60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon ) Second Last Episode

°°°°°
سر ہماری بھی ہزار طرح کی مجبوریاں ہیں آپ کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس طرح سے اچانک ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں بھی نہیں لے سکتے۔
یہ بہت مشکل ہو جائے گا ہمارے لیے پلیز ہماری مجبوری کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔
فی الحال الیکشن چل رہے ہیں ایسے میں کسی بھی طرح کا روک ٹوک کرنا ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اور صرف ہمارے لئے ہی نہیں آپ کے لئے بھی آپ کے بھی آپ کا سسٹم کے خلاف اٹھایا کوئی بھی قدم آپ کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے پلیز کوئی بیوقوفی مت کریں۔اس سے ہمیں بھی نقصان ہو سکتا ہے ۔
اپنی بکواس بند کرو جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو۔مجھے میری بیوی چاہیے ہر قیمت پر یاد رکھنا کوئی بھی فلائٹ تب تک پاکستان سے نہیں جا سکتی جب تک میری بیوی سہی سلامت میری آنکھوں کے سامنے نہ آجائے ۔
جو لوگ ان لیگل طریقے سے پاکستان سے باہر نکل رہے ہیں ان لوگوں کو بھی روک دو جب تک میری بیوی میرے سامنے نہیں آ جاتی تب تک پاکستان سے کوئی بھی انسان باہر نہیں جا سکتا۔
جب کوئی بھی انسان پاکستان سے باہر ہی نہیں جائے گا تو ملک کے اندر آسانی رہے گی میری بیوی کو تلاش کرنے میں اور سب کچھ لگا دوں ہر طرح کی فورس کو الرٹ کر دو مجھے میری بیوی واپس میری آنکھوں کے سامنے چاہیے ۔
ایم ریلی سوری سر آپ اپنی پاور کا غلط استعمال کر رہے ہیں ۔صرف اپنی بیوی کے لئے آپ پورے ملک کو مشکل میں ڈال رہے ہیں ۔
فی الحال تو آپ کے ہاتھ میں پولیٹیشن کی کرسی آئی ہی نہیں ہے۔اور آپ سسٹم میں ہیر پھیر کر رہے ہیں ۔اگر آپ پولیٹیشن بن گئےتو۔
تم کسےبے وقوف بنا رہے ہو یہاں کوئی دودھ کا دھلا نہیں ہے یہاں کرسی پر بیٹھ کر انسان اپنے لیے جیتا ہے اپنے مطلب کے لئے جیتا ہے ۔
اور یہاں بات میری زندگی پر آئی ہے میری عزت پر میری بیوی پر آئی ہے ۔
اگر تمہیں اوپر سے بہت پیسے مل رہے ہیں ۔تو ان پیسوں کو تم اپنی جیب میں رکھو ۔لیکن یہ مت سوچنا کہ تمہارے باپ دادا مجھے میرے مقصد سے روک پائیں گے ۔
لیکن سر یہ قدم بہت سارے پولیٹیشن کو بہت زیادہ نقصان دے سکتا ہے ۔
ایام سکندر کو پروا نہیں۔۔۔۔۔۔مت بھولو کہ تم میرے انڈر کام کرتے ہو ۔اگر اپنی نوکری پیاری ہے تو بہتر ہوگا کہ تم وہ کرو جو میں کہتا ہوں ۔جس نوکری کے بل پر تم مجھے میرے کام سے روک رہے ہونا اگر وہ نوکری نہ بچی تو جن کا پیسہ تم کھاتے ہو وہ تمہارے منہ پر تھوکنا بھی پسند نہیں کریں گے ۔ایام نے جیسے اس کی اوقات یاد دلائی تھی ۔
جی جی سر میں انکار نہیں کر رہا میں ابھی ساری فلائٹس روک دیتا ہوں کوئی بھی غیرقانونی طریقے سے بھی پاکستان سے باہر نہیں جا سکے گا ۔اگر آپ حکم کریں گے تو میں بائےروڈ کا سلسلہ بھی بند کر دوں گا ۔
