Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junoon) Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junoon) Episode 9
چھوڑ دو مجھے پلیز دو جانے دو مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو کیا دشمنی ہے تم لوگوں کی میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ چلا رہی تھی رو رہی تھی دور تک اسے روحی کی آواز آتی رہی ۔۔۔۔” وہ اپنی مععوم توتلی آواز میں ان سب سے اسے چھوڑنے کی التجا کررہی تھی لیکن یہ لوگ بے حس تھے ۔انہیں کسی سے کوئی غرص نا تھا۔ان کے ہاتھ کا تھپڑ کھانے کے بعد اس میں ہمت ختم ہو گئی تھی ۔اور پھر وہ پوری طرح سے ان لوگوں کے رحم وکرم پر ہوگئی تھی ۔۔۔۔”
یہ لوگ اسے کہاں لے کر جا رہے تھے کیا مقصد تھا ان لوگوں کا وہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی اسے ان سے خوف آ رہا تھا آخر یہ لوگ اس سے کیا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔؟ کس مقصد کے لیے وہ اسے اغواء کررہے تھے۔وہ اس وقت انجان مردوں میں تنہا تھی اس سوچ نے ہی اس کے پورے جسم میں سنسناہٹ پیدا کردی تھی۔یہ لوگ اس کے ساتھ کچھ بھی کرسکتے تھے۔۔۔۔۔۔”
ان کے آگے وہ بے بس سی کمزور لڑکی کیا کرسکتی تھی۔وہ ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی تھی۔لیکن یہ لوگ اسےکہیں منہ دیکھانے کے قابل نہ چھوڑتے تو۔۔۔۔۔۔؟
وہ خاموش بیٹھی بس یہ سو رہی تھی کہ آخر یہ لوگ اسے کہاں لے کر جارہے تھے وہ کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔۔”
پلیز خدا کے لئے مجھے چھوڑ دو میں نے تم لوگوں کا کیا بگاڑا ہے کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے میں تو تم لوگوں کو جانتی بھی نہیں اپنے ہاتھ پھیر مارتی وہ ان سے رہائی کی مکمل کوشش کر رہی تھی جتنا اپنا بچاؤ کر سکتی تھی وہ کررہی تھی۔
دیکھو لڑکی آرام سے بیٹھی رہو ۔۔۔۔۔اسی میں تمہاری بھلائی ہے ہمیں کچھ بھی کرنے پر مجبور مت کرو۔۔
ہماری تمہارے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن ہمیں اپنے بوس کا حکم ماننا ہے ہم تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تو بہتر ہے کہ تم بھی ہمارے ساتھ تعاون کرو۔
ان میں سے ایک آدمی بے حد غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں بولا۔اس کے ہاتھ میں۔گن تھی۔
اس کا مطلب صاف تھا کہ اگر اس نے کسی بھی طرح کی کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو وہ گولی مارنے میں زیادہ وقت نہیں لگائیں گے اس کے ہاتھ میں موجود گن لوڈ تھی۔۔۔۔”
جو کبھی بھی اس کا نشانہ لے کر اس کی زندگی کی ڈور کو ہمیشہ کے لئے کاٹ سکتی تھی اس وقت وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ اپنےحق سے کچھ بول بھی نہیں رہی تھی۔
پلیز مجھے جانے دو وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کوئی اس کے ساتھ ایسا کیوں کرے گا یہ لوگ کون تھے اور اس سے کیا چاہتے تھے وہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی وہ اسے کہاں لے کر جارہے تھے ان لوگوں کا کیا مقصد تھا کون تھا ان کا باس جو اس سے کڈنیپ کروا رہا تھا۔۔۔۔۔۔؟
