Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Last updated: 23 June 2025
Rate this Novel
Wo Ajnabi by Yusra
میرا بچہ۔۔۔ میرا بچہ کہاں ہے؟؟ بولو کہاں ہے "
وہ نرس کو جھنجھوڑتے ہوے وہ چیخ اٹھی۔۔
کوریڈور عبور کرتے وہ شخص اس آواز پر چونک اٹھا اسکے بازوں میں سویا بچہ ڈر کے رونے لگا۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اس روم کی طرف بڑھا وہ دعا کر رہا تھا جو وہ سوچ رہا ہے سچ نا ہو لیکن زندگی نے ابھی اس سے امتحان لینے تھے وہ اپنے بازوں میں روتے بچے کی پیٹھ تھپکتے اسے چُپ کرا رہا تھا جبکے اسکے قدم اپنی منزل کی طرف رواں تھے۔۔
" بیٹھی رہو مر گیا ہے تمہارا بچا۔۔۔ " نرس نے حقارت سے اسے دیکھتے کہا جس نے دو دن سے اسکا جینا حرام کیا ہوا تھا اس سے پہلے کے وہ اس پر برستی کمرے میں کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے اس نے نظریں دروازے کی طرف مرکوز کیں اور آنے والے کے ہاتھ میں وہ بچہ دیکھ کر سانس روکے اسے دیکھنے لگی پھر اگلے ہی پل تیزی سے وہ اسکی طرف بڑھی اور اس سے بچہ چھپٹا، وہ روتے ہوئے دیوانہ وار اس بچے کو چومنے لگی وہ بچہ اتنا پیار پا کر چیخ کر رونے لگا جب کے آنے والا شخص پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا، جسے وہ دنیا بھر میں ڈھونڈ رہا تھا وہ ملی بھی تو کہاں؟؟؟؟ اس شخص کی آنکھیں حیرت و بے یقینی سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔ وہ اسے پہچان تک نہیں رہی تھی وہ تو بس اس بچے میں گم تھی۔۔
" یہ کیا ہو رہا ہے اور آپ ہیں کون ؟؟ " نرس جو اس لڑکی کے ساتھ یہاں موجود تھی اسکی حالت کو دیکھ کر فوراً ڈاکٹر کو بُلا لائی جو اب اُس آنے والے شخص سے اسکا تعارف مانگ رہا تھا۔۔
" ڈاکٹر اسے کیا ہوا ہے؟؟ اور یہ یہاں اکیلی کیوں ہے؟؟ "
اس شخص نے ڈاکٹر کا سوال نظر انداز کر کے پوچھا۔۔
" یہ ہماری پیشنٹ ہیں آئی تھنک انکی دماغی حالت ٹھیک نہیں پر آپ کون ہیں؟؟ "سامنے کھڑے شخص کے آگے زمین و آسمان گھوم گیا۔۔۔
" آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گئے نا پرومیس کریں۔۔؟؟ "
" پرومیس ہمیشہ تمہارے ساتھ رہونگا "
وہ اس کی خوائش سن کر مسکرایا۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کر اسنے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔
وہ اب بیڈ پر بیٹھی اس بچے کو بہلا رہی تھی۔ سامنے کھڑا ٹوٹا بکھرا شخص آج حقیقت میں جان چکا تھا وہ کیا کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔؟؟؟اسے وہ سب باتیں یاد آرہیں تھیں جو اسنے اسے کہتے سنا تھا۔۔۔۔۔۔
" میں۔۔۔میں سچ کہ رہی ہوں یقین کرو میرا وہ عام انسان نہیں وہ کوئی اور ہے۔۔۔۔اس۔۔۔۔اسے موت سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔اسے کچھ محسوس نہیں ہوتا اسے اپنے دل کی دھڑکن تک محسوس نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ "
" و۔۔۔۔۔وہ آگ سے کھیلتا ہے۔۔۔ میں کیسے سمجھائوں مجھے اس سے خوف محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔ وہ قاتل درندا ہے اپنی بھوک کے لئے وہ معصوموں کی جان لیتا ہے۔۔۔۔۔ " وہ اپنے بال نوچتی بلک رہی تھی۔۔۔۔۔ اسکا پورا وجود خوف سے کانپ رہا تھا۔۔۔ وہ شاید اس وقت بھی اسے اپنے آس پاس محسوس کر رہی تھی اس وقت بھی خوف لاحق تھا کہیں وہ اسے سن تو نہیں رہا؟؟؟۔۔۔۔۔
کیا وہ اس دن سچ کہہ رہی تھی؟؟؟ سب سچ؟؟؟ لیکن ہر کسی نے اسے " سازش " کا نام دے کر اُسے اُس جہنم میں واپس بھیج دیا اور آج جب وہ اسے ملی تو اس حال میں؟؟؟؟؟ وہ جو اسے اپنی جان سے " عزیز تر " محسوس ہوتی تھی وہ اس کے ساتھ کیا کر بیٹھا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟ قرب سے آنکھ میچے وہ زلزلوں کی زد میں تھا کیا اس سے بڑی قیامت اس پر گزری تھی؟؟؟؟؟
ہسپتال کی فارمیلیٹیز پوری کرنے کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ ڈاکٹر کے مطابق وہ ٹھیک تھی مگر جب سے وہ ہسپتال آئی تھی تب سے اسنے ہر کسی سے " میرا بچہ کہاں ہے ؟؟ " پوچھ پوچھ کر اپنے ساتھ انکی بھی حالت خراب کردی شاید وہ کسی گہرے صدمے میں تھی۔۔۔۔۔ اور وہ جانتا تھا وہ " گہرا صدمہ کیا ہے ؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بھی وہ دو آنکھیں اسکا پیچھا کرتی ہسپتال تک پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔۔وہ جو اندر جانے لگا تھا مٹھی بھینچے اس منظر کو دیکھنے لگا۔۔۔۔وہ اس بچے کو اپنے سینے سے لگائے کار کی فرنڈ سیٹ پر آبیٹھی کار کا دروازہ بند کرتے ہی وہ شخص بھی تیزی سے اپنی سائیڈ پر آیا اور زن سے گاڑھی اڑا لے گیا۔۔۔
پیچھے رہا تو صرف وہ اکیلا،،، تنہا،،، آج ایک بار پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
