60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon )Last Episode

کیا یہ تمھاری بیٹی ہے یہ کیا سن رہا ہوں میں ۔تم اپنی بیٹی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچھ بولتے بولتے رک گیا ۔کنگ نے بس ایک نظر اس کو دیکھا تھا اور پھر جیسے وہ اس انسان کے آدھے ادھورے فقرے کا مطلب سمجھ گیا ۔
اس کی نگاہ شرمندگی سے جھک گئی تھی۔
جبکہ ہیر اس کے ساتھ لگی اس کے کچھ بولنے کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کا باپ یہاں کیسے آیا تھا ۔۔۔۔۔؟
وہ تو بارہ سال پہلے ہی انہیں چھوڑ کر چلا گیا تھا وہ تو بس اس کی تصویر سے ہی واقف تھی ۔
اور آج اتنے سالوں کے بعد اس کا باپ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا لیکن اس کے آنکھوں میں شرمندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس کی ماں کہتی تھی کہ اس کا باپ اس سے بہت محبت کرتا تھا وہ اس کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن وہ غریبی سے تنگ آ گیا تھا ۔
وہ اکثر اس کی ماں سے کہتا تھا کہ مجھے ایک دفعہ کسی دوسرے ملک جانے دو میں اپنے دونوں بچوں کو بہت اچھی زندگی دوں گا لیکن اس کی ماں نے ہمیشہ صبرو شکر سے کام لیا۔لیکن راشد کو بہت کچھ چاہیے تھا وہ غربت میں ساری زندگی نہیں گزار سکتا تھا وہ اکثر کہتا تھا کہ وہ ایک دن چلا جائے گا اور پھر ایک دن وہ سچ مچ میں انہیں چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔
اور آج 12 سال کے بعد وہ ایک بار پھر سے اس کے سامنے کھڑا تھا لیکن نظریں جھکائے ہوئے ۔
ابو آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے آپ کو پتا ہے ان لوگوں نے میرے ساتھ کیا کیا وہ ہمدردی میں ایک بار پھر سے اس کے پاس آ کر اسے اپنے زخم دکھانے لگی تھی ۔
ارے تم اسے دکھا رہی ہو اپنے زخم اسے جو خود تمہیں اپنے بستر پر لانا چاہتا تھا
۔کیا تم اسے پہچانتی نہیں ہو یہ کوئی اور نہیں کنگ ہے تمہارے حسن کا شیدائی جو تمہیں اپنی منظور نظر بنانے کا خواہشمند تھا ۔اس آدمی نے اس کے کانوں میں پگھلتا ہوا سیسہ ڈالا تھا ۔
چپ ہو جاؤ خدا کے لئے خاموش ہو جاؤ وہ چیخ اٹھا تھا ۔اور پھراچانک اپنا چہرا اپنے ہاتھوں میں چھپا کر بلک بلک کر رونے لگا ۔زندگی اسے ایک یہ مقام بھی دکھائے گی اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا اسے اپنے سارے گناہوں کی سزا ایک لمحے میں مل گئی تھی ۔
جس بیٹی کے لیے وہ اتنے سالوں سے تڑپا تھا آج وہ اس سے ملی بھی تھی تو کس روپ میں
ہاں ہاں میں خاموش ہو جاؤں کیوں تمہیں شرم آ رہی ہے اپنی بیٹی کے سامنے اپنے کرتوت سنتے ہوئے یا پھر یہ سوچتے ہوئے کہ جیسے تم اپنے بستر پر لانا چاہتے تھے وہ کوئی غیر نہیں بلکہ تمہارا اپنا خون ہے
وہ اپنے کانوں پر یقین نہیں کر پا رہی تھی اس کے سامنے کھڑا شخص وہی تھا جس سے وہ بھاگ رہی تھی۔۔۔۔۔”
جو اس کی عزت کا دشمن تھا وہ باپ تھا اس کا۔۔۔۔۔۔” اور اس کے باپ نے اس کے بارے میں ایسا سوچا تھا ۔۔۔۔۔۔؟
وہ لمحے میں ہی اس سے دور جا کر کھڑی ہوئی تھی اس کی آنکھوں میں آنے والی تھوڑی دیر پہلے کی خوشی دم توڑچکی تھی اس کا دل اس شخص کی شکل تک دیکھنے کا روادار نہ رہا تھا ۔
آج سے بارہ سال پہلے اس کا باپ اسے چھوڑ کر گیا تھا۔کاش یہ دن اس کی زندگی میں نہ آتا ۔کاش اس کا باپ واپس کبھی نہ آتا ۔
