Ye Jo Raig E Dasht E Firaaq Hai by Wajeeha Yousafzai NovelR50752

Last updated: 4 July 2026

Ye Jo Raig E Dasht E Firaaq Hai by Wajeeha Yousafzai

تین دن بعد اسکی شادی تھی آج اس کا کالج میں آخری دن تھا سب لوگ خوشیاں ما رہے تھے لاسٹ ڈے سیلیبریٹ کر رہے تھے ایک وہی سب سے الگ منہ لٹکا کر بیٹھی ہوئ تھی فاریہ اور نوشین اس کی طرف آئیں
ثمن کا ہوا تمہیں سب خیر تو ہے نہ__؟فاریہ نے پوچھا
ہاں سب خیریت ہے ثمن نے منہ اوپر کیا اور بات ختم کرکے پھر سے منہ نیچے کر لیا
مجھے لگتا ہے اس کی طبیعت صاف کرنی پڑے گی آج خوشی کا دن ہے سب لوگ انجواۓ کر رہے اور یہ یہاں منہ لٹکا کر ماتم کر رہی ہے اس بار بولنے کی باری نوشین کی تھی
اس بار تو ثمن نے منہ بھی نہیں اٹھایا بس آنکھوں سے ٹپ ٹپ کرکے آنسو گرنے لگ گۓ
ارے ۔۔۔یہ دیکھو میڈم رو رہی ہے آج رونے کا دن تھوڑی ہے نوشین نے منہ بنا کر کہا
ثمن سچ سچ بتاٶ سب ٹھیک تو ہے نہ فاریہ اس بار فکرمندی سے گویا ہوئ
ثمن نے چہرہ اوپر کیا اسکی بڑی بڑی آنکھیں اس وقت پانی کی ٹینکی بنی ہوئ تھیں ناک سرخ ہوچکی تھی
تم جانتی ہو نہ دونوں کہ میرے گھر والے زبردستی میری شادی کروا رہے ہیں مجھے وہ لڑکا بلکل پسند نہیں نہ ہی میں جانتی ہوں اسے بس ایک بار دیکھا ہی ہے
تمہارے گھر والوں کو شاید تم انسان نہیں لگتی نوشین کو اسکی حالت پر افسوس ہو رہا تھا
تم شہباز کو کیوں نہیں ملواتی اپنے گھر والوں سے ؟فاریہ نے اسکو آئیڈیا دیا
ملوا چکی ہوں اپنے بھائ سے لیکن بھائ کو شہباز پسند نہیں آیا میں شہباز کے بغیر مر جاٶں گی فاریہ،،( ثمن کے رونے میں اضافہ ہوا)
اچھا ایک کام کرو کیا نام ہے تمہارے اس منگیتر کا ؟فاریہ نے پوچھا
فرہان
اسکو فون کرو اور شادی سے منع کردو( ایک اور مشورہ مفت میں دیا جا چکا تھا )
م۔م۔میں کیسے کروں منع ؟ ثمن شاکڈ نظروں سے اسے گھورنے لگی
لو بھئ جیسے کرتے ہیں منع ویسے ہی کردو نوشین نے دو ٹوک کہا
”میرے پاس نمبر نہیں ہے اسکا“
واہ بھئ دو روپے کی تالیاں تمہارے لیے پھر وہ رک کر بولی ایک کام کرو کسی نہ کسی طرح وہ نمبر چوری کرلو
ثمن کو پلان اچھا لگا تھا
_______________________
حنا لاٶنج میں بیٹھی ٹی وی پر کوئ پروگرام دیکھنے میں مصروف تھی جب کچن سے علی نے آواز دی بے بی ڈارلنگ ڈنر تیار ہے ٹیبل سیٹ کرلو میں آتا ہوں کھانا لیکر
اوکے کہہ کر وہ اٹھ کر ٹیبل سیٹ کرنے لگی
وہ کھانے کا ٹیبل سیٹ کر چکی تب تک علی کھانا لے آیا
یہ لے مائ سویٹ سویٹ بے بی ڈارلنگ وہ کھانا رکھتے ہوۓ بولا
تھینک یو سو مچ سویٹو وہ اس کے گال پر بوسہ دے کر بولی
علی مسکرایا
تھینک یو جان علی نے اس کو اپنے ساتھ لگایا
حنا نے اس کے کندھے پر سر رکھ کر کہا تھینک یو فار وٹ ،،؟
فار کمپلیٹ مائ ورلڈ علی نے اس کے ماتھے پر بوسہ لیا
حنا مسکرائ اور اس سے الگ ہوئ
اچھا اچھا اب یہ چاپلوسی بند کرو جلدی جلدی ناشتہ کرلو آفس سے دیر ہوجاۓ گی
تمہارا مطلب میں چاپلوسی کرتا ہوں وہ منہ بنا کر بیٹھ گیا
ہاہاہاہا ہاں نہ یہ صبح صبح چاپلوسی ہی تو ہے مجھے کچن سے نکال دیتے ہو خود بناتے ہو ناشتہ حنا نے اسے مزید تپایا
حد ہوگئ نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا اس نے منہ بنا کر کہا
حنا نے پلیٹ میں چاول ڈال کر علی کے سامنے کردی اب وہ اپنی پلیٹ میں چاول ڈال رہی تھی
یہ کیا کر رہی ہو بے بی ڈارلنگ ؟؟
چاول ڈال رہی ہوں اپنی پلیٹ میں حنا نے مسکرا کر جواب دیا
ایک ہی پلیٹ سے کھاتے ہیں نہ علی نے بچوں جیسے انداز میں کہا
حنا کو اس کے انداز پر بے تحاشہ ہنسی آئ
افف یہ چاپلوسی وہ اسے چڑانے کیلیے بولی
حنا نے چاولوں سے چمچ بھرا اس سے پہلے کہ وہ چاول کھاتی علی انے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور چمچ اپنے منہ میں ڈال لیا
یہ چاپلوسی نہیں محبت ہے میری جان اسنے آنکھ ماری حنا کا شرم کے مارے چہرہ سرخ ہوگیا
علی نے اسکی حالت دیکھ کر قہقہ بلند کیا حنا نے اسکے کندھے پر مکا مارا
آہ۔۔۔۔ ظالم عورت وہ اپنے کندھے کو سہلاتے ہوۓ بولا
حنا کا قہقہہ بلند ہوا
علی اسکو دیکھ کر مسکرایا
حنا تم ہمیشہ مسکراتی ہو تم نہیں جانتی تم میری زندگی ہو جب جب تم مسکراتی ہو میری دنیا مسکراتی ہے مجھے جینے کا احساس ہوتا ہے
حنا نے علی کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا میں جانتی ہوں علی لیکن یہ بھی جان لینا جتنی محبت تمہیں مجھ سے نہ اس سے دو گنا محبت ہے مجھے تم سے تم ہی میری دنیا ہو میرا جہان ہو میرے دوست ہو میرے ہمدرد ہو میرے سب کچھ تمہی ہو
اب بس کر پگلی رولاۓ گی کیا ؟وہ ہنسا
حنا اسکی طرف دیکھ کر مسکرائ
دونوں کو دیکھ کر زندگی مسکرا رہی تھی

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *