Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junoon) Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junoon) Episode 7
کیا ڈھونڈ رہی ہیں آپ مس تانیہ کیا کچھ گر گیا ہے ۔۔۔۔۔؟ وہ فریش ہو کر باہر نکلا تو مس تانیہ کو بیڈ کروان سے کچھ تلاش کرتے ہوئے پایا۔شاید ان کی کوئی چیز گم ہوگئی تھی۔
سروہ دراصل میم ہیر نے یہاں پر اپنا کچھ قیمتی سامان رکھا تھا۔وہ رات کو اٹھا نہیں پائی یہاں سے میں اسی کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
باقی چیزیں تو مل چکی ہیں لیکن ان کی نوز پن نہیں مل رہی اس نوز پن کےلیے وہ کافی پریشانی ہو رہی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ یہ ان کے لیے بہت خاص ہے شادی کے بعد یہ ان کا پہلا تحفہ تھا ان کے شوہر کی طرف سے۔۔۔۔۔۔۔”
اور اب وہ کہیں پر بھی نہیں مل رہا وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی
کیا انہوں نے یہاں اتار کر رکھا تھا اسے وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔ جس پر تانیہ نے صرف ہاں میں سر ہلایا تھا۔
ٹھیک ہے آپ ٹھیک سے تلاش کریں یہی کہیں ہوگا اگر یہاں رکھا ہے تو یہی ہونا چاہیے وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بال سکھا رہا تھا۔
جبکہ بیڈ پر اس کی بیٹی گہری نیند سوئی ہوئی تھی اور تانیہ اپنے کام میں مصروف تھی۔
سر یہاں پر تو وہ نہیں مل رہی پتا نہیں کہیں گم ہو گئی شاید اب میں انہیں کیا کہوں گی میں نے انہیں کہا تھا کہ میں انہیں ڈھونڈ کر دوں گی۔
وہ تو بہت پریشان ہو جائیں گی ۔وہ بہت پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے بتا رہی تھی
مس تانیہ آپ پریشان مت ہوں انشاءاللّه وہ مل جائے گی آپ ٹھیک سے اس جگہ کی صفائی کریں وہ اپنی بیٹی کے قریب آتا ہوا اس کا سویا ہوا وجود اپنی باہوں میں اٹھاتا کمرے سے نکل گیا تھا ۔
جبکہ تانیہ اب اس جگہ کو ٹھیک سے صاف کرتے ہوئے اس کی چیزیں ڈھونڈنےلگی
لیکن اس نوز پن کو نہ ملنا تھا اور وہ نہ ملی تھی تانیہ نے کوئی جگہ نہ چھوڑی لیکن پتا نہیں وہ کہاں غائب ہوئی تھی۔
°°°°°°
میم آئی ایم ریلی ویری سوری میں نے ہر جگہ آپ کی نوز پن کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے کہیں پر بھی نہیں ملی میں بہت شرمندہ ہوں میں نے رات کو آپ کو یقین دلایا تھا کہ آپ کی چیزیں آپ کو مل جائیں گی۔
اگر میں سر سے معذرت کرتے ہوئے رات کو ہی تلاش کر لیتی تو شاید وہ مجھے مل بھی جاتی لیکن میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کی چیز مجھے نہیں مل سکیں وہ باقی چیزیں اس کے حوالے کرتے ہوئے معذرت کرنے لگی ۔
مس تانیہ پلیز آپ ایک بار سے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کریں ہوسکتا ہے وہیں پر کہیں گر گئی ہو پلیز میری مدد کریں وہ امی جان کی طرف سے پہلا تحفہ ہے اگر وہ گم کر دیا تو وه مجھے غیر ذمہ دار سمجھیں گیں۔
