Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junoon ) Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junoon ) Episode 35
ائیرپورٹ تک ان لوگوں کا ساتھ آنا ایام کو پسند نہیں آیا تھا۔۔
لیکن ہیر کی خوشی کے خاطر وہ خاموش ہوگیا۔وہ اپنے بھائی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔اور وہ منع نہیں کر سکتا تھا۔وہ ڈرائیو کے ساتھ آگے بیٹھا تھا۔
جبکہ رحیم اس کی بیوی اور ہیر پیچھے تھے۔روحی اس کے ساتھ اس کی گود سو رہی تھی.یہ سفر خاموشی سے ہرگز نہیں گزر رہا تھا۔وہ اچھا خاصا اکتا گیاتھا۔ان لوگوں کی وجہ سے۔
کیونکہ ان کی کسی بات میں ایام کو دلچسپی نہیں تھی۔
اس نے کہا تھا کہ اگر دو ماہ میں اس کا کام نا ہوا تو وہ پاکستان واپس آ جائے گا۔کیونکہ ہمدان کا ارادا نا تھا اس کا بوجھ اپنےسر لینےکا۔
اور ایام ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا۔اسے ابھی سے ہی یہ دونوں زہر لگ رہے تھے۔انہیں پاکستان لا کر وہ اپنی زندگی کو مزید ڈسٹرب نہیں کر سکتا تھا۔۔اسے ان لوگوں کو اپنی زندگی سے دور ہی رکھنا تھا۔
پہلے نہ سہی لیکن اب وہ ہمدان سے اس بارے میں بات کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔اگر اس کے لئے اسے ہمدان کے ساتھ مزید کوئی ڈیل کرنی پڑی تو وہ اس سے بھی پیچھے نہیں ہٹنے والا تھا ۔ان لوگوں کو وہ پاکستان میں تو ہر گز برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔
ان کےساتھ یہ تھوڑے سے لمحے گزار کر ہی وہ ان کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ چکا تھا۔ائیرپورٹ پہنچ کر اس نے سب سے پہلے ہمدان کو فون کرنا تھا۔اور اسےکہنا تھا کہ وہ جس ڈیل کی بات کر رہا تھا ۔
وہ ڈیل وہ ہمدان کے ساتھ فائنل کر دے گا۔لیکن اسے وہ پاکستان کبھی نہ واپس بھیجے ۔کیونکہ اس کا پاکستان آنا اپنی شادی شدہ زندگی کو متاثر کرنےکے برابر تھا۔
اور وہ ہیر اور اپنی زندگی میں کسی دوسرے تیسرے کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
°°°°°
وہ ہیر کی بھابھی اور بھائی سے کافی تنگ ہوکر ذرا سائیڈ پرآ رکا تھا اس کا فون مسلسل بج رہا تھا جسے وہ نظر انداز کر رہا تھا ۔روحی اب تک سو رہی تھی اور اس نے روحی کو اپنے پاس ہی رکھا تھا اس کا کوئی ارادہ نہ تھا اس وقی اسے ہیر کے حوالے کرنے کا۔
جب تک اس کا بھائی اور بھابھی ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جائیں وه روحی کو ان کے پاس نہیں چھوڑنا چاہتا تھا جب کہ اپنے موبائل پر آنے والے فون کو لے کر بھی وہ کافی پریشان لگ رہا تھا ہیر نے بھی دو تین دفعہ اس کی پریشانی کو نوٹ کیا تھا ۔
وہ کسی چیز کو لے کر پریشان لگ رہا تھا مسلسل اپنے فون پر آنے والی کال کو کبھی نظر انداز کرتا کبھی کاٹ دیتا لیکن اس دفعہ اس نے غصے میں آکر فون اٹھا لیا ۔
