی تھی۔کبھی وہ خود چھوڑ جاتی تو کبھی ماموں کو اس پہ اعتراض ہوتا۔کبھی نانو خود ہی کسی بہانے نکال باہر کرتیں۔انہیں بستر پر لٹا کر ماموں ان سب کی طرف متوجہ ہوئے جو شور سن کر آئے تھے۔
’’ہزار بار کہا ہے اماں کے پاس ہر وقت کوئی نہ کوئی رہا کرے۔لیکن میری سنتا کون ہے۔اب جب تک نئی ملازمہ نہیں آجاتی سب باری باری اماں کے پاس بیٹھا کریں۔رات کو میں خود ان کے پاس سو جاؤں گا۔میں اماں کو اکیلا نہ دیکھوں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘وہ غصے میں تھے۔
ان کی بات پر اکثر جبینوں پر شکنوں کے جال بچھے تھے۔کئی آنکھوں میں ناگواری کی لہریں اٹھنے لگی تھیں لیکن پرواہ کسے تھی۔تب ہی دو قدم بڑھا کر وہ ماموں کے پاس ہوئی تھی۔’’اگر مناسب سمجھیں تو مجھے نانو کے پاس شفٹ کر دیں،میں پوری کوشش کروں گی کہ ان کا خیال رکھ سکوں۔‘‘
اس کی بات اتنی غیر متوقع تھی کہ ایک بار تو سب ہی حیرت ذدہ رہ گئے تھے۔ماموں کے رسمی اور کھوکھلے اعتراض رد کرتے اس رات وہ نانو کے کمرے میں بمعہ بیگ منتقل ہو گئی تھی۔
اس کے آنے کے بعد یہ پہلی رات تھی جب علیشہ سمیت اس گھر کی باقی عورتوں نے بھی اس کے فیصلے کو سراہا تھا۔اس کی موجودگی پر اطمینان کا سانس لیاتھا۔ورنہ ایک مفلوج بوڑھی عورت سے کسی کو کیا دلچسپی ہو سکتی تھی۔اور اگر دلچسپی ہوتی تو کیا نوکرانی کاہی آسرا ڈھونڈا جاتا۔اس کمرے میں وقت گزارنا ایک قیامت تھی اور یہ قیامت حرا منصور نے خود پہ روک کی تھی۔سب کا شکر گزار ہونا تو بنتا تھا نا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *