60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshate E Junoon) Episode 36


°°°°°°°
ائیرپورٹ پر پہلے ہی گاڑی ان کا انتظار کر رہی تھی۔جس ہوٹل میں ان کی رہائش تھی ۔اس ہوٹل سے ہی گاڑی انہیں لینے کے لیے بھیجی گئی تھی۔تاکہ انہیں کوئی مسئلہ نہ ہو۔
ایام کے لیے یہاں کچھ بھی نیا یا الگ نہیں تھا۔اور ایام کے مطابق روحی بھی اس کے ساتھ دوسالوں میں آدھی دنیا گھوم چکی تھی۔یہ الگ بات تھی کہ اس بات سے روحی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔
اس کے لیے سب کچھ ایک جیسا ہی تھا۔وہ پاکستان میں بھی مزے سے اپنے ٹیب پر گیم کھیل سکتی تھی اور پاکستان سے باہر بھی ۔ہاں لیکن اسے جہاز کا سفر اچھا لگتا تھا۔
کیونکہ وہ کھڑکی سے نیچے دیکھتے ہوئے کافی انجوائے کرتی تھی۔ اور کچھ اسے پسند ہو یا نہ ہو لیکن اپنی آنکھوں سے بادلوں کو اتنے قریب دیکھتے ہوئے اسے بہت مزہ آتا تھا ۔وہ بادلوں پر بیٹھ کر آسمان میں اڑ بھی سکتی تھی ۔لیکن جہاز کی کھڑکی اور دروازے بند تھے
ہیر کی تو یہ زندگی کی دوسری فلائٹ تھی جس میں وہ پاکستان جانے کی بجائے مانچسٹر جارہی تھی۔اس نے نہ تو کبھی ملک سے باہر جانے کے بارے میں سوچا تھا اور نہ ہی اس کی ایسی کوئی خواہش تھی ۔
جب کہ ایام اپنی میٹنگ اور بزنس کے سلسلے میں اکثر کہیں نہ کہیں جاتا رہتا تھا سیاست نہ تو اس کا شوق تھا اور نہ ہی وہ سیاست میں دلچسپی رکھتا تھا یہ صرف اس کی مجبوری تھی ۔
اس کے علاقے کے لوگوں نے اس پر یقین کیا تھا اور وہ ان لوگوں کا یقین توڑ نہیں سکتا تھا ۔اس کی وجہ سے اس نے ان لوگوں کی بات مان لی تھی۔لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں تھا کہ وہ اپنے باپ دادا کے بزنس کو یوں ہی چھوڑ دے گا ۔
اس کے باپ دادا نے بہت محنت سے یہ سب کچھ کھڑا کیا تھا اور وہ اپنی ذرا سی لاپرواہی میں کسی طرح کا نقصان نہیں کر سکتا تھا ۔کبھی کبھی توہیرپریشان ہوتی تھی وہ اتنے سارے کام ایک ساتھ کیسے کر لیتا تھا ۔
لیکن شاید اب اسے عادت ہو چکی تھی وہ سب کچھ سنبھال لیتا تھا جہاں وہ سیاست میں ایک بہترین مقام حاصل کر چکا تھا وہی اپنے بزنس کو بھی وہ ترقیوں کی بلندیوں پر لے کر جا رہا تھا۔
ہیر نے کبھی اس سے اس کی فیلمی کے بارے میں بات نہیں کی تھی اور ایام نے بھی اسے بس اتنا ہی بتایا تھا کہ اس کے بابا نے اس کی مام سے شادی کر لی تھی اور پھر وہ زیادہ پاکستان نہیں آئے
لیکن اپنے دادا جان کی خواہش پوری کرنے کے لیے وہ پاکستان میں رہنے لگا تھا۔اور بس اس کے علاوہ اس نے کچھ نہیں بتایا تھا۔
لیکن ہیر سوچ رہی تھی کہ وہ ایام سے اس کی فیملی کے متعلق ضرور پوچھے گی اور خاص کر روحی کے بارے میں سب کچھ جاننے کی کوشش کرے گی ۔
روحی اس کی بیٹی تھی تو اس کا حق بنتا تھا کہ اسے روحی کے بارے میں سب کچھ پتہ ہو۔وہ روحی کی ماں کے بارے میں اس کی پیدائش سے لے کر اب تک سب کچھ جاننے میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن اس نے نوٹ کیا تھا کہ ایام اسے کچھ بھی نہیں بتاتا تھا
°°°°°°°°
ایام چیکنگ کے لئے جا چکا تھا جب کہ ایک واکر اسے کمرے تک چھوڑ کر خود چلا گیا تھا وہ روحی کے ساتھ ہی اندر آ گئی سفر نے اچھا خاصا تھکا دیا تھا۔
فلائٹ میں سو نہیں پائی تھی۔جبکہ ایام اور روحی کافی دیر سوئے تھے اب اسے تھکاوٹ کی وجہ سے اچھی خاصی نیند آ رہی تھی کافی دیر ایام کا انتظار کرنے کے بعد روحی کو لے کر بیڈ پر لیٹ گئی تھی ۔
روحی اپنے ٹیب پر گیم کھیل رہی تھی جب کہ اسے نیند کے جھٹکے لگ رہے تھے پتہ نہیں ایام نے کب تک واپس کمرے میں آنا تھا ۔
مامادانی اپ تو نینی آلی اے(ماماجانی آپ کو نیند آ رہی ہے) روحی جو اپنے ٹیب پر لگی ہونے کے باوجود بھی اس سے کچھ نہ کچھ پوچھ رہی تھی اس کی آنکھیں بند کرکے لیٹنے اور جھٹکا لینے پر اس کا ہاتھ ہلا کر بولی ۔تو اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا ۔
جب اچانک ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ کمرے میں داخل ہواوہ تو بالکل فریش تھا یقیناوہ بہت اچھے طریقے سے نیند پوری کر چکا تھا اور روحی کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا ۔وہ ایام کے پاس آتے ہوئے بڑے مزے سے اسے اس کی نیند کے جھٹکےکی سٹوری سنا رہی تھی ۔
وہ اسے چھوٹی بچی سمجھتی تھی لیکن اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ روحی سب کی دادی اماں تھی اس نے تو منع بھی کیا تھا کہ اسے نیند نہیں آ رہی تھی لیکن اسے سب پتا تھا ۔
اور اس وقت اپنی سٹوری میں وہ اسے کارٹون والا بھالو بنا رہی تھی جو کسی فلم میں ایسے ہی جھٹکے کھا کر سوتا ہےوہ دونوں باپ بیٹی اس کا خوب مذاق اڑا رہے تھے ۔
جبکہ ان دونوں کے شورشرابے کے بیچ میں اس پر پوری طرح سے نیند غالب ہو رہی تھی اور پھر جیسے ایام کو اس پر ترس آگیا اور روحی کو باہر گھومنے کے بہانے لے کر جانے لگا اور جاتے ہوئے اسے کہہ دیا اپنی نیند پوری کر لو پھر مت کہنا کہ میں نے تمہیں رات کو سونے نہیں دیا ۔
جہاں وہ اس کے اس احسان پر اس کی شکر گزار تھی وہیں اس کے گال دہکنے لگے تھے اس کی بے باک بات پر جبکہ اس کی بے باک نظریں خود پر محسوس کرتی وہ چہرے تک کنفرٹر اوڑھ کر لیٹ گئی تھی ۔
پھر نیند کب مہربان ہوئی اسے خود بھی پتہ نہیں چلا تھا آیام اور روحی وہ دونوں کہاں گئے تھے اور کب تک واپس آنے والے تھے اسے کوئی ہوش نہیں تھا اس وقت صرف اسے اپنی نیند پوری کرنی تھی ۔
جو کہ وہ اب کر رہی تھی ایام اورروحی نے کب تک واپس آنا تھا اسے اندازہ نہیں لیکن اسے پتا تھا تب تک وہ روحی کو واپس نہیں لائے گا جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ ہیر کی نیند پوری ہو چکی ہے ۔