اور وہاں سے باہر نکل گیا ہیر نےاسے جاتے ہوئے دیکھا تھا لیکن فی الحال اس کا دھیان اپنے بھائی اور بھابھی کی طرف تھا
°°°°°
تیرا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا میں نے تجھے بتایا تھا کہ ان لوگوں نے میرے ساتھ فراڈ کیا ہے وہ بھی کوئی چھوٹا موٹا فراڈ نہیں اور تو خود اتنے غصے میں تھا اسے لے کر اب کیوں کر رہا ہے یہ سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔؟
یار میں اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہا میں جو بھی کر رہا ہوں اپنے لئے کر رہا ہوں ۔
اپنے سکون کے لئے کر رہا ہوں اور ان کے ساتھ میرا کوئی سکون نہیں ہے
اس بات کا اندازہ میں نے پچھلے دو گھنٹوں میں لگایا ہے جو میں نے ان کے ساتھ گزارے ہیں ۔
یہ عورت اتنی چالاک اور چالباز ہے کہ تو اندازہ نہیں لگا سکتا ۔وہ اتنی میٹھی چھری ہے کہ کسی کو بھی کاٹ کھائے اور اسے پتہ بھی نہ چلے ۔
میں اس۔ عورت کے آس پاس بھی اپنی بیوی کو نہیں چاہتا ۔تو اس کے ساتھ جو بھی کر مجھے پرواہ نہیں رحیم کو میں خود بھی معاف نہیں کرنے والا لیکن انہیں پاکستان بلا کر میں اپنی زندگی مزید عذاب نہیں کر سکتا ۔
رحیم تیرا ملازم ہے نا تو تو یہاں اس کی جان عذاب کر دینا آئی ڈونٹ کئیر لیکن یہ لوگ پاکستان نہیں آنے چاہیے ۔
سوچ سمجھ کر بول تیرے سالے کی زندگی یہاں عذاب ہو جائے گی اگر میں نے اسے اس کی نوکری دے دی تو یہ مت سوچنا کہ میں اس کے ساتھ ویسا سلوک کروں گا جو مجھے تیرے سالے کے ساتھ کرنا چاہیے شاید وہ اسے ڈرا رہا تھا ۔
میری طرف سے بھاڑ میں جائے یہ سالا اور اس کی بیوی بس میری زندگی میں ان لوگوں کی کوئی جگہ نہیں ہے یہ بات تو یاد رکھ وہ اسے کھلی چھوٹ دیتے ہوئے بولا تو ہمدان نے اس کی پریشانی حل کرتے ہوئے فون بند کر دیا ۔
جبکہ وہاں ایئرپورٹ پر چلنے والا دکھی سین دیکھتے وہ بیزار ہو گیا تھا ۔
ہیر کی بھابھی کی ڈرامے بازیاں اپنے عروج پر تھیں جبکہ بھائی بھی آنکھوں میں نمی لئے اسے الوداع کہہ رہا تھا اتنا تو شاید وہ اس کی رخصتی پر بھی افسردہ نہ ہوئے ہوں گے جتنا اس وقت ہو رہے تھے ۔
ٹھیک ہے ہم پاکستان پہنچتے ہی آپ سے رابطہ کریں گے ۔ہیر آخری بار اس کے گلے لگتے ہوئے بولی تو اس دفعہ ایام کے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اندر کی طرف لے گیا تھا کیونکہ مزید یہ سب کچھ برداشت کرنا اس کے بس کے باہر تھا ۔
یہاں کھڑا بھی وہ مسلسل یہی دعا مانگ رہا تھا کہ روحی اسی طرح سوتی رہے اس کی آنکھ نہ کھلے تو بہتر تھا ورنہ ان کے ان جھوٹے ڈراموں کا حصہ کہیں نہ کہیں اس کی بیٹی بھی بن جاتی
اور پھر وہ اس آدمی کو اپنی بیٹی کا ماموں تو ہرگز نہیں بنانا چاہتا تھا ۔وہ ایسے لوگوں کو کبھی بھی اپنی بیٹی کی زندگی کا حصہ بنانا ہی نہیں چاہتا تھا ۔
