60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon)Episode 43

°°°°°°°
زندگی واپس اپنے معمول پر آ چکی تھی۔ سب کچھ بہت اچھے سے چلنے لگا تھا ۔وہ دونوں اپنی زندگی میں پرسکون ایک دوسرے کی ہم سفری میں وقت گزار رہے تھے۔
اور ان کی اس خوبصورت زندگی کو مزید خوبصورت بنانے کے لئے روحی ان کے ساتھ تھی۔ٹینشن ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ایلا اب بھی اسے بلیک میل کر رہی تھی لیکن ہیر کو اس نے کچھ بھی نہیں پتہ چلنے دیا تھا ۔
وہ ہیر کےسامنے ان سب باتوں کا ذکر نہیں کرتا تھا جبکہ اسے اتنا خوش اور پر سکون دیکھ کر ہیرنےبھی واپس اس ٹاپک کو دوبارہ نہیں چھیڑا تھا
انہیں لندن سے واپس آئے یہ دوسرا ہفتہ تھا جب ایام کو اپنے کسی آدمی کا فون آیا اور اسے پتہ چلا کہ جس آدمی کے بارے میں وہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا ۔اس آدمی کے بارے میں پتہ چل چکا ہے ۔
اب ایام کو اس سے بات کرنی تھی جس کے لیے اسے اس آدمی سے ملنے جانا تھا فی الحال وہ اپنی زندگی میں اتنا خوش تھا کہ اس کا کہیں جانے کا ارادہ نہیں تھا لیکن روحی کی خاطر اسے جانا تھا ۔
ایلا اسے مسلسل بلیک میل کر رہی تھی اس کی ڈیمانڈ اب بھی وہی تھی ۔وہ اس سے شادی کرنے کی خواہش مند تھی اور وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ایلا جیسی لڑکی کو وہ اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی وہ اپنی بیٹی کو اس عورت کے حوالے کر سکتا تھا ۔
اسے روحی ہمیشہ اپنے ساتھ چاہیے تھی وہ روحی کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔ایلا نے ہزار طرح کی چال چلی تھی اب ایام کی باری تھی وہ اس بار اس قصے کو بہت اطمینان سے ختم کرنے والا تھا ۔
ایلا جانتی بھی نہیں تھی کہ وہ کیا کرنے والا ہے وہ ایلا کو اسی کے جال میں پھنسانے والا تھا اس نے اس دفعہ اپنے دماغ کا استعمال کیا تھا اور وہ جانتا تھا کہ وہ اس عورت کو کس طرح سے بے بس کرے گا۔
ایلا جو گیم اس کے ساتھ کھیلنے والی تھی وہ اسے اسی کے کھیل میں ہرانے والا تھا اسے اسی کے کھیل میں پھنسا کر اور اس کھیل کو اسی کے انداز میں کھیلنے والا تھا ۔
کیونکہ دھوکہ باز کو دھوکے سے ہی مارا جانا ہے۔
°°°°°
کیسی ظالم بیوی ہو تم ایک دفعہ نہیں کہہ رہی ایام مت جائیں میں آپ کو مس کروں گی مجھے آپ کی بہت یاد آئے گی ۔
میں اتنے دن آپ کے بنا کیسے رہوں گی۔مجال ہے جو محبت کا ایک میٹھا لفظ بھی بولا ہو تم نے۔۔۔۔۔”
ارے آپ اداس مت ہوں بتائیں کیا کہنا ہے ۔میں ابھی کہہ دیتی ہوں میں آپ کو بہت مس کروں گی آپ کو بہت یاد کروں گی جلدی واپس آئیے گا وہ مسکراتے ہوئے اس سے بولنے لگی تھی ۔جو اس کے کندھے پر سر رکھے ناراضگی بھرے انداز میں اسے سن رہا تھا ۔
چپ کرجاو کتنا بناوٹی بول رہی ہوصاف لگ رہا ہے میں گن پوائنٹ پر بلوا رہا ہوں تم نے کچھ بھی نہیں کہنا بلکہ میرے جانے کی خوشی میں پیکنگ کرتی رہو مجھ سے جان چھڑوا رہی ہو نا وہ شکی ہوا
