60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon )Episode 40


°°°°°°
بات ختم ہو چکی تھی نہ ایام میں مزید بتانے کی ہمت باقی بچی تھی۔ اور نہ ہیرمیں سننے کی ۔
ایام سمجھ چکا تھاکہ اتنا کافی تھا اس کےلئے یہ صدمہ بہت بڑا تھا کہ دنیا کے سامنے پرفیکٹ نظر آنے والا ایام سکندر اپنے نفس کے ہاتھوں کبھی مجبور بھی ہوا تھا ۔
اور اس کی ہزار اچھائیوں پر یہ ایک برائی غالب آگئی تھی
وہ بہک گیا تھا ایک ناجائز تعلق میں بندھ کر ۔اور اسے یہ جان کر بہت افسوس ہوا تھا کہ ایام بھی عام مردوں جیسا ہے ۔
وہ اسے بہت خاص سمجھنے لگی تھی وہ اسے دنیا کے تمام مردوں سے الگ سمجھنے لگی تھی۔
وہ اس کے لئے بہت اہم ہو گیا تھا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایام بھی اس طرح کاگناہ کر سکتا ہے ۔
ہاں اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا ایام ایسا ہو سکتا ہے وہ تو شاید اسے اپنے دل کے بہت اونچے مقام پر بیٹھا چکی تھی اگر وہ پہلے سے شادی شدہ ہوتا تو شاید ہیر کو اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنا اس کے ناجائز تعلق کا سن کر ہوئی تھی ۔
ہاں وہ بھی عام مردوں جیسا تھا ۔عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات بنانا اور بچے پیدا کرکے بھول جانا اور پھر اپنی زندگی میں آگے بڑھ جانا ۔
اسے نفرت تھی ایسے مردوں سے وہ نہیں جانتی تھی سعد کیسا ہے ۔کیوں کہ سعد اس کی پسند نہیں تھا ۔سعد تو اسے کسی بھی روپ میں پسند نہیں تھا ۔
شاید وہ سعد کےساتھ ساری زندگی گزار لیتی یہ سوچ کر کہ سعد اس کے والدین کی پسند ہے اس کی نہیں اور اسے اس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے لیکن ایام کے ساتھ تو وہ جی رہی تھی وہ صرف اس کا شوہر نہیں اس کی محبت تھا ۔
اور اس کی محبت ایسی ہوگی کب سوچا تھا اس نے ۔۔۔۔؟کب ایام کو اتنا پستی میں گرا دیکھا تھا اس نے اس نے شادی سے پہلے خود پر ایام کی غلط نگاہ کو یہ سوچ کر معاف کر دیا تھا کہ وہ اس سے محبت کر بیٹھا ہے ۔
لیکن نہیں وہ محبت نہیں تھی وہ وہی گھٹیا اور گندی سوچ تھی جو آجکل ہر مرد ہر عورت کو دیکھ کر سوچتا ہے ۔وہ چند لمحوں میں اس سے اس حد تک بدگمان ہو چکی تھی کہ اس کی محبت پر وہ یقین نہ کر پائی ۔
وہ کب سے روحی کے ساتھ لیٹا بار بار نظر اس کی طرف پھیر کر اسے دیکھ رہا تھا جو اچانک اس کے قریب سے اٹھ کر بیڈ پر آ بیٹھی تھی ۔
وہ اس کا ہاتھ چھوڑ چکی تھی ۔اس کے بعد ان دونوں میں کوئی بات نہ ہوئی۔ایام تو اس کی بے اعتباری دیکھ کر مزید ایک لفظ نہ بول سکا۔ وہ اسے بہت کچھ بتانا چاہتا تھا ابھی بہت کچھ باقی تھا لیکن شاید اب کچھ بھی بتانے کو باقی نہ بچا تھا ۔اور نہ ہیر مزید کچھ سننا چاہتی تھی ۔
°°°°°°
رات تین بجے کا وقت تھا وہ کروٹ پھیرے دوسرے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔کمرے میں خاموشی کا راج تھا ایام جانتا تھا کہ وہ ساری رات سوئی نہیں ہے ۔
روحی کو ذرا سا کسمساتے پا کر وہ اس کے قریب سے اٹھ کر اس کا دودھ بنانے لگا وہ روز رات کو اسی وقت جاگتی تھی ۔