کیا آپ ۔۔۔ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہیں وہ انسان ۔۔۔۔۔۔جو ۔۔۔۔۔۔جو میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بات مکمل ہی نہیں کر پا رہی تھی دکھ اور تکلیف کی شدت ایسی اٹھی تھی کہ اسکی آنکھیں دھندلا گئی ۔
ہیر بیٹا میری بات تو سنو میں نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ شرم سے کچھ کہہ ہی نہیں پارہاتھا۔
دور رہیں مجھ سے نام مت لیجئے گا میرا اپنی زبان سے میں کچھ نہیں لگتی ہوں آپ کی بلکہ میں تو آپ کو جانتی ہی نہیں کیونکہ آپ میرے بابا نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔”
اتناگھٹیا اتنا گرا ہوا انسان میرا باپ نہیں ہوسکتا کبھی نہیں ہو سکتا ۔
میں آج تک سوچتی رہی کہ میرا باپ اس دنیا میں ہے ہی نہیں لیکن آج میں سوچتی ہوں کہ کاش وہ سچ میں نہ ہوتا ۔تو مجھے کبھی یہ دن تو نہ دیکھنا نصیب ہوتا ۔
آپ میرے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں آپ میرے باپ ہیں ۔۔۔۔میں بیٹی۔۔۔۔۔۔۔ہوں آپ کی۔۔۔۔۔۔۔
اتنے سالوں سے میں یہ سوچتی تھی کہ میرا باپ مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے وہ کبھی میرے پاس لوٹ کر کیوں نہیں آیا ۔
شاید اللہ پاک نے اسے مجھ سے چھین لیا ہے شاید وہ ہمیشہ کے لئے ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے ورنہ اسے کبھی تو ہماری یاد آتی ہے لیکن آج میں شدت سے دعا مانگتی ہوں کہ کاش یہ بات سچ ہوجاتی کاش آپ کبھی واپس نہیں آتے ۔
نفرت ہے مجھے آپ سے انتہائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ جب کے راشد نے تڑپ کر اس کے قریب آنا چاہا تھا لیکن اس سے پہلے ہی دوسری طرف کھڑے آدمی نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی کنپٹی پر اپنی بندوق رکھ دی
پلیزمیری بیٹی کو چھوڑ دو اس نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا تم جو کہو گے میں تمہیں دوں گا میں تمہاری ہر بات ماننے کے لئے تیار ہوں لیکن میری بیٹی کو کچھ بھی مت کرنا ۔
میری بیٹی بے قصور ہے اس تمام معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔چھوڑ دو اسے کنگ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جب کہ وہ بےیقینی سے اس کی بے بسی دیکھ رہا تھا جو اس کی منتیں کر رہا تھا تاکہ وہ اس کی بیٹی کو چھوڑ دے ۔باپ کے دل میں سے بیٹی کے لیے محبت جاگ آئی تھی۔
اچھا بات جب تمہاری بیٹی پر آئی تو میں اسے چھوڑ دوں۔۔۔۔۔؟ اور ایسے کتنی بیٹیوں کو تم لوٹتے آئے ہو تمہیں اندازہ بھی ہے تمہیں پتا ہے میں چاہے کتنا بھی ناکام کیوں نہ ہو جاؤں اس مقام پر کبھی نہیں آؤں گا کیونکہ آج تک میں نے کبھی کسی کی بہن بیٹی کو میلی نگاہ سے نہیں دیکھا۔
اور تم تو وہ بے غیرت انسان ہو جس کی غلیظ نگاہ اپنی ہی بیٹی پر تھی ۔
تمہاری تو اپنی ہی بیٹی کے لیے اتنی گھٹیا سوچ اتنی گری ہوئی سوچ تھی تمہاری اپنی بیٹی کو لے کریہ سوچتے تھے۔ اور اب تمہارے دل میں اب اس کے لیے محبت جاگ رہی ہے ڈوب کر مر جاؤ کہیں ۔۔۔۔۔تم تو اس قابل بھی نہیں ہوکہ اس لڑکی کو اپنی بیٹی کہہ سکوں ۔
پہلے شاید میں اس لڑکی کو چھوڑ دیتا لیکن اب تو یہ لڑکی ضرور مرے گی کیونکہ یہ تمہاری بیٹی ہے ۔جتنے گناہ تم نے کیےہیں نہ اس کی سزا یہی ہے کہ تم اپنی بیٹی کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھو گے ۔