ایسا تو نہیں ہےایام وہ یقین دلانے لگی۔لیکن وہ اب بھی خفا خفا لگ رہا تھا اسےکل ہی پتہ چلا تھا کہ وہ لندن جآنے والا ہے
پہلے اسے یہ لگا تھا کہ وہ اکیلا جائیگا لیکن اچانک اس نے کہہ دیا کہ وہ روحی کو بھی ساتھ لے کر جانے والا ہے ان دونوں کے جانے کی خبر سن کر وہ کافی پریشان ہو گئی تھی اسے ان کی عادت ہو چکی تھی یہ اس کے لیے بہت مشکل تھا۔
روحی خود بھی یہ سوچ کر بالکل بھی خوش نہیں تھی کہ وہ اپنی ماماجانی کے بنا جارہی ہے ایام کا کہنا تھا کہ ہیر کو بھی ساتھ لے کر جائے گا لیکن ہیر نے خود ہی منع کر دیا ۔
ایام صرف تین سے چار دن کے لیے وہاں جانے والا تھا اور اس کا سارا وقت ان قانونی کارروائیوں میں ہی نکل جانا تھا اس دفعہ وہ روحی کو ہمیشہ کے لئے ان سب جھمیلوں سے نکالنا چاہتا تھا جس کے لیے اس نے اس دفعہ لیگل طریقے سے روحی کو اپنی کسٹڈی میں لینے کا سوچا تھا ۔
وہاں ہیر کا کوئی کام نہیں تھا۔وہ چاہتا تھا کہ وہ اس کے ساتھ جائے تاکہ وہ روحی کا خیال رکھ سکے لیکن روحی کا زیادہ وقت بھی ایام کے ساتھ ہی گزرنے والا تھا۔ایام کے لئے روحی کو سنبھالنا ہرگز مشکل نہیں تھا کیونکہ وہ اکثر ہی اسے اپنے ساتھ غیر ملک لے کر جاتا رہتا تھا وہ اپنی بیٹی کو خود سے دور کبھی بھی نہیں کرتا یہاں تک کہ اس کی کتنی ساری میٹنگ تواسنے روحی کے ساتھ اٹینڈ کی تھیں ۔
اس لیے وہ روحی کی طرف سے بالکل بھی بےفکر تھی
اور ویسے بھی پچھلے کچھ دنوں سے وہ کافی زیادہ بیمار تھی ۔ایام نے بھی نوٹ کیا تھا کہ وہ دو تین دن سے کافی سست رہنے لگی تھی ایام مسلسل اسے کہہ رہا تھا کہ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جائے گا ڈاکٹر خود ہی آ کر اسے چیک کرے گا لیکن وہ ہر بار اسے منع کر دیتی
کیونکہ سچ تو یہ تھا کہ وہ اپنی خراب طبیعت کے پیچھے کی وجہ کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ رہی تھی لیکن فی الحال ایام سے کچھ بھی شئیر نہیں کر پا رہی تھی کہ اسے اس وقت ایام سے بہت زیادہ شرم محسوس ہو رہی تھی
اس نے اپنا شک تانیہ کے ساتھ شیئر کیا تو تانیہ نے اسے یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ ایام کو اس بارے میں بتا دے ۔پچھلے تین دن سے وہ اپنی طبیعت میں بہت سے چینج محسوس کر رہی تھی اور کل اس نے ارادہ کرلیا تھا کہ وہ ایام کو بتائے گی
لیکن اچانک سے ایام نے آ کر اسے بتایا کہ تین دن کےلیے جا رہا ہے تو اس نے سوچا کہ جب روحی کی طرف سے سارا مسئلہ حل ہوجائے گا تو وہ ایام کو یہ خوشخبری سنائے گئی ۔کیوں کہ ایام خود بھی بہت بے چینی سے اس گڈ نیوز کا انتظار کر رہا تھا
آپ مجھ سے ناراض تو مت ہونا میں آپ کو بہت زیادہ یاد کروں گی اور ویسے بھی آپ کونسا بہت سارے دن کے لیے جانے والے ہیں ۔بس تین دن کے اندر اندر ہی آپ نے اپنا کام ختم کر کے واپس آ جانا ہے اور ان تین دنوں میں میں آپ کو بہت زیادہ مس کرنے کی کوشش کروں گی اگر میری نیند پوری ہوگئی تو ۔
وہ اس کا موڈ خوشگوار کرنے کے لئے ذرا شرارتی سے انداز میں بولی تو ایام نے اسے گھور کر دیکھا تھا
