60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon ) Episode 37


°°°°°°°°
اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ایام کی باہوں میں قید پایا۔وہ پوری طرح اسے خود میں قید کیے ہوئے تھا۔جناب کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی بیوی کو ہگ کیے بنا نیند نہیں آتی۔
رات کو کافی دیر سے واپس آئے تھے ۔
انہیں یہاں آئے ہوئے آج چوتھا دن تھا اور ایام کے سامنے وہ کتنا ہی کیوں نہ کہے کہ اسے مانچسٹر پسند نہیں آیا لیکن اندرہی اندر مانچسٹر کی خوبصورتی دیکھ کر وہ بھی اس جگہ کو پسند کرنے لگی تھی ۔
کیونکہ یہ اتنی بھی بری نہیں تھی جتنا وہ ایام کے سامنے کہہ رہی تھی اسے اور کچھ پسند آیا ہو یا نہ آیا ہو لیکن یہاں کے پارکس اور لائبریریز اسے بہت پسند آئی تھیں ۔خاض کر فری لائبریری آف مانچسٹر ۔
یہ الگ بات تھی کہ ایام نے اسے زیادہ دیر لائبریری میں رکنے نہیں دیا تھا یہاں اسے ایک بہت بڑی لائبریری دیکھنے کو ملی تھی اور اس لائبریری کی سب سے بیسٹ بات یہ بھی کہ وہ بالکل فری تھی ۔کہا جاتا ہے کہ اس لائبریری کو 1852 میں کسی انگریز نے بنایا تھا جسے بہت زیادہ کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ پوری دنیا سے لوگ آکر یہاں کتابیں پڑھیں۔
اس وجہ سے اس نے یہاں ہر زبان میں کتابیں رکھوائی تھیں جو آج بھی یہاں پر موجود تھیں۔جو کہ بالکل مفت میں پڑھنے کے لیے دی جاتی تھیں
وہاں پر کوئی بھی کتاب لینے کا ایک پیسہ بھی نہیں لیا جاتا تھا وہاں آرام سکون سے کتاب پڑھنے کے بعد واپس رکھ کہ جہاں چاہیں چلے جائیں لیکن شرط یہ تھی کہ وہ کتاب پڑھنے کی اجازت صرف لائبریری کے اندر ہی تھی اور ایام کے پاس اتنا فالتو ٹائم نہیں تھا جو وہ اپنے ہنی مون ٹائم کو اس لائبریری میں برباد کرتا ۔
ایک یہ وجہ بھی تھی کہ وہ مزید ایام کو اس جگہ لانے پر تنگ کر رہی تھی ۔ورنہ کچھ حد تک تو اسے بھی یہ جگہ پسند آنے لگی تھی۔لیکن اسے ایام کو تنگ کرنے میں بہت مزہ آ رہا تھا
وہ آہستہ سے اس کے قریب سے اٹھتے ہوئے فریش ہونے چلی گئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ روحی اور ایام کا اب بھی جلدی اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ اتنی دیر تک بستر پر بیٹھ نہیں سکتی تھی
°°°°°°°
آج ایام نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے ایسی جگہ لے کر جائے گا جو اسے بہت پسند آئے گی ۔
جس کے لیے وہ کافی زیادہ ایکسائٹڈ بھی تھی لیکن یہ باپ بیٹی تو اپنی نیند بھی پوری نہیں کر رہے تھے ۔
اس کا دو تین دفعہ دل چاہا کہ وہ ایام کو جگا دے لیکن اس سے اس کی اپنی ہی جان مشکل میں آ سکتی تھی کیونکہ اس سے ایام کا رومینٹک موڈ بھی آن ہو سکتا تھا۔جو اس کی نازک جان کے لیے اچھا نہیں تھا۔
کیونکہ جب تک روحی نہ جاگ جائے تب تک تو ایام نے ویسے بھی کہیں نہیں جانا تھا وہ اپنی بیٹی کی نیند کے معاملے میں کسی طرح کی کوئی لاپرواہی نہیں کرتا تھا ۔
اس کا ماننا تھا کہ جب تک نیند پوری نہیں ہوگی تب تک وہ انجوائے کیسے کرے گی ۔اور جب تک روحی جاگتی تب تک اسے ایام کے رومینٹک موڈ کے ساتھ اس کی جسارتیں بھی سہنی پڑتی ۔اس لیے اس کا سونا بہتر تھا۔
تب تک وہ آرام سکون سے اپنی تیاری مکمل کر سکتی تھی اس نے سب سے پہلے باتھ لیا اور پھر ایام اور روحی کے کپڑے تیار کرنے لگی ۔
°°°°°°°°
آدھے گھنٹے میں ہر چیزوہ تیار کرکے رکھ چکی تھی اب اگر اسے کسی چیز کا انتظار تھا تو وہ ان دونوں کے جاگنے کا اب تو اسے ہلکی ہلکی بھوک لگنا بھی شروع ہو چکی تھی ۔لیکن یہ دونوں تو جاگ ہی نہیں رہے تھے مانا وہ صبح فجر پڑھ کر سوئے تھے لیکن پھر بھی اب تو بارہ بجے سے اوپر ٹائم گزر چکا تھا۔
اب تو ان کا جاگنا بنتا تھا لیکن یہ باپ بیٹی تو گھوڑے کیا پورا اصطبل بیچ کر سو رہے تھے تو جاگنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
اس سے پہلے کہ وہ مایوس ہو کر بیٹھتی اسے روحی میں تھوڑی بہت حرکت محسوس ہوئی وہ اگلے ہی لمحے روحی کے پاس آ گئی تھی جو اب آنکھیں ملتی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ۔
جاگ گیا میرا بچہ۔۔۔۔۔؟چلو اب جلدی سے آپ کو تیار کرتے ہیں ۔
پھر ہم بابا کو جگائیں گے ۔اور پھر ہم باہر گھومنے جائیں گے جہاں بابا جانی نے آج لے کے جانے کا وعدہ کیا تھا ۔
وہ اسے اپنی باہوں میں اٹھا کر اس کے دونوں گالوں کو چومتے ہوئے بولی
نی پلے بابادانی تو داگائیں (نہیں پہلے بابا جانی کو جگائیں)
برنہ وہ پھل اتا شارا ٹیم لگا دےدے( ۔۔ورنہ پھر اتنا سارا ٹائم لگا دیں گے )۔اس نے اسے دیکھتے ہوئے بڑے کام کی بات بتائی تھی
ہاں یہ بھی آپ ٹھیک کہہ رہی ہو پہلے ہم ان کو جگا لیتے ہیں اس کے بعد ہم اپنی تیاری کریں گے ورنہ ان کو تیار ہونے میں الگ سے ایک گھنٹہ لگ جائے گا وہ اس کی بات سے پوری طرح اتفاق کرتے ہوئے اسے اٹھا کر ایام کے سینے پر بٹھا چکی تھی اور اب ایام جانے اور اس کی بیٹی ۔
اتھو اتھو شمبا آ دیا۔(اٹھو اٹھو سمبا آ گیا)۔۔۔۔۔۔
ام نےدانا اے دھومنےتےلیے (ہم نے جانا ہے گھومنے کے لیے)
وہ اس کے سینے پر درادر ڈانس کرتے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کر چکی تھی ۔
اسے جاگتے پاکر اس سے پہلے کہ وہ بھاگتی وہ اگلے ہی لمحے اسے پکڑ کر اپنے سینے میں بیچتا گدگدی کرنے لگا تھا اور وہ کھکھلاتے ہوئے اپنی ماں کو پکارنے لگی تاکہ وہ آکر اسے اس کے باپ سے بچائے لیکن نہیں ہیر ایسا ہرگز نہیں کر سکتی تھی اسے بھی اپنی جان بہت پیاری تھی ۔
لیکن اب وہ اپنی معصوم بچی کا کیا کرتی جو اس کی منتظر تھی جو اس کے لیے ہی تو اس خطرے کو مول لے بیٹھی تھی ۔