تم نے مجھ سے میرا مقام چھینا ہے کنگ تم نے میرے ہی آدمیوں کو میرے خلاف کر دیا تم نے میرے خلاف سازش رچی اور تمہیں لگتا ہے میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں گا تمہاری وجہ سے میں نے بہت کچھ کھویا ہے اور آج سب کا بدلہ میں ایک ہی بار میں لے لوں گا تمہاری بیٹی کو ختم کرکے ۔
آج تک تم نے کتنوں کی بیٹیوں کی عزت کو روندا ہے کتنوں کو تباہ کیا ہے لیکن آج اللہ نے تمہیں یہ مقام دکھا کر تم سے تمہارے سارے گناہوں کا حساب لے لیا ۔اور آج اسے مار کر میں تم سے بدلہ لوں گا وہ اس کی کنپٹی پر بندوق رکھے ہوئے بول رہا تھا جب اچانک دروازہ کھلا ۔
پستول نیچے کرو تم ۔۔۔۔۔۔۔ ایام اس کی طرف گن کئے کھڑا تھا۔جبکہ ہیر کی کنپٹی پر اس کی پستول کو دیکھ رہا تھا ۔اس کی ایک چھوٹی سی حرکت ہیر کو ہمیشہ کے لیے اس سے دور کر سکتی تھی۔
ارے ارے ایام سکندر آ گئے تم۔۔۔۔اس سے ملو یہ تمہارا سُسر ہے ۔ہاہاہاہاہا۔تمہاری بیوی کا باپ ہے ۔جو اپنی بیٹی کو اپنے بستر پر لانا چاہتا تھا ۔لیکن اب اس کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوگی کیونکہ یہ تومرے گی اور اسے میں اپنے ہاتھوں سے ماروں گا۔
آگے مت آو تم دور رہو ورنہ تمہاری بیوی میرے ہاتھوں ماری جائے گی اس کے آگے آنے پر وہ دھمکانے والے انداز میں بولا ۔
اس نے ہیر کی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں شرمندگی تھی شاید اپنے باپ کا یہ روپ وہ ایام کو نہیں دکھانا چاہتی تھی اس وقت اس کی آنکھوں میں موت کا ڈر نہیں تھا بلکہ صرف تکلیف ہی تکلیف تھی۔
وہ خود شاکڈ ہو گیا تھا کہ کنگ اس کی بیوی کا باپ نکلے گا اتنا گھٹیا شخص تھا وہ ایسا کیسے ہو سکتا تھا ۔کہ وہ ہیر کا باپ ہوتا۔وہ الجھ کر رہ گیا تھا
ایسی غلطی کرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت ورنہ بہت پچھتاؤ گے تم ایام نے کھلے لفظوں میں اسے دھمکی دی تھی ۔جبکہ وہ اس کی دھمکی پرقہقہ لگا کرہنسا۔
ایام سکندر یہ تمہاری سیاست نہیں ہے یہ میرا کنگڈم ہے یہاں تو میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ دعوے سے بولا ۔
یہ پستول زمین پر رکھو اور اس آدمی کو بھی کہو کہ کوئی ہوشیاری نہ کرے تم دونوں پستول زمین پر رکھ دو۔وہ ان دونوں کو اشارہ کرتے ہوئے بولا تو ایام نے سپلینڈ کرنے والے انداز میں ہاتھ اوپر اٹھایا اور زمین کی طرف بیٹھ کر پستول زمین پر رکھنے لگا
وہ ابھی اسے دیکھ ہی رہا تھا جب ایام نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پستول پھینکتے ہوئے اس کے سر پر دے ماری سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ ہیر کو دکھا دے چکا تھا اور اگلے ہی لمحے اس نے ہیر کو تھام کر اپنے بے حد قریب کر لیا ۔
تم ٹھیک ہو نا ۔۔۔۔۔؟ وہ پولیس والے کو اشارہ کرتے ہوئے ہیر سے کہنے لگا تھا ۔جب غصے سے وہ آدمی اس کی طرف مڑا اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی پستول سے اس پر فائر کردیا
اچانک گولی چلی تھی اور وہ کنگ کے سینے کے آر پار ہوگئی تھی۔اس آدمی کا ارادہ ہیر کو مارنے کا تھا لیکن اچانک کنگ کے بیچ میں آ جانے کی وجہ سے گولی اسے لگ گئی تھی جب کہ اچانک اندر داخل ہوتے پولیس والوں نے حملہ کرتے ہوئے اس جگہ پر موجود سارے لڑکوں کو پکڑ لیا تھا اور اب یہ خطرناک ترین مجرم بھی ان کے ہاتھ لگ چکا تھا