نہیں وہ سب کچھ میں سنبھال لوں گا عوام کو ڈسٹرب کرنے کی ضرورت نہیں اس نے کہہ کرفون بند کر دیا تھا ۔جب امجد نے اسے بتایا کہ نیچے کچھ آفیسر آئے ہوئے ہیں
°°°°°°°
اسلام علیکم سر ہم نے سب کچھ پتہ کروایا ہے آپ کو جس نمبر سے پہلے فون آیا تھا وہ کسی وقار کے نام پر رجسٹر ہے ۔
لیکن وقار نام کا آدمی اسے ہرگز استعمال نہیں کر رہا ہم اس آدمی کا شناختی کارڈ اور ساری پرسنل انفارمیشن نکلوا چکے ہیں ۔
یہ آدمی کچھ بھی نہیں کرتا سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا ہے اور سننے میں آیا ہے کہ دو تین دفعہ اسے شک کی بنا پر گرفتار کر لیا گیا تھا کہ یہ نشہ وغیرہ بیچتا ہے پھر اسے ایک دفعہ گرفتار کر لیا گیا کہ یہ لڑکیوں کے ساتھ افیئر چلا کر ان سے غیر مناسب ویڈیو بنواتا ہے ۔
لیکن اس طرح کی کوئی بھی بات ثابت نہ ہونے پر ایک بار چاردن اور دوسری بار دو مہینے کی سزا دے کر چھوڑ دیا گیا اور ایک دفعہ یہ نو ماہ تک جیل میں رہا تھا ۔
جبکہ آوارہ گردی سے پہلے یہ ایک کمپنی میں اچھی خاصی پوسٹ پر نوکری کر رہا تھا لیکن پھر اس پر چوری کا الزام لگا دیا گیا تھا وہاں سے اسےدھکے مار کر نکالا گیا تھا اس کے بعد ایسی بہت ساری سرگرمیوں ہیں جس میں اس کا نام آتا رہا ہے لیکن ثبوت نہیں تھا ۔
اس وقت یہ۔آدمی کہاں ہے اور کتنی دیر تک یہ میرے سامنے ہوگا وہ ان لوگوں کو دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔
سر میں اپنی فورس لگادی ہے یہ آدمی جلد سے جلد ہمیں مل جائے گا اور جیسے ہی ملتا ہے ہم اسے آپ کے سامنے خاظر کر دیں گے انشاءاللہ آپ ہمیں بس ایک گھنٹے کا وقت دیں ۔
سوپر پاور سروس والوں نے اس سے اپنے اعتماد میں لے کر وقت مانگا تھا جس پر وہ صرف ہاں میں سر ہلا گیا ۔
°°°°°°°
سر بہت بڑا مسئلہ ہوگیا ہے ۔آپ نے کہا تھا کہ ہم اس لڑکی کو آج رات ہی دبئی لے جائیں گے لیکن ساری فلائٹس بند کردی گئی ہیں ۔
پاکستان سے اگلے 24 گھنٹے تک کوئی بھی فلائٹ کسی بھی ملک کے لیے نہیں نکل سکتی کوئی سیاسی ایشو آیا ہے ۔
کوئی سیاسی ایشو ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے وہ پریشانی سے اسے پوچھنے لگا تھا ۔
سر کچھ کہا نہیں جا سکتا کنگ پاکستان میں نہیں لیکن باقی ممالک میں اتنی پاور رکھتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی کروا سکے لیکن پاکستان میں بہت عام شہری کی حیثیت سے رہتا ہے یہاں وہ اپنی پاؤر سے کچھ بھی نہیں کروا سکتا ۔
تو پھر تمہیں کیا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ۔
سرمیں یہ تو نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے لیکن یہ لڑکی ایک سیاسی آدمی کی بیوی ہے ۔
وہ بندا کافی پاؤر میں ہے لیکن اپنی پاور کا زیادہ استعمال نہیں کرتا ۔ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کیا ہو ۔وہ کافی ایماندار بندہ ہے اپنے کام کو پوری ایمانداری سے کر رہا ہے ۔وہ اپنی سیاسی پاور کبھی اپنے ذاتی یا غلط کام کے لئے استعمال نہیں کرتا
اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے ہیں ہمارے دو اڈھوں پرچھاپا مارا گیا ہے جہاں سے بہت سارے آدمیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے نقصان بھی کافی ہوا ہے ۔پولیس اور باقی ادارے اچانک حرکت میں آ گئے ہیں ۔
کل تک یہاں بہت خاموشی تھی لیکن آج پولیس نے اچانک زور پکڑ کر ہلچل مچا دی ہے ۔جگہ جگہ سے لوگ بھاگ رہے ہیں لیکن پاکستان سے باہر کوئی نہیں جا سکتا غیر قانونی طریقے سے جو لوگ باہر جارہے تھے وہ سارے بھی پکڑے جا چکے ہیں ۔
اس سے پہلے کہ ہم کسی بڑے نقصان کی ذر میں آجائیں ہمیں کچھ نہ کچھ سوچنا ہوگا سر اگر آپ کہیں تو اس لڑکی کوختم کر دوں۔کیوں کہ مجھے لگ رہا ہے کہ فساد کی جڑ یہی لڑکی ہے اسی کے پیچھے وہ آدمی سب کچھ کروا رہا ہے ۔
ویسے بھی یہ ہمارے کسی کام کی نہیں ہے ۔کنگ کو اس کی لاش تحفے میں بھیج کر اسے اس کی ہار سے روشناس کروا دیں گے ۔
نہیں اسے مار دینے کا مطلب ہے کہ خوف زدہ ہو جانا اور میں کنگ سے خوفزدہ نہیں ہوں اسے اتنی بُری حالت میں پہنچا دو کہ اس کی موت یہاں نہیں بلکہ کنگ کے پاس جا کر ہو ۔
اور جلد سے جلد میرے یہاں سے نکلنے کا انتظام کرو اس سے پہلے کہ پولیس ہمارے سارے اڈھوں تک پہنچے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے ۔
کیوں کہ آندھی یا طوفان آئے کنگ کو کوئی نہیں روک سکتا وہ ضرور آئے گا اپنی امایت لینے کے لئے ۔یہ لڑکی اس کی ضد بن چکی ہے۔
یہ لڑکی دو طرف سے اسے شکست دے رہی ہے ایک یہاں سے اور دوسرے اس کے شوہر کی طرف سے۔اور کنگ یہ شکست قبول نہیں کر پائے گا کنگ اس لڑکی تک پہنچنے کے لیے کوئی بھی حد پار کر جائے گا ۔اسی لئے ہمیں جلد سے جلد یہاں سے نکلنا ہوگا
°°°°°°
پانی ۔۔۔۔۔پانی ۔۔۔۔۔۔پانی وہ زمین پر پڑی کب سے پانی پانی ہی کئے جا رہی تھی ۔
جب کہ وہ کہاں تھی اس کو بالکل بھی ہوش نہیں تھا ۔۔
ایام۔۔۔۔۔ ایام ۔۔۔۔۔۔پورے جسم میں تھکاوٹ سی محسوس ہورہی تھی عجیب سا خوف محسوس ہو رہا تھا اس کا دل بری طرح سے کانپ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے زندگی ختم ہونے والی ہے ۔
پانی ۔۔۔۔۔۔اس کے منہ سے ہلکی ہلکی آواز نکل رہی تھی جب اچانک کمرے کا دروازہ کھلا ۔
ماربل کے فرش پر وہ نیم بے ہوش پڑی ہوئی تھی کمرہ بالکل خالی تھا اور اندھیرے میں ڈوبا تھا لیکن دروازہ کھلنے سے کمرے میں روشنی ہو گی ۔اور وہاں سے اس کے سامنے تین سے چار آدمی کمرے میں داخل ہوئے تھے
ارے ۔۔۔۔ارے لڑکی کو پانی چاہیے اسے پانی دو کہیں مرناجائے ۔ لیکن ہمہیں تواسے مارنا ہی ہے ۔تو پھر مرنے دیتے ہیں۔
ارے نہیں مرنے دیں گے تو کنگ کو اس کا حال کیسے پتا چلے گا ۔
دوسرے نے کہا
ہمہیں اسے زندہ مردہ حالت میں کنگ کے اڈے پر پہنچانا ہے لیکن اس کے لئے ہمیں تمہیں بہت تکلیف دینی پڑے گی جو تمہارے نصیب میں لکھی ہی نہیں ہے پیاری ۔۔۔۔
وہ اسے بالوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کر چکا تھا جبکہ ہیرحیران نظروں سے اس آدمی کو دیکھ رہی تھی ۔
چھوڑ دو چھوڑ دو مجھے اس نے اپنا آپ اس کے ہاتھ سے چھڑوانا چاہا ۔
کیسے چھوڑ دیں تجھے تیری وجہ سے کنگ نے ہمارا اتنا نقصان کیا اور تو ۔۔۔۔اور تیرے شوہر نے بھی ہمارا بہت نقصان کیا اس دن ہمارے اڈے پر پہنچ کر ۔
تو کنگ کے دل کی دھڑکن ہے تجھے تو وہ ہر قیمت پر حاصل کرے گا ۔
تجھے کنگ کے سامنے ایسی حالت میں بھیجیں گے کہ وہ کبھی اپنی اس ہار کو بھول نہیں پائے گا ۔
اس نے انڈرورلڈ میں ہمارے باس کی جگہ لی تھی ۔اور ہمارے باس اس کنگ سے بدلہ لینے کے لئے اس کی کمزوری تلاش کر رہے تھے اور پھر تو ہمارے ہاتھ لگ گئی
تمہیں بدترین موت دے کر ہم اس کنگ کو ہرائیں گے اور پھر ہمارے باس کی جگہ انہیں واپس ملے گی ۔
لیکن یہ سب دیکھنے کے لئے تو زندہ نہیں بچے گی کیونکہ تجھے تو ہم ختم کر دیں گے تو کنگ کی کمزوری ہے تو تیار ہو جا تیری موت تیرےسر پر کھڑی ہے وہ اسے دھکا دیتا پیچھے کی طرف گرا چکا تھا ۔
تیری آخری خواہش ہے کوئی اگر ہے بھی تو تو اب سے ختم ہو جائے گی ۔وہ قہقہ لگاتا اسے ڈرا رہا تھا۔
یار یہ لڑکی تو بہت خوبصورت ہے میری تو نیت خراب ہو رہی ہے لیکن باس نے منع کیا ہے ۔بوس نے کہا ہے کہ ہم اس کے جیسے گھٹیا نہیں ہے اسی لئے اس لڑکی کی خوبصورتی کو نظر انداز کر دینا ۔
لیکن اس حسین روپ کو بھلا کوئی نظر انداز کر سکتا ہے میری تو اس پر نیت خراب ہو رہی ہے ۔
اس کے پیچھے کھڑے لڑکے نے اسے ہوس بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
ارے تجھے اس کی شکل پر پیارآ رہا ہے اسی شکل پر تو کنگ مر مٹا ہے لیکن ہم نے اس شکل سے نفرت کرنی ہے نفرت۔۔۔۔۔
کیوں کہ یہ کنگ کی منظور نظر ہے وہ زور دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کرتے ہوئے اسے زمین بوس کر چکا تھا جبکہ ہیراب تک پورے ہوش و حواس میں بھی نہ آئی تھی اپنے ساتھ ہوتے اس ظلم پر بلبلا اٹھی ۔
چھوڑ دو مجھے خدا کے لیے چھوڑ دو میں نے تم لوگوں کا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔۔۔شاید وہ کبھی ان لوگوں کے سامنے نہ جھکتی لیکن اپنے پیٹ میں پلتے بچے کے لیے اس نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے تھے وہ اپنا کوئی نقصان برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔
تجھے چھوڑ دیں تجھے ۔۔۔۔۔تجھے تو آدھ مردہ حالت میں ہمہیں کنگ کے اڈے پر چھوڑنا ہے اور ہم تیرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں یہ تجھے پتہ چل جائے گا ۔
فی الحال توتو اپنی موت کا انتظار کر ۔
جب تیری کنگ حالت دیکھے گا نا تب اسے اندازہ ہوگا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے ۔
کون کنگ ۔۔۔۔۔میں کسی کنگ کو نہیں جانتی پلیز مجھے چھوڑ دو میں تم لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔وه ان کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ چکی تھی لیکن وہ لوگ اس کی کسی بات کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے ۔