ایام چھوڑ دیں پلیز وہ میرے کہنے پر آپ کو جگا رہی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے الزام اپنے سر لے لیا تھا ۔
اچھا تو تمہارے کہنے پر یہ شمبا بنی ہوئی تھی شرم نہیں آتی ایک معصوم سے بندے کی نیند برباد کرتے ہوئے وہاں سے گھورتے ہوئے بولا تھا لیکن ہیر نے بڑی معصومیت سے سر نفی میں ہلا تے ہوئے اسے بتایا تھا کہ اسے ایسا کرنے پر بالکل شرم محسوس نہیں ہوئی بلکہ وہ تو بہت خوشی سے یہ کام سرانجام دے رہی تھی ۔
تمہیں تو میں۔۔۔۔۔۔وہ اس کا بازو پکڑ کراپنی طرف کھینچنے ہی والا تھا جب وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی سوری سوری بولنے لگی تھی کیونکہ اسے بھی بہت گدگدی ہوتی تھی ایام کو اس پر ترس آگیا تھا لیکن روحی کو بلکل نہ آیا جو اگلے ہی لمحے اس کی گردن پر اپنے ٹھنڈے ہاتھ لگانے لگی۔
وہ حیران رہ گئی ہیر اپنی گدگدی اگنور کرتے اسے دیکھنے لگی تھی جو اسے بچانے میدان میں کودی تھی وہ بھی اس پر ہاتھ صاف کر رہی تھی ۔بلکہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی تھی
اس احسان فرموش شمبا کی تو ایسی کی تیسی ۔۔۔۔وہ اگلے ہی لمحے اسے پکڑ کر ایام کے حوالے کرتے خود اس سے اپنا آپ چھڑواتی اٹھ کر اپنی تیاری مکمل کرنے لگی تھی اب ایام تھا اور روحی کی کھلکھلاہٹ تھی
°°°°°°
یہ جگہ اتنی خوبصورت تھی جتنی اس نے بتایا تھا۔یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے اتنے سارے پہاڑوں کے بیچ میں لایا تھا۔ مانچسٹر میں اس طرح کی جگہ کی اسے بالکل بھی امید نہیں تھی ۔
ہاں وہ پچھلے چار پانچ دن سے ایسی ہی جگہ کو مس کر رہی تھی اسے ایسی جگہ دیکھنے کی خواہش تھی جہاں بڑے بڑے پہاڑ اور ان پہاڑوں کے پیچھے سے نکلتا ہوا سورج جو ماحول کو بے تحاشہ خوبصورت بنا دے اور ایسا منظر اس وقت اس کی آنکھوں کے بالکل سامنے تھا ۔
ایام کیا ہم یہیں پر نہیں رہ سکتے ہم کیوں بورنگ سے ہوٹل میں رہتے ہیں مجھے وہ جگہ بالکل بھی پسند نہیں ہے ایک تو اتنی لمبی عمارتیں اور پھر وہاں آس پاس کوئی ایسی خوبصورتی بھی نہیں ہے ۔
جسے دیکھ کرمیں خوش ہو جاؤں کیوں نہ ہم یہیں رہتےہیں یہاں ہی کسی ہوٹل میں اپنا روم بک کروا لیتے ہیں ۔
وہ اس کے بازو سے لگی بڑی لاڈ سے بول رہی تھی جیسے وہ اسے منانے کا پورا ارادا رکھتی ہو ۔
نہیں جان ہم جہاں ہیں وہاں بالکل ٹھیک ہیں اور ویسے بھی وہ مانچسٹر کا بیسٹ ہوٹل ہے میرا نہیں خیال کہ ہمیں فلحال چینج کرنا چاہیے اور اب مزید ایک آدھ ہفتہ ہی بچا ہے ہم واپس پاکستان لوٹ جائیں گے تو کیا ضرورت ہے ہوٹل روم چینج کروانے کی ۔
ویسے بھی دو دن بعد اب ہم لندن کی طرف جانے والے ہیں تمہیں بتایا تھا نہ کہ ایک ہفتہ ہم مانچسٹر میں گزاریں گے جبکہ دوسرا ہفتہ ہم لندن میں رہیں گے وہ اس یاد دلاتے ہوئے بولا ۔
وہاں بھی یہی سب کچھ ہو گا دیکھنے کے لیے وہ مایوس ہوئی تھی ۔