وہ جو اپنے باپ کو اس روپ میں دیکھ کر اس سے نفرت کر نے لگی تھی لمحے میں اسے زمین پر لہولہان ہوتے دیکھا اس کے دل میں درد سا جگا تھا ۔
وہ باپ تھا اس کا اور وہ اس سے محبت کرتی تھی اور اس بات سے بھی انکار نہیں کر سکتی تھی اس کی خواہش تھی کہ وہ زندگی میں ایک بار اپنے باپ سے ملے ۔
لیکن وہ اس سے اس مقام پر اس طرح سے ملے گا یہ تو اس نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔وہ آدمی اتنے پولیس والوں کو ایک ساتھ یہاں دیکھ کر پریشان ہو چکا تھا وہ سمجھ چکا تھا کہ ان کے سارے ایریا پر پولیس ریڈ ڈال دی گئی ہے
سب لوگ وہیں رک جاؤ کسی طرح کی کوئی ہوشیاری کرنے کی کوشش مت کرنا یہ میرا علاقہ ہے اور یہاں پر پرندہ بھی میری مرضی کے بنا پر نہیں مار سکتا ۔
کنگ کا تو کام تمام ہو گیا لیکن یہ مت سوچنا کہ میں تم لوگوں کو اتنی آسانی سے چھوڑ دوں گا ۔
کنگ تو اپنی موت مر گیا لیکن تم لوگوں کو بھی میں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔اس نے اپنی پستول سے سب کو ڈرانے کی کوشش کی تھی ۔اور ساتھ ہی پولیس والے پر گولی بھی چلا دی
اور اب اس کی پستول کارخ ہیر کی جانب وہ کبھی بھی گولی چلا سکتا تھا ۔
تمہیں کیا لگا میں اسے ایسے چھوڑ دوں گا کنگ مر گیا آخر جو اس نے میرے ساتھ کیا ہے وہ تو میں کبھی نہیں بھلا سکتا اس نے میرا مقام چھینا ہے میرا عہدہ چھینا ہے اور میں اس سے تب ہی اپنا انتقام پورا کروں گا جب اس کی بیٹی میرے ہاتھ ماری جائے گی ۔وہ ہیر کو نفرت سے دیکھتے ہوئے بولا
زیادہ سوچو مت گولی چلا دو تمہیں اسے مار دینا چاہیے یہ تمہارے سب سے بڑے دشمن کی بیٹی ہے آیام پر سکون سااسے دیکھتے ہوئے بولا تو اس آدمی نے حیرانگی سے دیکھا جبکہ ہیربھی اسے دیکھنے لگی تھی ۔
ارے مجھے کیا دیکھ رہے ہو ماردو اس کویہ کنگ کی بیٹی ہے اور کنگ کی بیٹی کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں کنگ نے تم سے تمہارا سب کچھ چھین لیا ہے تو تمہیں بھی اسے زندہ نہیں چھوڑنا چاہیے لیکن یہ مت بولنا کہ تمہاری بھی ایک بیٹی ہے جو اس وقت میرے پاس ہے ۔
وہ بڑے سکون سے کہتے ہوئے پیچھے رکھے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمع کر بیٹھ گیا جب کہ وہ جو ہیرکو گولی مارنے ہی والا تھا حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا ۔
کیا مطلب تمہارا کہاں ہے میری بیٹی۔۔۔۔؟ وہ اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا ۔
میرے پاس ہے ابھی تو بتایا۔۔۔۔ تمہارا مسئلہ پتا ہے کیا ہے تم دوسروں کی کمزوری کا استعمال کرتے ہو لیکن یہ بھول جاتے ہو کہ تمہاری بھی ایک کمزوری ہے جس کا کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے تمہیں کیا لگا صرف پولیس کے سہارے بیٹھا ہوں یا صرف یہ دیکھتا رہوں گا کہ پولیس کب ایکشن لیتی ہے نہیں میں آپ کو ہر جگہ آزماتاہوں۔
مجھے یہ جاننے کا شوق ہے کہ میرے دشمن کی کیا کمزوری ہوسکتی ہے وہ کہاں پر آکر ہارتا ہے تم نے کنگ کے ساتھ دشمنی نبھانے کے لئے اس کی کمزوری کا استعمال کیا تو تم یہ کیوں بھول گئے کہ تمہارے ساتھ دشمنی نبھانے کے لیے میں بھی تمہاری کمزوری کا استعمال کر سکتا ہوں ۔
کنگ کو اس مقام پر لا کر تم نے اسے مرنے کی خواہش کرنے پر مجبور کردیا تو ذرا سوچو جب تمہاری بیٹی تمہیں اس مقام پر دیکھے گی تو خوشی تو اسے بھی نہیں ہوگی ۔