مجھے وہ لازمی چاہیے آپ سمجھنے کی کوشش کریں پلیز وہ پریشانی سے اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولی وہ اس کے لیے کتنا اہم تھا تانیہ سمجھ چکی تھی۔
میں نے ہر جگہ ٹھیک سے تلاشی لی ہے میں نے کوئی جگہ نہیں چھوڑی میم بلکہ پورا کمرہ چھان مارا ہے لیکن وہ کہیں سے بھی نہیں ملی میں بہت معذرت خواہ ہوں۔میں اسے تلاش نہیں کر پائی
اس کی آنکھوں میں چمکتے آنسوؤں کو دیکھتے ہوئے تانیہ مزید شرمندہ ہو گئی تھی وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہی تھی اس معصوم سی لڑکی کے لئے۔
ساس ہزار اچھی کیوں نہ ہو لیکن اپنی بہو پر ایک گہری نظر ہمیشہ رکھتی ہے اور پھر اس کی ساس کو تو وہ کل سے نوٹ کررہی تھی جس کی نگاہیں بار بار پھر کر اس کی ناک پر آ کر رک رہی تھیں
ابھی نہیں تو اور تھوڑی دیر میں اس نے سوال جواب کا سلسلہ یقینا شروع کر دینا تھا جس کے بعد ہیر کے پاس یقین کا کوئی جواب نہیں ہوگا
وہ اس کو اس کے حال پر چھوڑتی واپس اپنے کام میں متوجہ ہوگئی جب ایام اس کے پاس آر کا۔
مہمان کا سامان ملا آپ کو ۔۔۔۔۔!اس نے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا تھا جس پر اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
اف یہ تو بہت برا ہوا میرے خیال میں وہ چاچی کی خاندانی نشانی تھی آپ نے ٹھیک سے تلاش کیا تھا نا اس نے پھر سے یقین دہانی کرنی چاہیے جس پر تانیہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
جب کہ وہ بنا کچھ بھی بولے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا
°°°°°°
وہ تمام لوگ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے جب ایام اندر داخل ہوا۔
ہیر آئی ایم ریلی سوری میرے ملازموں کی وجہ سے آپ کی اتنی اہم چیز کھو گئی میں شرمندہ ہوں میں آپ کو آپ کی امانت واپس نہیں دے سکا ۔
لیکن میری طرف سے یہ چھوٹا سا گفٹ رکھ لیں میں جانتا ہوں یہ آپ کی اس نوزپن کی کمی پوری نہیں کر سکے گا لیکن اگر آپ اسے رکھیں گی تو مجھے خوشی ہوگی
وہ ایک سرخ رنگ کی نازک سی ڈبی اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہنے لگا تھا جب کہ وہ حیرت سے اپنی ساس کو دیکھنے لگی۔
تمہاری اپنی نتھ کدھر ہے وہ وہ اچانک اس کی ناک کو دیکھ کر اس سے سوال کرنے لگی۔
وہ میری غلطی کی وجہ سے گم ہو گئی انہوں نے اتار کر رکھی تھی لیکن وہ اسے شاید کہیں گر گئی یا کھو گئی۔
ان کی غلطی نہیں ہے میرے نوکروں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے ہوا ہے میں آپ کو وہ واپس لاکر تو نہیں دے سکتا لیکن میں آپ کو بس اس کے بدلے یہ دے سکتا ہوں اس نے اپنی لائی نوز پن اسے دکھاتے ہوئے کہا تھا
جسے دیکھتے ہی چاچی کی آنکھیں چمک اٹھیں
اصلی ہیرے کی چمکتی ہوئی نتھ کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکتی تھی وہ حیرانگی سے اپنے سامنے رکھےاس خوبصورت زیور کو دیکھ رہی تھی۔
