60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon) Episode 6

گھر کے اندر آنے کے بعد وہ کنفیوز ہو گئی تھی سامنے چڑھنے والی سیڑھیوں پر بہت سارے کمرے بالکل ایک جیسے نظر آرہے تھے اسے کون سا کمرہ رہنے کے لیے دیا گیا تھا یہ چیز وہ بھول چکی تھی کیونکہ یہاں سارے کمرے ایک جیسے ہی تھے۔
میڈم اگر آپ آرام کرنا چاہیں تو تھوڑی دیر جاکر آرام کر لیں کیونکہ بڑی میڈم تو آرام کرنے اپنے کمرے میں جا چکیں ہیں آپ کو آپ کا کمرہ تو یاد ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟
آپ اوپر کمرے میں جائیں میں آپ لوگوں کے لئے شام کے ڈنرکی تیاری کرتی ہوں مس تانیہ مسکرا کر کہتی پیچھے ہٹ گئی تھی۔
جبکہ اس نے ایک نظر ان سب کمروں کی طرف دوہرائی تھی سامنے نظر آنے والے آٹھ سے دس کمرے ہی اسے بری طرح الجھا چکے تھے
اس کا ارادہ تو امی کے ساتھ انہی کے کمرے میں رہنے کا تھا لیکن ملازمہ نے اس کا سامان دوسرے کمرے میں سیٹ کروا دیا تھا اور اب یہ کہہ کر کے وہ دونوں ایک ہی کمرے میں رہنا چاہتی ہیں اسے کسی امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی
°°°°°°°°
وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتی اوپر آ تو گئی تھی لیکن ابھی تک وہ اسی الجھن میں تھی کہ وہ کون سے کمرے میں جائے اس کے حساب سے سیرھیوں سے اوپر آنے کےبعد تیسرے والا کمرہ اس کا تھا ۔
جو اسے یہاں آنےکے بعد مس تانیہ نے بتایا تھا لیکن ابھی تک وہ اس کمرے میں ایک دفعہ بھی نہیں گئی تھی۔اب تو وہ امی جان والے کمرے میں تھی اور وہیں سے فریش ہو کر نیچے کھانے کے لئے گئی تھی ۔اس کے پیچھے ہی اس کا سامان دوسرے کمرے میں شفٹ کیا گیا تھا
اس لیے وہ کافی نروس تھی کہ کہیں وہ غلط کمرے میں نا چلی جائے۔
اس نے اوپر جاکر تیسرا کمراہی کھولا تھا اس سے پہلے وہ اس کمرے میں آئی نہیں تھی ۔لیکن اسے یقین تھا کہ یہی وہ کمرہ ہو گا ملازمہ کی ہدایت کے مطابق اسے تیسرا کمرہ یہی لگ رہا تھا آہستہ سے کمرہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی
وہ کمرے کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی ۔یہ کمرہ دوسرے کمرے سے بہت الگ تھا بلکہ زمین آسمان کا فرق کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔یہاں انتہائی قیمتی چیزوں سے سجاوٹ کی گئی تھی ۔اور دیکھنے میں وہ کسی مردکا کمرہ محسوس ہو رہا تھا ۔
دیوار کے پینٹ سے لے کر بیڈ شیٹ تک بہت ہلکے رنگ کی تھی سامنے وال پر لگی پینٹنگز بھی جنگلی جانوروں کی تھی ۔
اس وقت بھی وہ الجھن کا ہی شکار تھی لیکن اتنے لمبے سفر کے بعد وہ اتنی تھک چکی تھی ۔
اس کمرے کی خوبصورتی کو بعد میں دیکھنے کا ارادہ کرتے وہ فی الحال سونے کے لئے بیڈ کے پاس آئی تھی ۔
اس وقت نیند سے اس کی آنکھیں بھی بوجھل ہوتی جا رہی تھیں وہ شاید مزید نہیں جاگ پا رہی تھی