وہ بہت سکون سے بات کر رہا تھا جب کہ سامنے کھڑے آدمی کا سکون غرق ہو چکا تھا ۔
انسپکٹر صاحب آپ کھڑے تماشا کیا دیکھ رہے ہیں گرفتار کیجئے اسے پولیس والا جو اب تک ایام کے دماغ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اس کے اچانک کہنے پر اہلکاروں کو اشارہ کر چکا تھا ۔
وہ تو اتنے وقت سے یہ سوچ رہا تھا کہ ایام سکندر وہ کر رہا ہے جو وہ لوگ چاہتے ہیں ایام سکندر ان لوگوں کے ساتھ پوری طرح سے کاپریٹ کر رہا ہے ۔لیکن وہ تو اپنا ہی گیم کھیل رہا تھا اس نے کب کیسے کیوں کنگ کے دشمن کے بارے میں سب کچھ پتہ لگایا تھا اور کب اس کی بیٹی کو اغوا کیا تھا ۔اس سب کی تو نہ خبر ہی نہ ہوئی تھی ۔
اپنی بیٹی کی موت کے ڈر سے اس آدمی نے کسی طرح کی کوئی ہوشیاری نہ دکھائی تھی اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا اس وقت یہی اس کے لئے بہترین تھا
°°°°°°°
سر آپ نے کنگ کے دشمن کی بیٹی کو کب کا اغواء کیا اور وہ اس وقت کہاں ہے اور کب تک آپ اسے چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کا تعلق بھی جرم کی دنیاسے ہے ۔
کونسی بیٹی اور میں کسی کی بہن بیٹی کو کیوں اغواء کروں گا میرا دماغ خراب ہے میں تو صرف اسےدھمکا رہا تھا ۔میں نے اس آدمی کے بارے میں سب کچھ پتہ لگایا تھا وہ تو مجھے پتا چلا تھا کہ یہ آدمی اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتا ہے تمہیں کیا لگتا ہے میں اتنا گھٹیا گرا ہوا انسان ہوں کہ کسی کی بہن بیٹی کواغوا کر لوں گا۔
وہ ہیر کو اپنے ساتھ لگائے اسے بتا رہا تھا جب کہ پولیس اہلکار اس آدمی کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے جا رہے تھے
کنگ تو اپنی موت مر چکا تھا لیکن اس کا دشمن بھی پولیس کے ہاتھ چڑھ چکا تھا نہ صرف اس نے کنگ کو انکی آنکھوں کے سامنے مارا تھا بلکہ اس کے علاوہ بہت سارے گناہوں میں شامل تھا۔اور اب وقت آ گیا تھا اسے اس کے گناہوں کی سزا ملنی تھی
یہ سچ تھا کہ آیام نے اس کی بیٹی کو اغوا نہیں کیا تھا کیونکہ وہ خود بھی ایک بیٹی کا باپ تھا کسی دوسرے کی بیٹی کے بارے میں ایسا سوچنا بھی اس کے لئے گناہ تھا ۔وہ کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔
پولیس نے اسے گرفتار کیا اورایام ہیرکو اپنے سینے سے لگائے باہر نکلنے لگا تھا۔
یہ کیا ہوا ہے وہ اس کے ہونٹوں پر خون دیکھ کر پریشانی سے بولا سر پر بھی چوٹ لگی ہوئی تھی جبکہ ہاتھوں پر بھی جگہ جگہ خون جما تھا ۔
کیا اس آدمی نے تمہیں مارا ہے وہ حیرانگی سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا کہ ہیر نے کچھ کہے بنا اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا ۔
لیکن ایام تو جیسے کسی اور ہی دنیا میں تھا اس کا خون دیکھ کراس کی آنکھوں میں غصے سے سرخی اتر آئی تھی اسے خود سے الگ کرتے ہوئے وہ تیزی سے باہر نکلا تھا ہیر بھی پریشانی سے اس کے ساتھ ہی آئی تھی
°°°°°°°
ایام نے اپنی جیب سے پستول نکالتے ہوئے اچانک ہی اس آدمی کو اس کے بالوں سے تھامتے ہوئے اپنی طرف کھینچا تھا۔
اور اگلے ہی لمحے بندوق اس کے منہ میں ڈال کر ٹریگر دبا دیا ۔گولی کی آواز گونجی تھی۔جب کہ سب پولیس اہلکار حیرانگی سے دیکھ رہے تھے انہیں ہرگز امید نہ تھی کہ آیام اس طرح کا کوئی بھی قدم اٹھائے گا
لیکن اس کی وجہ سے اس کی ہیر اتنی تکلیف میں رہی تھی توکیوں اسے یوں ہی چھوڑ دیتا ۔