جو دیکھنے میں ہی بے تحاشہ قیمتی تھا
بیٹا یہ تو بہت قیمتی ہے چاچی نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا
اس سے زیادہ کی قیمت نہیں ہے اس کی جو آپ نے اپنے جذبات لوٹاتے ہوئے انہیں پہنائی تھی میں ایک بار پھر سے معذرت کرتا ہوں اگر آپ اسے قبول کر لیں گے تو میں یہی سوچوں گا کہ آپ لوگوں نے ہماری غلطی کو معاف کر دیا
اس میں آپ کی تو کوئی غلطی نہیں وہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی تھی۔
غیر ذمہ داری کا کام تو اس نے خود ہی کیا تھا اگر وہ نوزپن اسے چب رہی تھی تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اسے اتار کر رکھ دے بلکہ اسے اپنے آپ کو اس کا عادی کر لینا چاہیے تھا
وہ اس کی غلطی پر بنااسے شرمندہ کئے خود ہی معذرت کر رہا تھا
نہیں یہ میری غلطی ہے آپ کی کوئی چیز میرے گھر سے کیسے غائب ہو جائے یہ سراسر میری غیر ذمہ داری ہے میں یہ تو نہیں کہتا کہ کسی نے اسے چوری کرلیا کیونکہ مجھے اپنے سٹاف پر پورا یقین ہے یقیناً وہ کہیں گم ہو گئی ہے۔
ہم پوری کوشش کریں گے کہ وہ مل جائے لیکن اگر آپ اسے قبول کرلیں گے تو ہمیں بہت خوشی ہوگی
ہاں بیٹا لے لو کسی کو شرمندہ نہیں کیا جاتا وہ انکار کرنے ہی والی تھی اپنی ساس کی آواز پر خاموش ہوگئی
شکریہ۔۔۔۔ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہہ سکتی تھی ۔
تھینک یو سے کام نہیں چلے گا اگر آپ نے سچ مچ میں اسے قبول کر لیا ہے تو اسے پہنیے۔وہ بات کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔
ہاں بیٹا پہن لو اسے امی جان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے بنا کچھ کہے اس ڈبی سے نوزپن نکال کر اپنی ناک میں پہنی تھی۔
وہ کیسی لگ رہی تھی یہ تو وہ نہیں جانتی تھی لیکن ایام سکندر کی نظریں کتنی دیر اس کے چہرے سے ہٹی نہیں تھیں ۔
ماشاءاللّه بہت خوبصورت ہے اور تم پر بہت جچ بھی رہی ہے ۔اپنی معمولی سی نتھ کی جگہ اصلی ہیرے کی چمکتی نتھ کو دیکھتے ہوئے اس کی ساس نے ستائشی انداز میں کہا ۔
جبکہ مس تانیہ بھی اسے دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی اس پر نظر پڑتے ہی اس نے ہاتھ کے اشارے سے اس کی تعریف کی تھی ۔اس نے صرف سر کو خم دیا اور مسکرا کر نظر جھکاگئی۔
یہ جانے بنا کے وہ مسلسل کسی کی نظروں کے حصار میں ہے کوئی ہے جو اس کی الٹی جھکتی پلکوں کا رقص دیکھ رہا ہے کوئی ہے جو اس کے سامنے بے بس ہوتا چلا جا رہا ہے
ناشتے کے دوران بھی وہ مسلسل خود پر کسی کی نظروں کا حصار محسوس کرتی رہی تھی لیکن اس نےسر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا ۔
روحی کب تک جاگتی ہے ۔۔۔؟ ٹیبل پر رونق کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے اس نے مس تانیہ سے سوال پوچھا۔
وہ تھوڑی دیر تک جاگ جائے گی رات بہت دیر تک کہانیاں سنتی ہے اسی لئے صبح بہت دیر سے جاگتی ہے۔