ایام سکندر کو پا کر وہ خود پر نازاں ہوتی تھی ۔وہ جتنا خدا کا شکر ادا کرتی کم تھا کیونکہ اتنا سمجھنے اور چاہنے والا شوہر بھی قسمت والوں کو ملتا ہے
°°°°°°°
وہ کافی دیر کے بعد واپس آئے تھے اگر یہ کہا جائے کہ پانچ سے چھ گھنٹوں کے بعد تووہ بھی غلط نہیں ہوگا اس نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ بستر میں گھسی تھی جبکہ اس کے کندھے سے لگی روحی بھی گہری نیند میں اتر چکی تھی ۔
وہ روحی کو چلڈرن پارک لے کر گیا تھا جو یہاں سے تقریباپونے گھنٹے کے فاصلے پر تھا اور وہاں انہوں نے بہت انجوائے کیا تھا چھوٹے چھوٹے اور بچے بھی تھے جن کے ساتھ روحی نے اپنا بہت اچھا وقت گزارا تھا ۔
اسے پتا تھا کہ ہیر زیادہ تھک چکی ہو گی کیونکہ جہاز میں وہ بالکل بھی نہیں سوئی تھی اور پھر یہاں کمرے میں روحی تھی اسے ہر وقت تنگ کرنے کے لئے جس کی موجودگی میں وہ سو تو ہرگز نہیں پاتی ۔
اس نے نوٹ کیا تھا وہ ذرا سے شور میں بھی اپنی نیند پوری نہیں کر سکتی تھی اسی لیے اسے پرسکون نیند دینے کے لئے وہ روحی کو اپنے ساتھ باہر لے آیا تھا جہاں چلڈرن پارک میں اس نے بہت انجوائے کیا تھا اور اب وہ کھیل کھیل کر تھک ہار کر سو گئی تھی ۔
اس نے اپنے روم میں روحی کے لئے ایک سنگل بیڈ لگوایا تھا ۔کیوں کہ روحی کو آجکل الگ بیڈ پر سونے کا عجیب قسم کا جنون سوار تھا ۔اور وہ اپنی بیٹی کی کوئی خواہش پوری نہ کرے ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا۔
وہ روحی کو اس کے بیڈ پر لیٹاتا نرمی سے اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے کمبل ڈال چکا تھا ۔فلائٹ لینے کے بعد وہ خود بھی تھک چکا تھا اور پھر آج روحی نے بھی اسے نچا نچا کر اچھا خاصا تھکا دیا تھا ۔
لیکن اس کی تھکاوٹ نیند ہرگز نہیں اتار سکتی تھی اس کی تھکاوٹ تو صرف اس کی خوبصورت بیوی ہی اتار سکتی تھی وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے اس کے قریب آیا اور پھر دلکشی سے مسکراتے ہوئے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں لے لیا
وه جو پتہ نہیں کون سے میٹھے خوابوں کے زہر اثر تھی خود پر اس کا جھکاو محسوس کرکے ہربڑا سی گئی ۔
ایام۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ سوئی جاگ کیفیت میں اسے دیکھتی صرف اس کا نام ہی پکار پائی تھی جب کہ وہ ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کرتا اسے اپنے قریب تر کر کے اس کی نیند کو بھگانے کا سبب بنا تھا۔
پھر اپنے چہرے پر جا بجا اس کے لبوں کا لمس محسوس کرتی وہ ذرا سا کسمسائی تھی لیکن ایام نے اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے اسے ہر طرح کی مزاحمت سے روک دیا ۔
روحی کی ماما جانی کو اتنی زیادہ نیند کیوں آتی ہے ۔۔۔۔اس کے لبوں پر اپنے لب رکھے وہ ہلکی سی بربراہٹ کے ساتھ بولا تو ہیر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔
کیونکہ روحی کر بابا جانی کو نیند نہیں آتی بلکہ وہ تو دوسروں کی نیند خراب کرنے آجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ منہ بنا کر بولی ۔
ویسے میں تمہاری نیند خراب بالکل نہیں کر رہا تھا تم نے چھ گھنٹوں کی بھرپور نیند لی ہے لیکن اس کے باوجود بھی تم نے مجھ پر الزام لگا ہی دیا ہے تو پھر میں تمہاری نیند کو ٹھیک طرح سے خراب کرکے بتاتا ہوں ۔اس کی کمر کو جھٹکا دیتا اسے اپنے مزید قریب کرتے ہوئے اس کے بالوں میں ایک ہاتھ پھنساتا اس کی گردن پر جا بجا اپنی محبت کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر چکا تھا جبکہ اس کی باہوں میں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیر نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی۔
°°°°°°°
واو ایام صاحب کتنی پیاری جگہ پر لے کر آئے ہیں یہ لمبی لمبی سڑکیں یہ لمبی لمبی عمارتوں میں نے تو کراچی میں دیکھی ہی نہیں تھیں اسی لیے تو یہ آپ مجھےمانچسٹر میں آ کر دیکھا رہے ہیں ۔
اس سے بہتر تھا کہ ہم ہنی مون کے لیے کراچی چلے جاتے کم از کم اس سے زیادہ خوبصورتی تو دیکھ سکتے تھے ۔میں نے اس سے زیادہ خوبصورت سڑکیں تو دنیا میں دیکھی ہی نہیں ہیں
وہ اس کے ساتھ سڑک پر چلتی اچھی خاصی مایوسی ہوئی تھی جبکہ وہ مسکراتے ہوئے اس کےساتھ چل رہا تھا اور روحی اس کا ہاتھ تھامیں اپنی ہی مستی میں مگن آئسکریم کھا رہی تھی ۔
یار اتنے کیوں منہ بنا رہی ہو ۔مانا کہ یہاں بہت اچھے نظارے نہیں ہیں لیکن دیکھو کتنی صاف ستھری اور پیاری سی سڑکیں ہیں ۔ایام اسے اپنے ساتھ باہر گھومانے کے لئے لایا تھا اس کے تبصرے پر پہلے تو خوب محظوظ ہوا لیکن اسے لگ رہا تھا کہ اس نے واقعہ ہیر کے ساتھ زیادتی کر دی ہے ۔
ایک تو اسے عمارتیں اور سڑکیں دیکھنے میں دلچسپی نا تھی اور اوپر سے جس جگہ پر رہنے والے تھے وہ سڑکوں کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں ۔اسے سب سے بہترین مانچسٹر کا یہی ہوٹل لگا تھا جس کی وجہ سے اس نے یہیں پر اپنی بکنگ کروائی تھی ۔
لیکن اب اسے افسوس ہو رہا تھا اور وہ اس علاقے کے بجائے کسی ہلکے پھلکے نظارے والی جگہ پر بکنگ کرواتا تو اس کی بیوی خوش ہو جاتی۔
ارے یار میں تمہیں یہ سڑکیں دکھانے کے لیے باہر ہرگز نہیں لایا تھا میں تو تمہیں آئس کریم کھلانے کے لئے لایا تھا اس میں بھی کوئی فلیور تمہیں پسند نہیں آ رہا تو میں کیا کروں ۔
چلو آؤ ہم پارک کی طرف چلتے ہو سکتا ہے تمہیں پسند آجائے ایام نے اسے منانے کی ننھی سی کوشش کی تھی جب اچانک ہیر نے اپنے پیچھے کی طرف دیکھا ایام اچانک اس کے مڑنے پر حیران ہوا تھا ۔
کیا ہوا جان تم ایسے گھبرا کیوں رہی ہو اس کے اچانک ہاتھ پکڑنے پر ایام پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا جبکہ وہ عجیب سے انداز میں آگے پیچھے ہر طرف دیکھ رہی تھی جیسے کوئی جان پہچان کا انسان اس نے دیکھ لیا ہو ۔