تم کہنا کیا چاہتی ہو کہ میں تمہیں تمہاری نیند پوری نہیں کرنے دیتا حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تم خود ہی مجھے ساری رات سونے نہیں دیتی ۔
پرسوں رات کو اچانک تم نے مجھے جگا دیا ۔وہ اب اس پر الزام لگاتے ہوئے بولا تو ہیر ترپ اٹھی
کیا میں نے کہا ہے آپ کو میں تو واش روم جا رہی تھی آپ خود ہی جن کی طرح اٹھ کر مجھ پر قابض ہوگئے ۔اور ویسے بھی آپ کو نہ صرف بہانہ چاہیے ہوتا ہے اور مجھ پر تو آپ الزام نہ لگائے تو ہی آپ کے لیے بہتر رہے گا وہ اسے فورا آئینہ دکھاتے ہوئے بولی ۔
ہاں بھئی تم تو نیک پروین ہو دنیا کی ساری غلطیاں تو میں کرتا ہوں ۔
تم تو کوئی غلطی کرتی ہی نہیں ہو۔وہ منہ بناتے ہوئے کھاجانے والے انداز میں بولا ۔
حقیقت یہ تھی کہ وہ اس سے بہت زیادہ خفا تھا اس کے نہ ساتھ چلنے پر اس کے اتنے منتیں کرنے کے بعد بھی جب ہیر کی نا ہاں میں نہ بدلی تو وہ بہانے بہانے سے اس سے لڑنے لگ جاتا تھا شاید نہیں یقینا اس کی طرف سے بے قراری چاہتا تھا وہ چاہتا تھا کہ وہ بھی اس کے پیار میں پاگل ہو کر بار بار اسے فون کرے اسے محبت بھرے میسج سینڈ کرے ۔
لیکن وہ اس سے نا امید تھا وہ جانتا تھا کہ وہ اسے اپنی جتنی بے قراریاں بے چینیاں دکھاتا ہے وہ اتنے ہی نخرے کرتی ہے ۔ہاں وہ اس کی بے شمار محبتوں کی اکلوتی حقدار تھی نکھرے تو بنتے تھے اس کے ۔اب توہیر اس کی زندگی میں اپنی اہمیت بھی سمجھ چکی تھی ۔
تبھی تو اسے موقع مل گیا تھا وہ اسے خوب تنگ کرتی تھی وہ کبھی بھی کھل کر اس کے سامنے اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتی تھی اب تک تو اس نے ایک دفعہ بھی ایام کو اپنی محبت کا یقین نہیں دلایا تھا ۔
جب کہ وہ تو اس کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبا ہوا تھا ۔اور اس وقت بھی وہ اپنے انداز سے اسے بتا رہا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہم ہے وہ اس کے کپڑے پیک کر رہی تھی جب کہ ایام اسے اپنی باہوں میں قید کیے کبھی اس کے کانوں میں سرگوشیاں کرتا تو کبھی اپنے لبوں کا لمس اس کی گردن پر چھوڑتا ۔
ایام پلیز پیچھے ہٹیں نا مجھے میرا کام کرنے دیں بہت کام ہے وہ پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر اس وقت اس نے ایام کو خود سے الگ کیا تو وہ اس سے سخت خفا ہو جائے گا ۔
کیا مطلب ہے تمہارا لڑکی شوہر سے زیادہ یہ سب اہم ہے تمہارے لئے وہ بنا بات اس سے لڑنے لگا ۔
ہرگز نہیں سرتاج معاف فرمادیجئے غلطی ہوگئی آپ کی کنیز سے اگر آپ کی اجازت ہو تو کیا میں یہ کپڑے پیک کر دوں وہ معذرت خواہانہ انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔تو ایام نے اس کا رخ اپنی طرف کر کے اس کے ہاتھ اپنے سینے پر دل کے مقام پر رکھ لئے ۔
ہیرر تم کنیز نہیں ملکہ ہو اس دل کی ۔تمہارا حکم سر آنکھوں پر لیکن تم سے دور جا رہا ہوں نا تھوڑا سا تو پیار محبت دکھاؤ تھوڑی سی تو اہمیت دو یہاں تمہارے پیار میں ایک انسان دیوانہ ہوا بیٹھا ہے اور تم ہو کے اپنے ان فضول کاموں میں لگی ہوئی ہو تمہیں یہ وقت میرے ساتھ وقت گزارنا چاہیے ۔