جواب اسے اپنی سائیڈ والی کرسی سے ملا تھا لیکن اس نے صرف ہاں میں سر ہلایا اس کی طرف دیکھا نہیں ۔
لیکن شاید کسی کو اس کی یہ ادا پسند نہیں آئی تھی شاید وہ چاہتا تھا کہ وہ اسے دیکھے اس سے بات کرے ہاں شاید۔۔۔۔۔۔”
°°°°°°
وہ کمرے میں واپس آیا تو روحی اب تک گہری نیند سو رہی تھی اس نےمسکراتے ہوئے اس کے پاس اپنی جگہ بنائی اور اپنی جیب سے کوئی چیز نکالی اس کے ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی نتھ تھی۔
جو کہ بہت معمولی سی تھی۔ وہ انگلیوں میں اسے پکڑتے ہوئے آگے پیچھے سے دیکھ رہا تھا ۔اس نے اس کے ناک میں یہ دیکھی تھی لیکن اسے کچھ خاص پسند نہیں آئی۔
پسند تواسے وہ آئی تھی جو وہ خود اسے دے کر آیا تھا اس نے ایک نظر اس نوز پن کی طرف دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ میں موجود اس ننھی سی نتھ کو۔ڈس بن میں پھینک دیا
وہ۔خود اپنی اس حرکت پر خود بھی حیران تھا اس نے ایسا کیوں کیا تھا وہ نہیں جانتا تھا لیکن اس سے ہو گیا تھا نا چاہتے ہوئے بھی اس نے وه حرکت کی تھی شاید وہ جیسے کبھی بھی کرنے کے حق میں نہیں تھا۔
وہ لڑکی اس معمولی سے زیور کے لئے اتنی زیادہ پریشان تھی جیسے کل رات ہی اس نے اپنے بیڈ کروان پر پڑے دیکھ لیا تھا
وہ اسے کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا وہ اسے دوبارہ پہنے ۔۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔؟ یہ نہیں جانتا تھا بس وہ اسے پسند نہیں تھی
وہ اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا پھر اس نے کروٹ لیتے ہوئے اس کے گرد اپنا حصار بنایا اسے اپنے بازو میں قید کرتے ہوئے اس کا ماتھا چومتا اسے دیکھنے لگا۔
لیکن وہ اب بھی گہری نیند میں تھی
اس کی پیاری سی بیٹی اس کی جان سے زیادہ عزیز تھی اس کے علاوہ اس کی زندگی میں کوئی نہیں تھا وہی تھی اس کے سارے پیار کی واحد حقدار اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے اس نے اپنا موبائل فون نکالا تھا ۔اور پھر کسی کو کال ملاتے ہوئے اپنے کان سے لگایا
°°°°°°°
السلام علیکم سر جی سر میں نے آپ کے کہے کے مطابق اس آدمی کے بارے میں سب کچھ پتہ کروایا ہے۔
سر یہ معاملہ بہت سنگین ہے
آپ کا کزن کسی بڑے مسئلے کا شکار ہے وہ یہاں بھولایا بھولایا پھرتا ہے پتہ نہیں کونسی ٹینشن ہے اور وہ یہاں عجیب طرح کے لوگوں سے مل رہا ہے۔
سر مجھے تو لگتا ہے کہ وہ کوئی نشہ کرتا ہے کیونکہ جن لوگوں میں اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے وہ بہت ہی کوئی نشئ قسم کے لوگ ہیں اور میں نے کمپنی سے بھی پتہ کروایا ہے کمپنی میں اسے کہیں بھی باہر نہیں بھیجا گیا تھا تو وہاں سے یہ چھٹیوں کی ایپلیکیشن دے کر آیا ہوا ہے ۔
اس نے اپنی شادی کے سلسلے میں ہنی مون کےلیے چھٹیاں منگوائی ہوئی ہیں اور وہ خود یہاں پر بالکل اکیلا ہے اور سر یہ بہت ہی زیادہ مشکوک قسم کی حرکیتں۔کر رہا۔ہے۔