اس نے اس کی ہیر کو اتنی تکلیف دی تھی اسے اتنی چوٹیں پہنچائی تھیں۔ پچھلے آٹھ نو گھنٹے سے وہ کہاں تھی کس حال میں تھی۔۔۔۔۔؟
وہ نہیں جانتا تھا لیکن ہیر کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اسے کچھ سکون ملا تھا لیکن اس نے اس کی کیا حالت کردی تھی ۔
اور اپنی ہیر کی اس حالت کو وہ نظر انداز نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی اپنی ہیر کو اس حال میں پہنچانے والوں کو معاف کر سکتا تھا۔
سر یہ آپ نے کیا کر دیا آپ نے ایسا کیوں کیا سر آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا آپ کو اندازہ بھی ہے یہ کتنا خطرناک مجرم تھا اتنی مشکل سے ہم نے اسے گرفتار کیا تھا اور آپ نے اسے مار دیا ہمیں سرکار کو جواب دینا پڑتا ہے سر ہمیں ایک ایک قدم کے لئے جواب دہ ہونا پڑتا ہے ۔
ہم نے وہاں خبر کر دی تھی کہ یہ خطرناک ترین مجرم ہمارے ہاتھ لگ چکا ہے اور آپ نے اسے مار دیا سر آپ نے ایسا کیوں کیا۔ اسے سزا قانون دینے والا تھا ۔پولیس والا پریشانی سے اسے دیکھ کر کہنے لگا لیکن ایام کو پرواہ نہ تھی
اس نے میری ہیرکو تکلیف پہنچائی تھی اسے زخم دیا تھا تو میں کیسے اسے بخش دیتا ہے اس کی سزا تو میرے ہاتھوں ہی لکھی تھی اس نے میرے ہاتھ ہی مرنا تھا تم لوگوں نے اس کیس میں کچھ بھی نہیں کیا ہے۔
جو کیا ہے وہ میں نے کیا ہے اور اگر تمہارا قانون مجھ سے کوئی سوال پوچھتا ہے تو میں جواب دے دوں گا ہاں لیکن یاد رکھنا کہ ایام سکندر کسی کا جواب دہ نہیں وہ پستول کو سامنے کھڑے اہلکار کی طرف پھینکتے ہوئے واپس ہیرکی طرف آیا تھا جو حیرانگی سے اسےدیکھ رہی تھی ۔
پولیس والے اس کے سامنے کچھ نہیں کر سکتے تھے اس لئے خاموشی سے لاشیں اٹھا کر وہاں سے نکلنے لگے تھے ۔ایام سکندر سیاست کا جانا مانا نام تھا اس کے خلاف ایکشن لینا کسی کے لیے بھی آسان نہیں تھا اور ویسے بھی پولیس والوں کی جیبیں ان سیاستدانوں کی وجہ سے بھری ہوتی ہیں ۔
اسی لیے یہ کیس خاموشی سے یہیں ختم ہو گیا تھا
°°°°°°°
وہ اسے واپس لے کر سیدھا گھر آیا تھا جہاں نہ جانے کب سے روحی بیٹھی رو رہی تھی اسے اپنی ماں کے پاس جانا تھا اسے ہگی کرنی تھی لیکن اس کی ماما جانے کہاں چلی گئی تھی جب وہ لوگ گھر پہنچے تواس کی ماما یہاں نہیں تھی
اور تب سے اس نے رونا شروع کر دیا تھا ۔تانیہ نے اسے خاموش کروانے کی بہت کوشش کی لیکن اسے ہیر کے علاوہ اور کون سبنمال سکتا تھا ۔اسے دیکھتے ہی وہ بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئی تو ہیر نے اپنا ہر درد بھلا کر زمین پر بیٹھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
ماما لوحی نےاپ تو بت شارا مش تیا اپ تہاں تلی دی تی لوحی اپ تو دھود دھود کے اپ کہی نی مل لئی تی( ماما روحی نے آپ کو بہت سارا مس کیا آپ کہاں چلی گئی تھی روحی آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے آپ کہیں نہیں مل رہی تھی ۔
وہ اس کے ساتھ لگی اس سے شکوہ شکایت کر رہی تھی وہ بھلا کیا جانتی تھی کہ اس کی ماں پر کون سی مصیبت ٹوٹی ہے ۔
اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے وہ اپنے دل کو سکون دیتی رہی تھی ایام نے تھوڑی دیر پہلے اس کے بھائی کو فون کیا تھا اور کہا تھا کہ پولیس کو ایک لاش ملی ہے اور پولیس کو شک ہے کہ یہ لاش ان کے باپ کی ہے ہیر نے اسے پہچان لیا ہے اور اس کی آخری رسومات کے لئے اسے پاکستان آنا ہوگا ۔