خود پرکمبل ڈالتے ہوئے وہ بیڈ پر لیٹی تو کچھ ہی دیر میں نیند نے اسے آگھیرا تھا شام کے ساڑھے چار بج رہے تھے وہ اس وقت نیند ہرگز نہیں لینا چاہتی تھی لیکن پھر بھی تھکاوٹ نے اسے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
اس نے سوچا تھا وہ سعد کو فون کرے گی لیکن اس کا فون امی والے کمرے میں ہی پڑا تھا اسی لئے وہ ان کے کمرے میں جا کر انہیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی جبکہ تھکاوٹ سے اس کا اپنا بھی برا حال تھا۔
وہ بعد میں سعد سے رابطہ کرنے کا سوچتی آنکھیں بند کر چکی تھی اس کے ذہن پر اس وقت پوری طرح صرف سعد ہی سوار تھا وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی کیسا عجیب انسان تھا یہ اس کے ساتھ اتنا خوبصورت رشتہ جوڑ کر اس سے بالکل انجان ہو گیا تھا
پتا نہیں کون سی مصیبت اس پر ٹوٹ پڑی تھی ۔جو وہ اپنی ماں اور بیوی کو خود سے اتنا دور کر چکا تھا ۔وہ جانتی تھی اس کی زندگی میں مشکلات ہوں گی لیکن شادی کے اولین دن اس طرح سے گزریں گے یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔
وہ انہی سوچوں میں گم نہ جانے کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی
°°°°°°°
السلام علیکم لالہ کیسے ہیں آپ فون کیا سب خیریت تو تھی نا ۔معاف کیجئے گا میں دن میں آپ کا فون اٹھا نہیں سکتا وہ میں کام میں بزی تھا ۔
وعلیکم سلام الحمداللہ میں بالکل ٹھیک ہوں سعد تم سناؤ کیسے ہو اور کیا پریشانی ہے تمہیں چاچی جان کہہ رہی تھی کہ تمہیں کوئی مسئلہ ہو گیا ہے
اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ میں تمہارا ہر مسئلہ حل کرنے میں پوری مدد کروں گا ۔تم اس معاملے میں مجھ پر یقین کر سکتے ہو ۔وہ دن میں بھی سعد لو فون کرتا رہا تھا لیکن اس نے فون اٹھایا اور اب رات میں اس نے خود ہی سے فون کر لیا
کوئی پریشانی نہیں ہےلالا الحمداللّه سب کچھ ٹھیک ہے میں کام کے سلسلے میں ذرا لندن آیا ہوا ہوں انشاءاللّه میری واپسی ہو جائے گی ایک ڈیڑھ مہینے میں تب تک ہیر اور امی آپ کے ساتھ ہی رہیں گی
میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ امی اور ہیر کو اکیلے چھوڑ کر کیسے جاؤں گا ۔پھر مجھے خیال آیا کہ آپ سے زیادہ میں کسی اور پر بھروسہ تو کر نہیں سکتا اسی لئے میں نے ان لوگوں کو آپ کے پاس بھجوا دیا ۔
ریلی سوری لالہ میں آپ سے مل کر بھی نہیں آ سکا پلیز اب ان کی ذمہ داری آپ کے سر ہے ان کا خیال رکھیے گا میں بھی بہت جلد واپس آ جاؤں گا بس کچھ دنوں کی بات ہے
نہیں تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں میں ان کا خیال رکھوں گا تم نے مجھے اپنے مسئلے کے بارے میں نہیں بتایا دیکھو اگر اب بھی کچھ ہے تو مجھے بتا دو میں تمہارا ہر مسئلہ حل کر دوں گا تمہیں پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔وہ اسے اپنے ساتھ کا یقین دلارہا تھا
