60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon ) Episode 33

°°°°°°
ان کی تیاری ہوچکی تھی ۔وہ بہت خوش تھی۔آج رات کی فلائٹ سے وہ لوگ جانے والے تھے۔
اس در پر جہاں صرف قسمت والے ہی جا سکتے ہیں۔
اس وقت اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔یہ سوچ ہی اسے مسرور کررہی تھی کہ وہ اس پاک در پر جانےوالی ہے۔
ایام ہم ایک بجے کی فلائٹ سے جائیں گے تو وہاں کب پہنچیں گے ۔وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی۔
روحی اس وقت اس کی گود میں تھی ۔کیونکہ وہ کافی دیر پہلے ہی سو گئی تھی۔اس کی ایکساٹمیٹ بھی ہیر کے جیسی ہی تھی۔
اس نے روحی کو سمجھایا تھا کہ ہم اللہ پاک کے گھر جا رہے تب سے ہی وہ ایک ہی بات کر رہی تھی ۔کہ ہم اللہ پاک کا گھر دیکھیں گے۔
ان کو خوش دیکھ کر ایام بھی پرسکون تھا۔بس ان ماں بیٹی کی باتیں ختم نہیں ہو رہی تھیں۔
ان شاء اللہ ہم جلد پہنچ جائے گے۔وہ ہر بار کی طرح مسکرا کر جواب دیتا اس کے پاس ہی بیٹھا تھا۔جب ہیر نے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
گھر کی ساری زمہ داری وہ تانیہ کے سر کر کے وہ زندگی کے سب سے خوبصورت سفر پر نکل گئے تھے۔
ڈرائیور انہیں ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا۔جبکہ وہ تینوں پیچھلی سیٹ پر تھے۔
°°°°°°
جہاز کا سفر شروع ہوا تو روحی بھی جاگ گئی لیکن صرف تھوڑی دیر کے لیے اسے نیند کے جھٹکے لگ رہے تھے۔
روحی کو جاگتے پا کر اس نے خوشی سے اسے کچھ کہنا چاہا لیکن وہ دوبارہ اس کے سینے پر سر رکھ کر سو گئی۔
وہ مایوس ہو گئی تھی۔کیونکہ ایام اس کی ایکساٹمینٹ کے حساب سے اسے جواب نہیں دے رہا تھا۔
جس کی وجہ سے اسے روحی کی ضرورت تھی۔تاکہ وہ اس سے باتیں کرے لیکن روحی کی بھی نیند پوری ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
آپ کو بھی کسی بات کی خوشی ہو گی تو میں آپ سے اس بارے میں بات نہیں کروں گی۔اب تھک ہار کر وہ نارضگی سے بولی تو ایام مسکرا دیا۔
اچھا بتاو کیا کہنا ہے۔وہ اس کی طرف متوجہ ہوا۔
نہیں اب مجھے کچھ نہیں کہنا۔وہ ناراضگی سے بولی۔
اچھا نا اب پوچھو۔۔۔کیا پوچھنا ہے وہ اس کے دونوں ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا۔
ہم کب پہنچیں گے۔اور ہم سعودیہ پہنچ کر کب تک مدینے میں جائیں گے۔وہ اب کھل کر سوال کرنے لگی۔
میں بھی تمہارے ساتھ ہی جا رہا ہوں۔پہلی دفع مجھے کچھ نہیں پتا ۔میں کبھی سعودیہ نہیں گیا۔میری سعودیہ میں کچھ ڈیلز چل رہی ہیں۔بزنس کے حوالے سے ۔اس کے علاوہ میرا اس طرف کبھی آنا نہیں ہوا۔
میں بچپن سے لندن میں ہی رہا ہوں۔وہیں سے پڑھائی لکھائی کی۔اور وہیں پر بزنس بھی شروع کیا۔بابا جان کی خواہش تھی کہ ان کے ملک میں ان کے آبائی گاوں میں رہوں۔
ان کی یہ خواہش میں نے پوری کر دی اپنا سارا بزنس پاکستان شفٹ کر لیا۔اور چار سال سے یہیں ہوں۔
اور روحی۔۔۔۔۔۔۔اس نے اچانک سوال کیا
روحی لندن میں پیدا ہوئی تھی ۔چند دن کی تھی جب میں اسے لے آیا۔
