Yun Chu Lia Tum Ko by Afshan Kanwal readelle50254 Last updated: 22 September 2025
Rate this Novel
No chapters found.
Yun Chu Lia Tum Ko by Afshan Kanwal
" میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤ گا۔ بے فکر رہنا ! بس دشمن نے دوست کے روپ میں حملہ کر دیا اور میں خوش فہم ہو کر اس حملے میں زخمی ہو گیا۔ اس کا بھاری لہجہ بو جھل ہو رہا تھا۔ اس کی پر حدت سانسیں اور اس کا لمس اپنے اوپر محسوس کر اس کی تو جان پر بن آئی تھی۔ " میں ہاتھ ہٹارہا ہوں۔“ اس نے نقاہت ذوہ لہجے میں بولتے ہی اسے اپنے مضبوط حصار سے آزاد کیا تو ام فاتحی کو یوں لگا کہ وہ کسی مضبوط قلعے سے آزاد ہوئی ہو۔ اس نے دو تین گہری اور لمبی سانسیں لے کر خود کو پر سکون کیا۔ مقابل کو بس اس لڑکی کا تراشدہ سراپا اور مشک بار گیسوؤں کی مہک پوری شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ لائٹ اس کے بالوں پر پڑ کر ایک چمک سی پیدا کر رہی تھی۔ اس کا دل نجانے کیوں ایک انجان لے پر دھڑ کا تھا۔ خاص کر اس انجان لڑکی کا لمس نجانے کیوں اس تکلیف میں بھی سکون دینے لگا تھا۔ اس کے بازو سے مسلسل خون بہنے کی وجہ سے اس پر بے ہوشی طاری ہونے لگی تھی۔ وہ کب سے اعصاب کو یکجا کئے ہوئے تھا لیکن اس وقت اس کے اعصاب ہی ساتھ چھوڑ گئے۔ شاید اسے یقین ہو چلا تھا کہ یہ لڑکی اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ اس سے پہلے کے ام فاتحی پلٹ کر اسے دیکھتی وہ ڈھیلا پڑتا اس کے کندھے پر آگرا۔ رہبر جمال کے ہونٹ اس کے گردن کے دائیں جانب پیوست ہوئے تو ام فاتحی کے پورے بدن میں گویا پھریری کی دوڑ گئی۔