وہ بھلا کسی کو کیا دے سکتی تھی اس کا تو اپنا ہی کوئی سہارا نہیں تھا ۔جس کی وہ کوئی امید رکھتی کہ کوئی آکر اسے ان لوگوں سے بچالے گا ۔
اخران لوگوں نے اس کے ساتھ کیا کرنا تھا کس مقصد کے تحت وہ اسے اغوا کر رہے تھے۔۔۔۔۔؟
اس آدمی کے ڈر سے چپ ہو کر بیٹھ گئی تھی اسے موت سے ڈر لگتا تھا اور وہ یوں بے نام گمنام موت نہیں مرنا چاہتی تھی ۔شاید یہ لوگ اسے غلط فہمی کے تحت اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے۔۔ لیکن اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ لوگ امجد سے یہ کیوں کہتے کہ وہ صرف ان کا مہمان لینے آئے ہیں ۔
کچھ تو تھا جو وہ نہیں جانتی تھی کچھ تو تھا جو اس سے چھپایا جا رہا تھا نہ جانے کیوں اسے لگتا تھا کہ اس کی کڈنپیکنگ کے پیچھے کی وجہ کہیں نہ کہیں سعد ہے ۔
وہ بری طرح سے روتے ہوئے ان کے ساتھ ہی سفر طے کر رہی تھی گاڑی بہت تیز چل رہی تھی جب اچانک ان کی گاڑی کے سامنے کوئی گاڑی آ کر رکی۔
اچانک بریک لگنے کی وجہ سے گاڑی جھٹکا کھا کر رکی تھی ایک لمحے کیلئے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا اور پھر دوسرے ہی لمحے اسے امید کی ایک کرن نظر آئی تھی ۔
“ایام سکندر “کے روپ میں اس نے سامنے سے آتے اپنے میسحا کو دیکھا۔
°°°°°°
وہ ہر طرح کی امید چھوڑ کر بیٹھی تھی لیکن اللّه سے نا امید نہ تھی۔۔۔۔۔” اسے یقین تھا کہ اللّه اس کی مدد ضرور کرے گا اور اللّه نے اس کی مدد کے لئے فرشتے کو بھیج دیا تھا وہ سامنے سے آتے آدمی کو دیکھ رہی تھی ۔
سفید کرکتے سوٹ پر ایک شکن بھی نا تھی لیکن سیاہ گہری آنکھوں میں غصہ غضب کا تھا غصے کی شدت سے آنکھیں سرخ تھیں۔جبکہ گردن کی نسیں باہر کو ابھری ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔”
وہ مضبوط قدم اٹھاتا اس گاڑی کی طرف آ رہا تھا۔
کالی سیاہ کسی اندھیری رات سی آنکھیں لمبی مغرور ناک سیا گھنی مونچھوں تلے سختی سے ایک دوسرے میں بھیجے عنابی لب وہ بنا پلکیں جھپکائیں اس وجاہت کے شہکار کو دیکھ رہی تھی۔وہ کوئی سیاست دان نہیں بلکہ کسی ریاست کا بگڑا شہزادہ لگتا تھا۔
ہیر نے نوٹ کیا وہ اکیلا ہرگز نہیں تھا۔۔۔۔۔۔”
اس کے ساتھ پولیس کی تین چار گاڑیاں تھیں اور وہ چاروں طرف سے اس گاڑی کے آگے پیچھے آ رکی تھیں۔۔۔؟
یہ تو پولیس لے آیا اگر ہم پکڑے گئے تو بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا ڈرائیور نے کہا تھا۔
کوئی مسئلہ نہیں بنے گا پولیس اس لڑکی کی وجہ سے آئی ہے تو وہ لوگ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ اس لڑکی کو کچھ بھی ہو ۔۔۔۔۔”
اب یہ لڑکی ہی ہمیں یہاں سے نکالنے کی وجہ بنے گی وہ مضبوط مگر کچھ خوف زدہ انداز میں بولا
