60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon) Episode 8

یہ علاقہ اس کی سوچ سے زیادہ حسین تھا دیکھنے میں ہی وہ بے حد گھنا اور خطرناک جنگل لگتا تھا لیکن اسے یقین آچکا تھا کہ یہ جنگل خطرناک بالکل نہیں ہے۔
ہاں لیکن یہ اونچے اونچے درخت شاید رات میں کسی کے لیے خطرناک منظر پیش کر سکتے تھے مگر اس وقت اسے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔
صاف ستھری سڑکیں اس بات کی گواہ تھیں کہ یہ علاقہ نہ صرف خطرےسے پاک ہے بلکہ اس جگہ کی خوبصورتی اور حسن کا بھی بہت خیال رکھا جاتا ہے۔
اسے لگا تھا کہ یہاں پر درخت کاٹے جاتے ہوں گے لیکن اسے جان کر یے خوشی ہوئی تھی کہ جگہ جگہ بورڈ لگے ہوئے تھے کہ درخت کاٹنا یا۔انہیں نقصان پہنچانا سختی سے منع ہے۔
یہ سارا علاقہ کس کے انڈر ہے میرا مطلب ہے اتنا صاف ستھرا علاقہ ہے اور پھر کافی اچھے اصول بھی بنائے گئے ہیں یہاں کے وہ متاثر ہوتے ہوئے مس تانیہ سے پوچھنے لگی تھی۔
یہ سارا علاقہ ایام سکندر کا ہے یعنی کہ ہمارے سر کا ۔۔۔۔وہ بہت جوش سے اسے بتانے لگی۔
پہلے نہ وہ شاید کراچی میں رہتے تھے اور وہاں بھی ان کی بہت بڑی حویلی ہے ۔بزنس وغیرہ ہے۔لیکن وہ خود ایسے پرسکون ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں تقریبا گیارہ سال پہلے وہ اپنے والدین کے ساتھ یہاں آگئے تھے ۔
کیونکہ یہ ان کا آبائی علاقہ تھا اس علاقے کے آس پاس کی ساری زمینیں خرید کر انہوں نے اس علاقے کو اپنا بنا لیا اور پھر لوگوں کی اتنی مدد کی کہ جب سیاست میں انہیں کرسی ملی تب سب لوگ ہی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔
وہ سیاست میں بالکل نہیں آنا چاہتے تھے لیکن لوگوں نے انہیں مجبور کر دیا سیاست میں آنے کے لئے۔اسی لیے اب وہ کراچی یا کہیں اور نہیں جاتے اسی علاقے میں رہتے ہیں اور یہاں کے لوگوں سےپیار لیتے ہیں۔
کیا مطلب ہے تمہارا کیا ایام جی سیاست میں ہیں وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی اس کی پرسنیلٹی سے وہ اندازہ نہ لگا سکتی تھی کہ وہ سیاست جیسے کسی شعبے میں ہو سکتا ہے۔
اس نے آج تک سیاست میں جتنے بھی لوگ دیکھے تھے ایک تو وہ بہت بوڑھے ہوتے تھے اور دوسرا ان کا غرور اور نخرے اسے بالکل پسند نہیں تھے ۔
جبکہ ایام اس کی سوچ سے بالکل الگ تھا اسے دیکھ کر تو لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ سیاست میں ہوگا۔
جی میں نے بتایا نہ انہیں بالکل کوئی شوق نہیں تھا سیاست میں آنے کا اسی علاقے کے لوگوں نے انہیں مجبور کر دیا اور پھر اپنے علاقے والوں کی خدمت کرنے کے لیے انہوں نے ان کاموں میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور اب تو اتنی بری طریقے سے پھنس چکے ہیں۔بلکہ اب وہ بہت آگےبھر چکے ہیں کہ چاہ کر بھی ان سب چیزوں کو چھوڑ نہیں سکتے۔
