60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon ) Episode 38


وہ لوگ آج لندن آچکے تھے یہ جگہ مانچسٹر سے اسے کافی زیادہ بہتر لگ رہی تھی کیونکہ یہ جگہ سڑکوں کے بیچ میں ہرگز نہیں تھی یہ ہوٹل آبادی سے ذرا الگ ایک بہت خوبصورت سمندر کے قریب بنا ہوا تھا ۔
پہاڑ وغیرہ تو ہیر کو یہاں بھی نہیں ملے تھے لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس جگہ آ کر کافی حد تک مطمئن تھی کیونکہ ہر وقت اسے یہاں گاڑیوں کا شور سننے کو نہیں مل رہا تھا ۔
اور دوسرا وہ اس ڈر سے بھی باہر نکل آئی تھی جو وہ اس ہوٹل میں محسوس کر رہی تھی کہ کوئی ہر وقت ان پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔یہاں ماحول تھوڑا الگ تھا۔یہ ایک کپلز ہوٹل تھا شاید ہنیمون کپلز کے علاوہ یہاں کچھ نہیں تھا ۔اس ہوٹل میں بہت بہت سارے کپلزایک دوسرے میں ہی مگن تھے کچھ حد تک بے حیائی تھی جسے وہ نظر انداز کر گئی تھی اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی تھی
یہاں اسے کسی طرح کا کوئی ڈر نہیں تھا ۔ ایام اور روحی کے ساتھ وہ بالکل پر سکون تھی ۔یہاں آتے ہی اس نے ایام سے جو سب سے پہلے الفاظ کہے تھے وہ یہ تھے کہ خدا کا شکر ہے کہ وہ یہاں سکون سے سو سکے گی جس پر ایام نے اسے سختی سے گھورا تھا وہ اسے یہاں سونے کے لئے تو یقینا نہیں لایا تھا لیکن ایام کے منہ بگاڑنے پر وہ خوب کھکھلائی تھی ۔
آپ جتنا مرضی منہ بگاڑ لیں لیکن خبردار جو میری نیند میں کسی بھی طرح کا خلل ڈالا ۔
ڈارلنگ یہ ساری تو رات کی باتیں ہیں میں تمہیں رات کو ہی بتاؤں گا ۔اس نے دھمکایا تھا لیکن ہیر نے پرواہ نہ کی
°°°°°°°
وہ آج کافی گھومے پھر کر واپس آئے تھے اور کافی ساری شاپنگ بھی کی تھی اس نے تانیہ کے لیے اپنی پسند سے کچھ چیزیں لینی تھی ۔اور تانیہ کے لئے لیتے ہوئے اسے مس میری کا بھی خیال آگیا ۔
ان کے ساتھ یقیناً تانیہ جیسی دوستی تو نہیں تھی لیکن وہ بھی اسے بہت زیادہ پسند کرتی تھی اس نے اپنی پسند کے مطابق ان کے لئے بھی کچھ خریداری کی تھی ۔
اور اس سب کے دوران روحی اور ایام ہر چیز سے بے نیاز ایک دوسرے میں ہی مگن تھے روحی کو بس یہ پتا تھا کہ شاپنگ ختم کرنے کے بعد وہ کسی پارک میں انجوائے کرنے کے لیے جائیں گے اسی لیے وہ بار بار ہیر سے کہہ رہی تھی کہ وہ اپنی شاپنگ کو جلدی ختم کرے۔
لیکن وہ بہت کوشش کے بعد بھی سب کچھ جلدی جلدی نہیں کر پا رہی تھی جس کے لئے روحی اس سے خفا بھی ہو رہی تھی ۔اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا وہ تانیہ اور مس میری کے پسند کے مطابق کچھ لینا چاہتی تھی لیکن اسے ان دونوں کی پسند کا اندازہ نہیں تھا ۔جس کی وجہ سے اتنی دیر ہو رہی تھی ۔
تلے بابادانی ام تلتے ہیں مامادانی تو نی آنا (چلے بابا جان نے ہم دونوں چلتے ہیں ماما جانی کو نہیں آنا) ۔وہ ناراضگی سے بولی ۔
ارے نہیں نہیں مجھے آنا ہے بس شاپنگ کمپلیٹ کرنے دیں وہ مسکین سی شکل بنا کر اس سے کہنے لگی ۔
اپ تی شپنگ کتم ہی نی ہو لی (آپ کی شاپنگ ختم ہی نہیں ہو رہی) وہ اب تک ناراض لگ رہی تھی ۔
اچھا بابا میں شاپنگ یہیں پر ختم کر رہی ہوں چلیں پہلے ہم روحی بےبی کوخوش کرتے ہیں باقی سب کچھ بعد میں ہو جائے گا وہ روحی کے گال کھینچتے ہوئے بولی تو روحی بھی خوش ہوگئی
°°°°°°
وہ شوپنگ بیگز ہاتھ میں پکڑے روم میں پہنچے تھے روحی کے ساتھ کھیلتے کھیلتے تو آج ہیر بھی کافی زیادہ تھک چکی تھی لیکن پھر روحی کو کوئی پروا نہ تھی وہ اب روم میں آکر بھی کہانی سننے کو تیار بیٹھی تھی ۔
ہیر بیڈ پر لیٹی ہوئی اسے کہانی سنا رہی تھی جبکہ ایام روحی کے سونے کا انتظار کر رہا تھا ۔تاکہ وہ ہیر کے ساتھ رومانٹک ہو سکے لیکن آج روحی نے
جیسے ضد باندھ لی تھی وہ سونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔
ہیر اپنی کوشش میں ناکام ہوتے ہوئے اسی کو اشارہ کرنے لگی اور پھر ایام روحی کو سلانے کے لئے میدان میں کودا تھا ۔
روحی بیٹا سو جاؤ نا آپ نے کب تک جاگنا ہے صبح کیا پھر سے اس پارک میں گھومنے کے لیے نہیں جانا وہ اسے لالچ دیتے ہوئے کہنے لگا تھا ۔
لیتن مدھے نینی نی آلی(لیکن مجھے نیند نہیں آرہی ) وہ اس کے لالچ میں آتے اداسی سے بولی تھی
ایک تو اسے نیند نہیں آ رہی تھی اور صبح اسے واپس اس پارک میں بھی جانا تھا ۔
بےبی آپ کوشش تو کرو نیند آجائے گی وہ اسے اپنے سینے پر لٹاتے ہوئے بولا تھوڑی دیر پہلے وہ دودھ بھی پی چکی تھی اکثر تو ایسا ہوتا تھا کہ وہ دودھ پیتے پیتے ہی سو جاتی تھی لیکن آج ایسا بھی نہ ہوا ۔
اسی لئے انہیں الگ سے محنت کرنی پڑرہی تھی اور پھر جیسے نیند کو روحی پرترس آ گیا تھا وہ پارک میں جانے کی سوچوں کے ساتھ گہری نیند میں اتر چکی تھی لیکن یہ کیا ہیر بھی سو گئی ۔
لیکن ہیر کو جگانا اس کے لیے کون سا مشکل تھا وہ اس کے قریب آتے ہوئے بس اس کے لبوں پر اپنے لب رکھتا اس کی نیند بھگانے میں کامیاب ہو چکا تھا ۔
سو گئی روحی اس نے آنکھیں بمشکل کھولتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں روحی تو سو گئی لیکن روحی کے بابا کو سلائے بناآپ کیسے سو گئی ۔۔۔اس کی کمر کو جھٹکا دیتے ہوۓ وہ اسے اپنے قریب کرتا سوالیہ انداز میں بولا تھا ۔
ہیر نے کوئی جواب نہ دیا بس اس کی بات پر مسکراتے ہوئے اس کی جسارتوں کو سہلانے لگی
°°°°°°
اس کی آنکھ رات کے کسی پہر کھلی تھی وہ بھی ایام کو اپنے قریب محسوس نہ کرکے اس نے نیند میں بیڈ پر ہاتھ رکھا تو وہاں کسی کا وجود اسے محسوس نہ ہوا ۔
شاید وہ روحی کے بیڈ پر چلا گیا ہوگا اس نے اٹھ کر دیکھا تو روحی کا بیڈ بھی نیم اندھیرے میں صرف روحی کے وجود کو ہی دکھا رہا تھا ۔
ایام کہاں چلے گئے وہ پریشانی سے اٹھ بیٹھی تھی جب اسے بالکنی میں سایہ سا نظر آیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ پہچان چکی تھی کہ وہاں ایام کھڑا فون پر کسی سے باتیں کر رہا ہے ۔
لیکن رات کے اس وقت بھلا کس سے باتیں کر رہا تھا اور اگر اسے کسی سے بات کرنی ہے تو یہاں کمرے میں کرلیتا اتنی سردی میں وہ باہر کیوں نکل گیا تھا شاید ان کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے ۔
اس کا دل چاہا کہ وہ اس کے پیچھے چلی جائے اور اسے کمرے میں آنے کے لیے کہے لیکن پھر یہ سوچ کر کہ شاید وہ کسی سے ضروری بات کر رہا ہوگا وہ باہر نہ گئی یقیناً پاکستان سے ہی تھا ۔
اسی لئے تو اتنی رات کو فون آیا تھا ۔پاکستان اور یہاں کے وقت میں بہت زیادہ فرق تھا ۔شاید وہاں اس وقت دن ہوگا ۔
اسی لئے تو سامنے والے نے بنا اس کے ڈسٹرب ہونے کے خیال سے فون کر دیا تھا اب ہیر اس کے فون ختم ہونے کا انتظار کررہی تھی
ارے تم جاگ رہی ہو وہ اپنی کال ختم کرتا کمرے میں واپس آیا تو اسے جاگتے ہوئے پا کر مسکرا دیا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو اس نے اسے سونے کی اجازت دی تھی لیکن اب وہ پھر سے جاگ گئی تو وہ اس کے پاس ہی آ کر بیٹھ گیا ۔
چہرے پر حد درجہ پریشانی تھی جسے ہیر نے نوٹ کر لیا تھا وہ اتنا پریشان کیوں تھا اسے بالکل بھی سمجھ نہیں آیا تھا لیکن اسے پریشان دیکھ وہ خود بھی پریشان ہوگئی تھی ۔
کیا بات ہے ایام آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں کوئی پریشانی ہے کیا آپ مجھ سے شئیر کرسکتے ہیں وہ اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامیں بہت فکر مندی سے بولی تو وہ مسکرا دیا ۔
ارے میری جان میں بالکل بھی پریشان نہیں ہوں بس فون والے نے اچھی خاصی نیند سے جگا دیا نیند خراب ہو گئی ۔اور تمہیں تو پتہ ہے جب میری نیند خراب ہوتی ہے تو میری شکل کچھ ایسی ہی بن جاتی ہے ۔شاید اسی لیے تمیں ایسا لگ رہا ہوگا ۔
چلو آؤ سوتے ہیں صبح پھر روحی کو اس کی پسند کی جگہ پر بھی لے کر جانا ہے وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا ۔
نہیں بس تھوڑی دیر میں فجر کی اذان ہونے والی ہے میں اب نماز پڑھ کر ہی سووں گی۔بیڈ کروان سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی ۔
چلو یار یہ بھی اچھی بات ہے مل کے نماز ادا کریں گے وہ بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ کر اذان ہونے کا انتظار کرنے لگا لیکن نہ جانے کیوں وہ ہیر کو آج بہت پریشان لگ رہا تھا ۔حالانکہ وہ اس کے سامنے مسکرا رہا تھا
°°°°°°°
صبح اس کی آنکھ کھلی تو روحی اس کے ساتھ ہی بیڈ پر سوئی ہوئی تھی جبکہ کمرے میں آیام موجود نہیں تھا ۔
یہ صبح صبح اٹھ کر کہاں چلے گئے۔جوگنگ پر گئے ہوں گے وہ بڑبڑاتے ہوئے ایک محبت بھری نظر روحی کو دیکھتے خود بھی فریش ہونے چلی گئی تھی لیکن جب تک وہ فریش ہو کر نکلتی روحی بھی جاگ جاتی ۔
اسی لئے روحی کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ فریش ہو چکی تھی ۔
وہ واش روم سے نکلی تو روحی اب تک سو رہی تھی وہ اس کے کپڑے نکالنے لگی کیونکہ وعدے کے مطابق آج انہوں نے روحی کی پسند کی کسی جگہ پر جانا تھا سو روحی کی تیاری ایام کے آنے سے پہلے مکمل کر لینا چاہتی تھی ۔اور اس نے ایسا ہی کیا تھا روحی کے جاگنے سے پہلے ہی وہ ہر چیز تیار کر چکی تھی یہاں تک کہ ایام کے کپڑے بھی اس نے نکال کر رکھ دیے تھے ۔
اور اس کے اندازے کے مطابق روحی تھوڑی ہی دیر میں جاگ چکی تھی اور اب اس کے ساتھ خوب مستیاں کر رہی تھی ۔
لیکن نہ جانے ایام کہاں رہ گیا تھا وہ کافی دیر اس کا انتظار کرتی رہی یہاں تک کہ وقت گزرتے گزرتے بارہ سے بھی اوپر نکل گیا اس نے روم میں ہی کھانا منگوا کر لنچ کیا تھا ۔
ایام اس طرح تو کہیں نہیں جاتا تھا پھر بھلا وہ کہاں جا سکتا تھا وہ ایام کو لے کر کافی پریشان تھی ۔
جبکہ روحی تو باقاعدہ ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی
یہاں پر تو وہ اسے بتائے بنا کہیں نہیں جا سکتا تھا ۔اس نے دو تین بار فون کرنے کی بھی کوشش کی لیکن فون بھی مسلسل بزی آ رہا تھا
°°°°°°°
شکر ہے آپ واپس تو آئے کہاں چلے گئے تھے آپ میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی اس طرح سے کوئی کرتا ہے کیا۔۔۔۔۔۔؟
اگر آپ نے کہیں جانا تھا تو کم ازکم بتا کر تو جاتے ٹائم دیکھیں دوپہر کا ایک بج رہا ہے ۔
اس نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ اسے دیکھتے ہی شروع ہو گئی لیکن اس کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر اس کے لبوں پر چپ لگ گئی تھی وہ اتنا پریشان کیوں تھا اسے سمجھ نہ آیا
ایم ریلی سوری یار وہ دراصل کچھ کام آگیا تھا جانا پڑ گیا تھا ہاں آج ہم کہاں جانے والے ہیں وہ روحی کو اٹھا کر چومتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا جب کہ ہیر تو بس اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی جہاں پریشانی صاف نظر آرہی تھی ۔
ایام کیا بات ہے آپ مجھے کل رات بھی پریشان لگ رہے تھے اور اب بھی پریشان لگ رہے ہیں اور یہ آپ کو کیا کام آ گیا آپ نے تو مجھے کبھی نہیں بتایا کہ لندن میں بھی آپ کا کوئی بزنس ورک ہوتا ہے وہ پریشانی سے اس سے پوچھنے لگی تھی ۔
ہاں جان یہاں پر بھی بزنس کے پنگے لے رکھے ہیں میں نے کسی کو پتہ چل گیا تھا کہ میں یہاں آیا ہوں تو بس پھر بار بار فون کر نا شروع کر دیا لیکن اب ہر طرح کے ٹینشن کو اس روم سے باہر چھوڑ آیا ہوں چلو اب چلتے ہیں ۔
وہ اس کے چہرے کو تھامتے ہوئے مسکرا کر بولا تو ہیرنے صرف ہاں میں سر ہلایا کیوں کہ اس کی آنکھوں میں پریشانی اب وه بہت صاف دیکھ چکی تھی نہ جانے کیا بات تھی جو اس سے شئیر بھی نہیں کر رہا تھا
°°°°°°°
روحی سامنے پارک میں کھیل رہی تھی ہیر کافی دیر اس کے ساتھ اس کھیل میں اس کا ساتھ دیتی رہی لیکن پھر تھک ہار کر ایام کے پاس آ بیٹھی تھی
کیا بات ہے آج آپ اتنے خاموش خاموش کیوں ہیں ۔مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ آپ پریشان ہیں وہ پھر سے پوچھنے لگی تھی ۔
ارے میری جان میں تمہیں پریشان کیوں لگ رہا ہوں صبح بھی یہی کہہ رہی تھی اب بھی یہی کہہ رہی ہوں حالانکہ میں بالکل بھی پریشان نہیں ہوں بس کل رات میں نیند ٹھیک سے پوری نہیں ہوسکی پہلے میری بیٹی نے مجھے نہیں سونے دیا اور پھر بیوی نے بہت تنگ کیا وہ شرارتی انداز میں سے دیکھتے ہوئے بولا تھا تو ہیراسے گھورنے لگی ۔
قسم سے جب تم مجھے اس طرح سے گھورتی ہو نہ دل کرتا ہے میں تمہیں کھا جاؤں اس کا انداز اب بھی شرارت سے بھرپور تھا ۔
باتوں میں تو آپ سے ویسے بھی کوئی نہیں جیت سکتا میں نے نہیں تنگ کیا تھا آپ نے مجھے تنگ کیا ہے اور اگر اس وجہ سے آپ پریشان ہو رہے ہیں نہ تو پھر ایسےہی رہے ۔آپ نے بےکار میں مجھے بھی پریشان کر دیا کہ وہ کہہ کر اس کے قریب سے اٹھتی روحی کی طرف چلی گئی تھی ۔
جب کہ ایام کے مسکراتے لب سکر گئے تھے وہ اسے نہیں بتا سکتا تھا اپنی پریشانی کی وجہ اس سے یقینا یہ بات چھپانے والی ہرگز نہیں تھی لیکن یہاں آکر یہ بات کوئی اور ہی رخ اختیار کر چکی تھی ۔
وہ اسے یہاں لایا سب کچھ بتانے کے لئے ہی تھا لیکن اسے اندازہ نہ تھا کہ بات اتنی بگڑ جائے گی ۔اس وقت وہ اسے کچھ بھی بتا کر مزید پریشانی میں نہیں ڈال سکتا تھا
°°°°°°°°
تم مجھے بلیک میل نہیں کر سکتی میں نے تمہیں پوری پوری قیمت دی تھی ہاں میں اس وقت لندن میں ہی ہوں اور تم سے ملنے بھی آؤں گا لیکن یہ مت سوچنا کہ میں تمہاری بات مان لوں گا ۔
میرے پاس ثبوت موجود ہے میں نے تمہیں پیسے دیے تھے اور پوری پوری قیمت ادا کی تھی میں نے تمہارے ساتھ کوئی بھی دھوکا بازی نہیں کی ہے اور نہ ہی تم مجھ پر کچھ بھی ثابت کر سکتی ہو اور خبردار جو تم نے ایسا کچھ بھی کرنے کے بارے میں سوچا۔
تم مجھے دھمکی دے رہی ہو تم نے کیا مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے میں کیا سمجھ نہیں سکتا کہ تم یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہو بتاؤ کیا چاہیے تمہیں کتنے پیسے چاہیے اپنا منہ بند کرنے کے لئے ۔
میں تمہیں تمہاری منہ مانگی قیمت ادا کروں گا ۔بتاؤ کیا قیمت ہے تمہاری۔ تم جو کہو گی میں تمہیں دینے کے لیے تیار ہوں لیکن یہ بلیک میلنگ بند کرو یہیں پر ۔
نہیں ہم یہ سب کچھ کورٹ کے باہر بھی ہینڈل کر سکتے ہیں تو فضول میں ان سب چیزوں میں پولیس کو کیوں گھسیٹ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔میں کہہ تو رہا ہوں کہ میں تمہیں تمہاری منہ مانگی رقم ادا کروں گا ۔
نہیں اس بار تمہیں وہ کرنا پڑے گا جو میں کہوں گا اس دفعہ جو ڈیل ہوگی وہ زندگی بھر کے لیے ہوگی کچھ وقت کے لئے نہیں اس دفعہ تم اپنی قیمت لگا سکتی ہولگا لو ۔۔۔۔۔۔میں اس مصیبت کو یہیں پر ختم کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد تمہارا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور نہ ہی تم کبھی زندگی میں میرے راستے میں آؤ گی۔
ٹھیک ہے میں ملتا ہوں تم سے لیکن یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی یہ بات یاد رکھنا ۔سمجھ لو کہ یہ تمہاری زندگی کا آخری موقع ہے جس میں تم وہ ہر چیز حاصل کر سکتی ہو جس کی تمہیں خواہش ہے میں تمہیں ہر وہ چیز دوں گا جس کی تمنا ہے لیکن یہ قصہ آج یہی پر ہی ختم ہو جانا چاہیے ۔
اس ملاقات کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہو جائیں گے وہ شرط رکھ رہا تھا ۔یہ جانے بنا کہ کوئی ہے جو اس کی ہر بات کو سن اور سمجھ رہا ہے
°°°°°°°
کس سے بات کر رہا تھا ایام اور کس بارے میں بات کر رہا تھا کون ہے جو اسے بلیک میل کر رہا ہے اور وہ جو کوئی بھی ہے کوئی لڑکی ہے اتنا تو وہ ایام کی باتوں سے سمجھ گئی تھی۔
آیام اس سے کچھ چھپا رہا ہے کسی چیز کو لے کر پریشان تھا وہ اس بات کا اندازہ تھا کہ یہاں آتے ہی وہ پریشان ہو گیا تھا لیکن اس کی پریشانی کس نوعیت کی ہے یہ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
لیکن آج اس کے فون کال سے کافی حد تک اس کی پریشانی کو سمجھ چکی تھی ۔
فون پر کوئی لڑکی تھی جس کا تعلق شاید کسی انگلش کنٹری سے تھا کیونکہ وہ فون پر انگلش میں بات کر رہا تھا۔
لیکن وہ لڑکی ایام کو کسی بات کے لئے بلیک میل کر رہی تھی اور یقینا ایام کی پریشانی کی وجہ بھی بلیک میلنگ ہی تھی ۔
کون تھی وہ لڑکی اور ایام کو کسی بات پر بلیک میل کر رہی تھی ۔وہ پریشانی سے یہی سب سوچ رہی تھی۔
اسے پتہ تھا ایام اسے ان سب چیزوں کے بارے میں ہرگز کچھ نہیں بتائے گا لیکن وہ پھر بھی سب کچھ جاننا چاہتی تھی آخر اپنے شوہر کی پریشانی جاننے کا حق تو رکھتی ہی تھی
°°°°°°°