60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon) Episode 5

کھانے کی میز پر ہر طرح کے کھانے پیش کیے گئے تھے وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ وہ کس چیز سے شروع کریں اتنی ساری ویراٹیز کے کھانے تو شاید ہی کسی کے ولیمے پر بھی ملتے ہوگے۔یقینا ان کےلئے اسپیشل اختمام کیا گیا تھا۔یہ لوگ بہت مہمان نواز تھے
یہاں آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی اسے پتہ چلا تھا کہ امی جان بھی یہاں پہلی بار ہی آئی ہوئی تھیں۔ انہیں بھی کوئی خاص اندازہ نہ تھا کہ یہ سب کچھ اتنا زیادہ شاندار ہونے والا ہے۔
انہیں یہ تو معلوم تھا کہ ایام بہت زیادہ زمین و جائیداد کا مالک ہے لیکن یہ سب کچھ انہیں دیکھنے کو آج ہی ملا تھا ۔جبکہ گاڑی میں ان کے حسرت بھرے انداز۔پر اسے لگا تھا کہ وہ یہاں کافی بار آئی ہیں۔اور اس مہمان نوازی کا اندازہ انہیں بھی نہیں تھا یہاں آ کر وہ خود بھی ہکا بکا رہ گئی تھیں۔
امی کیا یہ سب کچھ ہمارے لیے بنایا گیا ہے وہ پریشانی سے انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگی تھی۔
لگتا تو ایسا ہی ہے تم پریشان مت ہو کھانا کھاؤ اور چل کر تھوڑی دیر آرام کر لواس کے بعد ایام شام تک آ جائے گا تو اس سے بھی ملاقات کریں گے باقی جب تک یہاں ہیں ٹھیک سے رہتے ہیں پھر تو ویسے بھی ہمیں واپس چلے جانا ہے۔
سعد کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان نہ ہو اب بس وہ اسے ان سب چیزوں کے بارے میں سوچنے کے لئے منع کر رہی تھیں لیکن وہ کیسے نہ سوچتی
یہ سب کچھ بہت عجیب تھا ان کے لیے
اس نے تو کبھی زندگی میں یہ سب کچھ دیکھا ہی نہیں تھا پتہ نہیں کتنے دن تک انہیں یہاں رہنا تھا
پرتی تاتی اپ یہ تھاو یہ بت یمی اے روی تا فیوٹ اے( پریٹی چاچی آپ یہ کھاؤ یہ بہت یمی ہے یہ روحی کا فیورٹ ہے) وہ نہ جانے کیا اٹھا کر اس کے لبوں کے قریب لے آئی تھی اس کے ننھے ننھے ہاتھوں سے اپنے منہ میں اس چیز کو لے کر بے ساختہ مسکرا دی تھی کیونکہ وہ بہت میٹھا اور مزے دار تھا۔
واؤ یہ تو سچ میں بہت یمی ہے روحی کی چوائس تو کمال کی ہے اس نے مسکراتے ہوئے چٹاچٹ روحی کے دونوں گالوں کو چوما جس پر وہ مسکرا دی تھی
تاتی اپ یہی پل رک داو نا میلے پاش می اپ تو اشی مجےمجے تی ڈش تھانےتو دو دی (چاچی آپ ہمیشہ کے لیے یہیں رک جاؤنہ میرے پاس میں آپ کو روزایسی مزے مزے کی ڈش کھانے کے لیے دیا کرونگی)
وہ اسے بہلانے کی کوشش کر رہی تھی جب کہ اس کے انداز پر مسکرا دی تھی
کیوں بیٹا آپ کی ماں کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟اس نے بے ساختہ ہی پوچھ لیا تھا
مما تیا ہوتا ہے (ماما کیا ہوتا ہے)۔۔؟اس کا انداز معصومیت لیے ہوئے تھا جبکہ اس کے سوال پر وہ پریشان ہو گئی تھی وہ اس کے سوال کا کیا جواب دیں بلا