یہاں کے لوگ اپنے معاملوں میں صرف انہیں پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔اس نے تفصل سے بتایا شاید نہیں یقیناً یہ اس کا فیورٹ ٹاپک تھا۔جس پر وہ بہت بول سکتی تھی۔
اچھا چھوڑو اس سیاست کو یہ بتاو کے ان کی بیوی روحی کی ماں کہاں ہے ۔ وہ اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی جس پر تانیہ نے کندھے اچکا دیے۔
ان کی بیوی کے بارے میں مجھے کچھ بھی نہیں پتا بس اتنا پتہ ہے کہ ان کی ایک بیٹی ہے جس سے وہ بہت زیادہ محبت کرتے ہیں دراصل مجھے بھی ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے زیادہ وقت نہیں ہوا تقریبا ایک سال تین ماہ ہی ہوئے ہیں میرے خیال میں اس وقت روحی کچھ ماہ کی تھی جب مجھے اس نوکری کے لیے رکھا گیا۔
میں نے بھی شروع شروع میں جاننے کی بہت کوشش کی کہ سر کی بیوی کدھر ہے اور ان کی چھوٹی سی بیٹی کا خیال رکھنے کے لیے اس کی مام کیوں نہیں ہے لیکن میری میم میری سینرئر نے کہا کہ کچھ بھی پوچھنےیا جاننے کی ضرورت نہیں ہے ۔تمہیں جس کام کے لیے رکھا گیا ہے تم وہ کرو اور خبردار جو تم نے اس بارے میں کسی سے بھی کوئی سوال کیا پھر آپ ہی بتائیں میں کیا کہہ سکتی ہوں۔
میری میم سب جانتی ہیں لیکن میں نے کبھی نہیں پوچھا ان سے کچھ کیونکہ مجھے میری نوکری بہت پیاری ہے۔تانیہ نے صاف گوئی سے کہاجس پر وہ صرف سر ہلا گئی۔
تم اتنی پڑھی لکھی ہو تانیہ تم یہ ملازمہ کی نوکری کیوں کرتی ہو۔۔۔۔۔؟میرا مطلب تم سارا دن روحی کے آگے پچھے کبھی کچن میں تمہیں نہیں لگتا کہ یہ نوکری کسی کم پڑھی لکھی عورت کےلیے ہے تمہیں اس سے بہتر نوکری کی حقدار ہو۔۔۔۔۔؟ وہ اسے احساس ِ کمتری میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی لیکن مس تانیہ جیسی لڑکی کےلیے ایک ملازمہ کی نوکری۔۔۔۔۔اسے بہت عجیب لگی۔
میں آپ کی بات تو سمجھ سکتی ہوں میم۔۔۔۔۔بٹ میرے لیے اس سے بہتر کوئی نوکری نہیں۔اپنی ڈگریاں لےکر میں نے بہت سے ہوس پرستوں کے در کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اس دنیامیں ایک عورت کو جینے کےلیے اپنی عزت کا سودا کرنا پڑتا ہے جو میں نہیں کر سکتی تھی۔
اور میری تنخواہ کسی بھی بڑی کمپنی میں کام کرنےوالے ورکر سے بہت زیادہ ہے۔اور کام صرف روحی کے پیچھے پیچھے چلنا اس لیے میں اس کام کو بہت خوشی سے کرتی ہوں۔میرے بہت تھوڑے سے کام سے میرے گھر کی بڑی سے بڑی ضرورت پوری ہوتی ہے ۔یقین مانے جب تک سر ایام جیسے مخلص لوگ اس دنیا میں ہیں کسی کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہو سکتا۔
خیر ہم۔کن باتوں میں لگ گئی آئیے اب پہاڑی کے اوپر چلتے ہیں وہاں ایک درگاہ ہے بڑی مشہور درگاہ ہے وہاں بہت لوگ آتے ہیں منت مانگنے کے لیے۔