اس نے پریشانی سے اپنے باپ کی موت کا سن کر اسے بتایا کہ اس کا کفیل اسے پاکستان آنے کی اجازت نہیں دیتا ۔
لیکن ایام نے ہمدان سے بات کرکے اسے پاکستان بلوانے کی اجازت لے لی تھی لیکن اس نے اسے صرف تین دن کی اجازت دی تھی اور کہا تھا کہ وہ اکیلا جائے گا کیونکہ وہ اس پر یقین نہیں کر سکتا تھا کہ کہیں وہ اس کے ساتھ فراڈ کر کے پاکستان میں کہیں غائب نہ ہو جائے ۔
پچھلے کچھ وقت سے رحیم بہت بری زندگی گزار رہا تھا کیونکہ ہمدان اسے آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا ہمدان کی دونوں بیویاں پہلے سے طلاق یافتہ تھی۔
اور ان دونوں سے شادی کرکے اس نے ان دونوں کو مکمل حقوق دیے تھے اور ہیر کو دیکھ کر بھی اسے یہی لگا تھا کہ وہ بھی ایک دکھوں سے ہاری ہوئی لڑکی ہے اسے بھی اپنے نکاح میں لے کر اسے ایک اچھی زندگی دے سکتا ہے ۔
لیکن یہ سب رحیم کا فراڈ تھا جسے اس کی سزا مل رہی تھی آج کل رحیم کی بیوی ہمدان کی دونوں بیویوں کے آگے ملازمہ کی حیثیت سے کام کر رہی تھی جب کہ اس نے رحیم کو اگلے دس سال تک پاکستان نہ جانے کے لئے کہا تھا ۔
جب تک اس کے پیسے پورے نہیں ہو جاتے تب تک وہ پاکستان نہیں جا سکتا تھا لیکن پھر بھی اس نے ایام کے کہنے پر تین دن کی چھٹی دے دی تھی
°°°°°°°
تین سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی جانو آپ کے بال بن گئے ہیں جاو اپنی ٹوئٹی کو پکڑ کر لاؤ جلدی سے تاکہ میں اس کے بال بنا دوں۔وہ روحی کے لمبے لمبے بالوں کی دو پونیاں بناتے ہوئے اس سے بول رہی تھی ایک ہفتے کے بعد ان کی سالگرہ آنے والی تھی جس کے لئے وہ بہت زیادہ خوش تھی ۔
تھوڑی ہی دیر میں انہیں شاپنگ کے لئے نکلنا تھا ۔اور اس کی چھوٹی بیٹی یعنی روحی کی ٹوٹئی اس کے ہاتھ ہی نہیں چڑ رہی تھی ۔
جی ماما جانی میں ابھی لے کر آتی ہوں اور اگر نہیں آئی نہ تو میں خود اس کی بنا دوں گی ۔وہ اسے بے فکر کرتے ہوئے بولی تھی جب کہ وہ برش اس کے ہاتھ میں پکڑتی خود کمرے میں چلی گئی تیار ہونے کے لئے ۔
کیونکہ روحی کا ارادہ اب اس کے نخرے اٹھانے کا تھا لیکن وہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی ۔
روحی اور اس کی چھوٹی بہن کی دوستی بھی کمال کی تھی جب سے وہ پیدا ہوئی تھی روحی نے اپنے ٹوئٹی کو چھوڑ کر اس کا ہی نام ٹوئٹی رکھ دیا تھا یہ الگ بات تھی کہ اپنی باتیں پوری کروانے کے لیے آج بھی وہ اپنی ٹوئٹی کو اپنے باپ کے آگے پیش کر دیتی تھی رشوت کے طور پر ۔اور بعد میں دونوں مل کر باپ کو خوب تنگ کرتی تھی ۔
لیکن پھر بھی ان دونوں بہنوں میں بہت محبت تھی ۔ایام کے لئے تو وہ دونوں ہی اس کی جان تھی لیکن ہیر کے لئے اس کی پہلی پرییورٹی روحی ہی تھی اور اسی نے رہنا تھا ۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اپنی چھوٹی بیٹی سے محبت نہیں کرتی تھی وہ اسے بہت چاہتی تھی لیکن وہ بہت زیادہ ضدی ہے اور شرارتی تھی ۔کبھی کبھار تو وہ اس سے ہلکی پھلکی ڈانٹ اور مار بھی کھا لیتی تھیں۔
لیکن روحی تھی نہ اس کی ماں اسے بچانے کے لیے ۔روحی جتنی صابر شکر بچی ہو گئی تھی اس کی چھوٹی بیٹی اتنی ہی پٹاخا تھی ۔جو ہر وقت اس کے ناک میں دم کئے رکھتی تھی اور پھر روحی اسے کچھ کہنے بھی نہیں دیتی تھی
°°°°°°