نہیں لالا ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ بس ایسے ہی پریشان ہو رہے ہیں ۔میں تو بس اس لیے پریشان تھا کہ جانے سے پہلے آپ سے ملاقات نہیں ہوسکی وہ شاید اسے کچھ بھی نہیں بتانا چاہتا تھا
کوئی بات نہیں جب تم آؤ گے تو ملاقات ہو جائے گی لیکن اگر کوئی پریشانی ہے تو پلیز مجھے بتاؤ وہ اب بھی زور دے رہا تھا سعد کو یقین ہو چکا تھا کہ وہ اس پر شک کر رہا ہے
اسے یہ بھی ٹھیک سے اندازہ نہ تھا کہ امی نے وہاں پر کیا بتایا ہے اسی لیے وہ فی الحال اس معاملے میں کچھ بھی نہیں کہنا چاہتا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس مصیبت کو کسی کے ساتھ شیئر بھی نہیں کر سکتا تھا
وہ چاہ کر بھی کسی کو بھی اس بارے میں کچھ بتا نہیں پا رہا تھا
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ہے تم مت بتاو اور ایک بات یاد رکھنا چاہے کوئی بھی مسئلہ کیوں نہ ہوں میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں تم مجھ سے کچھ بھی شیئر کر سکتے ہو
جی لالہ آپ کا بہت شکر گزار ہوں آپ ہمیشہ سے میری بہت مدد کرتے آئے ہیں اگر کچھ بھی ہوا تو میں آپ کو ضرور بتاؤں گا اس نے فون بند کرتے ہوئے کہا جب کہ وہ فون جیب میں ڈال دیتے ہوئے آگے پیچھے دیکھنے لگا تھا
وہ روحی کو ڈھونڈتا ہوا یہاں آیا تھا جو اس کے ساتھ چھپن چھپائی کھیل رہی تھی
اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس وقت وہ یہ بھول چکی ہوگئی گی کہ وہ اس کے ساتھ کھیل رہی ہے بلکہ ضرور اپنے ہی کسی کھیل میں مصروف ہو گئی ہو گی
وہ اسے تلاش کرتے ہوئے کچن کی طرف آیا جہاں مس تانیہ اس کے لیے کھانا بنا رہی تھی یقیناً اس نے پھر سے کوئی فرمائش کر دی ہوگی ۔
وہ کھانے پینے میں بہت سست تھی جس کی وجہ سے اکثر وہ بہت سمارٹلی کام لیتا تھا
وہ اس کی پسند کی چیزوں میں ہلتھی چیزیں ملا کر اس کے لئے ایک الگ سی ڈش تیار کرواتا تھا جسے کھانے میں وہ سستی سے کام نہ لے اور یہ طریقہ اس کے لیے کافی فائدہ مند بھی ثابت ہورہا تھا
روحی میں آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا اور آپ یہاں ہیں یہ تو چیٹنگ ہو گئی نہ میرے ساتھ ۔ایسا کون کرتا ہے اپنے بابا جانی کے ساتھ وہ اس کے ساتھ بیٹھ کر پوچھنے لگا
جبکہ مس تانیہ مسکراتے ہوئے اپنا کام کرنے لگی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہاں بیٹی سیر ہے تو باپ سو اسیر ہے وہ بھی اسے تلاش نہیں کر رہا تھا بلکہ اپنے کاموں میں مگن تھا