ایام مجھے ایسا لگا کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے اور ابھی سے نہیں جب سے ہم ہوٹل سے نکلے ہیں نہ تب سے مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کوئی ہمارے پیچھے آرہا ہے کوئی ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔میں نے پہلے بھی دیکھنے کی کوشش کی لیکن مجھے کہیں نظر نہیں آیا ۔پر اب بھی مجھے ایسا ہی محسوس ہورہا ہے چلے ہم ہوٹل واپس چلتے ہیں میرا نہیں خیال کہ ہمیں یہاں رکنا چاہیے وہ اس کا بازو مضبوطی سے پکڑے ہوئے بولی ۔ایام نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا
میری جان تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی پریشان ہونے کی ضرورت ہے میں ہوں نا تمہارے ساتھ اور اگر تمہیں ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے تو اور کیا ہوا اب اتنا پیارا کپل ہے کوئی نہ کوئی تو ضرور دیکھے گا ۔
لیکن ہمیں نظر نہیں لگاوانی چاہیے اس لیے ہمہیں پارک کی طرف چلنا چاہیے چلو ہم پارک کی طرف چلتے ہیں وہ اس کا ڈر کم کرنے کی کوشش کرتاروحی کو گود میں لیتا اس کا ہاتھ تھامیں آگے کی طرف بڑھ گیا تھا جبکہ وہ اس کے بازو کے ساتھ لگی تھی ایک بار پھر آگے پیچھے دیکھ رہی تھی لیکن ایام نے اسے زیادہ دیر اسے اس جگہ پر نہیں رکھاتھا۔
°°°°°°°°
وہ تقریباً ایک گھنٹہ پارک میں گزار کر واپس ہوٹل کی طرف جا رہے تھے اس نے یہاں آتے ہی رینٹ پر ایک گاڑی لی تھی لیکن اس وقت وہ اس کے ساتھ پیدل مارچ ہی کر رہا تھا کیونکہ وہ ہوٹل کے آس پاس ہی آۓ تھے ۔وہ بھی صرف روحی کی ضد پر
بابا دانی پھلور شپ(بابا جانی فلاور شوپ) ۔۔۔۔۔۔۔روحی جو اس کی گود میں تھی اچانک سے سامنے والی دکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔
اس کی طرح اس کی بیٹی کو بھی پھول بہت اٹریکٹ کرتے تھے۔
اس نے سامنے دیکھا جہاں باہر بہت سارے پھول ہی پھول تھے ہر نسل اور رنگ کے پھول وہاں موجود تھے جبکہ ان کے پیچھے بیٹھی ایک پیاری سی خاتون شاید ان کو سیل کر رہی تھی اس نے مسکراتے ہوئے ہیر کو اس طرف چلنے کا اشارہ کیا تو وہ بھی اس کے ساتھ وہاں چلی آئی ۔
ہیلو ینگ بیوٹیفل کپل کیسے ہو تم دونوں یہ پرنسسز تم دونوں کی بیٹی ہے بولو کیا تمہیں اپنی اس پیاری سی بیوی کے لئے ایک خوبصورت پھول چاہیے روکو میں تمہیں دیتی ہوں ۔یہ پیارا سا پھول تمہیں اس دنیا کے سب سے خوبصورت عورت کو دینا چاہیے ۔وہ ایک بے حد خوبصورت پھول اس کی طرف بڑھاتے ہوئے مسکرا کر انگلش میں بولی تھی جبکہ ایام نے بھی ان کے انداز میں مسکرا کر پھول کو تھام لیا ۔
اور اپنی جیب سے اس کی پیمنٹ نکال کر ان کے حوالے کرنے لگا انہوں نے مسکراتے ہوئے پیسے تھام لیے تھے جو اس پھول کی قیمت سے کافی زیادہ تھے ۔