اس کی ماں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔۔۔؟ اس نے پھر سے سوال کیا۔
نہیں۔۔۔اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
آپ کی پہلی شادی۔۔۔۔۔۔”
ہیر تم ان باتوں کی وجہ سے مجھ سے خفا ہو رہی تھی۔وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
نہیں یہ تو بس ایسے ہی پوچھا۔۔۔۔۔آپ نہیں بتانا چاہتے تو کوئی بات نہیں۔
میرے خیال میں ، میں تمہیں بہت بار بتا چکا ہوں کہ میرے لیے تم اور روحی اہم ہو اور بس۔۔۔۔۔۔۔” وہ شاید اپنی پہلی بیوی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
کیا آپ دونوں الگ ہوچکے ہیں ۔میرا مطلب ہے طلاق۔۔۔۔۔۔۔؟
ہاں ۔۔۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔ہم کبھی ساتھ ہی نہیں تھے۔تو الگ کیا ہوتے۔کوئی اور بات کرو ۔۔۔
اچھا بتائیں آپ نے روحی کو جب پہلی دفع اٹھایا تب کیسا محسوس کیا۔۔۔؟ وہ مسکرا اس سے پوچھنے لگی۔
وہ والی فیلنگ مِیں بیان نہِیں کر پاوں گا ہیر۔وہ بہت چھوٹی سی تھی ۔اور مجھے ڈر لگ رہا تھا۔کہ کہیں میرے سخت ہاتھوں سے اسے تکلیف نا ہو۔اور تمہیں پتا وہ مجھے دیکھ کر ہنس رہی تھی۔کبھی آنکھیں بند کرتی کبھی کھول لیتی ۔
چھوٹے چھوٹے سے ہونٹ تھے اس کے وہ مسکرا کر کہتا جیسے پرانی یادوں میں کھو سا گیا تھا۔
ہیر مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔
میں وہ فیلنگ دوبارہ لینا چاہتا ہوں۔وہ بھی بہت جلد ۔۔۔وہ شرارت سے کہتا اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
لیکن میں نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔۔وہ بے ساختہ بولی۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔؟وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
مطلب یہ کہ میں ایسا نہیں چاہتی۔وہ اپنی بات کھل کر کرنےلگی۔
اچھا اب سمجھا ۔تم ابھی بچے نہیں چاہتی۔فائن جان ہم پہلے اپنی شادی شدا زندگی انجوائے کرے گئے پھر سکون سے سوچیں گئے۔وہ اسے ہر ہریشانی سے دور کر رہا تھا۔
نہیں ایام میں بچہ نہیں چاہتی ۔وہ سر جھکا کر بولی تو ایام کچھ حیران ہوا ۔
میں سمجھا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسے نظریں جھکائے دیکھ کر پوچھنےلگا۔
مجھے سوتیلی ماں نہیں بننا ۔۔۔۔۔ایام آپ کو پتا ہے اگر اپنے بچے ہوجائیں تو انسان مطلبی بن جاتا ہے۔اس کے اندر سوتیلا پن آ جاتا ہے ۔وہ بدل جاتا ہے۔
میں۔نہیں بدلنا چاہتی ۔میں اپنی روحی کی سوتیلی ماں نہیں بنانا چاہتی ۔میں مطلبی نہیں بننا چاہتی۔مجھے روحی سے بہت محبت ہے ایام میں اس کی جگہ کسی کو نہیں دوں گی۔وہ ضدی سے انداز میں بولی۔تو ایام نرمی سے مسکرایا۔
تمہیں لگتا ہے کہ تم بدل سکتی ہو۔۔۔۔۔؟
مجھے نہیں لگتا ہیر ۔۔۔۔۔میری ہیر کے دل میں میری روحی کی محبت کبھی کم نہیں ہو سکتی۔
میری ہیر روحی سے بہت محبت کرتی ہے۔اور وہ روحی کی جگہ کبھی کسی کو نہیں دے گی ۔یہ مجھے یقین ہے۔
اور اولاد تو اللہ پاک کا تحفہ ہے۔اللہ پاک ہمہیں اس تحفے سے نوازے گا تو کیا تم اس کی رحمت سے رخ پھیر لو گی۔نہیں ہیر میں روحی کی وجہ سے تم سے عورت ہونےکا حق نہیں چھین سکتا یہ تمہارا حق ہے ۔اور تم روحی کی ماں رہو گی ہمیشہ ۔۔۔۔۔۔”
تم کبھی روحی کی سوتیلی ماں بن ہی نہیں سکتی۔تم تو ماں ہو اس کی ۔اور میرے ہونے والے مزید بچوں کی بھی۔اب میں تمہارے منہ سے اس طرح کی کوئی بات نہ سنوں
اس کی رحمت کا انتطار کرو۔وہ اس کا سر اپنے سینے سے لگاتا پیار سے بولا ۔وہ پرسکون سی اس کے سینے سے لگ گئی۔
وہ روحی کی ماں تھی ۔۔۔سگی یا سوتیلی نہیں ۔اس بات کو اسے سمجھانا اتنا مشکل نہیں تھا۔
°°°°°°°
وہ لوگ مدینے پہنچ چکے تھے۔اس جگہ کی خوبصورت بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ۔وہ دونوں ایک دوسرے کی سنگت اس خوبصورت جگہ کی زیارت کر رہے تھے۔
روحی کو تو اللہ پاک سے ملنا تھا ۔وہ تو یہاں آئی بھی اپنے بیسٹ فرینڈ سے ملنے تھی۔
لیکن اللہ پاک سے ملنے کے لیے اسے دعا مانگنا سیکھنی تھی۔اور ہیر اسے یہی سیکھا رہی تھی۔
ہیر جب سے اس کے نکاح میں آئی تھی ایام روحی کی طرف سے بلکل بے فکر ہوچکا تھا۔ہیر اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتی تھی۔وہ روحی کی طرف سے کبھی بھی لاپروا نہیں ہو سکتی تھی۔وہ خود سے زیادہ اس کا خیال رکھتی تھی۔
اسی لیے تو ایام۔بھی اس کی طرف سے بے فکر ہو چکا تھا۔
اس وقت وہ اسے دعا مانگنا سیکھا رہی تھی۔کیونکہ روحی کو اللہ پاک سے بہت ساری باتیں کرنی تھیں۔کل ان لوگوں کا عمرہ شروع ہونے والا تھا۔
اس سے پہلے وہ روحی کو اہم۔اہم۔چیزیں سیکھا رہی تھی۔عمرہ کے بعد وہ چار دن تک یہاں رہنے والے تھے۔جس میں وہ اسے کچھ جگہ مزید دیکھانا چاہتا تھا۔
ہیر کا بھائی بھی یہیں رہتا تھا ۔اور ہیر نے اسے اس سےملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔اس نے پہلے تو کچھ نا کہا لیکن بعد میں اس نے کہہ دیا تھا کہ اگر وہ ایڈریس معلوم کرنے میں کامیاب ہو گیا تو وہ اس سے مل کر واپس جائیں گے۔
اس کی صرف اتنی سی بات پر وہ بہت خوش ہو گئی تھی۔اور وہ اس کی خوشی ماند نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا۔یہ اس کے لیے مشکل نہیں تھا۔
ہیر کے بھائی کا کفیل اس کا اچھا دوست تھا۔لیکن ہیر کے بھائی کی فطرت سمجھ کر وہ اس سے نا تو خود ملنا چاہتا تھا۔اور نا ہی ہیر کو اس سے ملنے دینا چاہتا تھا۔لیکن وہ ہیر کو کوئی تکلیف بھی نہیں دینا چاہتا تھا۔
اس لیے اس نے وقتی اس سے کہہ دیا تھا۔کہ وہ اس کا ایڈریس معلوم کرنے کی کوشش کرے گا۔
اور ہیر بھی اس کی بات پر خوش ہو گئی تھی۔حالانکہ وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر رہا تھا
°°°°°°
وہ اس وقت اپنی زندگی کا سب سے حیسن وقت گزار رہی تھی۔اپنے محرم کے ساتھ وہ اپنی خوش قسمتی پر ناز کر رہی تھی۔
اللہ پاک آپ۔کا یہ احسان میں کبھی نہیں چکا سکتی ۔آپ نے مجھے میری زندگی کی ہر خوشی دے دی۔
کل تک مجھے لگتا تھا کہ میں بد قسمت ہوں جس سے سب کچھ چھین گیا۔لیکن میں غلط تھی ۔مجھ سے کچھ نہیں چھینا ۔بلکہ مجھے تو سب مل گیا۔
آپ نے مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول۔دیے ۔کتنی نصیبوں والی ہوں میں۔بے شک آپ نوازنے والے ہو۔آپ نے اپنی اس گناہگار بندی کو نوازا ۔اللہ پاک میرے سارے گناہ معاف کر دیں اور میرے نصیب میں اس شخص کا ہمیشہ کا ساتھ لکھ دیں۔
جس نے مجھے مکمل کر دیا ۔جس کو آپ نے میرا محافظ بنادیا۔
میں نے ہمیشہ ایام کو غلط سمجھا۔ لیکن اب نہیں میں آپ کی شکر گزار ہوں۔کہ آپ نے مجھے ایسا ہمسفر نوازا جو مجھے دل سے چاہتا ہے۔
وہ خدا کے حضور جھکی اپنے نصیب پراپنے خدا کا شکریہ ادا کر رہی تھی۔جب کہ روحی اس کی مکمل نقل کر رہی تھی۔
وہ جس طرح نماز پڑھتی رکوع و سجود کرتی یا دعا مانگتی وہ پوری طرح اس کو فالو کر رہی تھی۔ایام اپنی نماز مکمل کرتا کب سے اسے دیکھ رہا تھا۔روحی کی حرکتیں اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گئیں ۔
بے شک ہیر کے آنے سے ان دونوں کی زندگی سبھل گئی تھی۔وہ اکثر پریشان ہو جاتا تھا۔کہ وہ اپنی بیٹی کی پرورش کیسے کرے گا۔کیونکہ وہ ایک مرد تھا ۔
اور ایک بچی کو پالنا ایک مرد کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔اس نے روحی کےلیے اسپیشل ملازمہ رکھی تھی۔جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتی۔لیکن پھر بھی اسے کافی پریشانی تھی۔کہ ایک بیٹی کی پرورش ماں سے بہتر کوئی نہِیں کر سکتا تھا۔
لیکن ہیر کی آمد سے ان دونوں کی زندگی خوبصورت ہو گئی تھی۔پر اب ایام کو کہیں نہ کہیں اس بات کی فکر کھائے جا رہی تھی کہ اگر ہیر کو روحی کے حقیقت پتہ چل گئی تو کیا تب بھی وہ اس سے اسی طرح سے محبت کرے گی ۔
تو کیا وہ تب بھی روحی کے لیے اپنے دل میں ایسے ہی جذبات رکھے گی وہ تو یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ اگر ان کی زندگی میں دوسرا بچہ آگیا تو روحی کی محبت پر برا اثر پڑے گا جب کے ایام کی سوچ اس کی سوچوں سے الگ تھی
°°°°°°
ان کا عمرہ مکمل ہوا تو واپسی کے دن صرف چار ہی بچے۔ایام اسے آج گھومنے لےکر جارہا تھا۔
میں تیار ہوں چلیں۔۔۔۔۔۔؟ وہ ان دونوں کا اتنطار کر رہا تھا۔جب وہ دونوں مکمل پردے میں باہر نکلیں ۔ان دونوں نے ایک جیسے خوبصورت گاون پہن رکھے تھے۔
ہیر کو اس طرح دیکھ کر اسے سکون مل رہا تھا۔جبکہ روحی تو جان تھی اس کی ۔وہ جب سے یہاں آئے تھے۔ وہ خود تو پردے میں رہتی ہی تھی لیکن روحی بھی اس کے ساتھ میچنگ گاون اور حجاب لیتی تھی۔
جو اس کو مزید خوبصورت بناتا تھا۔
آئیں جناب ہم۔بھی تیار ہیں ۔وہ مسکرا کر انہیں کہتا باہر کا راستہ لے چکا تھا۔
ام تہاں دائیں دے۔۔(ہم۔کہاں جائیں گے)۔۔۔روحی اس کا ہاتھ تھام کر پوچھنے لگی۔
جہاں میری پرنسز کہیں گی وہاں ۔ وہ اسے دیکھتا مسکرا کر بولا۔
اللہ پاک تے دھر (اللہ پاک کے گھر).۔۔۔۔اس نے فوراً کہا تو وہ دونوں مسکرا دیے۔
اس کا ہوٹل مکہ کے بلکل ساتھ ہی تھا ۔وہ جب بھی چاہیں وہاں جا سکتے تھے۔
اور ان خوبصورت دنوں میں تو وہ پانچ وقت کی نماز اللہ پاک کے پاک گھر میں ادا کر رہے تھے۔اور روحی کو تو یہ جگہ اتنی زیادہ پسند تھی کہ وہ ہر وقت وہاں چلنے کو کہتی ۔
جبکہ وہ روز دیر سے ہی واپس ہوٹل آتے تھے۔
چلو جی پہلے ہم۔اللہ پاک کے گھر چلتے ہیں پھرکہیں اور جائیں گے۔وہ اس کی بات کو مانتا اسے خوش کر گیا۔
جبکہ ہیر تو ان دونوں باپ بیٹی کی بات سنیں بنا ہی آہیں بھر چکی تھی۔اس کو پہلے ہی پتا تھا۔روحی کا جواب کیا ہو گا۔
°°°°°°°
ایام یہ ہم کہاں آئے ہیں یہ کس کا گھر ہے کیا آپ یہاں کسی کو جانتے ہیں وہ ایک گھر کے باہر کھڑے وہاں کی بیل بجاۓ جا رہے تھے جب اس نے پریشانی سے پوچھا ۔
رکو تو ذرا جان دروازہ کھلنے دو تو خود ہی سب کچھ پتہ چل جائے گا وہ مسکرا کر کہتا دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا جب ایک آدمی نے دروازہ کھولا ۔
میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا شکر ہے تم نے اپنا چہرہ تو دکھایا وہاں سے نکلنے والے آدمی نے خوش اخلاقی سے سلام کرتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا ۔
کہاں رہ گئے تھے تم تم جس دن سے سعودیہ آئے ہو اسی دن سے میں تم سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن تم سے رابطہ ہی نہیں ہو سکا ۔
وہ ہیر کو سلام کرتا اسے اندر چلنے کا راستہ دیکھانے لگا تھا اور خود ایام کے ساتھ پیچھے آتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
یہاں آکر میں مصروف ہوگیا تھا کیونکہ تم سے ملنے نہیں آیا تھا میں ۔۔۔یہاں آنے کا مقصد کچھ اور تھا ۔
پھر سوچا کہ دو دن میں واپس چلے جائیں گے تو بہتر ہے کہ پہلے تم سے ملاقات کر لوں ورنہ پھر تم منہ بنا کر بیٹھ جاؤ گے ۔
ایک تو دو دو بیویاں رکھی ہوئیں ہیں پھر بھی تمہاری بیویوں کی طرح روٹھنے والی عادت نہیں گئی ۔
وہ اسے چھیڑتے ہوئے اندر داخل ہوا ۔جہاں دو چھوٹے چھوٹے بچے روحی کو دیکھ کر باہر آ گئے تھے ۔
وہ دونوں ہی کافی خوبصورت تھے یقینا وہ اس آدمی کے بچے تھے ۔روحی کی تو تھوڑی ہی دیر میں ان کے ساتھ اچھی دوستی ہو گئی تھی وہ ان دونوں کے ساتھ کھیلنے لگی ۔
جب کہ وہ گیسٹ روم میں آکر بیٹھتے اس سے باتوں میں مصروف ہوگیا تھا ہیر اس گھر کی خوبصورتی کو دیکھ رہی تھی جو بہت تھوڑی جگہ میں بہت خوبصورتی سے تعمیر کیا گیا تھا ۔
ایام اور اسے اپنی باتوں میں مگن دیکھ کر وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتی تھی جب ایک عورت کمرے سے نکلتی اس کے پاس بیٹھی اسے دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ تکمیل کے مراحل سے گزر رہی ہے ۔جبکہ اس نے چہرا چھپا رکھا تھا ۔شاید ایام کی موجودگی کی وجہ سے یقینا وہ پردے کی پابند تھی
اس سے ملیں بھابھی جان یہ فرح ہے میری بیوی ۔میری دوسری بیوی کچن میں آپ لوگوں کے لئے دعوت کا اہتمام کر رہی ہے ۔
وہ بھی تھوڑی ہی دیر میں آپ لوگوں کو جوائن کرتی ہے ۔وہ اپنی بات مکمل کرکے ایام سے باتوں میں مصروف ہو گیا۔
جبکہ وہ دو بیویوں کا سن کر حیران ہوئی تھی۔
آئیں آپ ہم۔کچن میں ہی چلتے ہیں۔وہ بےحد نرمی سے ہیر سے بولی تواس نے ایام کی طرف دیکھا جو مسکرا کر اسے جانے کی اجازت دے چکا تھا۔
وہ اس کے ساتھ اٹھ کر کچن میں آ گئی ۔جہاں ایک بہت خوبصورت لڑکی کھڑی کام کر رہی تھی۔
اسے مسکرا کر سلام کرتی وہ اس سے باتیں کرنے لگی۔اسے یہ لڑکی دوسری والی سے زیادہ پیاری لگی تھی۔
فرح تم آرام کرو میں کر لوں گی۔تمہیں زیادہ دیر کھڑا رہنے سے منع کیاڈاکٹر نے تم۔پہلی دفعی ماں بننے والی ہو۔
ارے نہیں میں تو تمہاری مدد کے لئے آئی ہوں ۔ان دونوں سوتنوں میں کافی اتفاق تھا ۔
وہ جو باہر دو بچے ہیں وہ آپ کے ہیں۔اس نے پوچھا۔
ہاں وہ دونوں میرے ہیں ۔فرح تو پہلی دفعہ ماں بنے گی۔ اس نے بڑی خوشی سے بتایا تھا۔وہ ان دونوں سے باتیں کرنے لگی ۔
وہ دونوں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتی تھیں ان دونوں میں سوتنوں والا رشتہ ہرگز نہیں تھا ۔
°°°°°°
یار ایام مجھے معاف کر دو مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ یہ تمہاری ہونے والی بیوی ہیں ۔
مجھے تو بس اس دن رحیم کے فوٹو البم میں بھابھی کی تصویر دیکھنے کو ملی ۔اور اس دن سے ہی میں شرمندہ ہوں جب میں نے یہ فیصلہ کیا تھا ۔
لیکن تم بھی یقین نہیں کرو گے رحیم نے مجھے یہی بتایا تھا کہ اس کی بہن کی طلاق ہوچکی ہے ۔
اور میں نے یہی سوچا کہ طلاق یافتہ لڑکی ہے تو میں شادی کر لیتا ہوں ۔تمہیں تو پتا ہی ہے کہ خوبصورتی پر اچھے سے اچھا مرد پگھل جاتا ہے ۔
اور میں تو خوبصورتی کا شیدائی ہوں ۔میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں اس لڑکی سے شادی کروں گا جس کے لیے میں نے اپنی دونوں بیویوں سے اجازت بھی لے لی تھی
اور رحیم نے مجھ سے اچھی خاصی قیمت بھی لی ہے۔یہاں تک کہ جس گھر میں وہ لوگ رہتے ہیں وہ گھر میرا تھا جو میں نے اس کے نام کر دیا تھا اور رحیم کو تو میں آسانی سے نہیں چھوڑوں گا ۔اس نے میرے ساتھ دھوکے بازی کی ہے مجھ سے جھوٹ بولا ہے ۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے پورا قصہ بتانے لگا تھا ۔
حمدانی اس وقت میں یہ ساری باتیں نہیں کرنا چاہتا مجھے بس یہ بتاؤ کہ رحیم اس وقت کہاں ہے اور ہم اس سے کس طرح سے مل سکتے ہیں ۔
میں اس کے بارے میں پتہ لگا لگا کر تھک چکا ہوں لیکن نہ جانے وہ آدمی کہاں غائب ہو گیا ہے ۔وہ اپنی پریشانی اسے بتانے لگا تھا ۔
جس پر ہمدان مسکرانے لگا ۔
اس نے مجھے دھوکا دیا ہے تو تمہیں کیا لگتا ہے میں اسے ایسے ہی چھوڑ دوں گا وہ اس وقت جیل میں ہے اپنی بیوی کے ساتھ ۔کیونکہ سارے قصے میں اس کی بیوی بھی شامل تھی میں نے ان پر دھوکہ دہی کا کیس کیا ہے لیکن اگر تم ان سے ملنا چاہو تو ضرور مل سکتے ہو ۔
میں تمہاری ملاقات کا انتظام کروا دیتا ہوں ۔
ہاں کر دو مجھے ملنا تو ہے ہی اس سے لیکن کوشش کرنا کے وہ ہیر کے سامنے اچھی کنڈیشن میں آئے ۔وہ ہیر کا بھائی ہے اسے بری حالت میں دیکھ کر ہیر کو تکلیف ہوگی اور میں نہیں چاہتا۔
وه بات مکمل کرتا باہر اپنی بیٹی کو دیکھنے لگا تھا جو ہمدانی کے دونوں بچوں کے ساتھ کھیلتی کافی خوش لگ رہی تھی ۔
°°°°°°°