ہیر کم از کم ایک دفعہ تو اپنے بابا کی قبر پر جاکر ان کی مغفرت کے لیے دعا کر دو ۔کسی مرے ہوئے انسان کے لیے دل میں اتنی سختی نہیں رکھنی چاہیے ۔وہ ہر جمعرات کو اس سے یہی ساری باتیں کرتا تھا لیکن ہیر کا دل نہ پھگلا تھا وہ آج بھی اپنے باپ کا وہ روپ نہیں بھول پائی تھی جو اس نے دیکھا تھا ۔
اس کا دل اتنا وسیع نہ تھا کہ اپنے باپ کے اتنے بڑے گناہ کو معاف کر دے بے شک کسی کے مرنے کے بعد اس کے لئے دل میں نفرت یا شکوہ نہیں رکھنا چاہیے لیکن ہیر اپنے دل میں کبھی بھی اس شخص کو دوبارہ وہ مقام نہیں دے سکتی تھی اس کا باپ اس کے لئے تبھی مر گیا تھا جب وہ اسے چھوڑ کر بچپن میں گیا تھا ۔
ایام میں نے آپ کو کتنی دفعہ منع کیا ہے مجھ سے اس بات پر بات نہ کیا کریں آپ بار بار کیوں کرتے ہیں پلیز آئیندہ آپ مجھ سے اس بارے میں بات نہیں کریں گے ۔
یہ تیسرا سال تھا راشد کے انتقال کو اس کی دونوں بیٹاں ہر ہفتے اپنے نانا کی قبر پر جاتی تھیں لیکن اس نے کبھی بھی اس طرف کا رخ نہ کیا اور نہ ہی وہ ارادہ رکھتی تھی ایام اسے تین سال سے سمجھا سمجھا کر تھک چکا تھا اور اس کی نہ ہاں میں آج بھی نہ بدلی تھی
°°°°°°°
وہ رات گئے گھر واپس آیا تو سب سے پہلے اپنی بیٹیوں کے کمرے کی طرف آیا تھا جہاں وہ دونوں مزے سے سو رہی تھیں اور ان کے بیچ میں ہیر ۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اپنی زندگی کا بھرپور منظر دیکھتا اپنی دونوں بیٹیوں کو جی بھر کر پیار کرتا ہیر کو جگانے لگا تھا ۔
کیا تکلیف ہے آرام سے جا کر سو جائیں ۔۔۔رات دیر سے گھر آنے والوں سے ہم بات نہیں کرتے وہ چہرہ پھیر کر بولی ۔
سوری جان تمہیں پتا ہے نہ کام بڑھ گیا ہے مجبوری تھی ۔۔۔۔اس نے منانے والے انداز میں کہا ۔
ہاں تو جا کر اپنا کام کریں ہمیں کیوں اس طرح تنگ کر رہے ہیں اور ویسے بھی ہمارے بیڈ پر آپ کی جگہ نہیں نکلیں یہاں سے وہ بالکل بھی ہاتھ آنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی ۔
لیکن وہ بھی ایام سکندر تھا جو آسانی سے اسے بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا وہ ایک جھٹکے میں ہی اسے اپنی باہوں میں اٹھاتا ہوا باہر کی طرف لے جانے لگا۔
جانے من اگر آپ کے بیڈ پر جگہ نہیں ہے تو کیا ہوا باہر والے بیڈ پر دیکھیں بہت جگہ ہے اس کا رومانٹک موڈ ان ہو گیا تھا۔
میں آپ سے بہت ناراض ہوں اور ابھی بات نہیں کرنے والی وہ اسے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس کے چہرے کو اپنے لبوں سے چھونے لگا جب وہ ناراضگی سے بولی۔
سو سوری جان میں پکا وعدہ کرتا ہوں کل ہم ڈنر پر لازمی جائیں گے اس کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے وعدہ کرنے لگا الیکشن کے دنوں میں تووہ اکثر لیٹ ہو جاتا تھا جس کے بعد اسے ہیر کی ناراضگی سہنی پڑتی تھی ۔
جی نہیں مجھے آپ کی باتوں پر اعتبار نہیں رہا وہ اب بھی ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی جب کہ ایام اب پوری طرح سے اس پر قابض ہو چکا تھا ۔
اچھا چلو یار میری باتوں پر نہیں میرے پیار پر اعتبار کرو میں صبح ہر حال میں پہنچ جاؤں گا وہ اسے یقین دلاتے ہوئے لائٹ آف کر چکا تھا اور اب ہیر کی میٹھی میٹھی سی ناراضگی ایام کو مزید مدہوش کرنے کے لئے کافی تھی ۔
جب کہ ان کی یہ چھوٹی سی زندگی اسی طرح ہنستے مسکراتے خوشیاں سمیٹتے گزر رہی تھی
°°°°°°
ختم شد ۔