اللہ اللہ خیر سے تین چار سال کے لیے نہیں صرف تین چار دن کے لیے جا رہے ہیں آپ تو میرا نہیں خیال کہ آپ کا اتنا جذباتی ہونا بنتا ہے ۔
مہربانی فرما کر آپ نہ اس ٹرپ کو اتنا دل پر مت لیں اور پلیز روحی کا بہت سارا خیال رکھیے گا ۔
ویسے تو میں ہر وقت آپ کے ساتھ رابطے میں رہوں گی لیکن پھر بھی آپ روحی پر اس ڈائن کی نظر بھی مت پڑھنے دیجئے گا کیا پتا میری پیاری سی بیٹی پر دل نہ آ جائے ۔اس کے اندر خالض ماں کا ڈر بول رہا تھا وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا ۔
میں جتنے دن کے لیے بھی جاؤں تم بس اپنا فرض نبھاوبیوی تمہارے حق میں بہتر رہے گا وہ اس کا چہرہ تھام کر اس پر جھک گیا تھا جبکہ ہیر کو کوئی بھی بہانہ بنانے کا موقع ہی نہ ملا ویسے بھی وہ اس کی جسارتوں اور شدتوں سے کہاں بچ پاتی تھی ۔
ایام سکندر سراپاَ عشق تھا اور وہ اس کی عاشقی تھی ۔جیسے وہ ہر قیمت پر اپنے ساتھ اپنے قریب چاہتا تھا اس کی ڈیمڈ غلط تو نہ تھی وہ اس پر اتنا حق تو رکھتا ہی تھا کہ اپنی بیوی سے اس کا ساتھ مانگ سکے ۔
°°°°°°
وہ لوگ رات کے تقریباً گیارہ بجے نکلے تھے روحی سوچکی تھی وہ اسے کندھے پر اٹھائے آ کر گاڑی میں بیٹھا تھا ان کی فلائٹ ڈیڑھ بجے کی تھی ۔امجد اسے چھوڑنے کے لئے جا رہا تھا جبکہ ہیر اسے بہت ساری ہدایات دے رہی تھی
ہیر اسے چھوڑنے کے لیے ائیر پورٹ تک آنا چاہتی تھی لیکن رات کا سفر ہونے کی وجہ سے ایام نے اسے سختی سے منع کردیا تھا اس نے کہا تھا کہ وہ ایئرپورٹ پہنچتے ہی اسے فون کرے گا لیکن اسے اتنی رات کو کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
لیکن وہ دروازے تک انہیں چھوڑنے کے لئے آئی تھی تانیہ نے اگلے تین دن تک رات اسی کے پاس رکنا تھا ۔اسی لئے وہ بھی اس کے ساتھ ہی تھی۔روحی کو خود سے دور کرتے ہوئے اس کا دل بہت بے چین ہو رہا تھا شاید ماں کا دل ہوتا ہی ایسا ہی ہے جو اپنی اولاد کے بنا نہیں رہ سکتا ۔
لیکن ایام نے اسے یقین دلایا تھا کہ اس دفعہ پھر روحی کو اپنے ساتھ واپس لے کر آئے گا تو وہ ہر طرح کا ڈر خوف پیچھے چھوڑ آئے گا کوئی بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا وہ ایلا کے منہ پر اسی کی چال مارنے جا رہا ہے ۔
وہ ایلا کواسی کے گیم میں پھنسانے والا ہے ایلا اس کے بعد اس کی بیٹی پر کسی طرح کا کوئی حق نہیں جتا پائے گی یہ ایام کا دعوی تھا تانیہ نے اسے اندر چلنے کے لیے کہا لیکن جب تک ایام کی گاڑی اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی اس نے گھر کے اندر کی طرف قدم نہیں برھائے تھے ۔
گھرکے اندر اور باہر سکیورٹی بہت ٹائیٹ تھی ۔لیکن اس کے باوجود بھی کوئی تھا جو اس کے ایک ایک قدم پر نظر رکھے ہوئے تھا اور وہ یہ بھی جان چکا تھا کہ گھر کے اندر کیا ہو رہا ہے ۔
°°°°°°
تم سچ کہہ رہے ہو نہ وہ ایام سکندر پاکستان میں نہیں ہے نہ کب تک گیا ہے اور اس کی واپسی کب تک ہوگی مقصد کیا ہے اس کا جانے کا مجھے بتاؤ کنگ بے قراری سے پوچھنے لگا ۔
سر اس دن میں آپ کو یہی بات بتانے والا تھا ایام سکندر کی بیٹی کی کسٹڈی کا کوئی مسئلہ چل رہا ہے اور وہ مسئلہ حل کرکے تین چار دن میں واپس آنے والا ہے ۔
یہ بہترین موقع ہے اس لڑکی کو اس گھر سے باہر نکالنے کا سمجھ لیجئے آپ کے پاس آخری موقع ہے اگر ہم اس دفعہ اس لڑکی کو ایام سے دور نہ کر پائے تو شاید آگے اور بھی مشکل ہو جائے گی ۔
کیونکہ اگر اس کی بیٹی کی کسٹڈی کا مسئلہ حل ہوگیا تو اس کا سارا دھیان اپنے گھر اور فیملی کی طرف آ جائے گا ۔
اور آگے الیکشن سٹارٹ ہونے والے ہیں تو مسائل مزید بڑھ جائیں گے ایام سکندر ہر وقت لوگوں میں گھیرا ہوا ہو گا تو ایسے میں اس کی بیوی کو ہم اغواء نہیں کر سکتے ۔
ہمارے پاس آخری موقع ہے ہمیں اسی میں کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا ۔وہ سکون سے اپنی بات کر رہا تھا جب کہ کنگ کا تو سکون ہی تباہ ہو گیا تھا ۔
ٹھیک ہے اگر یہ آخری موقع ہے تو ہم اسی میں سب کچھ کر لیں گے میں بس اسے ہرآنا چاہتا ہوں اسے اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھ سے اپنی عزت کی بھیک مانگے اور میں اسے ٹھکرا دوں۔
اور تمہیں میری مدد کرنی پڑے گی وقار تمہیں پتا ہے میرے دشمنوں کی بھی نظر ہے اس لڑکی پر ۔نہ تو میں ایام سکندر کو خود سے جیتنے دے سکتا ہوں اور نہ ہی ان لوگوں کو جو میری ہار کا انتظار کر رہے ہیں۔
جی سر آپ فکر نہ کریں میں آپ کے ساتھ ہوں ہر قدم پر آپ جیسا کہیں گے ویسا ہی ہوگا ایام کے آنے سے پہلے پہلے ہم اس لڑکی کو ایام سے بہت دور کر دیں گے جہاں وہ کبھی بھی اس تک پہنچ نہیں پائے گا ۔
آپ مجھے صرف ایک دن کا وقت دیں میں آپ کو ناراض نہیں کروں گا دیکھیے گا کہ اس دفعہ میں کیا کرتا ہوں اس دفعہ وہ لڑکی آپ تک ضرور آئے گی وہ پورے یقین سے بول رہا تھا جبکہ کنگ کو اس پر یقین تھا ۔
ٹھیک ہے دیا تمیں ایک دن کا وقت لیکن یاد رکھنا وقار اس دفعہ میں ناکامی کا منہ نا دیکھوں وہ کہہ کر فون بند کر چکا تھا جبکہ وقار ایام پیلس کے باہر کھڑا اپنے اگلے قدم کا انتظار کرنے لگا ۔
°°°°°°°
ایام آج کورٹ آیا ہوا تھا وہ ہیر سے مسلسل رابطے میں تھا کیونکہ روحی اسے دیکھے بنا ایک پل بھی نہیں رہ پا رہی تھی یہ اس کی اپنی سگی ماں سے دوسری ملاقات تھی پہلی ملاقات میں تو اس نے اسے منہ ہی نہیں لگایا تھا وہ ایام کے کندھے سے ہی چپکی دوسری طرف منہ کرکے لگی رہی۔
وہاں کچھ لوگوں نے اسے بتانے کی کوشش کی تھی کہ ایلا اس کی ماں ہے ۔لیکن اس نے دھیان نہ دیا ۔کیونکہ وہ اپنی ماں کو پاکستان چھوڑ کر آئی ہوئی تھی
ایام ایلا کو جواب دے چکا تھا کہ وہ اس سے شادی ہرگز نہیں کرے گا اور نہ ہی اب وہ اپنی بیٹی کے نام پر اسے ایک پھوٹی کوڑی دے گا اور اس کے انکار پر ایلا نے فورا اس پر کیس کر دیا تھا ۔
جس کی وجہ سے ایام کو فورا کورٹ میں حاضری دینے کا حکم جاری کیا گیا تھا اور وہ اگلے ہی دن اپنی بیٹی کو لے کر وہاں پہنچ گیا تھا ۔
اور آج ایلا اپنی اور اپنے بوائے فرینڈ کی ڈی این اے رپورٹ لے کر آئی تھی تاکہ وہ ثابت کر سکے کہ وہ اس کی بیٹی ہے اور ایام سکندر نے اسے پیدا ہوتے ہی کڈنیپ کیا ہے اگر ایام سکندر اسے کوئی فائدہ ہی نہیں دے سکتا تھا تو وہ اس کی بیٹی اسے کیوں دے ۔
اسے خود تو روحی کی ضرورت کبھی محسوس ہی نہیں ہوئی تھی لیکن وہ ایام سے بھی اسے دور کر دینے کا ارادہ رکھتی تھی ۔
لیکن ایام سکندر الٹا اس پر بھاری پڑا تھا اس نے اپنے آفس میں موجود سی سی ٹی وی کیمرے کے پیچھے تمام ریکارڈنگ سیو رکھی ہوئی تھی جو یقینا اس کے لندن والے آفس کے سٹاف کی ہی کرم نوازی تھی ۔
اس فوٹج سے ثابت ہوچکا تھا کہ ایلا نے اس کے ساتھ ڈیل کی تھی جس کے کاغذات بھی اس کے پاس موجود تھے یہاں تک کہ بینک کے ٹرانسفرمیشن انفارمیشن بھی اب تک اس کے پاس تھی ۔
ایلا کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایام کے پاس اس طرح کی کوئی چیز موجود ہو سکتی ہے یہ بات تقریبا ڈھائی تین سال پرانی تھی لیکن اس کے باوجود بھی ایلا اپنے ہی جال میں بری طرح سے پھنس چکی تھی ۔
قانون نے ایام کو اس بات کے لئے کافی اپریشیٹ کیا تھا کہ اس نے ایک عورت کو اس کے بچے کو قتل کرنے کا حق نہیں دیا بے شک اس نے یہ سب کچھ پیسے دے کر ہی کیا تھا لیکن اس کی نیت غلط نہیں تھی وہ بس ایک ایسی جان کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا جو ابھی تک دنیا میں بھی نہیں آئی تھی ۔
اس کے لئے اس نے ایک بچے کو خریدا تھا اور لندن میں بچے کی خرید و فروخت بہت بڑا جرم تھا جس کی سزا ایام کو جرمانے کے طور پر ملی تھی جسے وہ قبول کر چکا تھا
۔لیکن اسے خوشی اس بات کی تھی کہ اس کی بیٹی کو اس سے کوئی بھی جدا نہیں کر سکتا جبکہ ایلا کے بوائے فرینڈ نے بھی ایام کا ہی ساتھ دیا تھا ۔
ایلا کے بوائے فرینڈ نے کورٹ میں آکر سچائی بیان کی تھی کہ وہ ایلا کے کہنے پر اس کا ساتھ دینے والا تھا لیکن جب اسے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی جس کی اسے خبر بھی نہیں بھی ایام سے اتنی زیادہ محبت کرتی ہے تو اس نے ایلا کا ساتھ دینے سے صاف انکار کردیا ۔
اور پاکستان آنے سے پہلے اسے مائیکل نے ہی فون کیا تھا اس سے کہا تھا کہ وہ لندن آجائے وہ ایام کا ساتھ دے گا ۔
ایلا کا نہیں بس ایام کورٹ میں آکر سچائی بیان کردے باقی ایام سے وہ اس کی بیٹی الگ نہیں ہونے دے گا اور ایام اس کے بھروسے پر ہی تو یہاں تک آیا تھا ۔ایلا تو جانتی بھی نہیں تھی کہ اس کا بوائے فرینڈ اس کا ساتھ دینے کو تیار ہی نہیں ہے
وہ صرف ایک بار روحی سے ملنا چاہتا تھا بے شک اس کے لیے اس کے دل میں کوئی جذبات نہیں تھے لیکن اس کے دل میں ایک لمحے کے لیے یہ سوچ آئی تھی کہروحی اس کی اولاد ہے ۔
لیکن یہ الگ بات ہے کہ روحی نے اسے بھی منہ نہیں لگایا تھا وہ ایام کے علاوہ کسی سے بات نہیں کر رہی تھی ۔جبکہ یہ انگریز تو اسے بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا اس سے زیادہ باتیں تو اس نے اپنے ٹوئٹی سے کی تھیں ۔جب کے ایام سچ میں اس کا شکر گزار تھا جس نے عین وقت پر ایلا جیسی خودغرض اور مطلبی لڑکی کے بجائے ایام کا ساتھ دیا تھا
°°°°°