تجھے چھوڑ دیں گے تو ہم بھلا اپنا کام کیسے کروائیں گے ۔کنگ تجھے حاصل کرنے کے لئے کوئی بھی حد پار کر جائے گا ۔ویسے تو چیز بھی تو اتنی خوبصورت ہے کہ کنگ جیسا آدمی تجھ پر مرمٹا ہے ۔
لیکن جس شکل سے کنگ کو محبت ہوئی ہے اگر ہم وہ شکل ہی بگاڑ دیں تو ۔۔۔۔۔وہ اپنی جیب سے کچھ نکالتے ہوئے اس کے سامنے کر چکا تھا وہ عجیب سی چیز تھی ۔ ایک شیشے کا بلب سا تھا جس میں کچھ تھا شاید پانی یا پھر تیزاب ۔۔۔
کون تھے یہ لوگ جو اس کے ساتھ یہ سب کچھ کر رہے تھے کون تھا کنگ جس سے بدلہ لینے کے لیے وہ لوگ اس کی دنیا برباد کرنا چاہتے تھے ۔
اس یقین نہیں آرہا تھا کہ اس دنیا میں ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو صرف بدلے کے لئے کسی کی پسند کو اس حد تک برباد کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔
وہ کنگ کی پسند کب اور کیسے بنی تھی وہ نہیں جانتی تھی لیکن وہ لمحہ یقیناً اس کی زندگی کا سب سے منہوس لمحہ تھا وہ پھٹی آنکھوں سے اس آدمی کے ہاتھ میں وہ چیز دیکھ رہی تھی ۔ ۔
اس نے اس بمب کا اوپر سے ڈھکنا کھولا جب اچانک دروازہ کھولا اور کوئی اندر داخل ہوا
°°°°
مجھے کچھ نہیں پتا۔۔۔۔۔ خدا کے لیے چھوڑ دو میں نے کچھ بھی نہیں کروایا ۔۔۔۔۔۔
میں تو اس طرح کے کسی کام میں شامل نہیں ہوں ۔اور نہ ہی مجھے ان سب چیزوں کی خبر ہے ۔
اس روڈ پر بہت امیر لوگ آتے ہیں بس اسی لئے کل شام کو وہاں پر کھڑا تھا میرا کوئی مقصد نہیں تھا۔
اور نہ ہی میں نے کسی سیاستدان کی بیوی کو اغوا کیا ہے ۔
خدا کے لئے مجھے چھوڑ دو وقار زمین پر اب بری طرح سے بلبلا رہا تھا پولیس نے اس کی درگت بنا دی تھی اسے مار مار کر اس کی حالت خراب کر دی تھی ۔
اور یہ سب کچھ صرف شک کی بنا پر ہو رہا تھا کیونکہ کل اسے ایام سکندر کے بنگلے کے آس پاس دیکھا گیا تھا ۔
دیکھو اگر تمہیں اپنی جان پیاری ہے نا تو سب کچھ بتا دو۔ ایام سکندر اپنی بیوی کی تلاش میں بپھرا ہوا شیر بنا ہوا ہے یہ نہ ہو کہ وہ تمہاری گردن کاٹ دے ۔
ہم تو پھر تمہیں بخش دیں گے لیکن ایام سکندر تمہاری روح تک ہلا دے گا ۔وہ بھی تھوڑی دیر میں یہاں پہنچنے والا ہے اگر اپنی زندگی چاہتے ہو تو سب کو سچ بتا دو ۔
مجھے کچھ بھی نہیں پتا میں آپ لوگوں کو کیا بتاؤں پلیز مجھے جانے دیں یہاں سے میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔
میں کسی کو نہیں جانتا کون ایام سکندر کون سیاستدان اور کون سی بیوی مجھے اس کی کوئی خبر نہیں ہے ۔
جھوٹ مت بولو وقار تمہارے نمبر سے رجسٹر فون پر ایام سکندر کو دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ کسی کنگ کی اور اس آدمی کا ماننا ہے کہ وہ انڈر ورلڈ سے تعلق رکھتا ہے بلکہ انڈر ورلڈ کا خطرناک ترین مجرم ہے ۔
اس آدمی نے ایام سکندرکی بیوی کے پہلے شوہر سے اس کی بیوی کو خریدا تھا ۔لیکن جب وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا تو اس نے ایام سکندر کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں ۔
اور جس نمبر سے ایام سکندر کو فون آتا تھا وہ تمہارے نام پر رجسٹر تھا اگر تم جھوٹ بولو گے تو اپنی قبر خود ہی کھودو گے ۔