کیا تمہیں اور پھول بھی چاہیے یا میں تمہیں چینج دوں ۔ان خاتون نے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر اس سے پوچھا تھا
نہیں مجھے اور پھول نہیں چاہیے اور مجھے چینج بھی نہیں چاہیے ۔اس نے اب تک وہ خوبصورت پھول اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا جس کی ہیر کافی دیر سے منتظر تھی ۔کیونکہ وہ سچ میں بے انتہا خوبصورت تھا اگر اس دکان کا سب سے خوبصورت پھول کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔
اس پھول کی قیمت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ بہت قیمتی ہے اور ویسے بھی میں اس پھول کو دنیا کی سب سے خوبصورت عورت کو دینے والا ہوں۔
شاید میں اس پھول کی خوبصورتی کی قیمت بھی ادا نہ کر پاوں۔
اس کی بات سن کر ہیر نے ہاتھ پھول کی جانب بڑھایا تھا لیکن اس نے مسکراتے ہوئے پھول انہیں خاتون کی طرف بڑھا دیا ۔
یہ پھول تم مجھے واپس کیوں کر رہے ہو وہ حیران ہوئی تھیں جبکہ ہیر نے بھی اپنا ہاتھ نیچے کر لیا تھا اس کی اس بات کو تو وہ خود بھی سمجھ نہیں پائی تھی ۔
کیوں کہ اس وقت میری نظر میں یہاں سب سے خوبصورت آپ ہیں اور شاید یہ پھول آپ سے زیادہ کسی کو سوٹ بھی نہیں کرے گا
کیا آپ یہ خوبصورت پھول میری طرف سے قبول کریں گی اس کا اندازہ بے انتہا دلکش تھا ہیر کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی تھی جبکہ وہ ستر سے اسی سالہ خاتون بھی مسکراہٹ کے ساتھ اس پھول کو قبول کر چکی تھی ان کے چہرے پر خوبصورت ترین مسکراہٹ کھل گئی تھی ۔
مجھے یقین ہے کہ تم بہت رومینٹیک انسان ہو۔۔۔۔۔وہ اس کی ذات پر تبصرہ کرتے ہوئے بولی تو ان کا کمنٹ اس نے حق سے وصول کرتے ہوئے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا تھا ۔
تمہیں بھی پھول چاہیے کیا ۔۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔
میں بدلے میں آپ کو رومینٹک نہیں بولوں گی ۔۔اس نے جیسے پھول لینے کی شرط رکھی تھی
تمہیں مجھے رومینٹک کہنے کی ضرورت نہیں ہے تم بس میرا رومینس محسوس کر لینا تمہیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ میں کتنا رومینٹک انسان ہوں ۔وہ بڑے مزے سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کرتا اس کے لبوں پر مٹھی سی جسارت کرتا پیچھے ہٹا تھا ۔
ہیر اسے گھور کر رہ گئی تھی جبکہ نظر کبھی روحی پر تو کبھی ان خاتون پر جاتی جو اس کے لئے سب سے خوبصورت پھول ڈھونڈ رہی تھی جبکہ روحی اپنے ہی دھیان میں پھولوں کی غور و فکر کر رہی تھی ۔
آپ رومینٹک نہیں انتہائی بے شرم انسان ہیں۔اس نے اپنی طرف سے تبصرہ کیا تھا جس پر ایام قہقہ لگا کر ہنسا اسے یہ نام بھی پسند آیا تھا یا وہ ضرورت سے زیادہ ڈھیٹ ہوگیا تھا کہ اس پر اس کی کوئی بات اثر ہی نہیں کر رہی تھی ۔
••••••