60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon) Episode 4

وہ شروع سے ہی بہت احساس کرنے والی لڑکی تھی وہ ہر کسی سے محبت کرتی تھی ہر کسی کا ساتھ نبھاتی تھی تو ایسا کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنے شوہر کا ساتھ چھوڑتی
اسے اپنے شوہر کا بھی ساتھ نبھانا تھا وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنی ہر پرابلم اس کے ساتھ شیئر کرے۔اسے سب کچھ بتائیں لیکن شاید وہ ابھی اس پر اعتبار نہیں کر پا رہا تھا ۔اس کے اتنا کہنے کے باوجود بھی اس نے اسے کچھ بھی نہیں بتایا تھا اور وہ اس کے سامنے ایام کے گھر جانے کو تیار ہو گئی تھی ۔
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں لیکن وہ خود اسے دور کر رہا تھا نہ جانے وہ اتنا پریشان کیوں تھا کاش وہ اس کی پرابلم کو سمجھ سکتی کاش اس کا ساتھ نبھا پاتی۔ لیکن اس وہ وقت کچھ نہیں کر پا رہی تھی اس نے خاموشی سے اس کی بات مان لی تھی
اپنا کافی سارا سامان پیک کرنے کے بعد وہ جانے کے لیے اٹھی تو سعد نے کہا کہ وہ مزید اپنا سامان پیک کرے کیونکہ وہ اسے ایک یا دو دن کے لئے نہیں بلکہ کافی زیادہ دنوں کے لیے بھیج رہا ہے
تو اسے اپنی طرف سے اپنی تیاری مکمل کر لینی چاہیئے پہلے تو وہ اس کی بات کا مطلب ہی نہیں سمجھ سکی تھی ۔کہ وہ کتنے دن تک کسی دوسرے کے گھر جا کر بیٹھنے والی تھی ۔لیکن فی الحال اس کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اس نے خاموشی سے اس کی بات مان کر اپنا باقی کا سامان پیک کر لیا تھا۔
جب کہ امی بھی اپنا کافی سارا سامان پیک کیے ہوئے تھیں شاید انہیں بھی وہ بتا چکا تھا کہ وہ ایک دو دن کے لئے نہیں بلکہ کافی زیادہ لمبے وقت کے لئے جا رہے ہیں ۔
تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جیسے ہی میرا مسئلہ حل ہوجائے گا میں تم لوگوں کو واپس بلا لوں گا ۔صرف اپنا ہی نہیں امی کا بھی بہت خیال رکھنا اور امی آپ بھی اس کا خیال رکھیے گا
آپ دونوں کے علاوہ میرا ہےہی کون میں جتنا جلدی ہو سکے اپنا کام مکمل کر لوں گا اور آپ لوگوں کو واپس بلا لوں گا میں زیادہ دن تک آپ کو وہاں رکنے کے لئے نہیں کہوں گا لیکن جب تک یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے تب تک آپ کو وہیں رہنا ہوگا میں نے لالا سے بات کر لی ہے ۔
وہ ان لوگوں کا سامان گاڑی میں رکھواتے ہوئے خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا
°°°°°°°°
وہ خود ہی ان دونوں کو اسٹیشن تک چھوڑنے کے لئے آیا تھا وہ اتنی جلدی کیوں مچا رہا تھا ابھی کل ہی تو ان کا ولیمہ ہوا تھا اور آج وہ اسے خود سے دور بھیج رہا تھا
آخر ایسا کون سا مسئلہ آ گیا تھا کہ سب کچھ اتنا جلد بازی میں کرنا پڑ رہا تھا
اور پھر اسے کچھ بتایا بھی نہیں جا رہا تھا وہ جب بھی کچھ پوچھتی تو اس کی ساس یہ کہہ کر ٹال دیتیں کہ تمہیں ان سب چیزوں سے مطلب نہیں ہونا چاہیے
تمہارا شوہر جو بھی فیصلہ کرے تمہیں خاموشی سے اسے قبول کر لینا چاہیے اور کہیں نہ کہیں یہ بات درست بھی تھی
وہ خود بھی صرف اور صرف سعد کے ہی بھروسے پر تھی اس نے پھر کسی طرح کا کوئی سوال نہ کیا۔
°°°°°°°
ان لوگوں نے ٹرین کا سفر کیا تھا وہ کس طرف جا رہے تھے اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا بس اتنا ہی پتہ تھا کہ سعد کے سوتیلے رشتے داروں کےگھر جانا ہے
باقی اپنے سگے رشتے یاجاننے والوں میں سے سعد نے کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا
اور سعد نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس کے بھائی کا فون آئے تو وہ اس پر یہی ظاہر کرے کہ وہ ہنسی خوشی اپنی شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں
مطلب وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس چیز کے بارے میں کسی کو بھی پتہ چلے کہ یہ ان کا پرسنل میٹر تھا
اور اگر یہ سب کچھ پرسنل نہ بھی ہوتا تب بھی وہ کسی کو کچھ بھی نہیں بتانے والی تھی اس کے بھائی کو اس کی کتنی پرواہ تھی یہ بات وہ خود ہی بہت اچھے طریقے سے جان چکی تھی
اور اب اسے فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس کا بھائی کہاں ہے اور کیا کرتا ہے وہ اسے بیاہ کر نہیں گیا تھا بلکہ وہ اس سے ہر ناطہ توڑ کر گیا تھا وہ خود ہی اس سے ہر طرح کا تعلق ختم کر چکا تھا تو پھر وہ کیوں بار بار اس کے بارے میں سوچتی
یا پھر اسے کچھ بھی بتاتی اورسعد فون کا ذکر کررہا تھا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اسے اپنے بھائی سے فون کی بھی امید ختم ہو چکی تھی
اس کا جس کے ساتھ رشتہ تھا اسے ہمیشہ کے لیے وہ اپنے ساتھ لے کر جا چکا تھا شاید ہی اسے اس کی بہن کی کبھی بھی یاد آنے والی تھی
اور وه بھی ان بہنوں میں سے نہیں تھی جو ساری زندگی اپنی بھائیوں پر نظر رکھتی ہیں یا ان پر بوجھ بن کر رہتی ہیں اگر وہ خود ہی اس سے تعلق ختم کر چکا تھا تو پھر ہیر کا بھی کوئی ارادہ نہ تھا اس سے رابطہ کرنے کا
لیکن پھر بھی ایک آس باقی تھی کہ وہ اس سے پوری طرح سے لاتعلق نہیں ہوگا لیکن یہ بھی صرف ایک امید ہی تھی
°°°°°°
ایک بے حد لمبا اور تھکا دینے والا سفر ختم ہوا تھا وہ بہت زیادہ تھک چکی تھی اور ایسا ہی کچھ حال امی کا بھی تھا وہ بھی کافی زیادہ تھک چکی تھیں یہاں تک کہ دو دفعہ تو ان کی آنکھ بھی لگ گئی تھی وہ گاڑی میں سوتے ہوئے بھی آئی تھیں
اللّه اللّه کرکے یہ سفر ختم ہوا تو انہیں بھی کچھ سکون آیا گاڑی اسٹیشن پر آکر رکی تو ایک آدمی پہلے سے ہی ان کے لئے منتظر تھا ان کو دیکھتے ہی وہ تقریبا بھاگتے ہوئے ان کے پاس آیا تھا
السلام علیکم بی بی جی بہت معذرت صاحب جی خود نہیں اسکے آج ان کی پارٹی میں کسی طرح کی کوئی میٹنگ تھی
اسی لیے انہوں نے مجھے کہا تھا کہ میں وقت رہتے آپ لوگوں کو لینے کے لئے یہاں آجاؤں۔ تو میں حاضر ہوں۔میں تو تقریبا آدھے گھنٹے سے آپ لوگوں کا انتظار کر رہا ہوں تاکہ آپ لوگوں کو انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے
آئیے مزید دیر نہیں کرتے گھر چلتے ہیں وہ ان کا سامان لیے آگے بڑھ گیا تھا جب کہ ملازم کے آجزآنہ انداز پر امی جان اسے پیچھے آنے کا اشارہ کرتیں بڑی شان بے نیازی سے جاکر گاڑی میں سوار ہوگئی تھیں
اتنی شاندار گاڑی میں سفر کرنے کے بارے میں ہیر نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا شاید نہیں یقینا یہ آدمی کافی امیر تھا ۔اسے امی کی باتیں یاد آگئیں تھیں جب وہ ولیمے پر اسے کہہ رہی تھیں یہ کافی زیادہ امیر شخص ہے
جس گھر میں ہم جا رہے ہیں نہ بہت بڑا گھر ہے بہت امیر ہے یہ ایام سکندر نام نہیں لینے دیتا شادی کا لیکن جس سے بھی شادی کرے گا راج کرے گی صرف اس کے بنگے میں نہیں بلکہ وہ تو اس کی ساری جائیداد کی مالکن ہوگی۔
وہ بڑی حسرت سے بول رہی تھیں جب کہ وہ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ایام سکندر کون ہے شادی پر اس سے ہزار طرح کے لوگ ملے تھے اس کے ذہن سے ایام سکندر کا نقش مٹ چکا تھا ۔جب کہ وہ اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھیں
اتنا بڑا بنگہ ہے کہ ایک نظر میں دیکھا تک نہیں جا سکتا ۔اتنی زمین جائیداد ہے کہ حد نہیں کبھی کبھی مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ سعد کی دادی کو کیا سوجھا تھا کہ اس نے پہلے شوہر سے طلاق لے کر دوسری شادی کر لی
اگر میں اس کی جگہ ہوتی نہ تو کبھی یہ کروڑوں اربوں کی جائیداد کو ٹھکرا کر نہ جاتی
وہ اس کے بالکل ساتھ بیٹھیں اس کے کان میں سرگوشی نما آواز میں بول رہی تھیں کہ ڈرائیور نہ سن لے جب کہ وہ ان کی باتوں کو سنتی بہت عجیب محسوس کر رہی تھی یعنی کہ وہ اپنی ساس سے ان کی قسمت مانگ رہی تھی خیر جو بھی تھا انسان کو ملتا وہی ہے جو اس کے نصیب میں لکھا ہو۔
یہاں ہر انسان اپنے نصیب کا کھا رہا ہے کوئی کسی کی قسمت نہیں بدل سکتا اور نہ ہی اپنا نصیب بدل سکتا ہے ۔ہاں لیکن اپنے نصیب پر خوش نہ ہونے والے لوگوں سے اسے نفرت تھی لیکن یہاں وہ کچھ بھی نہیں بول پائی تھی
ہاں لیکن اسے افسوس تھا کہ اس کی ساس کے نصیب میں اتنا کچھ لکھا نہیں تھا ۔جس کی وہ خواہش مند تھیں
اور ہیرکو کبھی بھی ان سب چیزوں کی خواہش نہ رہی تھی وہ بہت عام سی لڑکی تھی اور وہ شروع سے ہی جانتی تھی کہ اس کی شادی بھی کسی عام سے گھر میں ہی ہوگی وہ کبھی بڑے بڑے خواب نہیں دیکھ سکی تھی
اور اس نے نہ ہی کبھی دوسرے کے حصے کی چیزوں کی آرزو کی تھی اس کے لئے صبر شکر سب سے بڑی چیز تھی اور وہ سعد کی معمولی سی نوکری پر بھی صبر و شکر سے کام لینے والی تھی
اسے کچھ نہیں چاہئے تھا زندگی میں سوائے اپنے شوہر کی محبت کے سعد فی الحال مسئلوں کا شکار تھا لیکن وہ جانتی تھی وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے منگنی کے دوران فون پر ان دونوں کی گفتگو ہوتی تھی جس میں وہ کئی دفعہ سعد کے منہ سے ظہار محبت سن چکی تھی۔
جبکہ اس نے اپنے دل پر نکاح تک کے لیے پابندیاں لگا کے رکھی تھی جب تک نکاح نہ ہوجائےوہ سعد سے کبھی بھی اس طرح کی بات کرنے کے حق میں نہیں تھی اور اب شادی کے بعد سعد نے خود اسے خود سے اتنا دور کر دیا تھا۔
اسے اس کا ساتھ چاہیے تھا وہ اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی اپنی نئی زندگی خوشحال شروعات کرنا چاہتی تھی لیکن فی الحال ایسا ممکن نہ ہو سکا تھا
یہ وقت ہوتا ہے ایک دوسرے کو سمجھنے کا ایک دوسرے کو پہچاننے کا لیکن وہ بہت دور آ گئی تھی ۔
پتا نہیں سعد کا یہ مسئلہ کب تک حل ہوگا اور کب وہ اپنی شادی شدہ زندگی کی شروعات کرے گی ۔
وہ بس اپنے رب سے دعا مانگ رہی تھی کہ سعد کی پریشانی جلد سے جلد حل ہو جائے اور وہ واپس اپنے گھر جا کر اپنی نئی زندگی کی حسین شروعات کرے سعد اس کا ہمسفر تھا ۔جس کے بارے میں سوچنے کا وہ حق رکھتی تھی لیکن اس کے باوجود بھی ایک عجیب سی جچک تھی وہ چاہ کر بھی سعداور اپنے رشتے کی خوبصورتی کے بارے میں نہیں سوچ پا رہی تھی
°°°°°°°
آخر سفر ختم ہوا تھا ان کی گاڑی ایک شاندار راہداری میں داخل ہوئی تھی
امی کی ساری باتیں بالکل درست تھیں یہ بہت بڑا اور بہت خوبصورت بنگہ تھا ایک نظر میں اسے مکمل دیکھنا ناممکن تھا یہ کتنا زیادہ بڑا تھا اندازہ لگانا بہت مشکل تھا
اوربےشک خوبصورتی میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں تھا
گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو اسے اپنے سامنے کوئی محل ہی نظر آیا تھا جو اتنا زیادہ دور لگ رہا تھا جیسے وہاں پہنچتے پہنچتے ہی انہیں کتنا ٹائم لگ جائے گا اور یہ سچ بھی تھا گاڑی میں بھی ان کا سفر 10 سے 15 منٹ تو تقریبا رہا ہی تھا۔
لیکن یہ سفر بورنگ ہرگز نہیں تھا یہ راہداری اتنی شاندار اور خوبصورتی سے تیار کی گئی تھی کہ اس نظارے سے نظر ہٹانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا ۔
بی بی جی گھر آگیا ڈرائیور نے کہتے ہوئے ڈگی سے ان کا سامان نکالا تھا جبکہ ایک چھوٹی سی بچی بھاگتی ہوئی باہر آئی تھی ایسا لگتا تھا جیسے اس نے ابھی ابھی چلنا سیکھا ہے۔
وہ تیزی سے بھاگتے ہوئے امی جان کی طرف بڑھ رہی تھی امی جان نے اپنے قدم آگے کی طرف بڑھا دیے تو اس نے اپنا راستہ چھوڑ کر ہیر کی طرف اپنی راہ بدل لی تھی۔شاید نہیں یقینا وہ اسے پہچان چکی تھی ۔امی مسکراتے ہوئے اٹھ کر کھڑی ہو گئی جبکہ اس نے بیٹھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔
پریتی تاتی آدئی (پرٹی چاچی آگئی) وہ خوشی سے ناچتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ ہیر نے مسکراتے ہوئے اسے اپنی گود میں اٹھا لیا تھا یہ وہی بچی تھی
اب اسے یاد آیا تھا کہ ایام سکندر کون تھا کہ یقینا وہی تھا جو ولیمے والے دن ان لوگوں کو ہنی مون کے ٹکٹ دے کر گیا تھا۔
وہ اپنی ہی پریشانی میں یہاں تک آئی تھی اس نے بالکل بھی نہیں سوچا تھا کہ ایام سکندر کون ہوگا اور وہ لوگ کس کے گھر جا رہے ہیں بس اتنا ہی پتہ تھا کہ وہ لوگ سعد کےسوتیلے رشتہ داروں گے گھر جارہے ہیں ۔
ارے یہ تو صرف چاچی سے ہی پیار کر رہی ہے ہمیں تو کوئی پوچھتا ہی نہیں ہم واپس جا رہے ہیں امی نے اسے ہیر کے ساتھ لگے دیکھ کر کہا تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئی
نہیں دادو آپ بھی بت اتی ہیں (نہیں بتا دو آپ بھی بہت اچھی ہیں )
می اپ تو توکلت دں دی( میں آپ کو چوکلیٹ دوں گی) ۔اس نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں بہلانا چاہا تھا جبکہ اس کے معصومانہ انداز پر وہ دونوں ہی مسکرا دیں تھیں
°°°°°°
ملازم کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئیں یہ گھر تھا یا کوئی محل فرق کرنا بے حد مشکل تھا اس سے پہلے اس نے فلموں اور ڈراموں میں بھی اس قدر حسین گھر نہیں دیکھا تھا
اس کی نظر میں امیر لوگ بھی اتنے امیر نہیں ہو سکتے تھے کہ اس طرح کا عالیشان گھر بنا سکے
سامنے سے آتی دو عورتوں نے انہیں روک کر سلام کیا تھا شاید وہ اس کی کوئی فیملی کی تھیں ۔ان دونوں نے بالکل ایک جیسے کپڑے پہن رکھے تھے جب کہ ان کے سینے پررائٹ سائیڈ بیجز لگے ہوئے تھے
کیسا رہا آپ لوگوں کا سفر آنے میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی نہ ملازم آپ کو ٹھیک سے لے کر آیا ہے نا وہ اس کے ساتھ چلتی انہیں اوپر کی طرف لے جانے لگی
نہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی سفر اچھا گزر گیا
باقی تو ایام نے سب کچھ بتا ہی دیا ہو گا آپ لوگوں کو امی ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بتا رہی تھیں جبکہ وہ بہت فارمل انداز میں بات کر رہی تھیں
فیملی کے لوگ یقینا اس طرح سے تو ایک دوسرے سے نہیں ملتے ہوں گے ان لوگوں نے آکر صرف ان سے ہاتھ ملایا تھا شاید وہ لوگ ان کے یہاں آنے پر خوش نہیں ہوئیں تھیں
یس میم سر نے ہمیں بتا دیا تھا کہ آپ لوگ آنے والے ہیں ہم پوری کوشش کریں گے کہ آپ کو یہاں پر کسی طرح کی کوئی تکلیف نہ اٹھانی پڑے آپ لوگ فریش ہو جائیں تب تک ہم آپ لوگوں کے کھانے کا انتظام کرتیں ہیں اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیجیے گا میں آ جاؤں گی
وہ پروفیشنل انداز میں بولتی اسے ایک سیکنڈ میں بتا چکی تھی کہ وہ کوئی رشتہ دار وغیرہ نہیں بلکہ اس گھر کی ملازمہ ہے
اگر کسی ماسی یاملازمہ کا ذکر کیا جائے تو اس کے ذہن میں اس طرح کا نقش بھی کبھی نہیں بن سکتا تھا
کتنی اعلیٰ ڈریسنگ اور اتنا پروفیشنل پڑھا لکھا انداز کسی کام والے کا ہو سکتا تھا بھلا
آپ لوگ یہاں پر کام کرتے ہیں وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی وہ یہ پوچھنا نہیں چاہتی تھی لیکن اسے اپنی کنفیوژن دور کرنی تھی ان لوگوں کے انداز سے وہ اب تک اس بات کا یقین نہ کر سکی تھی کہ لوگوں کی حیثیت صرف اور صرف گھر کے نوکر جیسی ہے
یس میم ہم یہاں کے سرونٹس ہیں آپ لوگوں کی خدمت کے لیے ہم لوگ ہر وقت حاضر رہیں گے کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو آپ ہمیں ضرور بتائیے گا
کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ ایک ٹیبل کی طرف بڑھی تھی جہاں ایک چھوٹی سی بیل رکھی ہوئی تھی
میم اگر آپ کو کسی بھی طرح کا کوئی کام ہو تو پلیز آپ یہ بیل پریس کر دیجئے گا ہم فورا آ جائیں گے آپ جلدی سے فریش ہو جائیں کھانا تقریبا تیار ہے صرف ٹیبل پر لگانا ہے آپ لوگوں کے منتظر ہیں ہم ۔
آئیں روحی میم آپ کو نیچے لے کر چلوں آپ کے ٹویٹر آنے والے ہونگے ۔
اتنی چھوٹی سی بچی کے ٹویٹر اس نے پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
یس میم سرچاہتے ہیں کہ جیسے ہی وہ بولنا شروع کرے تب صحیح الفاظ کا استعمال کریں اسی لئے ان کو اپنی زبان سکھانے کے لیے سر نے ایک ٹویٹر اپوائنٹ کیا ہوا ہے ۔سر کو بچوں کی الٹی سیدھی بولی پسند نہیں ہے وہ چاہتے ہیں کہ بچے اپنی زبان سے صحیح لفظ ادا کرے وہ تفصیل سے بتاتے اسے اٹھائے باہر کی طرف چلی گئی تھی
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کا دن اچھا گزرے وہ دونوں مسکرا کر کہتیں باہر نکل گئی تھی جبکہ ان کے جاتے ہی امی نے گہرا سانس لیا تھا۔
جب کہ اسے ان کے سر کی یہ بات بالکل پسند نہیں آئی تھی اب بچی ہے تو شروع میں الٹے سیدھے لفظ تو بولے گی ہی نا ۔
ہاں تو ہیر بیٹا اب اس گھر کو چند دن کے لیے اپنا ہی گھر سمجھو ہم نے یہیں پر رہنا ہے ایام دن میں یہاں پر نہیں ہوتا اسی لیے سب کچھ یہ لوگ سنبھالتے ہیں ۔
تم نہا دھو کر فریش ہو جاؤ پھر کھانا کھاتے ہیں مجھے تو بھئی بڑی بھوک لگی ہوئی ہے وہ فریش ہونے کے لیے جاتے ہوئے اس سے کہہ رہی تھیں جب کہ وہ خاموشی سے بیگ سے اپنے کپڑے نکالنے لگی