وہ اسے پیچھے آنے کے لئے کہہ کر خود گاڑی سے نکل چکی تھیں جبکہ روحی تو مزے سے ان کے آگے آگے چل رہی تھی۔وہ چھوٹا سا بیگ پیچھے لگائے بہت کیوٹ لگ رلی تھی۔اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی اسے چلتے ہوئے شاید زیادہ وقت نہیں ہوا تھا۔لیکن اسے گود میں بیٹھنے سے زیادہ زمین پر خود سے چلنا پسند تھا۔
ویسے آپ منت مانگنے پر یقین رکھتی ہیں۔تانیہ نے اس سے سوال کیا۔
نہیں میں دعا مانگنے پر یقین رکھتی ہوں وہ بھی صرف اللّه تعالی سے لیکن مجھے درگاہ دیکھنے کا بہت شوق ہے۔خدا کے نیک لوگوں کے مزار دیکھنا مجھے پسند ہے۔
اس نے کہتے ہوئے روحی کا ہاتھ تھاما اور اپنے قدم ذرا تیز کر دیئے تانیہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔
اسی لیے وہ بھی خاموشی سے اس کے پیچھے پیچھے چلتی دربار کے سامنے آ گئی تھی۔جہاں بہت سارے لوگ تھے۔جو یقیناً یہاں منت مانگنے آئے تھے۔ہر انسان کی اپنی سوچ تھی جو وہ بدل نہیں سکتی تھی ۔وہ مسکرا کر اندر داخل ہوئی
°°°°°°
مش تنیہ یاں پل کچ بی مادو تو مل داتا ہے(مس تانیہ یہاں پر کچھ بھی مانگو تو مل جاتا ہے )وہ ہیرکا ہاتھ تھامیں اس سے پوچھنے لگی تھی۔
بیٹا یہاں پر کچھ مانگنے سے کچھ ملے یا نہ ملے لیکن آپ اللّه سے دعا کرو ضرور مل جائے گا یہ اللّه کے نیک بندے ہیں ۔ہم ان سے نہیں مانگتے ۔ ہم ان کےلیے دعاکرتے ہیں
تانیہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہوئے گود میں اٹھایا تھا جب کہ وہ اس کے کندھے سے لگی تھی۔
مدھے اللّه شے دعا مادنی ہے کیشے مادوں (مجھے اللّه دعا مانگنی ہے کیسے مانگوں )اس کے سوال پر وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔
آپ کو کون سی دعا مانگنی ہے روحی مجھے بتائیں اس نے اسے اپنی گود میں اٹھاتے ہوئے پوچھا تھا یہ چھوٹی سی بچی جس کی ہر خواہش کے لبوں پر آنے سے پہلے پوری ہوتی تھی تو بھلا ایساکیسے ممکن تھا کہ اس کی کوئی ایسی خواہش ہو جووہ دعاؤں میں مانگا چاہتی ہو۔
مدھے میلی مما تاہے مجھے وہ دو شورلی میں فیلی تی ہوتی اے۔ می نے بابادانی شے پوتا تھا۔وہ کہتے ہیں ماما بہت پالی ہوتی اے وہ بت پیال کرلتی اےاشی لیے مدھے بھی میلی ماما تاہےبتائےنا کیشے مادوں (مجھے میری ماما چاہے وہ جو سٹوری میں فیری کی بھی ہوتی ہے میں نے باباجانی سے پوچھا تھا وہ کہتے ہیں کہ ماما بہت پیاری ہوتی ہے وہ بہت پیار کرتی ہے اسی لئے مجھے بھی چاہئے بتائیں نا کہ کیسے مانگوں)
وہ اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی۔
ایک لمحے کیلئے اسے اس معصوم پر ترس آیا تھا کچھ دن پہلے جب وہ یہاں آئی تھی اس نے خود ہی ماما لفظ کا استعمال کیا تھا شاید یہ لفظ اس دن سے ہی اس کے ذہن میں تھا اور پھر رات کوئی کہانی سنتے ہوئے تو یقینا وہ اس لفظ پر اٹکی ہوگی۔
اور پھر اپنے بابا سے پوچھا ہوگا جس پر اس نے ایک پیارا سا نقشہ کھینچ دیا لیکن اس کے پاس روحی کی بات کا کوئی جواب نہ تھا۔
آپ کی ماما تو بس ایک ہی طریقے سے آ سکتی ہے۔تانیہ نے کچھ سوچتے ہوئے کم آواز میں کہا۔