اپش بابا دانی می تو بول دید اب ہم شبا تھیلیں دے یہ توئی تائم اے تھیلنےتا روی شالے تام اپنے تائم پر ترتی اے (اوپس بابا جانی میں تو بھول گئی اب ہم صبح کھیلیں گے یہ کوئی ٹائم ہے کھیلنے کا پر روحی سارے کام اپنے ٹائم پر کرتی ہے) وہ اسے سمجھا رہی تھی جب کہ وہ صرف ہلاتے ہوئے اس کی بات کو سمجھنے والے انداز میں اس کے منہ میں نوالے بنا کر ڈالنے لگا ۔
اس کی کل کائنات اس کی بیٹی ہی تھی جس کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا ۔
کھانا کھانے کے بعد وہ اسے اٹھا کر اپنے کمرے میں سونے کے لئے جانے لگا تھا وہ سارا دن بے شک نوکروں کے ساتھ رہتی تھی لیکن وہ اسے اپنے ساتھ سولاتا تھا ۔
اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ ہر لمحہ ہر گھڑی اسے اپنے پاس رکھے اس کی روٹین بہت زیادہ ٹف تھی جس میں سےاپنی بیٹی کے لیے وقت نکالنا بھی اس کے لیے اکثر بہت مشکل ہو جاتا تھا ۔
لیکن پھر بھی وہ کیسے بھی اس کے لئے وقت نکالتا تھا رات کے وقت ہی سہی
بابادانی تل شمبا والی تیانی اپ نے شنوئی تی (بابا جانی کل سمبا والی کہانی اپنے آگے سنائی تھی) وہ اس کے کندھے کے ساتھ لگی اسے یاد کروا رہی تھی
نہیں جانو سمبا والی پوری ہو گئی تھی ہم پرستان والی کہانی پڑھ رہے تھے اس نے یاد کرتے ہوئے کہا تھا ۔
جبکہ روحی نےسوچنے کی بھرپور ایکٹنگ کی تھی اور پھر اس کے کندھے کے ساتھ چپک گئی اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اسے کہانی سننے کو مل رہی تھی ۔ویسے بھی وہ جو بھی سناتا تھا وہ بھی اسے دو تین دن بھول ہی جانی تھی۔
°°°°°°°
کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے لائٹ آن کرکے دروازہ بند کیا
جب اسے اپنی بیٹی کی کھلکھلاہٹ کی آواز سنائی دی اس نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جس کے کندھے کے ساتھ لگے بیڈ کی طرف دیکھتے ہوئے ہنسی جا رہی تھی
اس نے مسکراتے ہوئے اس کے نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہاں سامنے بیڈ پر ہیرکو سوتے ہوئے پایا اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا
اس کے کمرے میں کیا کر رہی تھی ۔یقینا وہ غلطی سے یہاں آگئی تھی ۔
بابا دانی ام تہاں پر شوہیں دے(باباجانی ہم کہاں پرسوئیں گے) وہ بیڈ کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی تھی
ہم پیتے شو داتے ہیں ادھل دگہ ہے (ہم پیچھے سو جاتے ہیں ادھر جگہ ہے )اس نے خود ہی حل نکالا تھا جب کہ وہ بنا بیڈ کی طرف دوسری نگاہ اٹھائے کمرے کا دروازہ کھولتا کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔
یہ اس کے کمرے میں کیا کر رہی تھی جب کہ اس کے لئے الگ کمرہ تیار کروایا گیا تھا ۔وہ تو یہ سوچ کر بالکل ریلیکس ہو چکا تھا کہ اس کے مہمان اپنے اپنے کمرے میں آرام کر رہے ہیں۔
اور اس نے مس میری کو بھی کہا تھا کہ جیسے ہی اس کی مہمان جاگےوہ ان کا خاص خیال رکھے لیکن یہ تو اس کے کمرے میں آ گئی تھی یقینا وہ غلطی سے یہاں آئی تھی لیکن یہ اس کے لئے بہت بڑا مسئلہ بن سکتا تھا اس طرح کسی لڑکی کا اس کے کمرے میں آنا غلط تھا بلکہ بہت غلط تھا
وہ یہی سوچتے ہوئے سیڑھیاں تہہ کرتا نیچے کی طرف جانے لگا جب سامنے سے آتی مس تانیہ سے مخاطب ہوا
آپ نے مہمان کو ٹھیک سے بتایا نہیں تھا کہ ان کا کمرہ کونسا ہے وہ یہاں میرے کمرے میں آرام کر رہی ہیں ۔اس نے کافی سخت لہجے میں اس سے کہا تھا
نو سر میں نےٹھیک سے انہیں بتایا تھا شاید انہیں سمجھنے میں غلط فہمی ہو گئی ۔
میں ابھی انہیں جگا دیتی ہوں اس کی سختی سے کہنے پر وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی
بابادانی وہاں پل تو اتی شالی دگی تی ام پیتے شو شکتے تے اپ تو کہتے ہیں کہ کشی کو نینی شے نی دگکا تاہے(بابا جانی وہاں پر تو اتنی ساری جگہ تھی ہم پیچھے سو سکتے تھے آپ تو کہتے ہیں کہ کسی کو نیند سے نہیں جاگنا چاہیے وہ اپنے باپ کو منہ پھولائے گھورتے ہوئے کہنے لگی تھی جب کہ وہ اس کا ماتھا چومتا اسے لئے گرل کے پاس آرکا تھا جب اچانک مس تانیہ کے ساتھ وہ آدھی سوئی آدھی جاگی کیفیت میں باہر نکلی
ایم سوری مسٹر ایام مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ آپ کا کمرہ ہے ۔میں بہت معذرت خواہ ہوں مجھے ٹھیک سے پوچھ لینا چاہیے تھا پہلے ۔میں غلطی سے آپ کے کمرے میں چلی گئی ۔میری وجہ سے آپ کو انتظار کرنے کی زحمت اٹھانی پڑی اس کے لیے میں بہت زیادہ معذرت کرتی ہوں
وہ نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں اور لہجے سے اس سے مخاطب تھی جب کہ وہ بنا اس کی طرف دیکھے صرف ہاں میں سر ہلاتا وہیں سے اپنے کمرے کی طرف پلٹ گیا تھا
میم آپ کی غلطی نہیں ہے شاید مجھے ہی سمجھانے میں کچھ غلطی ہوگئی آپ کا کمرہ یہ ہے سر کے کمرے کے بالکل ساتھ ہی مجھے آپ کو اپنے ساتھ یہاں لے آکر بتانا چاہیے تھا میں وہاں نیچے مصروف ہوگئی تھی اپنے کام میں ۔میں نے بہت ہی غیر جانبداری سے کام لیا ہے
سر بھی اس بات پر ناراض ہو رہے تھے ۔میری وجہ سے آپ کی نیند بھی خراب ہوئی
میں بہت معذرت خواہ ہوں کے آپ کی نیند خراب ہوئی آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی میم پلیز مجھے معاف کر دیجیے گا وہ کافی شرمندہ لگ رہی تھی۔جب کہ وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتی مسکرا دی۔
کوئی بات نہیں آپ اتنی شرمندہ مت ہوں پلیز ہو جاتا ہے کبھی کبھار اب اتنا بڑا گھر ہے تو انسان کنفیوز تو ہو ہی جاتا ہے ۔بلکہ مجھے تو حیرانگی ہے کہ آپ اتنے سارے کمروں کو یاد کیسے رکھ لیتے ہیں ۔اس نے مسکراتے ہوئے اس کی شرمندگی کو ختم کرنا چاہا تھا
اصل میں بات یہ ہے کہ سر کو اور کہیں پر بھی نیند نہیں آتی وہ پورے گھر میں صرف اسی کمرے میں ہی سوتے ہیں
جب ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا یقین مانے سیڑھیاں چڑنا بھی ان کے لئے مشکل ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی سر نےاپنا کمرہ نہیں چھوڑا۔
وہ جیسے تیسے بھی سیڑھیاں چڑھیں وہ اوپر ہی آ کر سوتے تھے اور کہیں وہ سو ہی نہیں پاتے اگر ایسا نہ ہوتا تو میں آپ کو کبھی بھی نہیں جگاتی وہ اب بھی کافی شرمندہ لگ رہی تھی۔
کوئی بات نہیں مس تانیہ آپ نے بہت اچھا کیا جو مجھے جگا دیا ورنہ میری وجہ سے بےکار میں ان کی نیند خراب ہوتی اب آپ بس مجھے میرا کمرہ دکھا دیجئے وہ اس کی شرمندگی کم کرتے ہوئے ذرا سا مسکرائی تھی
تھینک یو سو مچ میم آئیں آپ کا کمرہ یہاں ہے وہ اسے کمرے کے اندر تک لے آئی تھی
وہ مس تانیہ جلد بازی میں اٹھتے ہوئے مجھے یاد نہیں رہاکہ وہاں کے روم میں میری کچھ چیزیں بیڈ کروان پر رکھی تھیں وہ مجھے اٹھانی تھی اٹھنے کے بعد لیکن نیند میں ہونے کی وجہ سے دھیان نہیں گیا
وہ پریشانی سے کہنے لگی تھی
اوکے میم آپ پلیز پریشان مت ہوں۔ جیسے ہی سرکل کمرے سے نکلیں گے میں آپ کی چیزیں لا کر آپ کے حوالے کر دوں گی کیا کچھ تھا پلیز مجھے تفصیل سے بتا دیجئے۔تاکہ میں سب کچھ لے آوؑ۔
جی بس زیادہ کچھ نہیں تھا بس ایک گھڑی میری تسبیح اورمیری ایک نوزپن تھی اصل میں وہ مجھے چب رہی تھی اسی لیے میں نے اتار دی تھی ۔
باقی کچھ ملے یا نہ ملے لیکن وہ نوزپن لازمی مل جانی چاہیے کیونکہ وہ میری شادی کی ۔۔۔۔۔۔
جی میں سمجھ گئی ہوں وہ یقیناً آپ کے ہسبنڈ نے آپ کو تحفے میں دی ہوگی ۔میں سمجھ سکتی ہوں وہ آپ کے لیے کتنی خاض ہو سکتی ہے ۔آپ فکر نہ کریں میں صبح ہوتے ہی آپ کی چیزیں وہاں سے لے آؤں گی
وہ خود سے ہی اندازہ کرتے ہوئے کہنے لگی حالانکہ وہ نوز پن اسے اس کی ساس نے پہنائی تھی لیکن اسے جو بھی اندازہ لگایا وہ بھی ایک طرح سے ٹھیک ٹھاک ہی تھا بس شوہر نے نہیں ساس نے دی تھی
لیکن سسرال کی طرف سے یہ اس کا پہلا تحفہ تھا جس سے وہ گم نہیں کر سکتی تھی
شادی سے فقط دو دن پہلے ہی اس نے اپنی ناک چھدوائی تھی کیونکہ یہ اس کی ساس کا حکم تھا کہ ان کے خاندان کی ہر لڑکی ناک میں بالی لازمی پہنتی ہے ۔ کیونکہ یہ شادی شدہ لڑکی کی نشانی ہوتی ہے
تو ایسے میں یہ اس کے لیے بے حد ضروری ہو گیا تھا اور پھر نکاح کے فورا بعد اس کے ساس نے خود اپنے ہاتھوں سے اس کی ناک میں پہنا دی تھی۔جو اس کے شادی شدہ ہونے کی نشانی تھی۔
اس کے بعد اس نے اتاری تو نہیں تھی لیکن وہ اکثر اسے چبتی تھی کیونکہ ابھی تک اس کی ناک کو شاید اس کی عادت نہیں ہوئی تھی۔تو اکثر سونے سے پہلے اسے اتار کر رکھ لیتی تھی اور جاگ کر دوبارہ پہن بھی لیتی تھی ۔
وہ بس یہ سوچ رہی تھی کہ اس کی ساس اسے نوز پن کے بغیر نہ دیکھ لیں شاید وہ اسے کچھ بھی نہ کہیں لیکن ان کو برا تو ضرور لگ سکتا تھا۔اور وہ کسی کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی