60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon ) Episode 39


°°°°°°
کیا چھپا رہے ہیں آپ مجھ سے ایام صاف صاف بتائیں کیا لگتا ہے آپ کو مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ پریشان ہیں کوئی چیز ہے جو آپ کو بے چین کر رہی ہے ۔۔۔۔؟
بتائیں مجھے میں بیوی ہوں آپ کی مجھے آپ کے بارے میں سب کچھ جاننا ہے ۔اور آپ کو مجھے سب کچھ بتانا ہوگا ۔
بتائیں مجھے کہ کون ہے جو آپ کو بلیک میل کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اور کیوں۔۔۔۔۔؟
کیا چاہتا ہے وہ آپ سے کس چیز کو لے کر وہ آپ کوٹوچر کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
اور آپ مجھ سے یہ سب کچھ چھپا کیوں رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟
وہ فون بند کرتا کمرے میں آیا تو وہ اس کے روبرو آکر اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔ آج اسے جواب چاہیے تھا۔
وہ سب جان چکی تھی ۔ اب وہ چاہ کر بھی اس سے کچھ بھی چھپا نہیں سکتا تھا ۔
مجھے روحی کی ماں ٹوچر کر رہی ہے وہ مجھے بلیک میل کر رہی ہےہیر۔ وہ مجھے دھمکی دے رہی ہے کہ وہ مجھ سے میری روحی کو چھین لے گی۔
وہ مجھے تو ٹیشن دے رہی ہے۔ مجھے دھمکی دے رہی ہے کہ وہ میری بیٹی کو مجھ سے الگ کر لے گی وہ اس سے کچھ بھی چھپا نہیں پایا تھا ۔
بلکہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر اسے سب کچھ بتاتا چلا گیا۔ اور ہیر صرف اسے سن رہی تھی ۔
وہ اپنی بیٹی کو بے انتہا چاہتا تھا وہ اپنی بیٹی سے دور نہیں رہ سکتا تھا یہ ٹینشن یہ پریشانی اپنی بیٹی کے کھو جانے کی تھی وہ اپنی بیٹی کو کھو نہیں سکتا تھا ۔
ایام آپ پریشان مت ہوں وہ آپ کو روحی سے الگ نہیں کر سکتی ۔اور وہ آپ کو پولیس کی دھمکی دے رہی ہیں تو آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے ۔
کیونکہ جتنی روحی اس کی بیٹی ہے اتنی آپ کی بھی ہے اور ویسے بھی روحی اتنے وقت سے آپ کے ساتھ ہے تو کوئی بھی قانون اسے باپ سے الگ نہیں کرے گا ۔
اگر اس کی ماں کو اس کی پرواہ ہوتی تو اسے کبھی بھی اپنے آپ سے الگ نہیں ہونے دیتی وہ اسے سمجھا رہی تھی ۔
نہیں ہیر تم سمجھ نہیں پا رہی ہو۔ یہ سب کچھ تمہاری سوچ سمجھ سے بہت دور ہے وہ اسے آدھی ادھوری بات بتا رہا تھا جس کو وہ واقعی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
آپ مجھے سمجھائیں گے تو میں سب سمجھ جاؤں گی آپ پریشان مت ہوں ۔
میں تمہیں کیا سمجھاؤں ہیر یہ سب کچھ جیسا دکھ رہا ہے ویسا نہیں ہے ۔
آپ اتنے پریشان کیوں ہیں وہ آپ کی بھی بیٹی ہے کوئی بھی اسے آپ سے چھین نہیں سکتا ۔
اور روحی کو آپ کی عادت ہے جب وہ آپ پر کیس کرے گی تب بھی ہمارے پاس روحی کا سہارا ہے بے شک وہ اس قابل نہیں ہے کہ کچھ بھی سمجھ سکے لیکن قانون اتنا تو سمجھے گا نا کہ روحی پچھلے دو سال سے آپ کے ساتھ ہے ۔
اور کوئی بھی قانون اگر ایک ماں کو اس کی اولاد سے الگ نہیں کرسکتا تو ایک باپ سے چھینےکا بھی حق نہیں رکھتا ۔
روحی آپ کی بیٹی ہے اور یہ ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی ۔
یش بابادانی تے پاش اول مامادانی تے پاش
(یس بابا جانی کے پاس اور ماما جانی کے پاس ) وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن تھے جب اچانک روحی اس کے کندھے سے جھانکتے ہوئے بولی انہیں احساس بھی نہ ہوا تھا کہ کب سے روحی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی وہ دونوں تو اسے سویا ہوا سمجھ رہے تھے ۔
اس وقت یہاں پر کیا بات ہو رہی تھی یہ سمجھنا روحی کے ننھے سے دماغ کے لیے ناممکن تھا لیکن اپنی ذات کو ڈسکس ہوتے وہ مزے سے انہیں سن رہی تھی ۔
ایام نے اچانک اسے تھام کے اپنے سینے میں بیچ لیا تو اپنے باپ کے جذباتی پن پر وہ حیران ضرور ہوئی تھی۔
تیا ہوا میلے بابا دانی شیڈ تیوں ہیں (کیا ہوا میرے بابا جانی سیڈ کیوں ہیں) وہ اس کے چہرے کو اپنے ننھے ہاتھوں میں تھام کر بہلانے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
جب کہ وہ اسے ایک بار پھر سے اپنے سینے میں چھپا چکا تھا جیسے سچ میں کوئی اسے اس سے چھین کر لے جا رہا ہو۔
°°°°°°
ایام آپ کہیں جا رہے ہیں کیا وہ صبح اٹھی تو ایام کو آئینے کے سامنے تیار ہوتے پایا ۔
ہاں مجھے جانا ہے اس سے ملنے کے لیے تم خیال رکھنا اور باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے میں آ جاؤں گا تو پھر ساتھ چلیں گے آج ان شاءاللہ میں یہ قصہ تمام کر کے واپس آؤں گا ۔
کیا میں بھی آپ کے ساتھ چلوں۔وہ اسے پریشان دیکھ کر پوچھنے لگی تو آیام نے نفی میں سر ہلا دیا ۔
واپس آکر میں تمہیں کچھ بتاؤں گا ۔یہ سب تمہارے لئے جاننا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔لیکن یہ سب کچھ تب ہوگا جب میں یہ قصہ ختم کر کے آؤں گا ۔
اس عورت کا میری بیٹی پر کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی آج سے وہ میری بیٹی پر کوئی حق جتائے گی ۔
خیال رکھنا تم روحی کا جانتا ہوں کہنے کی ضرورت نہیں ہے وہ مسکرایا
۔جلدی واپس آنے کی کوشش کروں گا وہ اس کا ماتھا چومتا کمرے سے نکل گیا تھا جبکہ اس طرح اسے اکیلے بھیج کر ہیر کوبھی کوئی اچھا نہیں لگا تھا نہ جانے وہ کیا کرنے والا تھا اور نہ جانے وہ عورت کیا چاہتی تھی ۔
اپنے چنددن کی بیٹی کو خود سے الگ کرتے ہوئے اس عورت کو تکلیف نہ ہوئی تھی اور اب وہ سنبھل چکی تھی اپنے باپ کو قبول کر چکی تھی ۔
اپنی تمام تر خوشیوں کا مرکز صرف اپنے باپ کی ذات کو بنا چکی تھی تب واپس آ گئی تھی اس پر حق جتانے کے لیے اسے دیکھے بنا ہی ہیر کو اس خودغرض عورت سے نفرت محسوس ہو رہی تھی بھلا اس دنیا میں کوئی عورت ایسی بھی ہو سکتی تھی ۔
جو اپنی اولاد کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرے اس طرح سے ایام کو ٹاچر کرنے کا مطلب روحی سے جاگی محبت تو ہرگز نہیں تھی
°°°°°°°
وہ تین گھنٹے کے بعد لوٹ کر آیا تو ہیر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی روحی ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر کافی اکتا چکی تھی۔
اس نے کتنی دفعہ کہا تھا کہ ہم دونوں باہر نکل کر گھومتے ہیں لیکن ہیر نے منع کردیا اور کمرے میں ہی اس کے ساتھ آگے پیچھے ہوتی رہی ۔
لیکن وہ معصوم ایک جگہ تو ہرگز نہیں بیٹھ سکتی تھی اس کا بچکانہ دماغ اسے ایک کمرے میں سکون سے نہیں رہنے دے رہا تھا لیکن ہیر مجبور تھی اس معاملے میں ایام کی حکم عدولی نہیں کرسکتی تھی ۔
بے شک وہ مرد تھا اپنی عورت کی حفاظت کو بہتر طریقے سے سمجھتا تھا ۔
ایام کیا ہوا آپ کی پریشانی کم ہوئی کیا آپ کی اس سے ملاقات ہوئی کیا۔
کیا کہا اس نے وہ روحی کو لے کر آپ پر کیس تو نہیں کرے گی۔۔۔۔؟
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا ہیر ایک ساتھ کئی سوال پوچھ چکی تھی جب کہ وہ چہرے پر مسکراہٹ لئے اسے تھام کر اپنے سینے سے لگا چکا تھا وہ جانتا تھا اس سے کہیں زیادہ وہ پریشان ہو چکی تھی ۔
انشاءاللہ وہ ہمارے راستے میں نہیں آئے گی تم پریشان مت ہو۔ تقریبا سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے اور جو ٹھیک نہیں ہے اسے میں ٹھیک کر لوں گا تم بس یہ بتاؤ کہ میری بیٹی کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔؟
مجھے نظر کیوں نہیں آرہی روحی روحی بےبی کہاں ہو آپ۔۔۔۔۔۔؟
وہ آگے پیچھے دیکھتا بیڈ مکمل نظرانداز کر رہا تھا جبکہ روحی بیڈ پر کھڑی دونوں ہاتھ کمر پر باندھے اسے لڑاکا موڈ میں دیکھ رہی تھی۔
بابادانی لوحی یاں اے (بابا جانی روحی یہاں ہے) وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر اسے مخاطب کر رہی تھی
کہاں مجھے نظر ہی نہیں آ رہی تھی وہ اب بھی آگے پیچھے ہر طرف دیکھ رہا تھا جبکہ اس کے شرارتی انداز پر ہیرمسکرا کر روحی کو اشارہ کرنے لگی ۔
جب اچانک وہ اگلے ہی لمحے جمپ لگا کراس پر چڑ گئی اور اسے بہت اچھے سےبتا دیا کہ اس کی روحی کہاں ہے ۔
ایام اسے کیچ کرتے ہوئے اپنے سینے سے لگاتے اپنے انداز میں پیار کرتا ہیر کو باہر آنے کا اشارہ کرتا ہوا روم سے نکل گیا تھا جبکہ فائنلی کمرے سے باہر نکل کر روحی اس روم سے آزاد ہوئی تھی ۔
ایام نے اسے پوری بات تو نہیں بتائی تھی لیکن اس کا اس حد تک ریلکس ہونے کا مطلب یہی تھا کہ پریشانی حل ہو چکی ہے اور اگر پریشانی حل نہیں بھی ہوئی تب بھی ایام کوئی نہ کوئی راستہ نکال چکا ہے اس پریشانی کو ختم کرنے کا ۔
ایام کے چہرے پر سکون دیکھ کر بہت ہی پرسکون ہو گئی تھی یقیناً وہ عورت اب ان کے بیچ میں نہیں آئے گی اور اگر آئے گی توایام تھا ہر چیز کو ہینڈل کرنے کے لئے ۔
ان کی روحی کو ان سے کوئی بھی الگ نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی ایام کبھی ایسا ہونے دے سکتا تھا آج اسےاس بات کا یقین ہو چکا تھا
°°°°°°°
وہ بیڈ پر لیٹے اس کا انتظار کر رہی تھی جب کہ وہ کتنی دیر روحی کے ساتھ مستیاں کرتا اسے سلانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اسے بیڈ پر لیٹاتے ہوئے نرمی سے اس کا ماتھا چومتا خود اس کے پاس آتا اس کی گود میں لیٹ گیا ۔
یہ کیا طریقہ ہے مسٹر ایام آپ کو میری گود ہی ملی ہے تکیہ نظر نہیں آ رہا آپ کو سونےکے لئے اس نے سائیڈ پر رکھے تکیے کی طرف اشارہ کیا ۔ لیکن ایام نے اس کی بات کو اہمیت نہ دی کیونکہ وہ مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کرے آرام سے اس کی گود میں لیٹا تھا ۔
وہ کافی دیر اسے گھورتی رہی اور پھر اثر نہ پا کر مسکراتے ہوئے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی ۔
ایام آپ کہہ رہے تھے کہ واپس آکر آپ مجھے کوئی بہت ضروری بات بتانے والے ہیں ۔
اسے ایام کی صبح والی بات یاد آ گئی تھی جب اس نے کہا تھا کہ وہ واپس آ کر اسے کچھ بتانے والا ہے جو اس کے لئے جاننا بے حد ضروری ہے ۔
اس کی بات پر ایام سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا چہرے پر شوخی سنجیدگی میں بدل چکی تھی ۔
ہاں ہیر میں تمہیں ایک بہت ضروری بات بتانا چاہتا ہوں اور اس بات کو سننے کے بعد سمجھنے کی کوشش کرنا یہ جاننا تمہارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے ۔
اگر میں چاہوں تو اس راز کو تم سے چھپا کر بھی اپنی نئی پرفیکٹ زندگی کی شروعات کر سکتا ہوں۔
لیکن یہ تمہارے ساتھ بے ایمانی ہو جائے گی اور آیام سکندر اپنی زندگی میں کسی طرح کی کوئی بے ایمانی نہیں چاہتا ۔
میں نے تمہارے ساتھ اس رشتے کی شروعات بہت مخلص ہوکر کی ہے اور میں اس مخلص پن کو آخر تک نبھانا چاہتا ہوں اسی لئے تمہارے لئے روحی کے بارے میں سب کچھ جاننا بے حد ضروری ہے ۔
وہ اسے بتاتے ہوئے کافی سنجیدگی سے بول رہا تھا جبکہ اس کی سنجیدگی نے ہیر کو ایک بار پھر سے پریشان کر دیا
°°°°°°
ایک وقت تھا جب میں بہت آرام سکون سے اپنی آزاد زندگی جی رہا تھا ۔ مجھے کوئی ٹینشن نہیں تھی ۔
ماں باپ کی دولت میرے لیے میرا فیوچر سیکیور کرنے کا ایک ذریعہ تھی۔
مجھے اپنی کسی چیز کو لے کر کبھی کوئی پریشانی ہوئی ہی نہیں میں ایک آزاد زندگی گزار رہا تھا ۔میری ہر پریشانی حل کرنے کے لئے میرے ماں باپ میرے ساتھ تھے
جب ایک دن اچانک میرے ماں باپ کا ایکسیڈنٹ ہوا اور میں جیسے عرش سے فرش پر آگیا میرے ماں باپ ایک لمحےمیں مجھے چھوڑ کر چلے گئے میں کوئی چھوٹا سا نو عمر بچہ ہرگز نہیں تھا میں بائیس سال کا تھا ہیر۔
میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں ۔اسی لئے مجھے توجہ بھی بھرپور ملی میں اپنے ماں باپ سے اپنے لاڈ اٹھاتا اپنی زندگی کو بہت سکون سے جی رہا تھا لیکن اچانک سے سب کچھ ختم ہوگیا ۔
اور اس دن کے بعد میری زندگی بدل گئی ۔مجھ پر اچانک بہت ساری ذمہداریاں آ گئی میں ٹھیک سے ابھی اپنے ماں باپ کے غم کو بھلا بھی نہ سکا تھا کہ مجھے سمجھ میں آ گیا کہ یہ دنیا ویسی نہیں ہے جیسی میں اپنے ماں باپ کی نظروں سے دیکھتا تھا ۔
اچانک سب کچھ بدل رہا تھا سب چہرے سامنے آرہے تھے ۔مجھے نادان سمجھ کر بہت لوگوں نے بے وقوف بنانے کی کوشش کی کچھ لوگوں نے میٹھی چھری چلا کر مجھے ذبح کرنا چاہا لیکن میں نے سوچ لیا تھا۔ کہ اپنے باپ کی محنت کو میں اس طرح سے رائیگاں نہیں ہونے دوں گا ۔
میں نے اپنے بابا کا سارا بزنس سنبھال لیا اور ہر چیز کو سمجھنے لگا ۔
اس دنیا میں میرے پاس سوائے میرے داداکے اور کوئی رشتہ نہیں تھا ۔
مجھے سنبھالنے کے لئے میرے دادا جان میرے پاس آکر رہنے لگے مجھے لگا جیسے ایک بار پھر مجھے میرا کوئی اپنامل گیا ۔میں اپنے دادا جان کے ساتھ ایک بار پھر سے جینے لگا تھا خوش رہنے لگا تھا ۔
آہستہ آہستہ میں نے ہر چیز کو قبول کرلیا میرے پاس میرے دادا جان تھے اور کچھ نہیں چاہیے تھا دل میں جو بھی ہوتا میں اپنے دادا جان سے شیئر کر لیتا تھا رشتوں کی کمی مجھے ہمیشہ سے تھی ۔لیکن ماں باپ کے بعد دادا کے رشتے کی قدر ہو گئی تھی ۔
میرے دادا جان کی خواہش تھی کہ میں پاکستان جاؤں وہاں کے بزنس کو سنبھالوں اور میں نے اپنے دادا جان کی خواہش کو پورا کیا تھا ۔
تین سال کے اندر اندر ہی میں بزنس کی ہر چیز کو سمجھ گیا ۔
میں ایک کامیاب بزنس مین بن گیا تھا دنیا کے لیے مضبوط انسان تھا لیکن میں مضبوط نہیں تھا ہیر ایک دن اچانک دادا جان مجھے چھوڑ کر چلے گئے اس دن مجھے پتا چلا کہ میں کبھی بھی مضبوط نہیں تھا ۔
مجھے رشتوں کی ضرورت تھی مجھے میرے اپنوں کی ضرورت ہے میرے پاس کچھ نہیں تھا بہت تنہا ہو گیا تھا ۔
دادا جان کے بعد مجھے سہارے کی ضرورت تھی اپنی زندگی میں وہ مجھے شادی کے لئے فورس کرتے رہے لیکن میں کبھی شادی کے لیے مانا ہی نہیں ۔میں اپنی زندگی آزادی سے جینا چاہتا تھا شادی جیسے رشتے کی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں تھی ۔
میرے پاس ہر طرح کی آزادی تھی میں اپنی زندگی کو ہر طرح سے جی سکتا تھا میں عیاشی کر سکتا تھا ۔کسی چیز کی کمی کبھی مجھے ہوئی ہی نہیں
لیکن اس کے باوجود بھی میں کبھی اپنی حد سے آگے نہیں بڑھا ۔
شاید اللہ پاک نے میرے لئے بہت مخلص ساتھی ڈھونڈ کر رکھا تھا اس لئے مجھے کبھی اس ناپاکی کے دلدل میں ڈوبنے نہیں دیا وہ اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے بولا جبکہ ہیر حیران سی سن رہی تھی اس سارے قصے میں اس کی شادی اورروحی کا تو کہیں کوئی ذکر نہ تھا ۔
پھر میری زندگی میں ایک دن ایلا آئی ایلا بہت اچھی تھی اس کے ساتھ میری جلدی دوستی ہو گئی ۔
لیکن وہ صرف دوستی تھی وہ بھی صرف اس کی طرف سے میں نے توکبھی اسے دوست بھی نہیں سمجھا یہ بات وہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھی وہ اس یکطرفہ دوستی کو آگے بڑھانا چاہتی تھی اور میرا مذہب اس چیز کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔
مجھے جلد ہی احساس ہوگیا کہ اس لڑکی کے ساتھ بات کر کے میں نے غلطی کی ہے بے شک وہ دوستی کا رشتہ بھی صرف اسی کی طرف سے تھا ۔لیکن اس کے دل میں میرے لیے جذبات جاگ گئے تھے ۔ اسی لئے میں نے خود ہی اس سے کنارہ کشی کر لی ۔
لیکن میں نہیں جانتا تھا میرا وہ قدم میرے لیے کتنا غلط ثابت ہو سکتا ہے ۔
انہی دنوں اس کا برتھ ڈے تھا اور بہت منتوں کے بعد اس نے مجھے اس پارٹی میں بلایا تھا میں اس کی منتوں اور ترلوں کی وجہ سے اس پارٹی میں چلا گیا لیکن اس نے میری ڈرنک میں کچھ ملا دیا ۔
اور اس رات کے بعد میں خود کو گنہگار سمجھنے لگا اپنے ماں باپ کے سامنے اپنے دادا کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل نہیں رہا ۔ہیر میں نہیں جانتا مجھ سے وہ غلطی کیسے ہوئی ۔
لیکن شاید وہ بھی میری زندگی کا حصہ تھا اس رات ہم دونوں کے بیچ نزدیکیاں بڑھ گئی ۔
لیکن اس کے بعد وہ خود ہی مجھ سے دور دور رہنے لگی اس نے خود ہی مجھ سے رابطہ ختم کر لیا میں خود اپنی ضمیر کی ملامتوں میں گرا ہوا تھا ۔
اس وقت میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن ایک مہینے بعد وہ اچانک سے واپس آگئی اس نے کہا کہ وہ پریگنٹ ہے میرے بچے کی ماں بننے والی ہے .
لیکن وہ اس بچے کو رکھنا نہیں چاہتی تھی یہاں تک کہ میں نے اسے شادی کی آفر بھی کی ۔لیکن وہ اباوشن کروانا چاہتی تھی اور اس کے لیے اسے میرے سائن کی ضرورت تھی جو میں کرنے کو تیار نہیں تھا میں اپنے سارے رشتے کھو چکا تھا ہیر میری روحی اس دنیا میں آنے والی تھی میں کس طرح سے انکاری ہو جاتا ۔وہ میری اولاد تھی۔
میں نے اس سے کہا کہ میں اسے قیمت دوں گا اس بچے کی۔بس وہ وقت پورا ہونے تک میرا بچہ اپنی کوکھ میں رکھے گی میں اس کی قیمت ادا کروں گا ۔مجھے وہ چاہیے تھا ہیر مجھے میری روحی چاہیی تھی۔
میں تنہا تھا ہیر اللہ پاک مجھے میری اولاد دے رہا تھا میں اس سے منہ نہیں پھیر سکتا تھا وہ اس کے ہاتھ تھامیں بولے جا رہا تھا جبکہ ہیر کے چاروں طرف سناٹا چھا گیا تھا ۔
اگر اسے کچھ پتہ تھا تو صرف اتنا کہ روحی اس کی “ناجائز اولاد” تھی۔
ایام نے کبھی شادی کی ہی نہیں تھی ۔شاید یہی وجہ تھی کہ وہ روحی کی حقیقت ٹھیک سے بیان ہی نہیں کرتا تھا ۔
یقینا اس کی پیدائش کے وقت ہی اسے اپنے ساتھ پاکستان لے آیا تھا اور لوگوں کو یہی بتایا تھا کہ اس نے اپنی پہلی بیوی کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ حقیقت یہ تھی اس کی پہلی بیوی کوئی تھی ہی ہی نہیں ۔
روحی دنیا والوں کے سامنے اس کی اولاد تھی درحقیقت وہ ایک رات کے ” ناجائز “تعلق کی نشانی تھی ۔
°°°°°°°