60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon )Episode 41

°°°°°°°
تو آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا ایام۔ ۔ ۔ ؟
اگر وہ آپ کی بیٹی نہیں ہے تو وہ سب کچھ کیوں کہہ رہے تھے رات کو۔۔۔۔۔۔ وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
ہیرسچ مچ میں اس کی اس حرکت پر غصہ ہو گئی تھی وہ اسے جھوٹ کیوں بول رہا تھا ۔
کیوں کہ میں تمہارا ری ایکشن جاننا چاہتا تھا ہیر میں اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ میری خاطر شاید تم روحی کو قبول کر لو گی ۔
لیکن نا جائز اولاد کے لیے تمہارے دل میں گنجائش نکالنا ہو سکتا ہے مشکل ہو جائے اسی لئے میں نے یہی سوچا تھا کہ میں تم سے روحی کو اپنی بیٹی بنا کر ہی متعارف کروا دوں گا ۔میں یہ راز تم سے بھی چھپانا چاہتا تھا
لیکن بے شک تم بہت اعلی ظرف ہو تم نے اسے میری بیٹی کے طور پر نہیں بلکہ اپنی بیٹی کے طور پر قبول کیا ہے اور اب مجھے کوئی ڈر نہیں ہے تم بے شک سب کچھ جان جاؤ بس میری بیٹی کو قبول کرو اسے تمہاری محبت چاہیے ۔
میری بیٹی کو ماں کی ضرورت تھی اور الحمد اللہ’اللہ پاک کا بہت کرم ہے کہ میری بیٹی کو ایک ماں ملی ہے ۔
تم سچ میں اس کی ماں ہوہیر تم سچ مچ میں اس سے محبت کرتی ہو اور یقین مانو میری زندگی میں اس سے زیادہ اور بڑی کوئی خوشی نہیں ہو سکتی ۔
میں تمہارا شکرگزار ہوں کہ تم نے میری بیٹی کو قبول کر لیا میری بیٹی کو تمہاری ضرورت ہے تمہاری جیسی ماں کی ضرورت ہےاس دنیا میں کوئی بھی تمہاری جگہ نہیں لے سکتا ہیر ۔
اسی لیے میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا میں تم سے کچھ چھپا نہیں سکتا میری زندگی میں تم میری پہلی اور آخری محبت بن کر آئی ہو۔
اور تم سچ میں محبت کے لائق ہو۔مجھے تم سے محبت اسی دن ہو گئی تھی جب میں نے تمہیں دیکھا لیکن روحی سے تمہاری محبت دیکھ کر مجھے اپنی چوائس پر فخر محسوس ہو رہا ہے ۔
بہت شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے تم نے میری زندگی کو خوشیوں سے بھر دیا ہے وہ آہستہ سے اسے تھام کر اپنے سینے میں چھپا چکا تھا ۔
جبکہ وہ جو نجانے کیا کیا پوچھنا چاہتی تھی نہ جانےاس سے کون کون سی باتیں کرنا چاہتی تھی اس کے الفاظ پر خاموش ہو گئی وہ اس کے سینے سے لگے اس کے دل کی دھڑکنوں کو سن رہی تھی ۔
وہ جانتی تھی کہ حالات بہت مشکل ہونے والے ہیں ۔
نجانے ایام ان سب چیزوں کو کس طرح سے ہینڈل کرے گا نہ جانے کیسے وہ روحی کی زندگی سے مشکلات کو ختم کرے گا لیکن وہ ایک مضبوط سائبان تھا جو خود سے جڑے رشتوں کی حفاظت کرنا جانتا تھا ۔
روحی کے بارے میں اسے کوئی ڈاوٹ نہ رہا تھا روحی کون تھی کیا تھی اسے فرق نہیں پڑتا تھا وہ اس کی بیٹی تھی اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہنے والی تھی اس کے لئے بس اتنا ہی کافی تھا ۔
°°°°°°°
یہ تو بہت خوبصورت جگہ ہے مجھے یہاں آ کر بہت خوشی ہوئی ایام
آج یہاں آئے چھٹا دن تھا کہنے کو سب کچھ پر سکون تھا لیکن دل کے اندر ایک ڈر تھا جو ان دونوں کو پریشان کر رہا تھا ۔
ایام کو مسلسل فون آرہے تھے جنہیں وہ اگنور کر رہا تھا ۔اس نے کہا تھا کہ وہ اپنے طریقے سے ان ساری چیزوں کو ہینڈل کرے گا اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں لیکن وہ چاہ کر بھی اپنی پریشانی کو ختم نہیں کر پا رہی تھی یہاں سوال ان کی بیٹی کا تھا جسے وہ خود سے الگ نہیں کر سکتے تھے ۔
روحی تو بہت خوش تھی اپنی ہی مستی میں لگی کبھی ادھر کبھی ادھر جا رہی تھی جب ہیرکو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی انہیں دیکھ رہا ہے ۔
یہاں آنے کے بعد اسے ایسا کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا اسی لئے وہ بالکل بے فکر ہو چکی تھی۔ وہ۔سکون سے ہرطرف نکلتی تھی ۔ہرطرف گھومتی تھی لیکن آج پھر سے یہ احساس دل میں ڈر جگا گیا تھا۔
اس نے آگے پیچھے ہر طرف مڑ کر دیکھا لیکن کوئی بھی اسے نظر نہ آیا دھیان ایک دفعہ پھر سے سامنے روحی اور ایام کی طرف چلا گیا ۔
°°°°°°°
روحی اسے اپنا ٹوینٹی دیتے ہوئے کوئی چیز مانگ رہی تھی یعنی کہ زور و شور سے رشوت کا کام چل رہا تھا ۔
ویسے وہ سوچتی تھی کہ روحی کا ٹوئٹی اس کا بیٹا ہونے کی وجہ سے کافی فائدے اٹھاتا ہے کبھی وہ اس کے ساتھ ایک ملک تو کبھی دوسرے ملک جاتا ہے۔
کیونکہ اس کے بنا تو روحی کا گزارہ ہی نہیں تھا اور جب روحی اپنے مطلب پر آتی تھی سب سے پہلے رشوت کے طور پر اسی کو ایام کے حوالے کرتی تھی۔ بیچارہ اپنی ماں کی وجہ سے ہزاروں بار داؤ پر لگ چکا تھا ۔
اور ایام ہر بار اسے اس سے لے لیتا لیکن رات ہوتے ہی وہ اسے واپس کر دیتا تھا کیونکہ وہ یہ بھول چکی ہوتی تھی کہ وہ اس کے بدلے کچھ اور لے چکی ہے۔
اس وقت بھی روحی ایام کو لالچ دے رہی تھی اور اس کے بدلے اپنا سب سے قیمتی خزانہ یعنی اپنا بیٹا ٹوئٹی اس کے حوالے کر رہی تھی ۔ایام پوری طرح سے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بالآخر مان ہی گیا تھا ۔
اس کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی کیونکہ اس کی بیٹی نے اپنے باپ سے ایک نہیں بلکہ دو دو آئس کریم کی فرمائش کی تھی۔
ایک اپنے لئے اور ایک ہیر کے لیے بے شک اس نے یہ آئسکریم اپنے بیٹےکو بیچ کر حاصل کی تھی ۔لیکن اپنی ماں کے لیے وہ آئسکریم لے آئی تھی ابھی تھوڑی دیر پہلے کی بات تھی جب راستے میں اس پارک کی طرف آتے ہوئے اس نے آئسکریم کھائی تھی ۔
ایام اسے ہر چیز ایک لمٹ میں ہی دیتا تھا لیکن ٹوئٹی کے لالچ میں آکر اس نےروحی کی بات مان لی تھی ۔کیونکہ اسے ٹویٹی جیسا پیارا بیٹا چاہیے تھا ۔
اور اب وہ دونوں سامنے والے شوپ سے دو آئسکریم لے کر آئے تھے جو اس نے خوشی خوشی ایک اس کے حوالے کر دی تھی ۔
اور ایک خود بیٹھ کر کھانے لگی تھی جبکہ ایام اپنے ہاتھ میں موجود ٹوئٹی کو اپنے سینے سے لگائے چپ کروا رہا تھا کیونکہ بقول روحی کے وہ اپنی ماں سے دور ہوتے ہی رونے لگ گیا تھا ۔
روحی کو اس کا احساس کرنا تھا لیکن 10 منٹ کے بعد جب وہ آئسکریم کھا کر فارغ ہو جائے گی تب ۔
جب کہ ایام کو یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ اس کی ماما کی آئسکریم ختم ہوتے ہوتے کہیں ٹوئٹی اپنا ڈائپر نہ گندا کر دے ۔
°°°°°°°
کل وہ لوگ واپس جا رہے تھے ایام آج بھی تھوڑی دیر کے لیے کہیں باہر گیا تھا اور اس کی واپسی بھی جلدی ہو گئی تھی ۔
اسے پتا تھا کہ وہ روحی کی وجہ سے ہی کہیں گیا ہوا تھا فلحال تو وہ یہاں کے وکیلوں سے مل رہا تھا تاکہ وہ اپنے کیس کو مضبوط بنا سکے ۔
لیکن یہاں پر کچھ بھی آسان نہیں تھا ۔ایلا نے جو جال بچھایا تھا وہ کاٹنا ایام کے لیے بہت مشکل ہوتا جا رہا تھا ۔ایلا نے اسے دھمکی دی تھی کہ وہ اس پر اپنی بیٹی کے کڈنیپ ہونے کا کیس کرے گی ۔
ایلاجانتی تھی کہ وہ کبھی بھی روحی کو رسک میں نہیں ڈال سکتا اگر اس نے یہ کہہ دیا کہ ایلا نے اپنی بیٹی کو اس کے ہاتھوں بیچا تھا تو روحی گورنمنٹ کے حوالے کر دی جائے گی ۔
اور پھر شاید اسے کبھی روحی سے ملنے کا موقع بھی نہ ملے وہ سب کچھ باہر ہینڈل کرنا چاہتا تھا لیکن ایلا کی شرط بھی وہ نہیں مان سکتا تھا ۔
یہ اس کے لئے مشکل نہیں ناممکن تھا وہ ایلا جیسی لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کرکے اپنی زندگی کو مشکل نہیں بنا سکتا تھا ایلااس سے کیا چاہتی تھی یہ تو وہ سمجھ چکا تھا ۔
لیکن وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس سب میں ایلانے مائیکل کو کیا لالچ دیا ہے اس وقت تو وہ مائیکل کو ڈھونڈ رہا تھا تاکہ وہ اس سے مل سکے اور اسے ایلاسےبہتر آفر دے کر اپنا کام نکلوا سکے۔
اسے یقین تھا مائیکل جس طرح کا انسان تھا وہ اسے آسانی سے اپنی باتوں میں پھنسا سکتا تھا وہ اس سے اپنا فائدہ اٹھا سکتا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ اب تک خود مائیکل سے ملا ہوا نہیں تھا ۔
اور نہ ہی اسے کبھی مائیکل کو دیکھا تھا ۔یہ تو تب کی بات تھی جب روحی پیدا ہوئی تھی اور روحی کو خون کی شدید ضرورت تھی اس وقت ڈاکٹر نے کہا تھا کہ روحی کو صرف اس کے باپ کاخون لگتا ہے ۔
ایام تو اپنی بیٹی کے لئے جان دے سکتا تھا تو وہ خون سے کیسے انکار کرتا لیکن جب اس کا خون لیا گیا تو وہ روحی سے میچ ہی نہیں ہوا تب جا کر اس کے ڈی این اے ٹیسٹ ہوئے تو اسے پتہ چلا کہ وہ اس کی بیٹی ہی نہیں ۔
اس وقت اسے بہت غصہ آیا تھا اور ایلا نے اس بات کو قبول کر لیا تھا کہ اس رات ان دونوں میں کچھ بھی نہیں ہوا تھا بلکہ ایام اس نشے میں دھت ہوتے ہی ہوش حواس سے بیگانہ ہو گیا
وہ بے ہوش ہو چکا تھا اسے ساری رات ہوش نہ آیا ایلا نے اس کی ڈرنک میں جو نشہ ملایا تھا وہ بہت زیادہ سٹرونگ تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی ۔
لیکن تبھی اس کی زندگی میں مائیکل نامی آدمی آ گیا تھا ایام سے پیچھا چھڑا کر وہ مائیکل کے ساتھ اپنی زندگی میں مگن ہو گئی تھی لیکن ان لوگوں کا ریلیشن شپ زیادہ دن تک چل نہیں سکا اور مائیکل نے ایک آدھ مہینے میں ہی اس سے بریک اپ کر لیا ۔
ایلا پریگنٹ تھی اور وہ یہ بچہ بالکل بھی نہیں چاہتی تھی اس وقت اسے کوئی بھی ایسا انسان نہیں مل رہا تھا جس کی مدد سے وہ ابورشن کروا سکے ۔
اس لیے اس نے ایک بار پھر سے ایام سے مدد لینے کے بارے میں سوچا وہ ایام کے پاس آئی اور اس سے کہہ دیا کہ اس کا بچہ ہے۔وہ جو پہلے ہی اپنے ضمیر کی ملامت میں قید تھا اس کے بات پر پورا ایمان لے آیا اور اس بات کو قبول کر لیا کہ ایلا کی کوکھ میں اسی کا بچہ پل رہا ہے ۔
ایلا نے جب اسے یہ بتایا کہ وہ ابورشن کروانا چاہتی ہے اور اسے پیپر پر اس کے سائن کی ضرورت ہے تو اس نے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ اتنا بڑا گناہ نہیں کر سکتا تھا وہ ایلااور اپنے رشتے کو جائز بنانا چاہتا تھا۔
اس نے اسے شادی کے لئے بھی آفر کر دی تھی لیکن اس وقت ایلا کی سوچ یہ تھی کہ وہ ایک مسلمان مرد کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتی ہے جو اسے دوسری سانس بھی نہ لینے دے ۔
اس نے شادی سے صاف انکار کردیا یہاں تک کہ وہ بچہ بھی نہیں رکھنا چاہتی تھی لیکن ایام نے اسے ایک اچھی خاصی رقم کی آفر کی ۔
نو مہینے روحی کو اپنے پیٹ میں رکھ کر جنم دینے پر اسے اتنی رقم مل رہی تھی کہ وہ آسانی سے اپنی زندگی گزار سکتی تھی اس نے دو دن کے اندر ہی سوچ کر اپنا فیصلہ سنا دیا کہ وہ اس کے بچے کو دنیا میں لانے کے لیے تیار ہے ۔
آیام نے اس کے بینک اکاؤنٹ میں ایک اچھی خاصی بڑی رقم سینڈ کردی تھی اور اس سے سائن بھی کروائے تھے کہ وہ اپنے پورے ہوش و حواس میں اس بیٹی کی پوری کسڈڈی اسےدے رہی ہے ۔
لیکن تب ایام نہیں جانتا تھا کہ ایک بچے کو اس کی ماں سے خریدکروہ ایک بہت بڑا جرم کرنے جا رہا ہے ۔
آیام اسے اپنے ساتھ پاکستان لے آیا اور یہ معاملہ یہیں پر ختم ہوگیا ۔روحی کی پہلی سالگرہ پر ایام کو اس کا فون آیا تھا اور ایلا نے اس سے پیسے مانگے تھے ۔
ایام نے بنا چوں چراں کئے اسے پیسے دے دیے تھے اس وقت وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ایلا کو شہ دے چکا ہے خود کو بلیک میل کرنے کے لیے چھے مہینے کے بعد اسے پھر سے ایلاکی کال آنا شروع ہوگئی ۔
اسے دوبارا پیسے دینا ایام کے لئے مشکل نہیں تھا اسے جتنا بن پڑا وہ اس کے حوالے کرتا گیا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ سب کچھ اس کے لیے ایک بڑی مصیبت بن سکتی ہے جیسے اب بن چکی تھی ۔
اور اس مصیبت سے نکلنے کے لیے اسے مائیکل کو ڈھونڈنا تھا مائیکل سے ملنا تھا اور مائیکل ہی اسےاس مصیبت سے نکال سکتا تھا
°°°°°°°
ساری پیکنگ ہو چکی تھی وہ آج واپسی کے لیے تیار تھے آج پاکستان جا رہے تھے ۔
جبکہ ہیر کب سے پیکنگ کرتی اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر چکی تھی ۔
جب ایام اچانک اس کے پاس آیا اور اس کے چہرے کو تھام کر بھرپور جسارت اس کے ہونٹوں پر سرانجام دیتا روحی سے شرارتوں میں مگن ہو گیا ۔ہیر اسے گھورتی مسکرا کر ایک بار پھر سے اپنا کام سر انجام دینے لگی
روحی تو بہت خوش تھی اپنے گھر واپس جا رہی تھی ۔کیوں کہ اسے جہاز پر بیٹھتا تھا ۔جب کہ ہیر کا تو سارا دھیان ہی ایام پر تھا جس کی پریشانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ۔
بظاہر تو وہ بالکل نارمل تھا کبھی روحی کے ساتھ مستیاں کرتا تو کبھی اس کے ساتھ اس کا رومینٹک موڈ آن ہو جاتا لیکن پھر بھی سکون سے بھری اس زندگی میں بہت ساری پریشانیاں تھیں ۔
ہیرروحی کے منہ میں فیڈر ڈال کر ایام کے پاس آ گئی ۔جو کب سے اسے اشاروں ہی اشاروں میں اپنے پاس آنے کا اشارہ کر رہا تھا ۔
روحی کو سوتے پا کر وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس کے چہرے پر جابجا اپنے لبوں کا لمس چھوڑنے لگاتھا جب ہیر نے اچانک ہی اپنی بات شروع کر دی
ایام میں نے فیصلہ کیا ہے ۔میں نے سوچا ہم ایلا کی ڈیمانڈ کو پورا کرتے ہیں میرا مطلب ہے کہ وہ آپ سے اور تو کچھ نہیں مانگتی صرف یہ چاہتی ہے کہ آپ اس سے شادی کرلیں اور وہ اپنی زندگی کو سکون سے جی سکے ہوسکتا ہے وہ شادی کے بعد بدل ۔،۔۔۔۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے تم یہ کیا بکواس کر رہی ہو کیا تمہیں میں اتنا گراپڑا لگتا ہوں کہ ایک ایسی عورت جو ہر دوسرے مرد کے ساتھ اپنی راتیں رنگین کرتی ہے اسے اپنے نکاح میں لے کر ساری زندگی کے لیے خود کو گنہگار کر لوں۔۔
کیا لگتا ہے تمہیں وہ تمہارے جیسی ہے جو خود کو صرف ایک مرد کے ساتھ باندھ کر رکھے گی کیا اسے کیا سمجھتی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے کس کے ساتھ میری بیٹی کو پیدا کیا ہے وہ خود بھی نہیں جانتی تھی اس کے بچے کا باپ کون ہے ۔اور تم مجھے کہتی ہو کہ میں اس کی مانگ کو پورا کرکے اسے اپنے نکاح میں رکھوں۔
میں اس کے منہ میں ساری زندگی نوٹ ڈال سکتا ہوں لیکن اسے اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا ۔میں نے اسے شادی کی آفر کی تھی کیونکہ تب میں اپنی بیٹی کو ایک جائز زندگی دینا چاہتا تھا اسے دنیا میں ایک مقام دینا چاہتا تھا میں یہ سوچتا تھا کہ وہ میری اولاد ہے ۔
لیکن ایسا نہیں ہے ۔نہ جانے کتنے بوائے فرینڈزسے انکار سن کر وہ میرے پاس آئی تھی ۔
پتہ نہیں کس کس کو جا کر اس نے یہ کہا تھا کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے ۔
اور تم کہہ رہی ہو کہ میں اس کی ڈیمانڈ پوری کر دوں۔
ہو سکتا ہے وہ بدل جائے ۔۔۔۔۔۔آپ کو اسے موقع تو دینا چاہیے یہ ہماری بیٹی کی زندگی کا سوال ہے آپ پیچھے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں بدل سکتی کبھی بھی نہیں ۔۔۔سب سے پہلے تو میرا دین ہی مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ میں ایک دوسرے مذہب کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھوں۔
اور تمہیں کیا لگتا ہے وہ مجھ سے نکاح کرے گی ہرگز نہیں وہ جس شادی کو وہ شادی کہتی ہے میں اسے شادی نہیں مانتا ۔میں نہیں شامل کر سکتا ہوں اس لڑکی کو اپنی زندگی میں کبھی نہیں ۔
اور اب اپنے دماغ سے ہر طرح کی فضول سوچ نکال کر فی الحال صرف اور صرف واپسی پر دھیان دو ہم پاکستان جا رہے ہیں اور میری کچھ اچھے وکیلوں سے بات بھی ہوچکی ہے وہ اس مسئلہ کو حل کریں گے اور ویسے بھی فی الحال میں اس آدمی کو ڈھونڈ رہا ہوں ۔
جس کے بل بوتے پر ایلانے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے ۔
وہ اسے سمجھاتے ہوئے اس کے لبوں پر جھک گیا تھا ۔
اس وقت اسے ہیر کی ضرورت تھی وہ خاموشی سے اس کی شدتوں کو برداشت کرنے لگی
°°°°°°
جہاز کا سفر شروع ہو چکا تھا وہ پاکستان جا رہے تھے ۔
ائرپورٹ تک اس کا فون بجتا رہا لیکن فلائٹ کے اندر آتے ہی اس نے اپنا فون بند کر دیا تھا ۔وہ ہر ٹینشن ہر پریشانی یہی چھوڑ کر جانا چاہتا تھا ۔
ہیراس کے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موندے ہوئے تھی۔ جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔اس نے آنکھیں کھولی تو سامنے کی طرف جو چار سیٹ چھوڑ کر اسے ایک آدمی آگے کی طرف دیکھتا نظر آیا ۔
اسے دیکھتے ہی اس کے اندر خوف کی ایک لہر سی دوڑ گئی تھی ۔
شاید یہ وہی آدمی تھا جسے اس نے مانچسٹر میں لفٹ میں دیکھا تھا اور پھر لندن میں بھی اسے شک ہوا تھا کہ کوئی ہے جو ہر جگہ اس کا پیچھا کر رہا ہے ۔
وہ اسے دیکھے جا رہی تھی جب اس نے ایک بار پھر سے مڑ کر اس کی طرف دیکھا پھر شک یقین میں بدل گیا تھا ۔
یہ وہی شخص تھا اور یقینا یہ اس کا پیچھا کر رہا تھا اسے ایک نظر ایام کی طرف دیکھا جو روحی کے ساتھ بادلوں کو دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی اس کی کہانی بھی سن رہا تھا جس میں وہ بادلوں پر بیٹھی ہوئی تھی ۔
اس کی کہانی کافی دلچسپ تھی جو ایام مزےسے سن رہا تھا جبکہ ہیر اپنی تیز تیزدھڑکتے دل کو قابو میں کرتی ایام کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
اس نے خود کو اس خوف سے نکال کر پر سکون کرنا چاہا شاید ایام ٹھیک کہتاتھا۔وہ بہت زیادہ سوچنے لگی ہے
ممکن تھا کہ اس کا تعلق بھی پاکستان سے ہواور وہ ان کے ساتھ واپس اپنے ملک جا رہا تھا شاید اسےغلط فہمی ہی ہوئی تھی ۔
اور شاید وہ اسے مڑ کر بھی اسی لیے دیکھ رہا تھا کہ وہ بھی اسے پہچان چکا تھا ۔یا پھر کوئی اور وجہ تھی ہیر کچھ نہیں سوچنا چاہتی تھی ۔لیکن اس نے فیصلہ کیا تھا کہ روحی کے سوتے ہی وہ ایام کو اس کے بارے میں ضرور بتائے گی
°°°