کیشے۔۔۔۔۔۔؟روحی کی سننے کی حس کافی تیز تھی۔
کہ آپ کے بابا دوسری شادی کرلیں اور دوسری شادی کے بعد آپ کی مما آپ کے پاس آجائیں گیں تانیہ نے جیسے اسے اس مسئلہ کا حل بتایا تھا۔
لیکن شاید اس کو اس بات کا اندازہ نہ تھا کہ وہ اس معصوم سی بچی کے دماغ میں ایک اور غلط بات ڈال رہی ہے پہلے ہی لفظ ماں اس کے دماغ میں ڈال کر وہ اپنی غلطی پر پچھتا رہی تھی اور اب ایسی ہی ایک غلطی تانیہ بھی کرنے والی تھی
°°°°°°°
واپسی کا سفر شروع ہو چکا تھا وہ لوگ گاڑی میں ہی پہاڑی سے نیچے کی طرف آ رہے تھے۔ تانیہ کو ایسا لگا کہ سامنے سے کچھ لوگ ان کی طرف آ رہے ہیں۔
ڈرائیور خود بھی پریشان تھا شاید وہ ان لوگوں کو نہیں جانتا تھا یا پھر وہ لوگ اس علاقے میں بالکل نئے تھے۔
مس تانیہ کیا آپ نے ان لوگوں کو پہلے اس علاقے میں کہیں دیکھا ہے مجھے یہ لوگ انجان لگ رہے ہیں کیا یہ آپ لوگوں کے لئے بھی یہ انجان ہیں ۔۔۔۔۔؟
ڈرائیور نے پیچھے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا جس پر تانیہ نے صرف ہاں میں سر ہلایا۔
وہ بھی ان لوگوں کو نہیں جانتی تھی اور نہ ہی اس علاقے میں پہلے کبھی ایسے لوگوں کو دیکھا گیا تھا۔
امجد بھائی میرے خیال میں پیچھے سے بھی ایسی ہی ایک گاڑی آ رہی ہے ۔تانیہ نے اچانک پیچھے کی طرف دھیان دیا تو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے آس پاس کوئی خطرہ ہے۔لیکن اس علاقے میں ان کے لیے خطرہ ناممکن سی بات تھی۔کیونکہ یہ علاقہ ایام سکندر کا تھا۔وہ وہ لوگ ایام سکندر کے ملازم ہو سکتا ہے وہ کسے مسئلے کا شکارہوں۔تبھی ان سے مدد کےلیے ان کے پیچھے آ رہے ہوں۔
جی مس تانیہ میں بھی کب سے یہی چیز نوٹ کر رہا ہوں میرے خیال میں مجھے گاڑی کی سپیڈ تیز کرنی چاہیے ہمیں جلد سے جلد حویلی پہنچنا چاہیے ہو سکتا ہے کہ کسی دشمن نے ہم پر نظر رکھی ہو۔
ہمیں کسی طرح کارسک نہیں اٹھانا چاہیے۔ہمارے ساتھ سر کے مہمان ہیں وہ گاڑی کی سپیڈ تیز کرتے ہوئے ان لوگوں کے قریب سے گاڑی تیزی سے نکال کر لے گیا۔
لیکن دوسری طرف شور مچ چکا تھا وہ لوگ سچ میں ان کے پیچھے لگ چکے تھے۔اس بار انہیں یقین ہوگیا تھا کہ کوئی مدد کے طلب گار نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ ان کےلیے خطرہ ہیں۔
یہ سب کون ہیں مس تانیہ اور یہ ہمارا پیچھا کیوں کر رہے ہیں خیریت تو ہے نا کوئی خطرے والی بات تو نہیں ہیرگھبراتے ہوئے روحی کو اپنے ساتھ لگا چکی تھی۔
یہ تو میں نہیں جانتی کہ خطرے والی بات ہے یا نہیں لیکن یہ لوگ بالکل انجان ہیں اور دیکھیں ان کے پاس اسلحہ بھی ہے ہمیں ایسے لوگوں کے بالکل پاس نہیں رکنا چاہیے ہو سکتا ہے کوئی خطرے والی بات ہو اکثر سر پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔
اور سب لوگ جانتے ہیں کہ سر کے جگر کا ٹکڑا سرکی کمزوری صرف اور صرف روحی ہے ۔سر اپنی بیٹی کےلیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔یہ بات سر کے ہر دشمن کو پتا ہے