اندر جاتے تک ہیر بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی رہی جہاں اس کا بھائی اسے الوداع کہہ رہا تھا ۔اور ایام بس اس جگہ سے نکل جانا چاہتا تھا
°°°°°°
ایام سعودیہ سے پاکستان کی فلائٹ کتنے گھنٹوں کی ہے وہ جہاز میں بیٹھے ہوئے اس سے پوچھنے لگی ۔
زندگی میں پہلی دفعہ جہاز میں بیٹھے ہوئے اسے جتنا ڈر تھا وہ ایام کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ختم ہو گیا تھا ۔
اس نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ ہم اس پاک ذات کے در پر جانے والے ہیں جہاں ہرڈر ختم ہو جاتا ہے اور ہیر کے لیے اتنا حوصلہ ہی کافی تھا ۔
اب واپسی میں بھی جہاز میں بیٹھتے ہوئے وہ کافی زیادہ گھبرائی ہوئی تھی کیونکہ ایام نے یہاں آتے ہی اپنے منہ پر رومال رکھ لیا تھا جیسے وہ سونے والا ہو ۔
اور اسے جگانے کے لیے وہ صرف اس سے سوال جواب ہی کرسکتی تھی جب تک جہاز پوری طرح اپنی اڑان نہ پکڑ لے تب تک اس کا ڈر کم ہونا مشکل تھا ۔
کیوں پوچھ رہی ہو تم وہ اپنے چہرے سے رومال ہٹا کر اس سے پوچھنے لگا شکر ہے خدا کا کہ اس کی نظر اپنے شوہر پر بھی پڑی تھی ورنہ بھائی اور بھابھی ہی نظر آ رہے تھے آج اسے ۔
ایسے ہی پوچھ رہی ہوں نہ ہم گھر جاتے ہی بھابھی کو فون کریں گے میں نے ان کا نمبر بھی لے لیا ہے انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ مجھ سے ہر وقت رابطے میں رہیں گے وہ آپ کو بھی شکریہ بولنا چاہتے تھے لیکن پتہ نہیں آپ کا موڈ کیوں خراب تھا ۔
بھائی تو اتنے زیادہ خوش تھے کہ آپ ان کو جیل سے نکلوانے کی وجہ بنے ہیں بھائی بتا رہے تھے کہ آپ نے ان کے کفیل کے ساتھ کوئی ڈیل سائن کی ہے جس کے بدلے اس نے بھائی کو جیل سے آزاد کروایا ہے ۔
وہ اب بھی اپنے بھائی کی ذات کے اردگرد ہی گھوم رہی تھی ایام نے ایک سرد سانس خارج کی اور اس کی طرف متوجہ ہونے لگا ۔
ہاں کیوں کہ اس کا کفیل اسے آسانی سے چھوڑنے کو تیار نہیں تھا ۔تمہارے بھائی نے اس کے ساتھ بہت بڑا فراڈ کیا تھا اور اس فراڈ میں اسے کافی زیادہ نقصان ہوا ہے یہاں تک کہ جو گھر تمہارے بھائی کے نام ہوا تھا وہ اس کفیل کا تھا جو تمہارے بھائی نے دھوکے سے لیا تھا ۔
نہ جانے کیوں اس کے لہجے میں ہیر کو اپنے بھائی کے لیے غصہ اور نفرت محسوس ہو رہی تھی ۔
نہیں ایام میرے بھائی ایسے نہیں ہیں مجھے لگتا ہے اس کفیل نے میرے بھائی پر جھوٹا الزام لگایا ہے میرے بھیا نے کبھی کسی کے ساتھ دھوکہ بازی نہیں کی اور نہ ہی وہ کسی کے ساتھ ایسا فراڈ کرسکتے ہیں ۔
ان کے کفیل نےہی کچھ کیا ہوگا ۔
اسے اپنے بھائی پر ضرورت سے زیادہ یقین تھا اور اس کفیل پر غصہ جس کو اس کے بھائی نے ولن بنا کر اس کے سامنے پیش کیا تھا ۔
جان وہ آدمی اتنا امیر ہے نا کہ اسے ایسے چھوٹے موٹے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں تمہارے بھائی نے اس کے ساتھ فراڈ کیا تھا لیکن تمہارا بھائی تمہیں یہ سب کچھ تو نہیں بتائے گا لیکن میرا فرض بنتا ہے کہ میں تمہیں کسی طرح کے دھوکے میں نہ رکھوں۔
مجھے خود بہت افسوس ہوا ہے بلکہ میں تو اس کے سامنے شرمندہ ہو گیا تھا کہ میرے سالے نے ایسی گھٹیا اور گری ہوئی حرکت کی ہے اس نے مجھے سارے ثبوت دیے ہیں ۔
اور پھر اس نے مجھ سے جو مانگا وہ میں نے اسے دینے کی حامی بھر لی اور تمہارے بھائی کو سعودیہ ایک اچھی نوکری اور رہائش دینے کی بھی کوشش کر رہا ہوں ۔
تاکہ وہ میری زندگی میں آکرہمہیں ڈسٹرب نہ کرے اس نے آخری جملہ بے حد کم آواز میں بولا تھا ہیر جو اسے سن رہی تھی اس کی مکمل بات سن کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
اس کا بھائی اس کا کچھ نہیں لگتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس کے بارے میں اتنا سوچ رہا تھا ۔
اس کے لیے اتنی آسانیاں پیدا کر رہا تھا اس کے فیوچر کو بہترین بنانے کی کوشش کر رہا تھا یہ سوچ صرف ایام سکندر کی ہی ہو سکتی ہے ۔
تانیہ سہی کہتی تھی ہر کوئی آیام سکندر کو سمجھ نہیں سکتا اور جو اسے سمجھ جاتا ہے وہ اسے فرشتے سے کم نہیں سمجھتا اس نے مسکراتے ہوئے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ کر کہا تو ایام کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔
نہیں جان میں کوئی فرشتہ نہیں ہوں سچ کہوں تو میرے اندر بھی ایک شیطان ہے جو صرف اپنی بھلائی سوچتا ہے
کسی دوسرے سے اسے کوئی غرض نہیں ہوتا ہے ہم کوئی اور بات کریں اس نے روحی کو آنکھیں ملتے دیکھ کر کہا ۔
جو یقینا خود کو جہاز میں محسوس کرکے کافی حیران تھی۔
میں تو کوئی اور بات ہی کر رہی تھی آپ نے ہی اپنی باتیں شروع کردیں میں تو پوچھ رہی تھی کہ ہم پاکستان کب تک پہنچ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تاکہ تم اپنے بھائی اور بھابھی سے بہت ساری باتیں کر سکو ایام اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا تو ہیر نے زور زور سے سر ہلایا ۔
اس کے لیے نہ تمہیں تقریبا مزید پندرہ دن کا انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ ہم اس وقت پاکستان نہیں بلکہ مانچسٹر جا رہے ہیں ہنی مون منانے کے لیے ۔
وہ بڑے ہی مزے سے روحی کو دیکھتے ہوئے بولا جو کبھی اس کے سینے پر سر رکھ رہی تھی تو کبھی حیرت سے جہاز کو دیکھ رہی تھی شاید ابھی تک وہ پوری طرح ہوش و حواس میں آئی نہیں تھی ورنہ کچھ نہ کچھ تو ضرور ری ایکٹ کرتی اتنی بڑی بات پر ۔
کیا مطلب ہم اپنے ملک نہیں جا رہے ہم کہیں اور جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ وہ حیرانگی سے منہ کھولے اس سے پوچھ رہی تھی
جی میرا مطلب یہی ہے میری جان کے ہم لوگ مانچسٹر جا رہے ہیں نہ کہ پاکستان تم اپنے بھائی سے نہ اب پندرہ دن کے بعد ہی سکون سے باتیں کرنا ابھی اپنے شوہر پر دھیان دو ۔تاکہ جلد سے جلد روحی کا اکیلا پن دور ہو سکے
کیوں روحی باباجانی ٹھیک کہہ رہے ہیں نہ وہ اس کے گال چومتے ہوئے بولا تو روحی نے بنا کچھ بھی سمجھے ہاں میں سر ہلا دیا ۔
آپ نے مجھے اس بارے میں پہلے کیوں نہیں بتایا وہ لال ہوتے دہکتے گالوں کو چھوتی سر جھکا کر بولی تھی ۔
کیوں بتاوں۔۔۔۔؟ میری مرضی میری بیوی میں اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے کر جا سکتا ہوں وہ کندھے اچکا گیا جب کہ ہیر بنا کچھ بولے اس کے کندھے پر سر رکھ چکی تھی ۔
اس وقت اس کا دماغ پوری طرح سے ایام سکندر کے کنٹرول میں تھا وہ جب چاہے جو چاہے کرسکتا تھا ۔
وہ ہیر کو صرف اپنی طرف متوجہ کر لینا چاہتا تھا ۔اس کے بھائی نے بس تھوڑی دیر ان کی زندگی میں آ کر انہیں اچھا خاصا ڈسٹرب کر دیا تھا ۔
وہ کوئی اتنا مطلبی انسان ہرگز نہ تھا جو ہیر کو اس کے بھائی سے ملنے نہ دیتا یا پھر اس پر کوئی پابندیاں لگا دیتا ۔
اس نےخود ہیر کو اس سے ملوایا تھا لیکن اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ رحیم اور اس کی بیوی اس طرح کے لوگ ہوں گے اور تھوڑی ہی دیر میں ان کی نیت اور فطرت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا۔
ہیر کے لیے وہ اس کا بھائی تھا جس کی باتوں میں چھلکتا لالچ وہ نہیں پہچان سکتی تھی لیکن ایام نے دنیا دیکھ رکھی تھی وہ ان لوگوں کو اپنی زندگی میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا ۔
دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے اس کے بھابھی کی نادر سوچ روحی کے بارے میں سنی تھی کتنے آرام سے اس نے کہہ دیا تھا کہ سوتیلی اولاد کو سوتیلی ماں بن کر پا لواور سچ میں اسے یہ بات دل پر لگی تھی
وہ جانتا تھا ہیر ایسی نہیں ہے جو کسی کی باتوں میں آ جائے لیکن اس کی چلاک بھابی کی گھٹیا باتیں ہیر کی معصومیت پر اثر انداز ہو سکتی تھیں ۔
اور ایسا وہ ہونے نہیں دے سکتا تھا اسی لیے اس نے خود ہی ان لوگوں کو اپنی فیملی سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا تھا
°°°°°°°
کتنی لمبی فلائٹ ہے ایام میں تو تھک گئی ہوں۔ ہم کب پہنچیں گے آپ کے مانچسٹر میں ۔وہ اس کے کندھے کے ساتھ سر لگائے کوئی پانچویں بار پوچھ رہی تھی ۔
ڈارلنگ ہم ایک عرب ملک سے انگلش ملک جا رہے ہیں تو تمہیں لگتا ہے کہ ہم جلدی پہنچ جائیں گے ۔۔۔۔اس نے الٹا اس سے سوال کیا تھا جبکہ ساتھ ہی ساتھ روحی کو کچھ کھلانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
جو جہاز میں کچھ بھی کھانے کو راضی نہیں تھی بڑی مشکل سے وہ اسے دودھ پلانے میں کامیاب ہوا تھا ورنہ آج تو وہ دودھ بھی پینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی ۔
یہ نام سے ہی آپ کا انگلش ملک لگ رہا تھا کیا ہے وہاں جگہ جگہ آدھی ننگی گوری میںمیں میں نہیں جا رہی وہاں وہ انگلش ملک سنتے ہی ناراضگی سے کہنے لگی تھی۔
بے فکر رہو میں کوئی گوری میمیں نہیں دیکھتا میں تو بس اپنی میم کو دیکھوں گا وہ اس کے گال کھینچتے ہوئے بولا تو روحی بھی کھلکھلائی ۔
لیکن ہم وہاں کیوں جا رہے ہیں مجھے نہیں اچھے لگتے ایسے ممالک سعودی عرب جا کر مجھے اللہ کا گھر دیکھنے کی تمنا نہ ہوتی تو شاید میں اس طرف بھی کبھی نہیں جاتی وہاں بھی بہت بے حیائی ہو گئی ہے ۔
اسے اچانک ہی یاد آ گیا تھا جہاں سعودی عرب میں بھی اچھی خاصی بے حیائی دیکھنے کو ملی تھی لیکن ان سب چیزوں پر اس نے کمپرومائز کرلیا تھا کیونکہ وہاں جو مقام اسے دیکھنے کو ملاتھا وہ ہر چیز سے افضل تھا ۔
ڈارلنگ تو یہاں یہ سوچ کر کمپرومائز کر لینا کہ یہ تمہارے شوہر کی برتھ کنٹری ہے ۔وہ مسکرا کر بولا ۔
ہیں ۔۔۔۔؟اب یہ مانچسٹر آپ کی برتھ کنٹری کب سے ہوگئی آپ تو انگلینڈ میں پیدا ہوئے تھے نہ وہ حیرانی سے دیکھنے لگی تھی ۔
پیدا تو میں انگلینڈ میں ہی ہوا تھا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ویکن کیا آپ تو اپنی بات سے مکر جاتے ہیں ۔
جان اب تم یہ مت کہنا کہ تمہیں یہ بھی نہیں پتا کہ مانچسٹر انگلینڈ کاہی ایک شہر ہے ۔اس سے پہلے کہ وہ مزید اسے کچھ اور کہتی وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تو اس کی زبان کو بریک لگ گئی ۔
اچھا مانچسٹرانگلیڈ میں ہے۔ نہیں مجھے لگا وہ کوئی اور ملک ہے ۔اس نے مسکرا کر اپنی شرمندگی کم کرنے کی کوشش کی تھی ۔
کوئی بات نہیں ایسی غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ہاں میں انگلینڈ میں ہی پیدا ہوا تھا لیکن انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں میرا بچپن بھی وہیں پر گزرا ہے بلکہ جوانی بھی وہی گزری ہے میری سٹڈیز بھی یونیورسٹی آف مانچسٹر سے ہی کمپلیٹ ہوئی ہے ۔
وہاں تمہیں دیکھنے کو بہت کچھ ملے گا سب سے خوبصورت نظارہ تو مانچسٹر میں ہوتی طلوع صبع ہے ۔جو اسے پوری دنیا سے الگ بناتی ہے وہاں کا موسم پل میں تولہ پل میں ماشہ ہے تم یقین نہیں کر سکتی وہاں کا آسمان لمحوں میں بدلتا ہے ۔
بہت خوبصورت ملک ہے لیکن شاید تم اس کی خوبصورتی پر زیادہ دھیان نہ دے سکو کیونکہ لمبی لمبی عمارتیں اور لمبی لمبی سڑکیں تو تمہیں پسند نہیں آتیں۔
لیکن تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں پہاڑ جھرنے اور وہ ہر جگہ پر جو تمہارے لئے سکون قلب ہے تمہیں دیکھنے کو ضرور ملے گی۔
اگلے پندرہ دن ہم یہیں پر گزاریں گے اور اس کے ساتھ ہی ایک اور حقیقت ہے جس سے تمہیں روشناس کروانا ہے ۔آخری جملے میں وہ اپنی آواز دل کے اندر ہی دبا گیا تھا نہ جانے کیوں اسے ڈر لگ رہا تھا لیکن وہ ہیر سے کچھ بھی چھپا کر یا اسے انجان رکھ کر اپنی پرسکون زندگی نہیں جی سکتا تھا وقت آگیا تھا اسے سب کچھ بتانے گا ۔
°°°°°
