Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junoon )Episode 42
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junoon )Episode 42
°°°°°°°
ہیر نے سوچا تھا کہ وہ ایام سے اس آدمی کے بارے میں بات کرے گی اور اسے بتائے گی کہ اسے اس آدمی پر شک ہے۔
لیکن وہ ایسا نہیں کر پائی تھی۔ کیونکہ وہ آدمی نہ تو دوبارہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور نہ ہی اسے ایسا محسوس ہوا تھا کہ وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
بلکہ وہ آدمی تو اپنے ہی آپ میں مگن تھا شاید تنہا تھا اسے لئے ہر طرف نظر دوڈا رہا تھا لیکن ہیر کا شک اب ختم ہو چکا تھا ۔
کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ایام فریش ہونے کے لیے واش روم گیا تو اس کا سارا دھیان اسی آدمی پر تھا ۔
جو صرف اور صرف اپنے آپ میں ہی مگن تھا اس نے ایک بار بھی پیچھے کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا تھا ۔ہیر سمجھ چکی تھی کہ یہ سب کچھ صرف اس کی غلط فہمی ہے اور کچھ بھی نہیں وہ غلط فہمی کا شکار تھی۔
وہ نجانے اس آدمی کے بارے میں کیا کیا سوچتی تھی کہ اگر اس آدمی کو پتہ چل جاتا تو وہ سچ میں شرمندہ ہو جاتی ۔
°°°°°°°
سفر بہت خوبصورت رہا تھا آخر دنیا کے دوسرے کونے سے ہو کر آنے کے بعد وہ دوبارہ سے اپنے ملک کی سرزمین پر قدم رکھ چکے تھے۔
” ہم محب وطن بھی کمال ہوتے ہیں ہمیں اور کسی جگہ وہ سکون نہیں ملتا جو سکون اپنی سرزمین پر ملتا ہے “
اس وقت ایسا ہی سکون ایام اپنے اندر محسوس کر رہا تھا کہنے کو اس نے اپنی ساری زندگی غیر ملک میں گزاری تھی ۔اسے یہاں آئے بہت کم وقت ہوا تھا لیکن پھر بھی جو سکون اسے اپنے ملک میں ملتا تھا وہ کہیں بھی میسر نہ تھا ۔
یہاں پر اسے اپنی زندگی خوبصورت لگتی تھی پرسکون لگتی تھی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنوں میں ہے۔
ان لوگوں نے فلائٹ سے آ کر جیسے ہی ایئرپورٹ آوٹڈرو میں قدم رکھا تو ایام نے نظر دوڑائی تھی جہاں اسے کہیں سے امجد نظر آجائے آج وہی اسے لینے کے لئے آنے والا تھا۔
لیکن تانیہ کو دیکھ کر جہاں ہیر خوش ہوتی ہوئی اس کی طرف بڑھ رہی تھی وہیں ایام کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
جبکہ روحی نے تانیہ کو بہت خوش دلی سے گال پر کس کیا تھا کیونکہ وہ ویڈیو کال پر اکثر اس سے بات کرتی رہی تھی وہ اس سے ملتے ہوئے کافی خوش تھی لیکن امجد کو پوری طرح سے بھلا چکی تھی ۔
جس کا امجد کو کافی افسوس تھا فقط ایک مہینے میں ہی امجد اس کی میموری سے کہیں غائب ہو چکا تھا لیکن کوئی بات نہیں ۔وہ جلد ہی اسے پھر سے پہچاننے لگےگی
آخر ایام کو پک ڈراپ کرنے کی سروس اسی کی تھی اور روحی کو تو ویسے بھی آئسکریم کیلئے باہر جانے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے ۔
پہلےپہلے تو وہ خود ہی اس کے پاس آکر اس سے بہت باتیں کرتی تھی اور اسے آئس کریم کھلانے پر کشی بھی دیتی تھی لیکن اب چونکہ وہ اسے بھلا چکی تھی تو اسے یاد آنے میں تھوڑا وقت درکار تھا
°°°°°°
سر وہ لوگ واپس آ چکے ہیں میں نے آپ کو وہاں ان کے ایک ایک لمحے کی تصویریں بھجوا دی ہیں۔ میں ہر وقت ان کے پیچھے ہی رہا ہوں۔
پہلے ان لوگوں نے ایک ہفتے تک مانچسٹر میں قیام کیا اور اس کے بعد وہ لوگ لندن میں چلے گئے۔وہاں بھی وہ ایک ہفتے تک رہے اور اب پاکستان واپس آ چکے ہیں۔
لیکن سر مجھے ایک ایسی بات پتہ چلی ہے جو آپ کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے ۔وہ تجسس بھرے انداز میں بتانے لگا۔
لندن میں’ میں آپ سے رابطہ اسی وجہ سے نہیں کر پایا کیونکہ میں اس چیز کے بارے میں سب کچھ پتہ کر رہا تھا اور آج ہی میری واپسی ہوئی ہے ۔
لیکن میں ساری انفارمیشن لے کر آیا ہوں۔سر ایام کی جو بیٹی ہے اس کے بارے میں مجھے ایک بہت بڑا راز پتہ چلا ہے ۔جسے جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے ۔وہ بہت رازدارانہ انداز میں بول رہا تھا لیکن اسے دوسری طرف سے کوئی دلچسپی محسوس نہ ہوئی
نہیں وقار ایام کو چھوڑو اس آدمی اور اس کی بیٹی کے بارے میں کچھ بھی جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اگر مجھے کچھ جاننا ہے تو صرف اتنا کہ تم اس لڑکی کو کس طرح سے وہاں سے غائب کرو گے ۔
مجھے وہ لڑکی چاہے۔تم اسے کنگ کے بستر تک کیسے لاوگے میں نے تمہیں اس وقت منع کیا تھا کہ ہم اس لڑکی کی شادی نہیں ہونے دیں گے لیکن تم نے اپنے دماغ کا استعمال کرکے پہلے اس سعد سے اس کی شادی کروا دی اور پھر اس سے طلاق کے بعد وہ دوسری شادی بھی کر چکی ہے اور میں اب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہوں ۔
میں نے آج تک کبھی کسی لڑکی کا اتنا انتظار نہیں کیا وہ ایام سکندر کے ساتھ اپنی زندگی سکون سے گزار رہی ہے اور میں یہاں اس کے لیے بےقرار بیٹھا ہوں
وہ ایام سکندر مجھے چیلنج کر رہا ہے کہ میں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا وہ مجھے کہہ رہا ہے کہ میں اس کے آگے ہار گیا ۔میں یعنی کنگ ہار گیا تم جانتے ہو نا وقار کنگ کبھی کسی کے سامنے نہیں ہارتا
آج وہ لڑکی میرے پاس نہیں ہے صرف تمہاری وجہ سے صرف تمہارے دماغ کا استعمال کرنے کی وجہ سے میں اسے حاصل نہیں کر پایا اور اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اسے مجھ تک کیسے لاتے ہو یہ بات یاد رکھنا تم۔ وقار
مجھے وہ لڑکی چاہیے کسی بھی قیمت پر ایام سے یا اس کی بیٹی سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی میں ان لوگوں کے بارے میں کچھ بھی جاننا چاہتا ہوں مجھے صرف اس لڑکی سےمطلب ہے ۔
جو مجھے ہر قیمت پر چاہیے اب جب تک وہ لڑکی میرے بستر پر نہیں آتی مجھے سکون نہیں ملے گا ۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے پہلے میں ایام سکندر کو ہرانا چاہتا ہوں میں اسے اپنے سامنے بے بس کرنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں وہ میرے سامنے بھیک مانگے اب اس لڑکی کے حصول سے کہیں زیادہ میرے لیے اہم ایام سکندر کی ہار ہے
۔ایک عام سا آدمی اتنی آسانی سے میرے ناک کے نیچے سےمیری ہی چیز کو لے گیا اور میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا کچھ نہیں کر سکا میں ۔
اسی لئے اب اس آدمی کو لگ رہا ہے کہ وہ مجھے ہرا چکا ہے میں اس پر ثابت کروں گا کہ کنگ کو کوئی نہیں ہرا سکتا اس کی بیوی کو اپنی رکھیل بنا کر میں ساری زندگی اپنے پاس رکھوں گا ۔
اور وہ مجھ سے اس کی عزت کی بھیک مانگے گا میں اسے اس کے قابل نہیں رہنے دوں گا ۔میں ایام سکندر کی عزت کو بیچ چڑھائے پر لٹکا دوں گا ۔وہ روے گا اور میں اس کی بے بسی پر اپنی جیت کا جشن مناؤں گا پھر پتہ چلے گااسے کہ کنگ کیا ہے اور اس سے پنگا لینا کتنا مہنگا پڑسکتا ہے
وہ لڑکی اب میرے کام کی نہیں رہی لیکن اب وہ لڑکی رہے گی ہمیشہ میرے پاس کیونکہ وہ کنگ کی ہار کی وجہ بنی ہے ۔
اسے ساری زندگی اپنی رکھیل بناکر میں ایام سکندر پر ثابت کروں گا کہ کنگ کو کوئی بھی نہیں ہرا سکتا میں اس پر ثابت کروں گا کہ میری چیز مجھ سے چھین کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے وہ ساری زندگی ایام سکندر کے نکاح میں رہے گی لیکن میرے بستر پر ۔
وہ بولے جا رہا تھا جبکہ دوسری طرف وقار خاموش ہو گیا تھا اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ اس آدمی کو ایام سکندر کی کسی بات سے کوئی دلچسپی نہیں اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ راز اس کے لیے کتنا فائدہ مند ہو سکتا ہے اسے صرف اور صرف ہیر کو اپنے بستر کی زینت بنانا تھا اور کچھ بھی نہیں ۔
ٹھیک ہے سر میں آپ کو انفارمیشن دیتا ہوں ۔
ایام آپ کی طرف سے بے فکر ہو چکا ہے۔وہ اپنی بیوی اور اپنی بیٹی کو ہائی سکیورٹی میں نہیں رکھ رہا اسے جو ڈر تھا وہ اس کے دماغ سے نکل چکا ہے کہ آپ اسے کوئی نقصان پہنچائیں گے ۔
اب وہ اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ آپ نے اپنے رستے بدل لیے ہیں ۔اور یہ بہترین وقت ہے اسے بتانے کا کہ آپ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔میں جلد ہی آپ کو ایک اچھی خبر سناؤں گا ۔اس نے بس اتنا کہہ کر فون بند کر دیا تھا
جبکہ کنگ اپنے اگلے وار کا انتظار کر رہا تھا ۔ہیراس کے لیے اہمیت رکھتی تھی وہ ہیر کو اپنی زندگی میں لانا چاہتا تھا لیکن اب اس کے لیے سب سے اہم تھا ایام سکندر کو بتانا کہ کنگ کیا چیز ہے۔
اس کے ساتھ پنگا لے کر زندگی کی بہت بڑی غلطی کی ہے ۔
وہ اسے بے بس کر دینا چاہتا تھا اتنا بے بس کے وہ کنگ کے سامنے پھڑپھڑابھی نہ سکے وہ اسے ہر کسی کی نظروں میں گرا دینا چاہتا تھا وہ اس پر ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس کی بیوی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے اور وہ کنگ کے خلاف کچھ بھی نہیں ۔
وہ اسے ایسی شکست سے دوچار کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس کے سامنے نظربھی نا اٹھا سکے ۔اسے ایام سکندر کا بےخوف انداز برا نہیں لگا تھا ۔
بلکہ وہ ایام سکندر کی بے خوفی پر جل کر راکھ ہو گیا تھا۔وہ اسے اپنے قدموں میں لانا چاہتا تھا ۔جس کے لیے وہ اپنا اگلا قدم جلد سے جلد اٹھانے والا تھا جس کا ایام کو وہم و گمان بھی نہ تھا
°°°°°°°
وہ گھر پہنچے تو تانیہ اور میری ہر چیز تیار کر چکی تھیں وہ صبح سے ان کے واپس آنے کا انتظار کر رہے تھے .ایام کو آج پہلی بار محسوس ہوا کہ امجد مس میری اور مس تانیہ صرف ان کے ورکرز نہیں ہیں بلکہ ان کی فیملی کا حصہ ہیں۔ جو ان لوگوں کو اپنی فیملی سمجھتے ہیں ۔
وہ تانیہ امجد اور مس میری کو ہر ماہ ایک اچھی انکم دے رہا تھا اور یہی سوچتا آیا تھا۔وہ لوگ اس کے ساتھ صرف اپنا کام کر رہے ہیں لیکن آج اسے ایسا محسوس ہوا کہ وہ لوگ صرف اپنا کام نہیں کر رہے بلکہ ان کے جذبات بھی ان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔
آج گھر میں قدم رکھتے ہی اسے پہلی بار ایسا محسوس ہوا کہ وہ اپنے گھر میں ہی نہیں بلکہ ایک ہنستے کھیلتے گھرانے میں قدم رکھ رہا ہے ۔
اور یہ سب کچھ ممکن ہو سکا تھا صرف ہیر کی وجہ سے جو ہر انسان کو اپنے ساتھ جوڑ لیتی تھی۔ اتنے کم وقت میں تانیہ کے ساتھ اس کی اتنی اچھی فرینڈ شپ ہو گئی تھی اور مس میری کے ساتھ بھی وہ بہت اچھا رشتہ بنائے ہوئی تھی۔
وہ مس میری سے اپنے کسی بھی کام کے لئے بہت محبت اور احترام سے مشورہ لیتی تھی جیسے وہ اس کی بڑی بہن ہوں۔جو اس کے لیے بہتر ہی فیصلہ کریں گی ہیر کا یہ انداز اسےبہت اچھا لگتا تھا ۔اتنے وقت میں اس نے اپنے ورکرز کو اتنا نہیں سمجھا تھا جتنا ہیر انہیں سمجھنے لگی تھی۔
امجد کو وہ اپنا بھائی کہتی تھی اور شاید اس کا یہ بھائی اس بھائی سے بہتر تھا جسے وہ سعودیہ میں چھوڑ کر آیا تھا ۔
ہیر ان سب کے لئے بہت خوبصورت تحفے لے کر آئی تھی اور ایام نے اس چیز پر بھی زیادہ دھیان نہیں دیا تھا لیکن ہیر نے بہت محبت سے ان سب کے لیے تحفےخریدے تھے ۔
جنہیں دیکھ کر ان سب نے بہت خوشی سے اس کے تحفوں کو قبول کیا تھا ۔اسے افسوس ہو رہا تھا کہ وہ ہر دو تین مہینوں کے بعد کہیں نہ کہیں جاتا تھا لیکن اس نے کبھی کسی کے لیے کچھ بھی نہیں خریدا تھا ۔
لیکن اب اسے فکر نہ تھی کیونکہ یہ سارے کام کرنے کے لئے ہیرآچکی تھی نہ وہ اب اسے مزید کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دے گی
کپڑے جوتوں کے علاوہ وہ ان کے لئے وہاں سے ہر تاریخی مقام سے کوئی نہ کوئی چیز بھی لے کر آئی تھی جو وہ اب ان لوگوں کو دے رہی تھی جبکہ روحی بھی تانیہ کے لیے اپنی طرف سے گفٹ لے کر آئی تھی۔
جس میں ایک بہت خوبصورت چھوٹا سا ٹیڈی تھا ۔اور اس کی مرضی کے عین مطابق تانیہ کو اس کےگفٹ پر بہت خوش ہونا تھا جو کہ وہ ہو رہی تھی ۔
حالانکہ تانیہ کی ٹیڈی کے ساتھ کھیلنے والی عمر گزر چکی تھی ۔لیکن پھر بھی یہ گفٹ تو اس کی پیاری سی روحی میڈم لے کر آئی تھی ۔لیکن میری اور امجد کے لئے وہ کچھ بھی نہیں لے کر آئی تھی
۔جس پر وہ دونوں ناراض شکل بنائے اسے دیکھ رہے تھے لیکن اس نے ان دونوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جب اگلی دفعہ جائے گی تو ان دونوں کے لئے لے کر آئے گی ۔
جس پر ان لوگوں کو بھی کچھ تسلی ہوئی تھی ورنہ وہ تو ان دونوں کو ہی انجان نظروں سے دیکھ رہی تھی بالکل پہچان میں نہیں آرہے تھے یہ دونوں اس کی ۔
°°°°°°°
کہاں رہ گئی یہ محترمہ کمرے میں تو تشریف لائے مجھے تو لگتا ہے کہ آج اس نے کمرے میں آنا ہی نہیں ہے۔
وه روحی کو سلا چکا تھا جبکہ اب اس کے کمرے میں آنے کا انتظار کر رہا تھا لیکن وہ تو نجانے کیا کیا کر رہی تھی ۔
ابھی تک تانیہ بھی یہی پر تھی تھوڑی دیر پہلے امجد نے کہا تھا کہ وہ تانیہ کو چھوڑنے کے لئے جائے گا لیکن اب تک اسے گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز نہیں آئی تھی ۔
پتا نہیں اس نے کمرے میں کب آنا تھا اب تو اسے بھی ہلکی ہلکی نیند آنا شروع ہو گئی تھی ۔لیکن آج اس کی بیوی کہاں پھنس گئی تھی
۔اس کا دل چاہا کہ وہ نیچے جا کر ایک بار دیکھ آئے کہ ابھی تک وہ مس میری اور تانیہ سے فارغ ہوئی کہ نہیں لیکن پھر یہ سوچ کر کے آنا تو اسےاسی کمرے میں ہے وہ صبر کاکڑوا گونٹ پی کر اس کا انتظار کرنے لگا ۔
°°°°°°°
شکر ہے خدا کا محترمہ کمرے میں تشریف تو لائی۔ ورنہ آج تو میں اپنی بیوی کی شکل دیکھنے سے بھی محروم ہو گیا تھا ۔
یہ کیا طریقہ ہے بیوی اپنے شوہر کے ساتھ کوئی ایسا کرتا ہے یہاں پچھلے دو گھنٹوں سے روحی کو سلا کر میں تمہارے آنے کا انتظار کر رہا ہوں اور تم ابھی تشریف لا رہی ہو
بےوفا ظالم انتہائی نکمی بیوی مجھے اس طرح سے انتظار کروا کر کونسا تمغہ حاصل کیا ہے تم نے دکھاؤ مجھے ۔میرا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا تم سے بات کرنے کا بلکہ میں تو پکا ناراض ہونے والا تھا تم سے ۔
لیکن پھر کیا کروں تمہاری معصوم شکل دیکھ کر مجھے تم پر ترس آجاتا ہے مجھے منانا تمہارے بس سے بھی تو باہر ہےنا اتنا تو شرماتی ہو تم کہ میں تم سے رومینٹک انداز میں خود کو منانے کی فرمائش بھی نہیں کروا سکتا ۔
وہ اس کے کمرے میں قدم رکھتے ہی اس کی طرف آتے ہوئے ایک جھٹکے میں اپنے قریب کرتا اس کے دونوں گالوں پر چٹاچٹ بوسہ دیتا اپنے ہی انداز میں شروع ہو چکا تھا ۔
صبر صبر صبر یہ آپ کیا ود آؤٹ بریک شروع ہو گئے ہیں ۔اتنے دنوں سے میں آپ کے ساتھ ہی تو تھی نا اگر آج تھوڑا سا وقت میں نے اپنی بہنوں کے ساتھ گزار لیا تو کیسے آگ لگ گئی ہے جناب کو اور میں کیوں مناؤں گی آپ کو رومینٹک انداز میں۔
بلکہ آپ مجھ سے ناراض ہی کیوں ہوں گے خبردار جو منہ بنا کر بیٹھے اتنے دنوں سے آپ کے ساتھ ہی تھی اور آپ کی یہ سڑی ہوئی شکل اتنے دنوں سے دیکھ کافی بوریت محسوس کر رہی ہوں
مجھے فریش شکلیں دیکھ کر اپنا موڈ بھی فریش کرنا تھا وہ نخرے دکھاتی ہوئے شیشے پر سے لوشن اٹھا کر اپنے پیروں کی مساج کرنے لگی ہیں ۔
یہ ایام کی توجہ ہی تھی جوہیر کو اپنا آپ نکھارنے پر مجبور کرتی تھی ۔وہ پوری توجہ سے کبھی اپنے پیروں پر لوشن لگاتی تو کبھی اپنے ہاتھ کومساج کرتی جب کہ وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ اس کی ایک ایک حرکت کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔
اتنی محنت کر رہی ہو ۔۔۔۔یقینا اس کا اخراج تو ضرور وصول کرو گی میں دینے کو تیار ہوں ہوں دل و جان سےوہ اس کے ہاتھوں کی حرکت کو دیکھتے بہکے بہکے انداز میں بولا ۔
مجھے کچھ نہیں چاہئے جناب میں اپنی ایک بھرپور نیند لینا چاہتی ہوں وہ مزے سے کہتی لوشن واپس اپنی جگہ پر رکھتی بیڈ پر آ کر لیٹنے لگی تھی جب اچانک ایام نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا ۔
نہ جانے من اتنی محنت کی ہے تو میں تمہیں کیسے بےمراد لوٹنے دوں میں تو تمہارے ساتھ اتنی بڑی ناانصافی ہرگز نہیں کر سکتا اس کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے وہ پوری طرح بہکتے ہوئے بولا تھا ۔
سامنے والے کو اگر اخراج کی ضرورت نہ ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا شدت سے بھرا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتی وہ اس کے سینے پر انگلی چلاتے ہوئے بولی ۔
تو بھی تمہارے معاملے میں بالکل بھی ناانصافی نہیں کر سکتا وہ مسکراتے ہوئے اس کے ہونٹوں کوقید کرتا اس کی بولتی بند کر گیا تھا اور اس کے بعد وہ اسے ساری رات اپنے انداز میں سراہتا رہا۔
محبتوں کے معاملے میں تو وہ خزانے رکھتا تھا ۔اس کے پاس محبتوں کا سمندر تھا جو وہ ہر وقت اس پر نثار کرنے کے لیے تیار رہتا تھا ۔اس وقت بھی وہ اپنے جذبات کا سمندر اس پر نچاور کرتا جا رہا تھا اورہیر بس اس کے انداز میں کوئی خود کو دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی محسوس کر رہی تھی
°°°°°°°