ٹھیک ہے تم اس پر نظر رکھو وہ کیا کرتا ہے ایک ایک چیز کی مجھے معلومات چاہیے کسی طرح کی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے یہ بات اپنے ذہن میں محفوظ رکھ لو۔
جی جی سر آپ پریشان مت ہوں میں اس پر نظر رکھے ہوئے ہوں اس کے کہنے پر وہ فون بند کرتے ہوئے ایک بار پھر سے اپنی بیٹی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا
°°°°°°°
میڈم آپ گھومنے پھرنے کہیں جائیں گی سر نے کہا تھا کہ اگر آپ پہاڑی علاقہ دیکھنا چاہتی ہیں تو میں آپ کو ڈرائیور کے ساتھ کہیں باہر کر لے چلتی ہوں۔آپ کو یہ علاقہ دیکھ کر خوشی ہوگی ۔یہ بہت خوبصورت علاقہ ہے ۔ وہ باہر ہال میں بیٹھی ہوئی تھی جب مس تانیہ وہاں آتے ہوئے اس سے کہنے لگی۔
ارے نہیں نہیں میں تو کہیں نہیں جا سکتی میرے تو گھٹنوں میں درد ہے اگر تم جانا چاہتی ہو تو ہو کر آ جاؤ بیٹا ۔
جب سے آئی ہو اسی کمرے میں بند ہو۔ گھومو پھیرو اپنا دماغ کھولو بہت خوبصورت جگہ ہے یہ ۔تم تو کمرے کی ہی ہوکر رہ گئی ہو۔
یہاں کا پہاڑی علاقہ تو بہت ہی خوبصورت ہے اگر میری ٹانگوں میں درد نہ ہوتا تو میں بھی تمہارے ساتھ ضرور چلتی سعد تو اتنی تعریف کرتا ہے یہاں کی ۔وہ اکثر آتا ہے یہاں گھومنے پھیرنے۔
اور ویسے بھی مس تانیہ ساتھ ہیں تمہارے اور پھر ڈرائیور ساتھ ہےتو چلنا نہیں پڑے گا زیادہ۔۔۔
وہ کافی دنوں سے اس کی بےزاری کو نوٹ کر رہی تھی وہ کسی سے کچھ کہتی نہیں تھی بس ہر وقت خاموش بیٹھی رہتی تھی اب تو ان کو یہاں آئے بھی بہت دن ہوگئے تھے۔
وہ اپنی ساس سے بھی کتنی باتیں کرتی اس کی اور ان کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق تھا جب بھی وہ ساتھ بیٹھتی تو سعد کے بارے میں بات کرتی کہ سعد کب تک آئے گا ۔
اسےکون سا مسئلہ ہے کب تک مسئلہ حل ہوگا اور ان سب سوالوں کے جواب ان کے پاس نہیں تھے۔
اس میں اس کا کوئی قصور نا تھا۔اس کی دنیا میں سوائے سعد کے اور تھا ہی کون لیکن سعد کے بارے میں خود بھی ٹھیک سے کچھ نہیں جانتی تھی تو اسے کیا بتاتیں۔
میں اکیلے کیسے ۔۔۔۔۔۔؟وہ کچھ نروس ہو رہی تھی
ارے آپ اکیلی ہرگز نہیں ہیں۔ میں آپ کے ساتھ ہوں میں اس علاقے کے بارے میں سب کچھ جانتی ہوں آج ہم پہاڑی والی سائیڈ پر جائیں گے ادھر ہی میرا گھر بھی ہے اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔
جب اپنا چھوٹا سا سفر بیگ لیے روحی اپنے بابا جانی کی انگلی تھامے نیچے آئی تھی
تلے می ردی اں۔۔۔۔۔۔(چلے میں ریڈی ہوں )اس نےان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس پر مس تانیہ مسکرا دی تھی جبکہ اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی تھی۔
مطلب کے وہ بھی ان لوگوں کے ساتھ جانے والی تھی