اور وہ اس پر حملہ کروا سکتے ہیں سر کو کمزور کرنے کے لیے جلدی چلے امجد بھائی گاڑی روکنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے تانیہ نے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو امجد نے گاڑی کی سپیڈ اور بھی تیز کر دی
اللّه خیر کرے وہ بے ساختہ بولی تھی جب کہ امجد جتنا ہو سکے اتنا گاڑی کی سپیڈ کو تیز کر چکا تھا۔
جب اچانک ایک گاڑی ان کے سامنے آ روکی نہ چاہتے ہوئے بھی اسے گاڑی روکنی پڑی جبکہ وہاں سے لوگ اترتے ہوئے ان کی گاڑی کی طرف آئے تھے ۔اور ان کو پوری طرح سے قید کر لیا گیا تھا گاڑی کے چاروں طرف آدمی کھڑے تھے ان کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا۔
ان کا ایک مومنٹ بھی ان کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا تھا وہ سب لوگ بری طرح سے گھبرا گئے تھے ۔ہیر کی حالت خراب ہونےلگی۔اس نے کبھی اس طرح کی سچویشن کا سامنا نہیں کیاتھا۔
جبکہ روحی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے وہ اس پر اپنی چادر ڈالتے ہوئے اسے ان سب سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کیوں کہ وہ اس معصوم سی بچی کی جان بھی لے سکتے تھے اور ایسا رسک وہ نہیں لے سکتی تھی۔
یہ سب لوگ روحی کے ساتھ کچھ برا نہ کردیں۔کتنے بےحس ہوتے ہیں یہ لوگ جو اپنی دشمنی کےلیے کسی معصوم جان کو نقصان پہنچانےسے بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔
ہم تم لوگوں کو نقصان پہنچانے نہیں آئے اس لڑکی کو ہمارے حوالے کرو اور چلے جاؤ یہاں سے ہم تم لوگوں کے راستے میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ہماری کسی کےساتھ کوئی دشمنی نہیں لڑکی کو ہمارے حوالے کردو اور اپنی جان بچا لو رونہ تمہاری دوسری سانس کی کوئی گرنٹی نہیں ہے ان میں سے ایک آدمی نے آگے بڑھتے ہوئے کہا تھا
تم ہمیں جان سے مار ڈالو تب بھی روحی بےبی کو تمہیں نہیں دیں گے امجد غصے سے بے حال ہوتے ہوئےگاڑی سے باہر نکل گیا تھا
ہمیں تمہارے صاحب کی بیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اس لڑکی کی بات کر رہے ہیں جو تمہارے گھر میں مہمان ہے اسے ہمارے ساتھ بھیج دو اگر اپنی زندگی چاہتے ہو تو اس آدمی نے ڈرائیور کے انداز سے سمجھ لیا تھا کہ وہ بچی کی بات کر رہا ہے ۔
کیونکہ اس لڑکی کا نام ہیر تھا اور وہ سب لوگ ہی جانتے تھے ہیر حیرانگی سے انہیں دیکھ رہی تھی کون تھے یہ لوگ اور وہ اسے اپنے ساتھ لے جانے کی بات کیوں کر رہے تھے۔ اس نے تو آج سے پہلے کبھی ان لوگوں کو دیکھا بھی نا تھا۔
کیوں بی بی تم لوگوں کے ساتھ کیوں ہو جائیں گی کون ہو تم لوگ اور ہمارے راستے میں کیوں آئے ہو۔۔۔۔۔۔؟