ارے کیوں بچی کو کنفیوز کر رہی ہو ..ایام نے منع کر رکھا ہے نا تو وہ خود کبھی اس کی ماں کا نام لیتا ہے اور نا ہی اس گھر میں رہنے والے ملازم لیتے ہیں۔
اسی لیے تم بھی یہ ذکر دوبارہ مت کرنا اس کی ساس نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا تھا جبکہ بچی اب تک اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی شاید وہ اس سے جواب کی امید رکھتی تھی جب اچانک کسی کے گھمبیر آواز میں سلام گھونجا۔
اس نے فورا اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا تھا جب کہ پھر روحی بھاگتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی تھی جس کے لئے وہ دونوں باہیں پھیلائے مسکرا رہا تھا
°°°°°°°°
بابا دانی یہ مما تیا ہوتا اے تاتی تہ رہی تی کہ اپ تی ماما تیدھر ہیں۔(بابا جانی یہ مما کیا ہوتا ہے چاچی کہہ رہی تھی کہ آپ کی مما کدھر ہے) ۔اس نے ہیر کا پوچھا ہوا سوال اس کے سامنے دہرایا تو وہ نگاہیں جھکا گئی۔
کیونکہ ابھی ابھی تو اس کی ساس نے اسے منع کیا تھا اسے روحی سے ایسی امید تو ہرگز نہیں تھی۔
بیٹا آپ کی مما ہیں ہی نہیں جیسے آپ کے بابا جانی کی کوئی بہن نہیں ہے تو آپ کی پھوپھو نہی جیسے آپ کے بابا جانی کے بابا نہیں ہیں تو آپ کے دادا نہیں بالکل ویسے ہی آپ کی مما بھی نہیں ہے۔
اس نے اس کی معصومیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سمجھایا تھا اور پھر آ کر امی جان سے ان کا حال چال پوچھنے لگا۔
اللّه کا شکر ہے بیٹا ہم تو خیر خیریت سے یہاں پہنچ آئے ہیں تمہیں سعد نے بتا ہی دیا ہوگا ہم پر آنے والی اس مصیبت کے بارے میں اب تمہیں ہم کیا بتائیں اصل میں وہ ۔۔۔۔
جی چاچی جان لیکن سعد نے تو مجھے بس اتنا ہی بتایا ہے کہ سعد کی مسز علاقہ دیکھنا چاہتی ہے اسی لئے وہ اسے یہاں بھیج رہا ہے اور خود اپنے کام کے سلسلے میں کچھ دن کے لیے باہر جانے والا ہے
اس نے تو مجھے کسی مصیبت یا پریشانی کے بارے میں نہیں بتایا وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولا تھا جب کہ چاچی کی تو آنکھیں پھیل گئیں مطلب ان کے بیٹے نے آدھی ادھوری بات بتا رکھی تھی
ارے ہاں بیٹا اصل میں وہ چلا گیا کام کے سلسلے میں کہیں باہر تو پہلے تو ہم نے سوچا کہ ہم دونوں ماں بیٹی گھر پر ہی رہ لے گی لیکن پھر اس نے کہا کہ اسے علاقہ دیکھنے کا شوق ہے یہی تو دن ہوتے ہیں گھومنے پھرنے کے اس کے شوہر کو تو کوئی ہوش ہی نہیں چلا گیا ہے کام کے چکر میں اس کے لیے بیوی کی کوئی اہمیت نہیں تو میں نے سوچا میں ہی لے آتی ہوں
انہوں نے بڑی مشکل سے بات بناتے ہوئے کہا تھا جس پر وہ سر ہلا کر مسکرا دیا۔
جی جی چاچی جان آپ کا ہی گھر ہے آپ جب تک چاہے یہاں رہ سکتے ہیں نوکر آپ کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہیں گے کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیے گا ۔
میں نے ڈرائیور کو کہہ دیا ہے وہ آپ کو گھمانے لے جائے گا آپ لوگ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں ۔آپ کو یہاں دیکھنے کے لئے بہت سارے تاریخی مقامات ملیں گے یقیناً آپ لوگوں کے لیے کافی لطف اندوز ہوں گے
میں پوری کوشش کروں گا آپ کی مہمان داری کرنے کی لیکن پھر بھی اگر مجھ سے کوئی کمی پیشی ہو جائے تو معاف کر دیجئے گا میں ذرا مصروف ہوں ان دنوں پارٹی کے کاموں میں
اس نے ہیر کی طرف دیکھتے ہوئے کچھ بھی نہیں کہا تھا اس کی ساری باتیں چاچی سے ہی ہو رہی تھی جب کہ وہ سر جھکائے کھانا کھانے میں مصروف صرف اسے سن رہی تھی
اس کا انداز بہت گہرا تھا ایسا لگتا تھا جیسے اس نے زندگی میں بہت سارے امتحانوں کا سامنا کیا ہے جیسے بہت کچھ دیکھا ہے سمجھا ہے جانا ہے ۔اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ زندگی کے ہر پہلو سے واقف ہے
اس کی بیٹی اپنی ماں کے وجود سے بھی واقف نہ تھی جس کا مطلب صاف تھا کہ یقینا اس کی طلاق ہو چکی تھی یا پھر اس کی بیوی اب اس دنیا میں ہی نہیں تھی لیکن اگر وہ مر چکی ہوتی تو کہیں نہ کہیں وہ اس کی یادوں میں زندہ ہوتی اس کے وجود کو ہی اس کی بیٹی اس کی نظروں سے دور کردیا گیا تھا مطلب صاف تھا کہ اس کی طلاق ہو چکی تھی۔
روحی سارا دن یہاں اکیلے گھر پر رہتی ہے کیا ۔۔۔۔۔چاچی جان نے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا
نہیں اکیلے تو نہیں ہوتی چاچی جان سارا دن ملازم اس کے آس پاس ہی ہوتے ہیں اور پھر شام کو میں بھی آ جاتا ہوں میں سوچ رہا ہوں کہ مزید دو تین مہینوں میں اسے کسی اچھے سے سکول میں ایڈمیشن دلوا دوں
مزید تین ماہ میں یہ دو سال کی ہوجائے گی یہی عمر ہے سیکھنے کی سمجھنے کی اور ماشاءاللّه سے یہ بھی بہت اچھی طرح سے اس پر غور کر رہی ہے
روحی میری جان اسکول جانا ہے نا آپ نے وہ اسے گود میں بٹھائے پوچھنے لگا تھا اور اس کے سوال پر اس نے زور زور سے ہاں میں سر ہلایا تھا
یش بابا دانی می اول ٹوئٹی دونو شتول دائیں دے( یس بابا جانی میں اور ٹوئٹی دونوں سکول جائیں گے) اس نے اپنے ہاتھ میں موجود اپنے ٹویٹی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
بس پھر دیکھا آپ نے میری بیٹی تیار ہے سکول جانے کے لیے اس نے اس کے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے ان سے کہا تو وہ مسکرا دی تھیں
جب کہ ہیر مسکرا بھی نا سکی ۔
اتنی چھوٹی سی بچی کو اسکول بھیجنے کے بارے میں وہ سوچ بھی کیسے سکتا تھا وہ بہت چھوٹی سی تھی ابھی اسے سمجھ ہی کیا تھی سکول اتنے چھوٹے بچے کے لئے بوجھ تھا۔
تین ساڑھے تین سال یہ عمر اس کی نظروں میں کسی بھی بچے کو اسکول بھیجنے کے لیے بالکل سہی تھی لیکن دو سال اور وہ دو سال کی بھی نہیں تھی۔
یہ سارا دن سکول کیسے رہے گی انجان لوگوں کے بیچ اسے ابھی وقت چاہیے ۔وہ بولنا نہیں چاہتی تھی لیکن پھر بھی نہ جانے کیسی اس کی زبان میں حرکت ہوئی۔
نہیں انجان لوگ نہیں ہوں گے وہاں مس تانیہ ہوں گی اس نے پیچھے کھڑی ملازمہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو انہیں ان کے روم تک چھوڑ کر آئی تھی اس کے کہنے پروہ مسکرا کر رہ گئی تھی ۔
سکول والے میرا نہیں خیال کہ کسی کو بچے کے ساتھ آنے دیتے ہیں اس نے کنفیوز ہوتے ہوئے کہا تھا ۔
جس سکول میں میری بیٹی جائے گی وہاں اس کے ملازم اس کے ساتھ جائیں گے میں اپنی بیٹی کو کسی دوسرے تیسرے کے آسرے پر نہیں چھوڑ سکتا یہ انہی لوگوں کے ساتھ رہے گی جن کی اسے عادت ہے
وہ بے فکر انداز میں بولا جب کہ اس کی بات کا مطلب وہ سمجھ گئی تھی ۔
وہ اسے کسی ایسے اسکول میں ایڈمیشن دلوانے والا تھا جس میں اس کے ملازم ہر وقت اس کی بچی کے ساتھ رہےں۔
اس نے نوٹ کیا تھا اس گھر کے ملازموں کا رویہ روحی کے ساتھ بھی بہت ہی زیادہ محبت بھرا تھا
یہ لوگ ہر وقت روحی کے آگے پیچھے بھاگتے رہتے تھے ایک لمحے کے لئے بھی اسے اکیلا نہیں چھوڑتے تھے اور اس کی چھوٹی سے چھوٹی بات کو حکم کی طرح مانتے تھے یہ سچ تھا کہ انہیں تنخواہ مل رہی تھی اس کام کے لیے بھی
تاتی اب تو پھلاور دیکے ہیں۔بابا دانی تے گاردن می بت شارے پھلاور ہیں ہم شام تو وہا داتے ہیں۔آئ می آپ تو وہا لےتر تلتی ہو(چاچی آپ کو فلاور دیکھنے ہیں بابا کے گارڈن میں بہت سارے فلاورز ہیں ہم روز شام کو وہاں جاتے ہیں آئیں میں آپ کو وہاں لے کر چلتی ہوں) وہ کھانا کھا کر فارغ ہوئی ہی تھی کہ روحی نے اس کا ہاتھ تھام لیا
اس نے ایک نظر اجازت طلب نظروں سے ایام کی طرف دیکھا تھا جو بظاہر کھانا کھانے میں مصروف تھا لیکن یقینا اسے پتا تھا کہ وہ بنا اجازت کے اس کے گارڈن کی طرف ہرگز نہیں جاسکتی
ہاں آپ اسے لے جائیں لیکن دھیان رکھیے گا کہ روحی کوئی پھول توڑے نا مجھے پھولوں کے مر جانے سے نفرت ہے
اور روحی اکثر پھول توڑ دیتی ہے
روی نی توتی ٹوئٹی توتا اے دندا بتہ (روحی نہیں توڑتی ٹوئٹی توڑتا ہے گندا بچہ )اس نے ساتھ ہی الزام کے ایک زوردار ہاتھ اس کے منہ پر دے مارا تھا
جبکہ اس کے انداز پر وہاں موجود سارے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی تھی بڑی ہوشیاری سے اس نے ٹویٹی پر الزام ڈالتے ہوئے اسے سزا بھی دے دی تھی۔
ہاں میری روحی بہت سمجھ دار ہے وہ کچھ بھی نہیں کرتی ساری غلطی اس ٹوئٹی کی ہے لیکن آپ دھیان رکھیے گا اس نے نام تو نہیں لیا تھا لیکن مخاطب اسے ہی کیا تھا وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر کی طرف لے جانے لگی ۔
جب اسے مس تانیہ اپنے پیچھے آتی نظر آئی تھی یقیناوہ ایک انجان پر بھروسہ نہیں کر سکتا تھا اور اپنی بیٹی سے شاید وہ بہت اچھی طریقے سے واقف تھا۔
سوری سر نے کہا ہے کہ روحی کا ٹویٹی بہت زیادہ شرارتی ہے آپ اس کے ساتھ جائیں اس لیے مجھے آپ کے ساتھ پیچھے آنا پڑا وہ اس کے پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مسکراتے ہوئے بولی تھی۔
جبکہ روحی نے ایک بار پھر سے ٹویٹی کو گھور کر دیکھا تھا جیسے اسے اس کی غلطی کا احساس دلا رہی ہو
°°°°°°°
باغ بےحد خوبصورت تھا یہاں ہر نسل ہر رنگ کے پودے موجود تھےہررنگ کے پھولوں سے بھرے ہوئے اس باغ میں جہاں جہاں نظر دوڑاو وہاں ہر طرح کا پودا اسے نظر آ رہا تھا۔
یہ اتنی خوبصورت جگہ تھی کہ وہ چاہنے کے باوجود اس پر سے نگاہیں نہیں ہٹا پا رہی تھی آج سے پہلے اس نے اتنی خوبصورتی کہیں پر نہیں دیکھی تھی۔
کچھ پودے زمین پر لگے ہوئے تھے جبکہ کچھ بڑے بڑے گملوں میں اور صفائی اس حد تک کی گئی تھی کہ کوئی سوکھا پتہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہا تھا۔
میم یہاں کی صفائی سرخود کرتے ہیں اس طرف ملازموں کا آنا جانا بھی سر نے سختی سے منع کر رکھا ہے سر کو ہرگز پسند نہیں کہ اس طرف کسی کا بھی آنا جانا ہو۔
سر نے الگ الگ ملکوں سے الگ الگ پودے منگوائے ہوئے ہیں یہاں ایک پودا تو اتنا خوبصورت ہے کہ انتہا نہیں لیکن اگر اسے چھو لیا جائے تو وہ مر جاتا ہے۔
اور پھر زندگی میں کبھی بھی نہیں کھلتا وہ پوری طرح سوکھ جاتا ہے ہم بہت دور سے اسے دیکھتے ہیں میرا تو تقریبا یہاں تین دفعہ ہی آنا ہوا میں آج ہی چوتھی دفعہ یہاں آئی ہوں ۔
ہمیشہ باہر سے ہی چلی جاتی تھی لیکن دوسرے ملازموں سے اکثر اس نایاب پودے کے بارے میں سر کی جنونیت کا سنا ہے وہ اتنے دیوانے ہیں اس جگہ کہ کیا بتاؤں اکثر یہاں اکیلے بیٹھتے ہیں۔
اور روحی میڈم کو یہاں آنے کے لئے منع بھی کرتے ہیں لیکن یہ کسی کی نہیں سنتی اور یہاں آ جاتی ہیں شکر ہے خدا کا اب تک ان کی نظر اس پودے پر نہیں پڑی پتہ نہیں سر کتنے میں وہ لے کر آئے ہیں لیکن انفرمیشن کے مطابق ہمیں پتہ چلا تھا کہ وہ پودا سر نے ایک میٹنگ کے بدلے میں لیا تھا کوئی آدمی تھا جو سر سے ملاقات کرنا چاہتا تھا۔
اور اس ملاقات کے بدلے وہ سر کو کچھ بھی دینے کو تیار تھا ۔لیکن سر نے کچھ بھی لینے کے بجائے اسے یہ پودا دینے کی شرط رکھی تھی۔
اور وہ آدمی اتنا زیادہ پریشان ہوگیا تھا کہ اس بات کا جواب اس نے تین ماہ کے بعد دیا تھا تین ماہ کے بعد اس نے اپنے آپ کو یہ پودا دینے کے لیے تیار کیا تھا۔
جہاں تک مجھے پتا ہے اس نسل کے صرف چھ ہی پودے اس دنیا میں ہے جن میں سے ایک پودا سر کے پاس ہے اور سر اس سے بہت زیادہ محبت بھی کرتے ہیں۔
مش تانیہ وہ بالا پودا کون شا اے(مس تانیہ وہ والا پودا کونسا ہے )وہ حیرانگی سے سن رہی تھی جب اسے روحی کی آواز سنائی دی اس کے سیریس انداز نے ان دونوں کو مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا۔
وہ اسے کبھی بھی نہ بتاتی کہ وہ پودا کونسا ہے کیوں کہ روحی کو یہ بات ہرگز پسند نہ تھی کہ اس کا باپ اس سے بڑھ کر کسی اور سے محبت کرے۔
یہ محبت لفظ اسے صرف اپنے نام کے ساتھ پسند تھا اور اس بات کا ان سب کو ہی اندازہ تھا ۔
مجھے بالکل نہیں پتا روحی میم کہ وہ والا پودا کونسا ہے اگر پتہ ہوتا تو آپ کو ضروربتاتی تانیہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا اس کے انداز سے جھوٹ کو وہ صاف پکڑ چکی تھی۔
چلو روحی بیٹا واپس چلتے ہیں وہ روحی کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی تھی اس کا کوئی ارادہ نہ تھا یہاں رہنے کا اصل میں اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں وہ اس پودے کے آس پاس سے گزر ہی نہ جائے۔
وہ ہرگز کسی کا نقصان نہیں کرنا چاہتی تھی اور وہ پودا اس آدمی کے لیے کتنا خاض تھا اس بات کا اسے احساس ہو چکا تھا۔
الے اپ نے تو ابی پھلاور دیکے ہی نی ۔ادل آئے یہ والا پھلاور دیتھیں لیڈ تلر تا(ارے آپ نے تو ابھی فلاورز دیکھے ہی نہیں ادھر آئے یہ والا فلاور دیکھیں ریڈ کلر کا) وہ ایک پرپل کلر کا فلاور اسے دکھاتے ہوئے اسے ریڈ کہہ رہی تھی۔
یہ ریڈ نہیں پرپک کلر کا روز ہے مس تانیہ نے بیچ میں بولتے ہوئے کہا تو روحی نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
سوری میڈم ریڈ کلر کا ہی ہے آئی ایم سوری مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی اس کے گھورنے پر مس تانیہ فورن پیچھے ہٹ گئی
نہیں تانیہ یہ ریڈ نہیں پرپل ہے اور آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔روحی بیٹا ادھر آؤ یہ والا کلر ریڈ ہے اس نے روحی کا ہاتھ تھام کر اسے ایک ریڈ روز کے قریب لا کھڑا کیا تھا۔
اگر کوئی آپ کی غلط چیز کو درست کرتا ہے تو اسے برا نہیں سمجھتے بلکہ اس چیز کو نوٹ کرتے ہیں اور اگلی دفعہ خود کو کچھ غلط کہنے سے روکتے ہیں۔
جب آپ اسکول میں جاؤ گی نہ تو وہاں بہت سارے بچے ہوں گے اور جب ٹیچر آپ سے پوچھے گی نہ کہ پرپل کلر کونسا ہے اور ریڈ کلر کونسا ہے تب آپ کو صحیح بتانا پڑے گا ورنہ کوئی دوسرا بچہ اگر صحیح بتا دے گا تو آپ سے جیت جائے گا۔
اور پھر سب کے سب اس کو ونر بولیں گے۔ اور ٹیچر کہیں گیں روحی کو تو ٹھیک سے کچھ آتا ہی نہیں تو پھر روحی سیڈ ہو جائے گی اسی لیے ہم روحی کو ابھی سے ہی سب ٹھیک ٹھیک بتائیں گے اوکے اب روحی بتائے گی کہ پرپل کلر کونسا ہے اور ریڈ کلر کونسا ہے۔
اس نے بہت محبت سے اسے سمجھاتے ہوئے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا جبکہ اس کی بات کو سمجھتے ہوئے روحی نےاب ٹھیک ٹھیک کلرز کی پہچان کر کے بتائی تھی۔
یہ ہوئی نہ میری شہزادی والی بات اچانک ہی کسی نے روحی کو اس کی گود سے اٹھا لیا تھا آواز وہ پہچانتے ہوئے اپنا دوپٹہ درست کرکے اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
پتا نہیں وہ کب سے یہاں کھڑا انہیں سن رہا تھا
یش بابا دانی روی تو شب پتااے(یس بابا جانی روحی کو سب کچھ پتہ ہے) وہ خوش ہوتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ وہ مسکراتے ہوئے اس سے باتوں میں مصروف ہو گیا اور وہ مس تانیہ کے ساتھ واپس گھر کی طرف آ گئی تھی ۔