60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon ) Episode 44

°°°°°°°
کیا ہوا پریشان کیوں بیٹھی ہوئی ہو تم ۔۔۔۔۔۔؟
تانیہ اس کے لئے چائے بنا کر لائی تو اس سے پوچھنے لگی۔ایام کی سنگت میں اسے بھی چائے پینے کی عادت ہوگئی تھی۔
ایام کو تو ہر دو تین گھنٹے کے بعد چائے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ وہ بھی اس کا ساتھ نبھاۓ۔
زیادہ نہ سہی لیکن تھوڑی بہت وہ ساتھ نبھانے کی کوشش کرتی تھی اب تو ساری زندگی اس شخص کاساتھ قسمت میں لکھ ہی دیا گیا تھا تو وہ بھی پوری ایمانداری سے اس کی پسند کا ہر کام کرنے کی کوشش کرتی تھی۔
تمہیں میری پریشانی کی وجہ بہت اچھے طریقے سے پتہ ہے ۔ تو مجھ سے نہ کچھ بھی مت پوچھو ایام سے بات ہوئے ڈیڑھ گھنٹے سے اوپر کا وقت ہو چکا ہے انہوں نے کہا تھا کہ وہ فلائٹ میں جانے والے ہیں ۔
پتہ نہیں ان کی واپسی کتنی دیر میں لینڈ ہوگئی کتنے گھنٹے لگتے ہیں ویسے آٹھ گھنٹے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا یعنی کہ ابھی بھی ساڑھے چھ گھنٹے باقی ہیں یا اللہ میں روحی کو بہت مس کر رہی ہوں تانیہ وہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بے بسی سے بولی تانیہ مسکرا دی۔
سچ کہوں تو اسے تو میں بھی بہت زیادہ مس کر رہی ہوں پھر تم تو اس کی ماں ہوں تمہارا مس کرنا بنتا بھی ہے۔
اور ویسے اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اس دفعہ میرے لئے گفٹ لے کر آئے گی اگر وہ میرا گفٹ نہیں لائی نا تو تمہاری بیٹی کے ساتھ میری ناراضگی پکی ہے۔
لیکن تمہارا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے کچھ سوچتے ہیں۔
ہاں کیوں نہ ہم باہر گارڈن میں چلتے ہیں بلکہ گارڈن کو بھی چھوڑو چلو اپنے ایریا کی حدوں تک واک کر کے آتے ہیں ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی توہیر کو بھی اس کا آئیڈیا بہت زیادہ پسند آیا تھا ۔
کیونکہ اب باہر تو وہ اکثر ہی ایام اور روحی کے ساتھ جاتی تھی اور اپنے ایریا کی حدود میں کئ دفعہ وہ تانیہ کے ساتھ بھی واک کر کے آئی تھی اسے اب اس جگہ سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا تھا ۔
تمہارا آئیڈیا بہت اچھا ہے اور ہمیں چلنا بھی چاہیے لیکن میری بیٹی سے ناراض مت ہونا وہ بھول جاتی ہے معصوم ہے نا ابھی وہ تانیہ اور روحی کی ناراضگی والی بات سوچ کربولی تھی ۔
اچھا تمہاری بیٹی معصوم ہے اور تمہاری سہیلی معصوم نہیں ہے جو اس کی طرف سے گفٹ کا انتظار کر رہی ہے ۔
ویسے تو وہ میرے لئے بہت خوبصورت گفٹ لائی تھی اور میں روز رات اس ٹیڈی کو اپنے ساتھ سلاتی بھی ہوں۔ لیکن تمہاری بیٹی نے مجھ سے نئے والے گفٹ کا بھی وعدہ کیا ہے جو میں اس سے ضرور لوں گی ۔
وہ اس کے ساتھ ہی اٹھ کر باہر آتے ہوئے اپنے ارادے بتا رہی تھی جب کے ہیر کندھے اچکا کر آگے بڑھ گئی تھی
°°°°°°°
تانیہ میرے خیال میں ہم بہت زیادہ آگے نکل آئے ہیں ہمیں واپس چلنا چاہیے وہ تانیہ کے ساتھ واک کرتے گھر کی حدود سے بہت آگے نکل آئی تھی جو کہ اسے اب پریشان کرنے کی وجہ بن گئی تھی۔
تانیہ نے بھی اس کے چہرے کی پریشانی نوٹ کرتے ہوئے واپس جانا بہتر سمجھا تھا ۔
کیونکہ اب اندھیرا ہو چکا تھا تو اس طرح سے زیادہ دیر باہر رہنا ان دونوں کے لیے بالکل بھی مناسب نہیں تھا ۔
اس طرف آتے ہوئے امجد نے آفر کی تھی کہ وہ گاڑی پر چھوڑ آئے گا لیکن ان دونوں نے کہا کہ وہ بس یہی تک گھوم پھر کر واپس آجائیں گی۔ بس تھوڑی دیر چہل قدمی کرنی ہے ۔
ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے چلو آؤ اب واپس چلتے ہیں کتنا زیادہ اندھیرا ہوگیا ہے ہمیں زیادہ دیر اس طرف نہیں رکنا چاہیے امجد بھائی بھی پریشان ہو رہےہوں گےکہ ہم اتنی دیرسے کہاں ہیں۔
ویسے ہم اتنی دیر لگاتے تو نہیں ہیں نا آج نکلے ہی بہت لیٹ تھے گھر سے شاید اسی لیے باتیں کرتے کرتے پتا ہی نہیں چلا چلو آؤ چلتے ہیں وہ واپس گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس سے بولی تھی توہیر بھی اس کے ساتھ چل دی ۔
انہیں جلدی سے جلدی گھر واپس پہنچنا تھا کیونکہ گھر جاتے ہوئے انہیں مزید اندھیرا ہو جانا تھا وہ تیز تیز قدم اٹھاتی باتیں کرتی واپس جا رہی تھیں جب اچانک دو تین گاڑیاں ان کےآگے پیچھے آ رکی۔
اچانک ان کی کی گئی حرکت کی وجہ سے اس کی چیخ بلند ہوئی تھی ۔وہ اب تک اس سب کو سمجھ ہی نہیں پائی تھی کہ کچھ آدمی تیزی سے گاڑی سے نکلتے ہوئے انہیں گھیرے میں لےچکے تھے۔
ہیر کو اچانک بازو سے پکڑ کر اس نے گاڑی کی طرف کھینچا تھا جبکہ تانیہ کو دھکا مارتے ہوئے اس کے منہ پر کچھ رکھ دیا تھا۔
چھوڑو اسے چھوڑ دو میں کہتی ہوں چھوڑ دو ہیرکو تانیہ اسے خود سے دور کرتے ہوئے دھکے دے رہی تھی جبکہ ہیر کی بھی آوازیں سنائی دے رہی تھی لیکن آہستہ آہستہ اس کا ذہن بند ہوتا چلا گیا ۔
°°°°°°°
ام تب تک پہنتے دے مامادانی تے پاش (ہم کب تک پہنچیں گے ماما جانی کے پاس) ۔۔۔۔؟وہ اس کی گود میں لیٹی اس سے سوال جواب کر رہی تھی کہ وہ لوگ دو دن میں واپس جانے والے تھے ۔دو ہی دن کے اندر اندر ایام نے سب کچھ کر لیا تھا ۔
اور اب وہ روحی کو واپس پاکستان لے جا رہا تھا جس پر روحی بہت خوش تھی کیونکہ وہ واپس اپنی ماما جانی کے پاس جانے والی تھی ۔
ایئرپورٹ آتے وقت تک وہ اس سے باتیں کرتی رہی تھی ویڈیو کال چلتی رہی تھی لیکن جیسے ہی وہ لوگ فلائٹ میں داخل ہوئے اس کی فون کال بند ہو گئی اور اس نے اپنی ماماجانی کو مس کرنا شروع کر دیا ۔
بس بابا کی جان ہم جلدی ہی واپس آپ کی ماما کے پاس پہنچ جائیں گے آپ کے بابا بھی نا آپ کی ماما کو بہت زیادہ مس کر رہے ہیں ۔وہ پیار سے اس کے دونوں گال چومتے ہوئے اپنے دل کی بات بتانے لگا ۔
تو اپ بی ان تو تات شی ہگی ترودے(تو اب بھی ان کو ٹائٹ سی ہگی کرو گے )وہ سوچتے ہوئے بولی ۔
ہاں اگر آپ کرو گی تو میں بھی کروں گا وہ مسکرا کر بولا تھا ۔
می نا ان تو بت جورشے ہگی تروں دی(میں نہ ان کو بہت زور سے ہگی کروں گی) وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی تھی ۔
اور میں بھی اس کو بہت زورسےہگی کروں گا اس نے بھی اس کی کے انداز میں کہا تھا لیکن روحی کو اس کی یہ بات پسند نہیں آئی ۔
نی می اپ شے بی جادا جور شے تروں دی(نہیں میں آپ سے بھی زیادہ زور سےکروں گی) وہ ضدی انداز میں بولی ۔
ہاہاہاہا اوکے میرا بچہ آپ زیادہ زور سے کرلینا وہ اسے خود میں بھیچتے ہوئے ہنستے ہوئے بولا تھا ۔
°°°°°°
تانیہ کو ہوش آیا تو وہ گھر میں باہر صوفے پر لیٹی ہوئی تھی اس نے فورا آنکھیں کھول کر آگے پیچھے دیکھا جہاں امجد اس پر جھکا ہوا تھا جبکہ مس میری اس کے پاس پریشان کھڑی تھی ۔
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے تانیہ آپ کو ہوش تو آیا یہ سب کیا تھا ہیر کہاں ہے ۔ڈاکٹر تھوڑی دیر پہلے ہی آپ کو چیک کرکے گئی ہے ۔
اس کا کہنا ہے کہ آپ کو کوئی نشہ آور پرفیوم سنگھائی گئی ہے۔جس کی وجہ سے آپ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی ۔جب آپ لوگ وقت پر گھر نہیں پہنچی تو میں آپ لوگوں کے پیچھے گیا تھا۔
لیکن تھوڑے آگے فاصلے پر جاکر مجھے صرف آپ ہی زمین پر بے ہوش پڑی نظر آئیں ہیر آپ کے ساتھ نہیں تھی وہاں کیا ہوا تھا تانیہ۔امجد اس سے پوچھ رہا تھا جبکہ اس کا ذہن اب تک عجیب طرح کی کشمکش میں تھا ۔
مجھے نہیں پتہ امجد بھائی مجھے کچھ بھی نہیں پتا وہ میرے ساتھ تھی اچانک کچھ گاڑیاں آکر ہمارے آس پاس رکی اور اس کے بعد ان لوگوں نے مجھے دھکا دے کر میرے منہ پر رومال رکھ دیا۔
وہ ہیر کو اغوا کرکے لے کر جارہے تھے میں نے ان کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن ان لوگوں نے مجھے بے ہوش کر دیا ہیر مجھے بلا رہی تھی وہ ڈر رہی تھی چلا رہی تھی ۔
میں اس کی کوئی مدد نہیں کر سکی وہ مجھ سے مدد مانگ رہی تھی امجد بھائی اور وہ لوگ اسے میرے سامنے سے اٹھا کر لے گئے ۔
مجھے اسے اپنے ساتھ لے کر جانا ہی نہیں چاہیے تھا میں نے بہت بڑی غلطی کر دی یا اللہ ہیر کا کیا ہوگا ۔ہیر کے بارے میں ہمیں کیسے پتہ چلے گا۔۔۔؟
وہ برے طریقے سے رورہی تھی ۔جب مس میری اس کے پاس آ بیٹھیں تو وہ میری کے ساتھ لگ گئی تھی جو کب سے اسے دلاسہ دے رہی تھی۔
تانیہ کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی جب کہ امجد نے سارے گارڈز کو الرٹ کر دیا تھا وہ اسے ہر جگہ پر ڈھونڈنے کے لیے جا چکے تھے ۔
°°°°°°
لڑکی کہاں ہے وقار میں پوچھتا ہوں وہ لڑکی کہاں ہے تم نے کہا تھا کہ تم اسے آج اغوا کرکے میرے پاس لے کر آؤ گے تم نے مجھ سے ایک دن کا وقت مانگا تھا جو میں نے تمہیں دیا تھا۔
تمہارا وقت ختم ہوچکا ہے بتاؤ وہ لڑکی کہاں ہے تم نے اپنا وعدہ کیوں نہیں نبھایا۔
وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا جب کہ وقار سر جھکائے اس کے سامنے کھڑا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کی پلاننگ فیل کیسے ہوگئی ۔
کنگ کے دشمن کو کس طرح سے خبر ہوئی کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔ وہ اس کے ناک کے نیچے سے اس لڑکی کو لے کر چلا گیا اور وہ کچھ بھی نہیں کر پایا اس نے اتنی صفائی سے یہ کام کیا تھا کہ وقار کو خود بھی کچھ پتہ نہ چلا ۔
سر ایم ریلی سوری میں نہیں جانتا یہ سب کچھ کیا ہوگیا مجھے معاف کر دیجیے میں نہیں جانتا تھا کہ مجھ سے اتنی بڑی غلطی ہو جائے گی میں تو ہر چیز کی پلاننگ کر چکا تھا ۔
آج میں نے بہت آسانی سے ہیر کو اغوا کر لینا تھا لیکن مجھ سے پہلے ہی وہاں وہ لوگ آگئے ۔
میرا ارادہ ہیر کو واپسی پر اٹھانے کا تھا کیونکہ مجھے پتا تھا کہ واپسی پر ان لوگوں کو آتے ہوئے اندھیرا ہو جائے گا ۔اور اندھیرے میں میرا کام اور بھی آسان ہو جاتا ۔
لیکن ایسا نہیں ہوا ہیر اور اس کی ملازمہ واپس آئی ہی نہیں۔
میں انہیں دیکھنے کے لئے آگے کی طرف گیا تو مجھے وہاں اس کی وہ ملازمہ بے ہوش پڑی نظر آئی اور پھر سر ان لوگوں نے آپ کو فون کر کے بتا دیا کہ وہ لڑکی ان لوگوں کے پاس ہے۔
وہ سر جھکائے تفصیل سے بتا رہا تھا جبکہ کنگ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے گولی مار دے ۔
ہاں بالکل صحیح کہہ رہے ہو تم وہ لوگ اس لڑکی کو تمہاری ناک کے نیچے سے لے گئے میرے سب سے خاص آدمی کے شکنجے سے وہ میری چیز لے گئے اور میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا یہ تھی تمہاری پلیننگ یہ کرنے والے تھے تم ۔
اگر مجھے اندازہ ہوتا نہ کہ تم اتنے بے وقوف ہو وقار تو میں تمہیں کبھی بھی اپنے ساتھ رکھتا ہی نہیں تم نے کیسے سوچ لیا کہ ہیرکے اس گھر سے باہر نکلنے پر صرف تمہاری ہی نظر ہوگی اور کوئی اس کی تاک میں نہیں بیٹھا ہوگا ۔
اب وہ آدمی مجھے بار بار فون کر رہا ہے میری بے بسی کا مذاق بنا رہا ہے وہ مجھے بار بار بتا رہا ہے کہ اس نے مجھے دھوکا دے دیا اور وہ اس لڑکی کو لے گیا جسے میں اپنے بستر پر چاہتا ہوں ۔وہ غصے سے پاگل ہوتے ہوئے اس پر ڈھار رہا تھا
میرے خیال میں سر اب آپ کو اس لڑکی کا پیچھا چھوڑ دینا چاہیے اب آپ کو اس لڑکی کا کوئی فائدہ نہیں ہے اب وہ ایسی ہرگز نہیں ہے جیسی لڑکی آپ چاہتے تھے ۔
وہ لڑکی اب ماں بننے والی ہے جی سر کل ہی وہ اپنی ملازمہ کے ساتھ پاس کے ہسپتال میں گئ ہوئی تھی میں نے ان کے جانے کے بعد اس لڑکی کی رپورٹس ڈاکٹر سے لے لی تھیں۔
سر آپ کو اس لڑکی کا کوئی فائدہ نہیں ہے وہ آپ کی خواہشات پر پوری نہیں اترتی میرے خیال میں اب آپ کو اسے چھوڑ دینا چاہیے وقار نے اسے سمجھداری کی بات بتائی تھی ۔
نہیں اگر مجھے اس لڑکی کو چھوڑنا ہوتا تو میں اسے اسی دن چھوڑ دیتا جس دن اس نے ایام سکندر سے شادی کی تھی لیکن میں اسے نہیں چھوڑوں گا کیوں کے اس کی شادی کا مطلب یہ تھا کہ وہ ایام سکندر اس لڑکی کا شوہر مجھے ہرا چکا ہے ۔
انڈر ورلڈ کے سب سے خطرناک مجرم کو اس نے چٹکیوں میں بےبس کر دیا اور میں کچھ بھی نہیں کر سکا تم چاہتے ہو کہ میں اس آدمی کے سامنے ہار جاؤں۔
اور اب تو اس کھیل میں اور بھی لوگ شامل ہو چکے ہیں اب اسے میں نے صرف ایام سے نہیں چھیننا بلکہ اپنے دشمنوں سے بھی چھیننا ہے میں اس لڑکی کو حاصل کر کے بتاؤں گا کہ کنگ کو کوئی بھی ہرا نہیں سکتا ۔
ان لوگوں نے اس لڑکی کو اغوا کیا ہے تاکہ وہ میری جگہ لے سکیں وہ مجھے یہ بتا سکیں کہ میں ایک معمولی سی لڑکی کو ان سے چھین نہیں پایا لیکن ان کیڑے مکوڑوں کو میں جلدی ہی اپنے راستے سے ہٹا دوں گا ۔
اور ایام سکندر اسے تو میرے قدموں میں اپنی ناک رگڑ کر مجھ سے معافی مانگنی پڑے گی۔ اتنی آسانی سے میں اسے نہیں چھوڑوں گا اب یہ صرف کنگ کی ہار کا نہیں بلکہ کنگ کی انا کا مسئلہ ہے
اور جب مسئلہ انا پر آجائے تو پھر کنگ اچھے اچھوں کی اکڑ نکال دیتا ہے اور تم بہت جلد ایام سکندر کو میرے جوتوں میں سردیے پاؤ گے وہ اکڑسے بول رہا تھا جبکہ وقار خاموش کھڑا اسے سنتا گیا
°°°°°°°
تانیہ رونا بند کرو میں سر کو فون کرنے کی کوشش کر رہا ہوں دعا کرو کہ اس مسئلے کا حل نکل آئے اور سب لوگ گئے ہوئے ہیں ہیر کو ڈھونڈنے کے لئے ۔
دعا کرو کہ وہ صحیح سلامت مل جائے اسے اغوا کیا گیا ہے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔میں سرایام سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جیسے ہی ان کا موبائل فون آن ہوگا میں انہیں سب کچھ بتا دوں گا ۔
اب ہمیں صرف ان کے آنے کا انتظار کرنا ہوگا وہی بہتر جانتے ہیں کہ اب آگے کیا ہوگا نہ جانے کون لوگ تھے کہاں سے آئے تھے مقصد کیا تھا ان لوگوں کا ہیر کو کیوں اغوا کیا ہے ان لوگوں نے ۔
یہ کام کہیں ان لوگوں کا ہی تو نہیں ہے ۔جن لوگوں نے پہلے ہیر کو اغواء کیا تھا یا پھر اس آدمی کا جو ایام سر کو دھمکیاں دے رہا تھا ۔وہ اندر کمرے میں داخل ہوتے ہوئے تاییہ سے کہنے لگا تھا ۔
مجھے نہیں پتا امجد بھائی مجھے کچھ نہیں پتا پلیز آپ ہیرکو واپس لے آئیں وه روتے ہوئے بولی ۔
گھبراؤ مت گڑیا ہیر کوکچھ نہیں ہو گا میں جتنا جلدی ہو سکے ہیر کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہوں اس کا موبائل فون بھی وہیں پرگر گیا تھا۔
اس کی لوکیشن تک ٹریس نہیں کر پا رہامیں لیکن تم فکر مت کرو پولیس کو خبر کر دی ہے وہ لوگ ایکشن لے چکے ہیں۔
جلد سے جلد ہماری ہیر ہمارے پاس ہوگی ۔میں کسی بھی طرح ایام سر سے رابطہ کر کے انہیں ساری بات بتاتا ہوں بلکہ میں ایئرپورٹ کے لیے نکلتا ہوں ہیرکو غائب ہوئے آٹھ گھنٹے سے زیادہ وقت ہو چکا ہے سرایام پاکستان لینڈ کر چکے ہوں گے۔
مجھے جلدی سے جلدی ایئرپورٹ پہنچ جانا چاہیے وہ بس اتنا کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا جبکہ تانیہ ہیر کی خیریت کی دعا مانگتے پھر سے رونے لگی
°°°°°°°
ایام جیسے روحی کو لے کر آئیرپورٹ کی حدود سے باہر نکلا اس نے ہر طرف نظر دوڑائی تھی لیکن امجد اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا وہ اسے لینے کے لئے نہیں آیا تھا وہ پریشانی سے اپنا فون نکالنے لگا۔
لیکن جیسے ہی اس کا فون آن ہوا اس کے موبائل پر لاتعداد کالز اور میسجز آئے ہوئے تھے ۔جو سب کے سب امجد کے تھے ایک دو غیر ضروری میسجز کو اگنور کرتاوہ امجد کے میسجز کھولنے لگا ۔
امجد نے اسے اتنے سارے میسیج اور کالز کیوں کی تھی حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اس وقت فلائٹ میں ہے ۔جہاں وہ اس سے ہرگز بات نہیں کر سکتا لیکن جیسے جیسے وہ امجد کے میسجز پڑھ رہا تھا اس کا دماغ گھومنے لگا ۔
امجد کے میسجز بہت عجیب سے تھے۔
ہیرنہیں مل رہی ہے سر
ہیر کہیں گم ہو گئی ہے ۔
میں تانیہ اور ہیر کو ڈھونڈنے گیا ہے۔وہاں تانیہ سڑک پر بے ہوش پڑی تھی اس کے آدھے ادھورے میسجز کو ایام سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا ۔
اسے ان سب باتوں میں بس اتنا سمجھ آیا تھا کہ ہیر کو کسی نے اغوا کر لیا ہے ۔
وہ میسج پڑھتا جا رہا تھا جب کہ اس کا دماغ بری طرح سے گھوم رہا تھا اس نے اگلے ہی لمحے امجد کو فون کرنا شروع کردیا جب اسے اچانک ہی وہاں امجد آتا نظر آیا ۔
وہ تیزی سے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا گیا تھا جو چہرے سے ہی بہت زیادہ پریشان لگ رہا تھا ۔
اور امجد نے اس تک پہنچ کر اسے پوری بات بتانا شروع کر دیا تھا امجد نے اسے سب کچھ بتا دیا تھا شام سے لے کر اب تک جو کچھ بھی ہوا تھا اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا اور ہیر تقریبا پانچ بجے سے غائب تھی
°°°°°°