کیا تم جانتے نہیں ہو یہ کس کے ہاں مہمان ہیں ایام سکندر کیا نام پہلے نہیں سن رکھا۔ اگر تم نے ذرا سی بھی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تو تم لوگوں کےساتھ کیا ہو سکتا ہے یہ تو اس علاقے سے آنے سے پہلے ہی جان ہی چکے ہوں گے۔
اندازہ تو ہوگا ہی کہ یہ علاقہ کس کا ہے۔۔۔۔۔؟
ہاں ہم جان چکے ہیں کہ یہ علاقہ کس کا ہے اسی لئے اتنے سکون سے تم سے بات کر رہے ہیں ورنہ ہماری بندوق بات کرتی ہے۔اس لڑکی کو ہمارے حوالے کر دو اگر اپنی بھلائی چاہتے ہو تو ورنہ لڑکی کو تو ہم ہر قیمت پر لے ہی جائیں گے۔لیکن سانس دوسری تمہیں بھی نہیں آئے گی۔
امجد کو دھکا مارتے ہوئے اس آدمی نے ہیر کی طرف کا دروازہ کھول دیا تھا۔ جبکہ روحی کو چھوڑ کر گھسٹتی ہوئی باہر نکلی تھی ۔
کیونکہ اس آدمی کے ہاتھ میں اس کا بازو تھا وہ بری طرح سے مزاحمت کر رہی تھی اپنا آپ اس سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ آدمی اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا۔اس کا انداز اتنا وحشت ناک تھا کہ ہیر کو اپنا بازو چھڑوا پانا ناممکن لگا۔
چھوڑو مجھے کہاں لےکر جا رہے ہو۔چھوڑو مجھے مجھ سے کیا دشمنی ہے تمہاری۔ کیوں آئے ہو کون ہو تم لوگ وہ اپنا آپ چھڑواتے ہوئے اونچی اونچی آواز میں بول رہی تھی لیکن وہ تو جیسے کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھے۔
بی بی کو چھوڑ دو ورنہ امجد نے آگے بڑھنا چاہا۔جب اچانک جنگل میں گولی کی آواز گونجی اور اس کے ساتھ امجد کی چیخ اس کی ٹانگ پر گولی چلا دی گئی تھی وہ زمین پر پڑا بری طرح سے تڑپ رہا تھا
ہم نے کہا تھا ہمارے راستے میں ٹانگ مت اڑاؤ ہمہیں ہمارا کام کرنے دو ہم یہاں سے چلے جائیں گے لیکن نہیں اب دیکھ لیا نہ اپنا انجام ۔۔۔۔۔۔۔؟
اچانک ہی ہیر کو بازو سے پکڑتے ہوئے اپنے ساتھ گھسیٹنے لگے تھے جبکہ تانیہ کے اوپر سے بندوقیں نیچے کرتے ہوئے وہ سب لوگ اپنی اپنی راہ لے چکے تھے۔
روحی روے جا رہی تھی چلائی جا رہی تھی۔کہ ہیر کو چھوڑ دو لیکن روحی تو ان کےلیے کوئی خطرہ نا تھی۔یا شاید روحی کو نقصان پہنچا کر وہ لوگ ایام سیکندر سے پنگا نہیں لے سکتے تھے۔
ہیر بری طرح سے رو رہی تھی وہ لوگ اسے اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے ۔اسے کیوں لے کر جارہے تھے وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والے تھے کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی وہ بس وہ ان پر چلاتے ہوئے ان سے اپنا آپ چھڑوا رہی تھی۔
کیا بگاڑا تھا اس نے ان لوگوں کا جووہ اس کے ساتھ یہ سب کچھ کر رہے تھے ۔کہیں سعد نے جس خطرے سے بچانے کے لیے انھیں یہاں بھیجا تھا کہیں وہ یہی خطرہ تو نہیں تھا ۔
یا اسے کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے کچھ تو تھا جواس کی سمجھ سے بہت باہرتھا وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی تھی جب اس آدمی نے ایک زور دار تھپڑ مارتے ہوئے اس کا منہ بند کر دیا