وہ ان لوگوں کو دھمکی دینے کی پلاننگ کرہی رہے تھے کہ اچانک ہی کسی نے اسے گریبان سے پکڑ کر کھڑکی سے باہر کھینچا تھا ۔۔اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش میں ناکام ہوتے ہوئے وہ اس چھوٹی سی جگہ سے گائل ہوتا زمین پر جا گرا تھا اور اب اس نے دیکھا تھا ایام بری طرح اسے پیٹ رہا تھا۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر آۓ مہمان پر حملہ کرنے کی۔۔۔۔۔؟ وہ پاگلوں کی طرح اسے مارے جا رہا تھا۔
اس کی۔حالت عجیب دیوانوں جیسی تھی۔اس کی رگیں غصے سے پھولی ہوئی تھی۔ وہ بس اسے مارے جارہا تھا۔اس کا کسرتی وجود پیسنے سے شابور ہو چکا تھا۔
سر پلیز اسے چھوڑ دیں یہ مر جاۓ گا۔آفیسر نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ تو جیسے ہوش میں ہی نا تھا۔ہیر اسے انسپکٹر کی پکڑ میں بےقابو ہوتے دیکھ رہی تھی۔
وہ شاید نہیں یقیناً اس آدمی کو ختم کر دینا چاہتا تھا
کافی کوشش کے بعد وہ آفیسرز اس آدمی کو بچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔وہ تنفر سے سر جھٹکتا ہیر والی گاڑی کی طرف آیا۔
پولیس نے باقی کے تمام لوگوں کو بھی گرفتار کر لیا ان کی پلاننگ دھری کی دھری رہ گئی تھی ۔
پولیس نے بہت تیزی سے اپنا کام کر دکھایا تھا اس وقت گاڑی میں اس کے علاوہ اور کوئی بھی موجود نہیں تھا اور وہ اپنی جان بچ جانے پر بری طرح سے رو رہی تھی۔
تم ٹھیک ہو نا ان لوگوں نے تمہارے ساتھ کوئی بدتمیزی تو نہیں کی۔۔۔؟
اسے اپنی ہاتھ پر اچانک گرفت محسوس ہوئی وہ اسے باہر کی طرف کھینچ رہا تھا وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی ہوئی گاڑی سے نکل آئی تھی
اس کا جسم بری طرح سے کانپ رہا تھا جب ایام نے اپنا جیکٹ اتارتے ہوئے اس کے کندھوں پر ڈالا۔
سر آپ کی وائف ٹھیک تو ہیں نا پولیس ان لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد آ کر اس سے پوچھنے لگی تھی ۔اس کے وائف کہنے پر وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی کیا پولیس غلط فہمی کا شکار تھی یا اس نے سچ میں ایسا کوئی تعارف کروا رکھا تھا۔
یہ ٹھیک ہے تم لوگ پتہ کرو کون ہیں یہ لوگ اور یہاں کس مقصد سے آئے ہوئے تھے ۔ساری انفارمیشن چاہیے مجھے وہ ان سے کہتے ہوئے ہیر کا ہاتھ تھامےاسے گاڑی کی طرف لے آیا تھا ۔
امجد ۔۔۔۔۔۔وہ اسے دیکھتے ہوئے امجد کے بارے میں بتانے لگی جو اس کی خاطر گولی تک کھا چکا تھا
امجد کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جبکہ مس تانیہ اور روحی گھر جا چکی ہیں فکر نہ کریں وہ محفوظ ہیں۔
وہ اسے حوصلہ دیتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا جب کہ وہ آتے ہوئے بھی مسلسل روتی ہوئی آئی تھی ایام نے اس سے کوئی بات نہ کی تھی نہ کوئی سوال پوچھا تھا اور شاید وہ خود بھی جواب دینے کی کنڈیشن میں نہیں تھی
°°°°°°°°
ہائے اللّه کیا ہوگیا میری بچی کو میری معصوم بچی کون کمینے لوگ تھے۔۔۔۔۔؟
جو اس معصوم کے پیچھے لگ گئے امی جان اسے اپنے سینے سے لگاتیں بار بار اس کا ماتھا چوم رہی تھیں۔۔۔۔۔”