وہ اسے آئینہ دکھاتے ہوئے بولا تھا جب کہ وقار کے چہرے پر پریشانی چھانے لگی تھی وہ بہت بڑے کیس میں پھنسنے والا تھا ۔
سر جی میری کوئی غلطی نہیں ہے میرا فون تو بہت دنوں سے غائب ہے چوری ہوگیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس آدمی نے ایام سکندر کو میرے ہی نمبر سے فون کیا ہو ۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ایک شریف شہری کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے مجھے معاف کر دیجیے ۔
مجھے جانے دیجیے یہاں سے میری بھی فیملی ہے ۔۔۔۔وہ بھی بول ہی رہا تھا جب اچانک وہ جالی کا دروازہ پار کرتا تیزی سے اس کی طرف آیا تھا اور آتے ہی اس نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا تھا وہ کرسی سمیت زمین بوس ہوا ۔
میری بیوی کہاں ہے بولو کہاں ہے میری بیوی تمہارے نمبر سے مجھے فون آتا تھا بتاؤ وہ فون کرتا تھا کنگ کون ہے ۔وہ سرخ انگارہ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے بولا ۔ وقار اس کے دہشت ناک انداز سے خوفزدہ ہوگیا
مجھے ساری انفارمیشن چاہیے ۔یہ سعد کا فون ہے جسے تمہاری کالز آتی رہی ہیں یہی نمبر استعمال کر رہے ہو نہ تم ابھی۔۔۔۔۔! تم نے ڈیل کی تھی نہ سعد کے ساتھ اس کی بیوی کی اگر اس وقت سعد ہوش و حواس میں ہوتا تو اس وقت توہ میرے ہاتھوں مر چکا ہوتا۔ لیکن اس حادثے کے بعد سے قوما میں ہے۔اور اب ساری زندگی کوما میں ہی رہے گا
اگر اسے ہوش ہوتا تو میں اس سے یہ ساری انفارمیشن نکالتا لیکن نہیں وہ دنیا جہاں سے بے خبر ہے اس کے پہلے کہ میں تمہیں بھی اس دنیا سے بے خبر کر دوں بہتر ہے کہ تم مجھے بتا دو اگر اپنی جان پیاری ہے تو وہ اچانک ہی اپنی جیب سے پستول نکال تھا اس کی منہ میں ڈال چکا تھا ۔اس کا انداز ایسا تھا جیسے کر یا مر اور ایسے معاملوں میں ایام سکندر بھی مارنے پر یقین رکھتا تھا
وقار کی جان سچ مچ میں ہوا ہو گئی تھی پہلے پولیس کی مار کھاتے کھاتے اس کی حالت خراب ہو چکی تھی اور اب یہ ایام سکندر تو ایسے لمحے میں ہی موت کی نیند سلا دینا چاہتا تھا ۔
اور حقیقت تو یہ تھی کہ اس کی بیوی کنگ کے پاس نہیں بلکہ اس کے دشمنوں کے پاس تھی جن سے کنگ خود بھی اسے بچا نہیں پا رہا تھا ۔
اسے خاموش دیکھ کر ایام نے اپنی انگلی ٹریگر پر رکھی تھی لیکن شاید وقار کو اپنی جان بہت پیاری تھی ۔
رک جاؤ ۔۔۔۔۔!خدا کے لئے مجھے مت مارنا میں تمہیں سب کچھ بتاتا ہوں جو کچھ مجھے پتا ہے وہ سب کچھ تمہیں بتا دوں گا۔۔۔۔
پلیز میری جان نہیں لینا وہ منتیں ترلے کرتے ہوئے اونچی آواز میں بول رہا تھا جب کہ ایام نے انگلی۔کی مدد سے اسے صرف ایک منٹ کا وقت دیا تھا ۔اور اس کے دہشت ناک انداز سے خوفزدہ ہوتے ہوئے وقار صرف ہاں میں ہی سر ہلاپایا
ایام کے لیے ایک ایک لمحہ اہم تھا ایک ایک سیکنڈ اسے اس کی ہیر سے دور کر رہا تھا ۔اور پھر وقار بولتا چلا گیا جب کہ وہ اور سب پولیس اہلکار اسے خاموشی سے سن رہے تھے.
°°°°°°°°°