اب یہ تو مجھے نہیں پتہ کہ وہاں تمہیں کیا کیا دیکھنے کو ملے گا لیکن تم سے وعدہ کرتا ہوں وہاں پرتم مایوسی نہیں ہو گی وہ منانے والے انداز میں بولا تھا ۔
جب کہ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اس پر یقین کرے یا نہ کرے وہ پہلے بھی یہاں آ کر بالکل بھی خوش نہیں تھی۔اور یہاں آنے کے بعد کئ دفعہ وہ اس پر یہ بات ظاہر بھی کر چکی تھی وہ کئ دفع اسے یہ بھی کہہ چکی تھی اس سے بہتر تھا کہ ہم پاکستان کا ہی کوئی پیارا سا علاقہ گھومتے۔
جس پر اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے پاکستان میں بھی گھمانے ہر جگہ لے کر جائے گا ۔
اور وہ اس کے اس وعدے پر یقین کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہر جگہ جا رہی تھی جہاں وہ اسے لے جانا چاہتا تھا ۔
اور اب انہیں اگلا ہفتہ لندن میں رہنا تھا وہ اسے وہاں کیوں لے کر جا رہا تھا یہ وہ نہیں جانتی تھی۔لیکن جانا تو تھا ہی ۔ہیر تو بس اس کے ساتھ یہ سفر اور یہ وقت یاد گار بنانے میں مصروف تھی ۔
کیونکہ وہ ایام پر کچھ بھی ظاہر کیوں نہ کرے حقیقت یہی تھی کہ وہ اس کے ساتھ اس وقت بہت خوش تھی
°°°°°°°
سارا سامان پیک ہو چکا تھا آج وہ لوگ لندن کے لیے روانہ ہونے والے تھے اسی لیے ایام اور روحی تھوڑی دیر گھومنے کے لیے گئے ہوئے تھے جبکہ وہ ساری پیکنگ کر چکی تھی ۔اور اب وہ بالکل فری بیٹھی ہوئی تھی ۔
تب اچانک دھیان بیڈ کی طرف گیا خوبصورت سے پھولوں کا بکے بیڈ پر دیکھ کر وہ مسکرا دی۔ وہ جب سےیہاں آئے تھے ایام یہ چیز نہیں بھولتا تھا وہ ہر روز اس کے لیے خوبصورت سے پھولوں کا گلدستہ خرید کر لاتا تھا اور اسے بیڈ پر رکھ دیتا تھا ۔
اور اس کی خواہش کے عین مطابق یہ پھول کا بکے اس کے چہرے کی مسکراہٹ بن جاتا تھا ۔
پھولوں کو بیڈ سے اٹھاتے اپنے سینے سے لگاتے اس کی خوشبو کو محسوس کرتے کھڑکی کے پاس آ رکی تھی ۔ جب وہ دونوں ہی اسے وہی باہر لان کے قریب ایک دوسرے میں مگن نظر آۓ
روحی پوری طرح سے کھیلنے میں مگن تھی وہ اپنے ٹیڈی ٹوئٹی کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بار باراس کی طرف پھینک رہی تھی جسے ایام بڑی مہارت سے کیچ کرتے اسے واپس کرتا تھا ۔
روحی کا کھیل بتا رہا تھا کہ وہ جلدی اسے اوپر نہیں آنے دے گی اسی لیے خود بھی کمرے میں اکیلے نہ رہنے کا سوچتے ہوئے وہ ان کے پاس جانے کا ارادہ بنا چکی تھی ۔
کمرے سے نکلتے ہوئے اس نے روم کو لاک کیا اور پھر نیچے جانے کے لیے لفٹ کا سہارا لیا تھا ۔
°°°°°°°
لفٹ میں اس کے ساتھ تین لوگ اور بھی تھے جنہیں وہ ہرگز نہیں پہچانتی تھی۔ان میں سے دو آپس میں بات کر رہے تھے وہ اسے دیکھتے ہی خاموش ہو گئے تھے۔جبکہ تیسرا پہلے سے ہی خاموش کھڑا تھا ۔شاید وہ ان لوگوں کے ساتھ نہیں تھا
لیکن اس نے نوٹ کیا تھا کہ وہ آدمی اسے کافی غور سے دیکھ رہا تھا جیسے وہ اسے جانتا ہو یا اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہووہ پہلے بھی اسے دو تین دفعہ اس ہوٹل میں دیکھ چکی تھی ۔
اور اسے شک بھی ہوا تھا جیسے کہ یہ آدمی اس کا پیچھا کر رہا ہو لیکن وہ شکل سے کافی شریف اور مذہبی لگتا تھا اسے دیکھ کر ایسا لگتا تو نہیں تھا کہ ایسی کوئی بھی حرکت کرے گا لیکن نجانے کیوں اس کا دل ڈرنے لگا تھا وہ بس جلدی سے جلدی اس لفٹ سے نکل کر اپنی منزل پر پہنچنے کا انتظار کر رہی تھی
اس شخص نے اب تک اس کے چہرے سے نظر نہیں ہٹائی تھی جبکہ اب اس کے ماتھے پر پسینہ آنے لگا تھا وہ مسلسل اپنے موبائل پر کسی کو میسج کر رہا تھا ۔
تھوڑی دیر میں لفٹ رکی تو وہ جلدی سے باہر نکلی تھی اور اس کے پیچھے وہ آدمی بھی وہ جلدی جلدی قدم اٹھاتی باہر کی طرف جانے لگی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی غلطی ہرگز نہیں کی تھی اسے پہلے ہی اس آدمی سے خوف آ رہا تھا اور اب اس کا اس کے ساتھ ہی باہر آنا اسے مزید پریشان کر رہا تھا ۔
وہ جلدی سے ہوٹل سے باہر کی طرف نکلی تو وہ پیچھے ہٹ کر اپنا موبائل کان سے لگا چکا تھا وہ مزید اپنا وقت برباد کیے بنا اس جگہ پر آگئی تھی جہاں اس نے اوپر سے ایام اور روحی کو دیکھا تھا
°°°°°°
روحی لو تمہاری ماما جانی بھی آ گئی۔اب چلو چلیں بس باباجانی تھک گئے ہیں۔ وہ جو کب سے اس کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا اسے تیز تیز قدم اٹھاتے اس طرف آتے دیکھ کر مسکرا کر بولا ۔
لیکن اس کے چہرے پر حد درجہ پریشانی دیکھ کر وہ تیزی سے اس کے پاس آیا تھا ۔
کیا ہوا میری جان تم اتنے پریشان کیوں ہو اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔۔۔؟
وہ اسے اپنے حصار میں لیتا محبت سے پوچھنے لگا جبکہ اس کا سہارا پاتے ہی وہ اس کے سینے سے لگ گئی تھی ۔
ہیر میری جان تم گھبرائی ہوئی کیوں ہو کیا کسی نے کچھ کہا ہے تم سے مجھے بتاؤ اتنی پریشان کیوں ہو تم ۔۔۔۔؟ وہ اس کے چہرے کو تھامتے ہوئے اپنے سامنے کر کر بے حد فکرمندی سے پوچھنے لگا تھا ۔
ایام۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔وہاں وہاں۔۔۔۔ لفٹ میں ۔۔۔۔۔۔کوئی تھا ۔۔۔۔۔۔۔وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی اور اس کی اس حالت نے ایام کو بھی پریشان کر دیا تھا وہ قریب ہی اسے بینچ پر بٹھاتا اس کے ساتھ بیٹھ کر وہ راستہ دیکھنے لگا جہاں سے وہ ابھی آئی تھی ۔
کون تھا لفٹ میں مجھے ٹھیک سے بتاؤ ہیر اس طرح سے تو میں کچھ بھی سمجھ نہیں پاؤں گا وہ اس کا ڈر کم کرتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا تھا ۔
وہاں لیفٹ میں کوئی مجھے مسلسل دیکھ رہا تھا اور پھر جب میں لفٹ سے باہر نکلی تو وہ میرے پیچھے آرہا تھا مجھے لگ رہا ہے جیسے وہ آدمی ہمارا پیچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریلیکس ہیر میری جان کیا ہو گیا ہے تمہیں یہ لفٹ کا آخری فلور ہے تو ظاہری سی بات ہے جہاں لیف رکے گی وہاں سے وہ لوگ نکلیں گے ہی وہ آدمی تمہارا پیچھا نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ راہداری اتنی چھوٹی ہے کہ کبھی کبھی میں بھی غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہوں ۔
یہ پریشانی والی بات نہیں ہے اور آج تم نے سوٹ پہن رکھا ہے شاید وہ بھی کوئی پاکستانی انڈین ہوگا ۔اسی لیے تمہیں دیکھنے لگا ہوگا ۔اس میں گھبرانے والی کون سی بات ہے میری جان ۔۔۔؟تم نہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پر سوار کر لیتی ہو۔تم یہیں بیٹھو میں تمہارے لیے پانی لاتا ہوں ۔
نہیں نہیں میں سچ کہہ رہی ہوں ایام وہ آج سے نہیں بلکہ بہت دنوں سے اسی طرح سے ہمارا پیچھا کر رہا ہے میں نے پہلے بھی بہت بار نوٹ کیا ہے آپ پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کریں ۔
وہ اس کا ہاتھ تھامے بالکل کسی چھوٹے سے بچے کی طرح سہمی ہوئی تھی ۔اسے پریشان دیکھ کر روحی بھی اپنی مستی چھوڑ اس کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی ۔
ہاں تو وہی تو کہہ رہا ہوں میں وہ یقینا کوئی پاکستانی یا انڈین ہوگا اسی لئے اس طرح سے تمہیں دیکھ کر جان پہچان بنانے کی کوشش کر رہا ہوں گا ایسا اکثر ہوتا ہے جب ہم الگ ملک میں ملتے ہیں تو دوسرے سے بات چیت کرکے جان پہچان بنا لیتے ہیں ۔
اس طرح کے میرے بہت سارے دوست ہیں جو یوں پھر راستے میں چلتے چلتے ملے تھے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور گھبراؤ مت یہ کومن سے بات ہے یہاں پر ۔
ایام اس کاڈر کم کرتے ہوئے اس کے لئے پانی لینے جا چکا تھا جبکہ ہوٹل کے اندر قدم رکھتے ہوئے اس نے ہر طرف دیکھا تھا جہاں اسے کوئی ایسا آدمی نظر آئے جو اسے محسوس ہو کہ وہ ان پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔
اس نےہر طرف دیکھ کر ہیر کے ڈر کو سمجھنے کی کوشش کی تھی لیکن یہاں ایسا کوئی انسان اسے نہ ملا جو ہیر کے ڈر کو ٹھیک ثابت کر دے ۔
یہ تو وہ جانتا تھا کہ کنگ حاموش نہیں بیٹھے گا وہ کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا پچھلے ایک ڈیڑھ مہینے سے جس طرح سے وہ چپ سادھے ہوئے تھا اسے کسی بڑے طوفان کی امید تھی لیکن وہ ان پر نظر رکھے ہوئے بھی ہو سکتا ہے یہ سوچ اس کے دماغ میں کیوں نہ آئی ۔
ممکن تھا کہ وہ ہیر کو شادی شدہ زندگی میں قدم رکھتے دیکھ کر خود ہی پیچھے ہٹ جائے لیکن انڈر ورلڈ کا خطرناک ترین مجرم اپنی ہار کو قبول کرکے خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا ۔اور نہ ایام اس کی طرف سے بے فکر ہوسکتا تھا اسی لیے اس نے رسک نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا ۔
°°°°°°°