پتہ نہیں کون لوگ تھے چاچی جان لیکن پولیس کے ہاتھ چڑھ چکے ہیں اور جلد ہی ان کے بارے میں ہمیں کوئی نہ کوئی معلومات مل جائیں گی۔۔۔” فکر نہ کریں یہ لوگ جو بھی تھے آسانی سے چھوٹ نہیں پائیں گے ان لوگوں کو میں ان کے انجام تک پہنچا کر رہوں گا۔۔۔۔۔”
ان لوگوں نے میرے گھر کے مہمان پر حملہ کیا ہے اتنی آسانی سے نہیں بخشوں گا انہیں ۔۔۔۔پولیس ان سے معلومات لے رہی ہے جلد ہی ہمیں ان کے بارے میں سب کچھ پتہ چل جائے گا ۔
وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے سب کچھ بتا رہا تھا جب کہ ہیر خاموشی سے سن رہی تھی۔
سر پر لوگ جو بھی تھے وہ آپ کے دشمن نہیں تھے اور نہ ہی آپ کے لئے یہاں آئے تھے ان لوگوں کا مقصد صرف اور صرف ہیر جی کو ہی یہاں سے لیکر جانے کا تھا۔
اور سب سے اہم بات ان کا کوئی باس ہے جو ان سے یہ کام کروا رہا تھا وہ اس کے سامنے ہی ان کو صحیح سلامت لے کر جانا چاہتے تھے ۔
کیونکہ ہیر کو گاڑی سے نکالتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو اختیاط سے کھینچنے کا کہہ رہے تھے۔کہ اسے کچھ ہو نا جائے ورنہ وہ اپنے باس کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔۔”
تانیہ کو اب تک جو بھی پتہ چلا تھا وہ سب اس کو بتا رہی تھی اس کے لئے بھی یہ چیز کافی حیران کن تھی کے ایک معمولی سے لڑکی کی بھلا کسی کے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔؟
آخر کیوں وہ لوگ اسے لینے کے لیے آئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔؟
ان لوگوں کا ضرور کوئی نہ کوئی مقصد تھا ہیر کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ ان کو جانتی ہے۔ اس طرح کی کسی سچوئیشن کا اس نے پہلے سامنا کیا ہے۔
فکر نہ کرے سب کچھ پتہ چل جائے گا سب کچھ سامنے آ جائے گا پولیس انوسٹیگیشن کر رہی ہے وہ سب کچھ پتہ لگا لے گئی۔۔۔”
ہیر کا ڈر دیکھتے ہوئے اس نے تانیہ کو سمجھانے والے انداز میں کہا تھا اور ساتھ ہی اسے ہیر کو اندر لے جانے کے لیے بھی کہا۔
جبکہ وہ اس کی بات کو سمجھتے ہوئے ہیر کو تھام کر اس کے کمرے میں لے جانے لگی تھی۔۔۔۔” وہ اب تک بہت بری کنڈیشن میں تھی ڈر سے اس کا پورا وجود کانپ کر رہا تھا
پتا نہیں وہ کونسی سچوئیشن سے نکل کر آئی تھی لیکن تانیہ کو اس معصوم پر بہت ترس آ رہا تھا جو ابھی تک ان لوگوں کے ڈر سے باہر نہیں نکل پائے تھی۔
وہ بےچاری تو شاید اس طرح کے لوگوں سے بھی انجان تھی ۔
°°°°°°
ہیر آپ فکر مند نہ ہوں ۔ہمیں ان لوگوں کے بارے میں سب کچھ پتہ چل جائے گا انشاءاللّه ہم ان لوگوں کو بہت جلد ان کے انجام تک پہنچائیں گے ۔۔۔۔۔”
پولیس اپنا کام کر رہی ہے اور آپ فکر نہ کریں یہ علاقہ سارا ایام سر کے اندڑ ہے۔یہاں سے کوئی بچ کر نہیں جا سکتا تھا۔ہمہیں جلدہی سب کچھ پتا چل جائے گا۔
یہاں پر ان کی اجازت کے بنا کوئی بھی نہیں آ سکتا سر یہاں کے ایک ایک انسان سے واقف ہیں۔۔۔۔”
اس آبادی میں کوئی بھی مسئلہ ہو تو ایام سر کے پاس ہی لوگ آتے ہیں یہ انجان لوگ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے بہت جلد ہمیں پتہ چل جائے گا اور ان کے مقصد کے بارے میں بھی۔یہاں سے وہ بچ نہیں پائے گے یقین کریں میرا ۔۔۔۔۔”
میں جانتی ہوں آپ بہت خوفزدہ ہیں ایسی کنڈیشن میں تو کوئی بھی ہوسکتا ہے میں آپ کو نیند کی گولی دیتی ہوں آپ تھوڑی دیر کے لئے سو جائیں تاکہ آپ کا ذہن ان سب چیزوں سے نکل پائے ورنہ آپ کے لئے مشکل ہو جائے گی میں نہیں چاہتی کہ آپ بیمار پڑ جائیں۔۔۔۔”
وہ ایک گولی اسے دیتے ہوئے تفصیل سے بتا رہی تھی جبکہ اس وقت وہ اتنی بری ذہنی حالت میں تھی کہ اس کی بات سنتے ہوئے اس نے فورا ہی اس کے ہاتھ سے اس گولی کو تھام لیا تھا اس کے ذہن میں مسلسل یہی ساری باتیں چل رہی تھیں ان لوگوں کی اس کے ساتھ کیا دشمنی تھی اور وہ اس کو کس مقصد سے اغواء کر کے اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے۔۔۔۔”
کون تھا ان کا بوس اور وہ اسے اغواء کیوں کروا رہا تھا اس آدمی کی اس کے ساتھ کیا دشمنی تھی ۔۔۔۔؟۔اگر آج ایام سکندر وہاں وقت پر نہ پہنچتا تو نہ جانے کیا ہوتا اگر وہ نہ آتا تو یقینا وہ لوگ اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔۔۔۔۔
اور اس کے شوہر کا تو کوئی اتا پتا ہی نہیں تھا آخر وہ کہاں تھا۔آخر کیوں وہ اسے اس انجان جگہ چھوڑ کر کہیں چلا گیا تھا ۔
وہ ان لڑکیوں میں سے تھی جو اپنے تحفظ کے لیے ہمیشہ اپنے شوہر کی طرف نگاہیں اٹھاتی ہیں۔
اور اس کا شوہر اس کے پاس تھا ہی نہیں اس کی ساس بھلا کیا کر سکتی تھی اس کے لیے اگر وہ لوگ دوبارہ آ جاتے ہیں تو۔۔۔۔؟ کون تھا وہ ایام اس کا جو بار بار تو اسے نہ بچائے گا۔کیوں وہ اس کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈالے گا۔۔۔۔؟
کوئی بھی نہیں۔۔۔۔۔وہ اس کا کوئی نہیں تھا۔اس کا سب کچھ تو سعد تھا۔
وہ شخص کوئی نہیں تھا اس کا جو بار بار اس کی حفاظت کرے گا جو اپنی جان پر کھیل کر اس کے سامنے آئے گا وہ لوگ اسے گولی بھی مار سکتے تھے لیکن اس نے اپنی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کی حفاظت کی تھی اور اگر وہ ہوتا ہی نہیں تو کیا ہوتا وہ سوچتے سوچتے نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی ۔نیند کی گولی نے شاید اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا تھا
°°°°°°°
وہ باہر کھڑا یہی سب سوچوں میں مصروف تھا کہ آخر یہ حرکت کون لوگ کر سکتے ہیں آخر اس طرح کا قدم کون اٹھا سکتا ہے اس علاقے میں سب لوگ جانتے تھے کہ یہ علاقہ کس کے انڈر ہے
ایسے میں اس سے پنگا لینے کی ہمت تو کوئی بھی نہیں دکھا سکتا تھا تو پھر آخر یہ حرکت کس نے کی تھی وہ پولیس کے فون کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔”
کیونکہ اب اس کیس کی تفصیل صرف پولیس ہی بتا سکتی تھی وہ لوگ ریمانڈ روم میں تھے ۔
اور بہت بری حالت میں تھے پولیس نے ان لوگوں کو مار پیٹ کر ان سے حقیقت نکلوانے کی کوشش کی تھی کیونکہ وہ صرف ان لوگوں کے بارے میں ہی نہیں بلکہ ان کے پیچھے جو ہاتھ تھا اس کے بارے میں بھی جاننا چاہتا تھا ۔
لیکن اب تک اسے پولیس کا کوئی فون نہیں آیا تھا۔
اس کے دشمنوں کی بھی اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اس کے گھرکے کسی فرد کو نقصان پہچاتے یہ کسی باہر والے کا کام تھا جو اس کی پاور سے انجان تھا۔۔۔۔۔”ورنہ” ایام سکندر” کے راستے میں آنے کی بلا کس کی اوقات تھی۔۔۔۔۔؟
اس کا بڑا سے بڑا دشمن بھی اس کے گھر کے اندر کے بارے میں جاننے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا ۔یہ آدمی یا تو ایام سے انجان تھا یا اس سے زیادہ پاور میں .۔۔۔۔۔”
ہیرکوتانیہ نے نیند کی گولی دے دی تھی اس کو سوتے ہوئے تین چار گھنٹے گزر چکے تھے۔وہ نہیں جانتا تھا کہ اب وہ کس حالت میں ہے لیکن یہ حقیقت تھی کہ وہ اس کو دیکھنا چاہتا تھا اس سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔
اس کا ڈر دیکھتے ہوئے اس نے اسے منظر سے ہٹا دیا تھا جب کہ اس نے چاچی جان سے بھی پوچھنے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے کہا وه بھی ان سب معاملات سے بالکل انجان ہیں۔
ان سے پوچھنے پر انہوں نے روتے ہوئے کہا تھا کہ سعد کی تو کسی کے ساتھ کوئی دشمنی بھی نہیں ہے اور نہ ہی سعد کبھی کسی طرح کے پنگے میں پڑتا ہے تو پھر بھلا یہ لوگ کون ہو سکتے تھے۔۔۔۔۔؟
سر پولیس اسٹیشن سے فون ہے اس کے نوکر نے بھاگتے ہوئے اس کا موبائل فون اس کے حوالے کیا تھا وہ اپنا فون اندر میز پر رکھ آیا تھا۔
ہاں آفیسر بتاؤ کچھ پتہ چلا تمہیں ان لوگوں کے بارے میں کون تھے وہ لوگ اور ہیر کو اغوا کرکے کہاں لے کر جا رہے تھے .۔۔۔۔؟
کیا مقصد تھا ان لوگوں کا وہ ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ چکا تھا۔۔۔۔”
ہم معذرت خواہ ہیں سر ابھی تک ہم کچھ بھی پتا نہیں لگا پائے اور ہم نے لوگوں کو بہت مارا پیٹا ہے لیکن اب تک ان لوگوں نے اپنی زبان نہیں کھولی نہ جانے ان لوگوں کا تعلق کس گینگ سے ہے ۔
لیکن سر یہ لوگ بہت پاور فل ہیں۔ ان کے چکر میں کافی ساری کال بھی آچکی ہیں یہاں تک کہ ہمیں ڈپٹی کمشنر کا فون رسیو ہو چکا ہے۔۔۔۔”
فی الحال تو ہم نے انکار کر دیا ہے کہ ہمیں اس طرح کے کسی کیس کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن یہ بات میں گرنٹی دے کر کہتا ہوں کہ ان لوگوں کا تعلق کسی معمولی گینگ سے نہیں ہے۔۔۔۔”
یہاں یہ غلط فہمی کے تحت نہیں آئے تھے بلکہ پروپرپلانینگ کے ساتھ آئے تھے ۔مارپیٹ کے بعد بھی ان پر کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا یقیناً یہ لوگ بہت پاور میں ہیں تب ہی اپنی زبان نہیں کھول رہے۔پیچھے کوئی بڑا نام ہے۔۔۔۔۔
کوشش جاری رکھو آفیسر مجھے کسی بھی حالت میں ان لوگوں کے بارے میں سب کو جاننا ہے اس نے اس کی بات کو سمجھتے ہوئے کہا تھا۔۔
سر ہم انہیں ایک اور ڈوز دیں گے تھوڑی دیر میں آپ پلیز اپنی پاور کا ذرا استعمال کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو روکیں ورنہ ہمہیں مجبوراً اس کیس کو کو بلاک کرنا پڑے گا ۔اس نے کہہ دیتے ہوئے فون بند کر دیا تھا جب کہ وہ کسی گہری سوچ میں تھا۔
°°°°°°
