Aik Pagal Si Larki by Arzu Pareeshy Khan NovelR50677 Last updated: 11 May 2026
Rate this Novel
Aik Pagal Si Larki by Arzu Pareeshy Khan
ایمان میں سندھ آرھا ھوں امان نے آج کال کر کے ایمان کو بتایا ایمان جسے امان کچھ کچھ اچھا لگنے لگا تھا یے بات سن کے اسکی جان نکل گئی اور ایک دم بولی کیوں۔۔۔اپنی جان سے ملنے بہت ٹئم ہو گیا ایمان تمہں دیکھا نہیں ہے امان نے گھرائی سے کہا۔۔نہیں آپ مت آئیں۔۔۔ امان کیوں نہ آون۔۔بس نہ آئیں مجھے ڈر لگتا ھے۔۔۔ھاھاھا کیسے ڈر لگتا ھے مجھ سے امان نے کہا۔۔جی۔۔ایمان بس اتنا کھ سکی۔۔ایمان۔۔جی۔۔۔تم میری ہو نا امان نے جذبے سے چور لہجے میں کھا۔۔۔پتا نہیں۔۔۔ایمان نے جواب دیا۔۔۔اب تک تمہں نہیں پتا تو کیا میرے مرنے کے بعد پتا چلے گا۔۔۔امان غسہ ہونے لگا۔۔۔ایسے نہ کہیں آپ ۔۔کیا ایسے نا کہوں تم ایسا کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ کیا میں نے کبھی تمھارے ساتھ کچھ غلط کیا یا کہا اگر میرا پیار جھوٹا ھوتا ۔نا تو تم سے پاس آنے کا کہتا اور بھی بھت کچھ کرتا لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کہا کیونکے میارا پیار سچا ھے اور مجھے تمھاری روح سے محبت ہے تمھارے جسم سے نہیں۔۔۔ نا ھی تمھاری خوبصورتی سے۔۔۔امان کی باتیں سُن کے ایمان سوچ میں پڑ گئی اسے لگنے لگا امان اسے پیار کرتا ہے اور اسکا بہت خیال رکھتا ہے۔۔ایمان نے ایک بار پہر سوچنا شروع کیا اسے امان صیح لگا اور وہ یے بھی جانتی تھی وہ لاکھ منا کرلے مما اسکی شادی تو کروانگیں تو کیوں نا اسے سے کروں جو مجھے سمجھے میری بات بھی مانے۔۔۔ایمان نے امان کو ھاں کرنے کا فیصلا کرلیا وہ بہت پریشان تھی پر وہ روز روز مما کو ھرٹ کر کے تھک گئی تھی اور اسے یھی صیح لگا تھا۔۔رات کے 2 بجے ایمان کا موبائل بجا ایمان کی آنکھ کھل گئی دیکھا تو امان کی کال تھی اس وقت امان کیوں کال کر رہے ہیں۔۔اس نے باھر جا کے کال اُٹھائی۔۔۔جی سب ٹھیک ہے امان اس وقت کال کی۔۔۔ہاں سوئٹ ہارٹ سب ٹھیک ھے بس تمھاری بہت یاد آرھی ھے۔۔۔پر مجھے کل کالج جانا ہے ۔۔۔کالج مجھ سے ذیادہ ے تمہیں۔۔۔اور وہ کافی دیر تک امان اسے بات کرتا رھا۔۔۔اسی طرح دن گذرتے گئی ایمان کو امان کی عادت پڑتی گئی امان بہت خوش تھا کے اس کا مقصد پورا ھو رھا ھے وہ ایمان سے ھر وقت بات کرتا تاکے اچھی طرح ایمان کو اسکی عادت پڑ جا ئے۔۔۔اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو چکا تھا۔۔اب ایمان کو امان کی عادت ھو گئی تھی وہ ایک دن بھی اگر بات نا کرتا ایمان بے چین ھو جاتی اور امان خوش ھوتا آج دو دن ھوے تھے امان اسے جواب نہیں دے رھا تھا اور وہ بہت رو رہی تھی تب ھی امان کی کال آئی ایمان نے ایک دم اُٹھائی اور کہا ۔۔امان آپ کہاں تھے میں دو دن سے آپکا ویٹ کر رہی ہون کھانا بھی نہیں کھایا میں نے۔۔۔ایمان میری طبعت خراب تھی۔۔امان نے کہا۔۔کیا ہوا آپکو۔۔فیور تھا۔۔آپ اپنا خیال کیون نہیں رکھتے ایمان ناراض ہوتے ہوے بولی۔۔۔خیال تو تم نے رکھنا ھے میری جان پر تم آتی نہیں۔۔امان میں کسی آ سکتی ہوں بھلا۔۔میری دلھن بن کے اور کیسے امان نے کہا ایمان چپ ہو گئی۔۔ھاھا ھا کیا ہوا شرما رہی ہے میری جان۔۔۔ن۔۔نہیں ایسا تو کچھ نہیں۔۔امان پہر ھسنے لگا ایسا ھی ھے تو مِس ایمان کو ھم سے پیار ہو ہی گیا۔۔اور ایمان کی دھڑکن تیز ھو گئی اس نے فون رکھ دیا اور تکیے میں میں چھپانے لگی۔۔۔ایمان بہت خوش تھی اسے لگتا تھا امان اسے سمجھتا ھے اسے پیار کرتا ھے لکن وہ یہ نہیں جانتی تھی امان کے لیے وہ کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔۔ایمان کو امان سے پیار ھونے لگا تھا اور وہ بہت پریشان تھی کے وہ صیح ھے یا غلط۔۔۔دوسری طرف امان اپنے دوستوں کے سامنے ایمان کا مذاق اڑا رھا تھا ایمان اس بات سے انجان تھی کے وہ کسی کے ھاتھوں مذاق بن رھی ھے۔۔۔۔۔وقت گذرتا گیا ایمان کی محبت بڑھتی گئی لکن آج بھی وہ شادی کے نام سے گھبراتی تھی پر امان پر اسے اتنا یقین ہو گیا تھا کے وہ اسے شادی کرنے کے لیے راضی ہو گئی۔۔۔ایمان نے بی ایس سی مکمل کرلی تھی اب وہ کمپیوٹر کلاسس لے رھی تھی اور امان اسے آج بھی سمجھاتا تھا جو اسے نیں سمجھ آتا تھا۔۔۔۔۔اج ایمان کو کلاسسس میں دیر ھو گئی وہ evening classes میں جاتی تھی اس لیے آج گھر آتے اسے رات ھو گئی تھی اور جب وہ گھر آئی تو ایک دم۔۔ حیران ہو گئی امان سب کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا اور اس کی مما بھی اس کے ساتھ بیٹیھں تھیں۔