تاتی اپ تو پتا اے بالی پاڑی بت خوسبورت اے وہاں بت شارے اینیمل بی وں دے وہاں شمبا بی اے اول اش شے ملنے تےلہے پھلی بی آتی اے آئے نا ام بی تلیں(چاچی آپ کو پتہ ہے بڑی پہاڑی بہت خوبصورت ہے وہاں بہت سارے اینیمل بھی ہونگے وہاں پر سمبا بھی ہے اور اس سے ملنے کے لیے فیری بھی آتی ہے آئیں نا ہم دیکھنے چلیں۔)
وہ کافی ایکسائٹمنٹ سے اسے بتا رہی تھی جبکہ اس کے منہ سے سمبا کا نام تو اسے سمجھ میں نہیں آیا لیکن اس کا مطلب کیا تھا اتنا تو وہ بھی جانتی تھی ۔
جنگل میں کچھ بھی خطرناک نہیں ہے آبادی بہت پاس ہے جنگل کے اور پہاڑی علاقہ بلکل سیف ہے کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے یہاں پر وہ اس کے چہرے سے اڑتی ہوائیاں دیکھتے ہوئے اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ خوفزدہ ہو رہی ہے۔
لیکن روحی۔۔۔۔۔۔” وہ اس کی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی تو وہ مسکرا دیا۔اس کی مسکراہٹ بےحد دلکش تھی۔اس نے دل ہی دل میں اعتراف کیا تھا
میری بیٹی کو صرف کہانیاں سننے کا ہی نہیں بلکہ بنانے کا بھی شوق ہے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ڈرائیور آپ کو اپنے ساتھ لے کر جائے گا اور مس تانیہ ہر وقت ان کے ساتھ رہیں گی۔
آپ کو ہمارا علاقہ دیکھ کر بہت خوشی ہوگی بہت خوبصورت علاقہ ہے یہاں کا جائیےدیکھ کر آئیے۔آخر ایک لمبا وقت گزارنا ہے آپ نے یہاں پر وہ اسے دیکھتے ہوئے ذومعنی انداز میں بولا تو وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی اس کی بات اسے سمجھ نہ آئی تھی شاید
کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔۔۔۔۔”اس سے رہا نہ گیا تو وہ پوچھنے لگی
میرے مطلب پر دھیان دینے کا کوئی فائدہ نہیں میں مطلب کی باتیں مطلب کے لوگوں سے کرتا ہوں آپ جائیں اپنا علاقہ دیکھ کر آئیں آپ مہمان ہیں اس گھر کی۔۔۔۔آپ کا خیال رکھنا آپ کی دل جوئی کرنا ہمارا فرض ہے اس نے مسکراتے ہوئے بات ختم کر دی ۔آج وہ بات بات پر مسکرا رہا تھا۔
وہ فون پر آنے والی کال کی طرف متوجہ ہوتا باہر کا راہ لےچکا تھا۔جبکہ وہ اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
آئیے میں آپ کو لے کر چلتی ہوں اس نے مسکراتے ہوئے باہر کا راستہ دکھایا تو امی کو خدا حافظ کہتے ہوئے اس نے بھی مس تانیہ کے پیچھے ہی باہر نکلنا چاہا جب روحی نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس کی معصوم سی مسکراہٹ پر اس نے مسکراتے ہوئے اسے اپنی گود میں اٹھا لیا تھا۔
روحی جانو آپ کو پتہ ہے میں نے آج سے پہلے آپ سے زیادہ پیاری بےبی گرل کہیں دیکھی نہیں وہ اس کے دونوں گالوں کو چومتے ہوئے کافی جوش سے اسے بتا رہی تھی۔
ہاں مدھے پتا اے بابا دانی مدھے لوج بتاتے ہیں (ہاں مجھے پتا ہے میرے بابا جانی مجھے روز بتاتے ہیں )اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے اس نے بڑے مزے سے اس تعریف کو وصول کیا تھا جبکہ وہ مسکراتے ہوئے تانیہ کے ساتھ گاڑی کے اندر بیٹھ گئی تھی اور یہ سفر شروع ہو چکا تھا