اس کے اٹھ کر میز کے قریب جانے پر اس نے ذرا سا سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا کمرے میں اندھیرا تھا ۔صرف لائٹ بلب ہی روشن تھا ۔
دودھ بناتے بناتے اس نے اپنی معصوم سے جان کو بیڈ پر بیٹھے آنکھیں ملتے ہوئے پایا ۔
بس میرا بچہ آپ کا دودوآ گیا بابا جانی ابھی لے کر آتے ہیں کمرے میں اس کی آواز گونج رہی تھی جب کہ وہ آنکھیں ملتی اپنے بیڈ سے اٹھتے ہوئے ہیر کے ساتھ آکر بیٹھی اور پھر اگلے ہی لمحے وہ اس کے سینے پر سر رکھ چکی تھی یہ بھی اکثر ہوتا تھا وہ رات کو جب دودھ پینے کے لئے اٹھتی تو ہیر کے پاس آ جایا کرتی تھی۔آج بھی ایسا ہی ہوا تھا ایام کے دل میں عجیب ڈرجاگا تھا جیسے وہ ابھی اسے دھتکار دے گی ۔
اور ایام کا مان ٹوٹ جائے گا وہ خود بھی ٹوٹ جائے گا ایک بار اگر اس نے اس کی بیٹی کو خود سے دور کردیا تو خود نہیں ہارے گا بلکہ وہ سب کچھ ہار دے گا ۔
وہ ہاتھ روکے کتنی دیر اسے دیکھتا رہا ۔وہ آدھے سے زیادہ ہیر پر چڑی ہوئی تھی جبکہ ہیر بالکل خاموش تھی وہ اس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی ۔
اور شاید روحی یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ نیند میں ہے ۔اپنی معصوم حرکتوں سے وہ اسے جگانے کی کوشش بھی کر رہی تھی ۔
اووووں۔۔۔۔۔۔جب اچانک کمرے میں آواز گونجی اور پھر روحی کی کھلکھلاہٹوں کے ساتھ ہیر نےاسے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا ایام اندر تک پر سکون ہوتا گیا اس کے کب سےرکھے ہاتھ ایک بار پھر سے چلنے لگے تھے ۔
وہ روحی کا دودھ بناتا اس کے پاس بیڈ پر آ گیا تھا ۔جب کہ اس کے سینے سے لگی وہ دودھ لینے کے لیے ہاتھ آگے نہیں بڑھا رہی تھی اس لیے ہیرنے خود ہی دودھ کی بوتل پکرلی۔
اور یوں ہی اسے اپنے ساتھ لگائے وہ اسے دودھ پلانے لگی ایام کتنی دیر انہیں دیکھتا رہا پھر اس کے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹ گیا وہ روحی کےلیے ہی اس بیڈ پر تھا اگر اس کی روحی ہی یہاں آ گئی تھی تو وہاں رہ کر کیا کرتا ۔
اس نے اس کی بیٹی کو اپنا لیا تھا یہ جان کر بھی کہ وہ ایک ناجائز عمل کا نتیجہ ہے وہ اس سے چہرہ پھیر نہیں پائی تھی ۔
وہ اس کے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹتا ان دونوں کو دیکھنے لگا جو ایک دوسرے میں ہی مگن تھیں اور تھوڑی ہی دیر میں روحی ایک بار پھر نیند میں اتر چکی تھی ۔
°°°°°°°
اس صبح بھی اتنی ہی خاموش تھی جتنی کہ کل رات ایام خود ہی اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا جبکہ ہیر روحی کے جاگنے کا انتظار کر رہی تھی ۔
اندھیرا تو ختم ہو چکا تھا لیکن یہ روشنی بھی کوئی خوشیاں لے کر نہیں آئی تھی ۔
آیام کا فون مسلسل بج رہا تھا جسے وہ اگنور کرتا تو کبھی کاٹ دیتا وہ کبھی دائیں طرف جا رہا تھا کبھی بائیں طرف اسے ٹینشن میں دیکھ ہیر کو پریشانی ہوئی تھی یقینا ایلا اسے فون کر رہی تھی اور یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہوا تھا ۔
وہ ساری رات ایک ہی چیز کو سوچتی رہی تھی ۔اور اب وہ ایام سے سوال جواب کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اس سے سوال کیا کرتی جب وہ خود ہی عجیب طرح کی کشمکش کا شکار ہو چکی تھی ۔
°°°°°°°
تم روحی کا خیال رکھنا مجھے کچھ کام ہے ۔میں تھوڑی دیر تک واپس آنے کی کوشش کروں گا ۔اور اپنا سامان وغیرہ پیک کر لو ہو سکتا ہے ہم آج شام کو ہی واپس پاکستان کے لیے نکل جائیں ۔
کیوں اتنی جلدی کیوں ہم تو ایک ہفتے کے لیے یہاں آئے تھے نہ تو آپ اتنی جلدی کیوں واپس جانا چاہتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے نکلتا اسے ہیر کی آواز سنائی دی ۔
کیا تم یہاں رہنا چاہتی ہو۔۔۔۔؟ وہ پلٹ کر اس سے سوال پوچھنے لگا جو کچھ کل رات کو ہو چکا تھا اس کے بعد بھی وہ ہنی مون کے یہ دن مکمل کرکے واپس جانا چاہتی تھی ۔
جی ہاں ہم ایک ہفتے کے لیے یہاں آئے تھے میرے خیال میں اور میرا تو ابھی واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ابھی تو ہمیں یہاں آئے بمشکل تین دن ہوئے ہیں ابھی چار دن باقی ہیں ۔
اور ابھی تو میری روحی بےبی نے ٹھیک سے یہاں دیکھا ہی کچھ نہیں ہے ۔پہلے دو دن آپ کی پریشانی میں گزر گئے اور باقی کے دن آپ اپنے خراب موڈ کے ساتھ برباد کر رہے ہیں ۔
اگر آپ واپس جانا چاہتے ہیں تو جائیں میں اور روحی کہیں نہیں جائیں گے کیوں روحی وہ پرانےموڈ میں لوٹتی آرام سکون سے بول رہی تھی جب کہ ایام جو باہر جانے کا ارادہ رکھتا تھا ردوازہ بند کرتا واپس سامنے کرسی پر بیٹھا ۔
میں کچھ بھی سمجھ نہیں پارہا تم کیا کہنا چاہتی ہو روحی جو اس کے یہاں رکنے پر خوش ہو کر بیڈ پر گول گول گھوم رہی تھی ایام اسے اٹھا کر اپنی باہوں میں قید کرتا اس سے سوال کرنے لگا کیونکہ وہ اس وقت کافی زیادہ شور مچا رہی تھی ۔
کیا ہوگیا ہے ایام میں کونسا کسی اور زبان میں بات کر رہی ہوں۔ جو آپ کو سمجھ میں نہیں آرہا میں نے کہا ہم ابھی واپس نہیں جائیں گے اپنی چھٹیاں مکمل کرکے ہی جائیں گے اور پلیز آپ اپنی سڑی ہوئی شکل ٹھیک کریں ۔
کل رات جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد بھی وہ حیرت کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا ۔
جی ہاں اس کے بعد بھی ۔ہیر نے جیسے بات ختم کی تھی لیکن ایام کو اب بھی سکون نہ ملا ۔
ہیر میں تمہیں سمجھ نہیں پا رہا کیا تم یہ سب کچھ بھلا کر آسانی سے آگے بھر پاؤ گی وہ اس کے رو برو آکر سوال کرنے لگا ۔
ایام آپ نے کہا کہ آپ اس رات نشے میں تھے آپ کے خلاف سازش کی گئی تھی آپ کو اس گناہ کی طرف راغب کیا گیا تھا ۔
بے شک انسان خطا کا پتلا ہے ۔ہم میں سے کوئی بھی اتنا پاکیزہ نہیں ہے کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی غلطی ہم سے ہو ہی جاتی ہے تو کیا اس غلطی کو بنیاد بنا کر ہم اپنی زندگی جینا چھوڑ دیں ۔
آپ نے میری پہلی شادی کو بھلا دیا یہ تک بھلا دیا کہ وہ آدمی میرے ساتھ کیا کر چکا تھا ایک بکی ہوئی لڑکی کے ساتھ آپ نے ایک نئی زندگی کی شروعات کی ۔
اسے عزت دی ۔تحفظ دیا اپنے ہونے کا مان دیا تو کیا میں آپ کو آپ کہ ماضی کی اس غلطی کی وجہ سے چھوڑکر چلی جاؤں۔۔۔۔؟نہیں آیام اگر آپ میرا ساتھ نبھا سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں ۔۔۔۔۔؟
میں رات کو بہت غلط سوچنے لگی تھی میری سوچوں کا زاویہ بدل چکا تھا ۔رات کو مجھے صرف یہ نظر آ رہا تھا کہ آپ کا قصور کیا ہے ۔جیسے میں نے زندگی میں کبھی کوئی غلطی کی ہی نہ ہو۔
میں خدا نہیں ہوں ایام جو آپ کو معاف کروں گی آپ سے غلطی ہوئی جس کی سزا یا جزا دینے کا حق صرف وہ اوپر والی ذات رکھتی ہے آپ اس سے معافی مانگے مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کو معاف کر دے گا ۔
اور اس نے مجھے آپ کا ہمسفر چنا ہے اور بےشک میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں میں آپ کا لباس بننا چاہتی ہوں ۔اور ہمیشہ آپ کی عزت کی حفاظت کرنا چاہتی ہوں وہ بولے جا رہی تھی جب کہ ایام کے سینے پر رکھا بوجھ آہستہ آہستہ سرکتا جا رہا تھا ۔
لیکن اس کے بعد تمہیں اور بھی بہت کچھ سننا پڑے گا ابھی تک تم کچھ بھی نہیں جانتی ۔بہت کچھ ایسا ہے جو تمہیں بتانا اب بھی باقی ہے ۔اس کی آنکھوں میں دیکھتےہوئےوہ بولے جا رہا تھا جب کہ روحی کبھی ادھر سر گھماتی تو کبھی ادھر وہ آپس میں باتوں میں لگے اسے بری طرح سے اگنور کر رہے تھے جسے محسوس کرکے روحی نے اچانک رونا شروع کر دیا ۔
اور اس کی جیلسی محسوس کرتے ایام نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا اور اس کے رونے پر ہیر بھی اٹھ کر اس کے پاس آ گئی تھی نجانے اسے اچانک کیا ہوا تھا وہ سمجھ نہیں پائی تھی ۔
کیا ہوا روحی تمہیں کہیں درد ہو رہا ہے کہیں چوٹ لگی ہے اچانک سے کیوں رویا میرا بچہ ۔۔۔۔۔۔وہ بہت پریشانی سے اس سے پوچھ رہی تھی ۔
جیلس ہوگیا تمہارا بچہ ۔کب سے مجھ سے باتیں کیے جا رہی ہو ہیر۔ایام نے اصل وجہ بتائی تو وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی جب کہ وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلاگیا۔
ہیر اسے اپنے ساتھ لگاتی اس سے سوری کر رہی تھی بے شک اس کی سوری کو تو وہ نہیں سمجھتی تھی لیکن اہمیت ملنے پر اس کے ساتھ لگی سوں سوں تو کررہی تھی
°°°°°°
ایلا اب بھی اسے فون کر رہی تھی اور اسی طرح سے تنگ کر رہی تھی ۔اور ہیر بھی یہ بات بہت اچھے طریقے سے سمجھ گئی تھی کہ یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہوا ۔
ایام میں کیا سوچ رہی تھی کہ روحی آپ کی بیٹی ہے اور آپ نے اس عورت کو اس کی پوری پوری قیمت دی ہوئی ہے تو پھر وہ عورت آپ کو بلیک میل کیسے کر رہی ہے ۔۔۔۔۔؟
میرا مطلب ہے ۔کیا آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے آپ یہ قصہ ہی ختم کر دیں اور وہ زندگی میں آگے کبھی بھی ہمیں تنگ نہ کرے ایلا کے باربار فون کرنےپر اسے اس عورت کی فکر ہونے لگی تھی اسے پتا چل چکاتھا کہ ایلا اتنی آسانی سے ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔
میں تمہیں رات کو پوری بات بتا تو رہا تھا لیکن تم نے سنا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔انگلینڈ کے قانون کے مطابق سب سے بڑا گناہ بچوں کا خریدنا اور بیچنا ہے ۔اور یہ جرم میں نے اور ایلا دونوں نے کیا ہے ایلا اس بچے کو جنم دینے کے لئے تیار ہو گئی تھی لیکن اس کے لیے اس نے مجھ سے بہت بڑی قیمت مانگی تھی ۔
اور میرے پاس ایک ایک چیز کا ثبوت بھی ہے کہ میں نے اپنی بچی کو دنیا میں لانے کے لئے اسے ایک بہت بڑی رقم دی تھی لیکن یہ بات اگر انگلینڈ کے قانون کو پتہ لگتی ہے تو بچی کو ہم دونوں سے چھین لیا جائے گا ایلا کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ کبھی اس بچی کی ماں بننا ہی نہیں چاہتی تھی۔ لیکن میری زندگی بری طرح سے متاثر ہو گی ہیر کیوں کہ میں اپنی بیٹی کے بنا نہیں رہ سکتا ۔
وہ اسے پوری بات بتاتا روحی کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا جو اپنے ٹیپ پر نہ جانے کونسی گیم کھیل رہی تھی ۔
مطلب کے اگر وہ ہم پر کیس کرواتی ہے تو نقصان صرف ہمارا ہوگا آپ اسے بہت سارے پیسے دے دیں اور اسے ہمیشہ کے لیے ان سب چیزوں سے الگ کر دیں۔
نہیں ہیر وہ پیسے لے کر سائیڈ ہٹنے والوں میں سے نہیں ہے ۔وہ مجھ سے کچھ اور ڈیمانڈ کر رہی ہے ۔
وہ پریشانی سے بتانے لگا ۔
لیکن کیا یہ بھی تو بتائیں۔وہ اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی آخر ایسا کیا ڈیمانڈ کر رہی تھی وہ جو ایام پوری نہیں کر پا رہا تھا اپنی بیٹی کے لئے تو وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا ۔
وہ چاہتی ہے کہ میں اس سے شادی کر لوں۔۔۔۔اس نے جیسے بمب پھوڑ ا تھا ۔
جبکہ اس دفعہ روحی کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر وہ اسے باہر آنے کا اشارہ کرتا خود بلکنی کی طرف نکل گیا تھا ۔
وہ اپنی بیٹی کے ذہن میں ایسی کوئی چیز نہیں ڈالنا چاہتا تھا جو اس کے لیے آگے جا کر مشکل پیدا کرے ۔
°°°°°°°
تو اب وہ آپ سے شادی کیوں کرنا چاہتی ہے جب آپ نے اسے شادی کے لیے آفر کی تھی تب وہ نہیں مانی تو اب وہ آپ سے شادی کیوں کرنا چاہتی ہے ۔
اس کا دماغ اچھا خاصا گھوم گیا تھا ابھی تو وہ اور اس کے سامنے بھی نہیں آئی تھی اور ہیر کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا اگر سامنے آجاتی تو نہ جانے وہ کیا کرتی ۔
اس وقت اس کے پاس بہت پیسہ آ گیا تھا ہیر اور اسے اپنی آزادی بہت پیاری تھی ۔اس کے مطابق ہم مسلمان مرد اپنی عورتوں کو پردہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں ان سے ان کی آزادی چھین لیتے ہیں اور وہ ایک ایسے مرد کے ساتھ اپنی زندگی برباد نہیں کرسکتی تھی ۔
تو پھر اب وہ کیوں آپ کے ساتھ اپنی زندگی برباد کرنے کے لئے تیار ہو گئی ہے ۔وہ سینے پہ ہاتھ باندھے اس سے سوال کرنے لگی۔
کیونکہ وہ یہاں میرے پاس رہ کر ساری زندگی کے لیے مجھے روحی کے نام پر بلیک میل کرنا چاہتی ہے وہ جان چکی ہے کہ اس کی اولاد میری کمزوری بن چکی ہے اور میں اس کے لیے کسی بھی حد تک چلا جاؤں گا ۔
وہ روحی کو استعمال کرنا چاہتی ہے اپنے مفاد کے لیے ۔
اسے ساری زندگی کے لیے پیسہ چاہیے تھوڑے بہت پیسوں سے اس کا ساری زندگی کا گزارہ نہیں ہو سکتا ۔اس لیے اس نے اپنے فیوچر کو سیکیور بنانے کا فیصلہ کیا ہے وہ روحی کے دم پر مجھ سے کچھ بھی کروا سکے گی اور مجھے دن رات میری بیٹی کی وجہ سے ٹاچر کرے گی ۔وہ اپنی زندگی عیاشی سے گزارے گی
تو آپ انکار کردیں الٹا اس پر کیس کروا دیں کہ وہ آپ کو اس طرح سے بلیک میل کر رہی ہے اور آپ اپنی بیٹی اسے نہیں دیں گے ۔
بہت مشکل ہے ہیر بہت مشکل ہے عدالت مجھ سے ثبوت مانگے گی ۔
یہ اتنا مشکل نہیں ہے ایام وہ آپ کی بھی بیٹی ہے ۔وہ آپ سے آپ کی اولاد چھین نہیں سکتی ۔آپ اس کی نیت سے واقف ہیں وہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ پائے گی ۔
اور ویسے بھی جب یہ بات کھلے گی کہ وہ روحی کو مارنا چاہتی تھی تب قانون بھی اس کا ساتھ نہیں دے گا ۔
وہ مجھ پر چائلڈ کڈنیپنگ کا کیس بھی کروا سکتی ہے ہیر وہ مجھے ایسی چیز کی دھمکی دے رہی ہے کہ میں نے اس کے بچے کو کڈنیپ کیا ہے ۔اگر میں عدالت میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے اس سے اس کے بچے کو خریدا ہے تو روحی کو گورنمنٹ چھین لے گی مجھ سے ۔اگر اس کی بات مانتا ہوں تو میری زندگی برباد ہو جائے گی سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے ہیر ۔میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے وہ بے بس تھا ۔
لیکن ایام وہ آپ پر کڈنیپنگ کا کیس کیسے کرسکتی ہے آپ باپ ہیں اس کے کیا ایک باپ اپنی اولاد کو کڈنیپ کرے گا ۔آپ دلیل دے سکتے ہیں وہ اس کا حوصلہ بڑھا رہی تھی
لیکن اس کے لیے میرے پاس ثبوت بھی تو ہونا چاہیے کہ روحی میری بیٹی ہے ۔پہلے قانون پر مجھے یہ بات ثابت کرنی پڑے گی جو کہ میں نہیں کر سکتا
آپ کیوں نہیں کرسکتے آپ ڈی این اے رپورٹ بنوائیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بولتے بولتے اچانک خاموش ہو گئی تھی جب کہ ایام سرنفی میں ہلاتا گرل کے ساتھ کھڑا تھا ۔
مطلب کے روحی آپ کی بیٹی نہیں ہے ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں وہ ایلا کے کسی ایکس بوائے فرینڈ کی بیٹی ہے میں اس رات بے ہوش ہو گیا تھا ۔میں نے ایسا کوئی گناہ نہیں کیا ہیر جس کی وجہ سے مجھے تمہارے سامنے شرمندہ ہونا پڑے جس شخص کی بیٹی ہے وہ بھی اس وقت ایلا کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
شاید ایلا نے اسے بھی کوئی بہت بڑی آفر کی ہوئی ہے اس کی وجہ سے وہ اس کا ساتھ دے رہا ہے ۔میری ساری دلائل سارے ثبوت دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور وہ لوگ بس یہ ثابت کر کے روحی کو مجھ سے چھین لیں گے کہ وہ اس کے ماں باپ ہیں اور میں کچھ بھی نہیں ۔بلکہ اس کے پیدا ہوتے ہی میں نے اسے اغوا کرلیا میں اپنی بیٹی کی شکل تک نہیں دیکھ پاؤں گا کبھی ۔وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بول رہا تھا جبکہ ہیرکے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھl…