Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junoon ) Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junoon ) Episode 32
°°°°°°°
وہ روحی کے ساتھ لیٹا اس سے باتوں میں مگن تھا ۔
جب وہ فریش ہو کر باہر نکلی تو سیدھی روحی کے کمرے میں ہی آئی تھی۔
جو بیڈ پر اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی ایام اس کی سٹوری بک میں اسٹوری دیکھ رہا تھا ۔
جو آج اس نے روحی کو سنانی تھی لیکن روحی کو کوئی کہانی پسند ہی نہیں آ رہی تھی وہ جو بھی کہانی اس کے سامنے کرتا ہے وہ اسے ریجیکٹ کر دیتی ۔
روحی کو آج بابا جانی کی کوئی کہانی پسند نہیں آرہی اسی لئے روحی کو ماما جانی کہانی سنائے گئی ۔
وہ اسٹوری بکس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے خود آرام سے روحی کے ساتھ لیٹ گیا تھا ۔
جبکہ روحی اب اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو نہ جانے اسے کونسی کہانی سناتی اس نے پوری بک کھنگال لی تھی لیکن روحی نے کوئی بھی کہانی سننے سے انکار کر دیا تھا ۔
اس لیے اس نے بک ہی ہیر کے حوالے کر دی۔
ارے تم یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو یہاں لیٹ جاؤ اور روحی کو کوئی کہانی سناو تاکہ یہ سو جائے ۔
پھر ہم اپنی کہانی شروع کریں گے وہ زیرِ لب بڑبڑایا تھا روحی کو تو اس کی بات سمجھ نہ آئی لیکن ہیر نے اسے گھور کر دیکھا تھا جس پر وہ شرارت سے مسکراتے آنکھ دبا گیا ۔
مامادانی اپ یہ بالی شٹوری شوناو( ماما آپ یہ والی سٹوری سناو )وہ ایک کہانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی تو ایام نے اسے گھورا تھوڑی دیر پہلے اس نے بھی یہی کہانی شروع کی تھی جس پر روحی نے اسے منع کر دیا تھا ۔
میں کیا آپ کو یہ کہانی فارسی میں سنا رہا تھا جو آپ کو میرے منہ سے اچھی نہیں لگ رہی تھی وہ ناراضگی جتاتے ہوئے کہنے لگا ۔
نی یہ تہانی اتھی تی بٹ مامادانی زادا اتھے شے شوناتی ہیں(نہیں یہ کہانی اچھی تھی لیکن ماما جانی زیادہ اچھے سے سناتی ہیں)وہ مزے سے بولی۔
اسے اپنی ماں کا انداز زیادہ پسند آنے لگا تھا جس پر ایام نے داد دینے والے انداز میں اسے دیکھا ۔
جب کہ وہ اپنے فرضی کالر کھڑے کرتی اس کے ساتھ ہی لیٹ گئی تھی ۔
روحی ایام کے سینے پر لیٹی کہانی سننے میں مصروف تھی جبکہ ایام کا ایک ہاتھ روحی کے گرد تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ کبھی ہیر کے گال کھنچتا تو کبھی اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اسے تنگ کر رہا تھا ۔
تھوڑی دیر میں روحی نیند کی گہری وادیوں میں اتر گئی تو اس نے مسکرا کر اس کا ماتھا چوما۔
میری پیاری سی شہزادی ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوتے ہوئے زیادہ معصوم لگتی ہے نہ وہ ہیر سے ہوچھ رہا تھا جبکہ اس نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا ۔
میری بیٹی جاگتے ہوئے بھی معصوم ہے ۔بس تھوڑی سی شرارتی ہے ہیر نے روحی کی طرفداری کی تھی ۔
اچھا جی ایسی بات ہے ۔۔۔۔یہ بھی بتائیں کہ آپ کا ہسبینڈ کیسا ہے ۔۔۔۔۔؟
ہیر چھوڑیں اس پر تو آپ نے دھیان ہی نہیں دیا ہوگا ۔وہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا جس پر ہیر مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
°°°°°°°
بندہ خوشی ہی کر دیتا ہے سامنے والے کو ۔۔۔۔۔وہ روحی کا دروازہ بند کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تھا جو آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں میں کنگھی کرنے کا ارادہ بنا رہی تھی ۔
ہمیں نا جھوٹ بول کر کسی کو خوش نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا حصار اپنے گرد محسوس کرتے ہوئے اس نے مسکرا کر نگاہیں جھکا لی تھیں جب کہ وہ اس کا رخ اپنی طرف کرتا اپنے روبرو کر چکا تھا ۔
چلو مت بولو تم جھوٹ ۔۔۔۔۔لیکن مجھے تو سچ بولنے دو ۔۔۔اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے وہ اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے بولا ۔
کیسا سچ ۔۔۔۔؟ اس سے پہلے کہ وہ اس کے لبوں کو قید کرتا وہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھے پوچھنے لگی ۔
یہی کے ایام سکندر تمہاری محبت میں پاگل ہے ۔تمہیں مجھ سے محبت ہو یا نہ ہو لیکن میں تمہیں بے تحاشا چاہتا ہوں اتنا چاہتا ہوں کہ میری محبت کی کوئی انتہا نہیں ۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میری زندگی میں ایسی کوئی لڑکی آئے گی جسےمیں دیوانوں کی طرح چاہنے لگوں گا۔روحی سے پہلے میری زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں تھا پھر اللہ نے مجھے روحی تحفے میں نواز دی ۔
اسے اپنی زندگی میں دیکھ کر میں نے اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد بنا لیا کہ میں اس کی پرورش کروں اس کا خیال رکھوں۔ اس سے محبت کرنا میری زندگی کا مقصد بن گیا تھا لیکن جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو میری زندگی میں ایک نہیں بلکہ دو دو وجہ ہیں جینے کی ایک روحی اور ایک تم ۔
تھینک یو سو مچ ہیر میری زندگی میں آنے کے لئے میری زندگی کو خوشیوں سے بھر دینے کے لئے اب سے میری زندگی میں ایک نہیں بلکہ دو خوشیاں ہیں ایک میری بیٹی اور ایک تم تھینک یو سو مچ میری زندگی میں یہ خوشیاں لانے کے لئے ۔
میں جانتا ہوں تم مجھ سے بدگمان تھی تم میرے بارے میں بہت الٹی سیدھی چیزیں سوچتی تھی لیکن میں اپنی محبت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے دل میں تمہارے لئے ہمیشہ احترام ہے ۔
میں تم سے محبت بعد میں تمہاری عزت پہلے کرتا ہوں اور مجھے پتہ چلا کہ اپنوں کے چہروں میں چھپے یہ لوگ تمہارے ساتھ کیا کرنے والے ہیں تو مجھے بہت تکلیف ہوئی اسی دن میں نے سوچ لیا تھا کہ میں تمہیں ان لوگوں کی زندگی سے دور کر دوں گا ۔
محبت مجھے تم سے اسی دن ہو گئی تھی جب میں نے تمہیں پہلی دفعہ دیکھا اس دن میں نے خدا سے صرف ایک چیز پوچھی تھی ۔
اگر تم میرے نصیب میں ہی نہیں تو بھلا میرا دل تمہارے لیے عجیب سے احساسات کا شکار کیوں ہونے لگا ہے لیکن شاید وہ بے نیاز ذات پہلے ہی ہمیں ایک دوسرے کا کرنے کے بارے میں ٹھان چکی تھی اور دیکھو آج ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ ایک دوسرے کی سانسوں تک کو محسوس کر سکتے ہیں ۔
اور مجھے یقین ہے کہ تم ہمیشہ یوں ہی میرے پاس رہو گی اپنے دل سے ہر طرح کی بد گمانی نکال دو۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں اور ہمیشہ کروں گا میں تمہیں خوش رکھنے کی پوری کوشش کروں گا اور میں جانتا ہوں کہ میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا وہ اس کے چہرے پر جابجا اپنے لبوں سے مہر ثبت کرتا اس سے اپنی چاہت کا اظہار کر رہا تھا ۔
جب کہ اس کے گرد اپنی باہوں کا حصار بنائے وہ اس کے سینے کے انتہائی قریب اس کے لبوں کے لمس کو محسوس کرتی اپنے دل سے ہر طرح کی بد گمانی کو وہ نکال چکی تھی کل سے ہی اس کا دل اس شخص کے نام پر دھڑکنے لگا تھا ۔
بے شک نکاح سے بڑھ کر اس دنیا میں اور کوئی ایسا رشتہ نہیں جس پر یقین کیا جا سکے وہ اس کے نکاح میں آنے کے بعد اس پر یقین کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔
اور محبت تو نکاح کے بعد ہوہی جاتی ہے اس کی قربت میں وہ اپنی ذات کو فراموش کیے بس اسی کی ہو جانا چاہتی تھی اس کا نازک وجود اپنی باہوں میں اٹھائے وہ۔اسے بیڈ پر لے آیا تھا کل کی طرح ایک اور حسین رات ان کی منتظر تھی ۔
جس میں ایک دوسرے کی باہوں میں ایک دوسرے کے بے انتہا قریب وہ ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے وہ کبھی اپنے لبوں پر اس کے لبوں کا لمس محسوس کرتی تو کبھی چہرے اور گردن پر
ایام اس کے وجود پر اپنی چاہتوں کو نچھاور کرتا اسے اپنی باہوں میں قید کرتا چلا گیا تھا ۔
ان حسین لمحات میں وہ سوائے ایام کے اور کچھ نہیں سوچنا چاہتی تھی وہ اس کی سنگت میں پرسکون تھی خوش تھی ۔
لیکن یہ خوشیاں کتنے دن کی تھی اس بات کا اسے اندازہ نہ تھا
°°°°°°
آج ہیر نے بہت دل لگا کر ایام کے لیے کھانا بنایا تھا اور اب وہ یہ سوچ کر بہت خوش ہو رہی تھی کہ ایام اس کی تعریف کرے گا تانیہ نے اسے روکا تو بہت تھا ۔
لیکن اس نے اس کی کوئی بات نہیں مانی تھی آج کل ہیر کا سارا دھیان ہی روحی اور ایام پر تھا بس وہ ان کے چہرے پر خوشی دیکھنا چاہتی تھی ۔
اس نے جلدی جلدی کھانا ٹیبل پر لگایا تھا اور پھر خود کمرے میں چلی گئی ایام کو بلانے کے لیے وہ تھوڑی دیر پہلے ہی آیا تھا اور اب فریش ہونے اپنے کمرے میں گیا تھا ۔
ایام چلیں نیچے کھانا لگ گیا ہے وہ بہت خوشی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی جو اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھاوہ شاید نہا کر نکلا تھا۔ اور اس وقت فون کان سے لگائے کسی سے بات کر رہا تھا۔اسے کمرے میں دیکھ کر اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا ۔
کیوں کہ ایک ہاتھ سے وہ اپنی شرٹ کے بٹن کافی مشکل سے بند کر رہا تھا ۔
یقینا وہ اسے اپنی شرٹ کے بٹن لگانے کے لیے ہی بلا رہا تھا لیکن وہ اپنی شرمیلی نیچر کا کیا کرتی اتنے دنوں سے ایام کی قربت میں وہ دن رات گزار رہی تھی۔
لیکن اس کے باوجود بھی وہ پوری طرح اس کے ساتھ فری نہیں ہو پائی تھی ایام تو موقع ڈھونڈتا تھا اسے اپنے پاس بلانے کے لئےیا یہ کہنا بہتر رہے گا کہ اس کے چہرے پر اپنی محبت کے رنگ بکھیرنے کے لیے ۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اس کے قریب آئی اور اس کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی اس کے نازک سے سرخ ہاتھ اس کے شرٹ کے بٹن پر تھے جبکہ کبھی کبھی انگلیاں سینے سے ٹچ ہوتی اس کے جذبات کو ہوا دے رہی تھیں
۔
وہ چہرا جھکائے اپنا کام کر رہی تھی ۔اس نے اچانک جھکتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھے جب وہ بے ساختہ پیچھے ہونے لگی لیکن اس کے پیچھے ہوتے ہی اس کا چہرہ مزید اس کے سامنے آ گیا تھا اور وہ اس کو اپنے قریب کھینچتا ہے اس کے لبوں پر اپنی قید جماگیا ۔
سن رہا ہو تم بولتے رہو ۔ ۔ اس کا انداز شدت سے بھرپور تھا ایک لمحے کے لیے وہ کانپ سی گئی لیکن پوری طرح اس کی باہوں میں قید تھی۔
وہ ذرا سا پیچھے ہٹا اور دوسری طرف موجود آدمی سے بولا تھا جو اس کی طرف سے خاموشی محسوس کر کے اس کا پوچھنے لگا ۔
ہیر نے پیچھے ہٹ کر اس سے دور جانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ پوری طرح سے اس کی باہوں میں قید تھی اس نے ایک بار پھر سے اپنے بٹن کی طرف اشارہ کیا ۔تو ہیر کی جان مزید ہوا ہونے لگی وہ آسانی سے اسے بخشنے والا نہیں تھا ۔
اس نے آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنی کمر سے پیچھے کیا اور دوسرا ہاتھ اس کے بٹن پر رکھتے اس کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی ۔
اس کا چہرہ حد درجہ سرخ ہو رہا تھا جب کہ ایام دوبارہ سے اس کے چہرے پر اپنی محبت کے رنگ بکھیرنے کا ارادہ بنا چکا تھا وہ اس کا بٹن لگاتی رہی اس سے پہلے کہ وہ اسے قید کرتا اس کے ہاتھ کو پیچھے کرتی وہ پھرتی سے دروازے کی طرف بھاگی تھی ۔
نیچے آ کر کھانا کھا لیجئے ہر وقت رومینس سوجھتا رہتا ہے آپ کو ۔۔۔۔وہ اپنی دھڑکنیں سنبھالتے نیچے بھاگ گئی تھی جب کہ وہ اس کی پیٹھ کو گھورتا رہا ۔
میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں ۔یا یہ ڈیسکشن ہم کل میٹنگ سے پہلے کریں گے ۔
وہ خدا حافظ کہہ کر فون بند کرتا اپنے شرٹ کے باقی بٹن لگاتا کمرے سے نکل گیا تھا ۔
°°°°°°
آرام سکون سے بیٹھا خود کھانا کھاتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ روحی کو بھی کھلا رہا تھا جب کہ وہ سامنے والی کرسی پر سرخ چہرہ لئے اسے گھور رہی تھی جو صرف کھانے پر دھیان دے رہا تھا اس کی تعریف میں اس نے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا اب تک ۔
کیسا بنا ہے کھانا اس نے خود ہی پوچھ لیا ۔
اچھا ہے ۔۔۔۔۔وہ نارمل سے انداز میں کہتا دوبارہ سے مصروف ہو گیا ۔
میں نے بنایا ہے۔۔۔۔۔وہ ناراضگی سے بولی ۔ایام کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔
میں نے بھی بلایا تھا۔
وہ شاید تھوڑی دیر پہلے کمرے والی بات کر رہا تھا ۔
اس بات کا اس بات سے کیا تعلق ہے ۔۔۔۔۔؟
وہ پریشان ہو گئی تھی مطلب وہ اس کی تعریف اس لیے نہیں کر رہا تھا کیونکہ وہ کمرے سے بھاگ گئی تھی ۔
پیار کا تعلق پیار سے ہوتا ہے تم نے پیار سے میرے لیے کھانا بنایا میں پیار سے تمہیں اپنے پاس بلا رہا تھا ۔
تم میرے پاس نہیں آئی میں نے تمہاری تعریف نہیں کی حساب برابر ۔۔۔۔۔”
وہ کندھے اچکا کر اپنا لوجک بیان کرتا کھانے میں مصروف ہوگیا ۔
جب کہ وہ منہ بناتی اس کے قریب سے اٹھنے ہی لگی تھی جب اچانک ایام نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
بہت اچھا کھانا بنایا ہے لیکن آئندہ یاد رکھنا کہ میرے دل کا راستہ میدے سے نہیں گزرتا ۔
اگر مجھے خوش کرنا چاہتی ہومیرے طریقے سے کرو ۔
لیکن کھانا بنانے والا آئیڈیا برا نہیں تھا ۔پیٹ بھرا ہو تو رومینس کرنے کا بھی اپنا مزا آتا ہے ۔۔۔۔۔
وہ آنکھ دباتا شرارت سے کہتا اسے ایک بار پھر سے خود کو گھورنے پر مجبور کر گیا تھا اس کے گھورنے پر وہ قہقہ لگاتاروحی کو لئے کمرے کی طرف چلاگیاتھا۔
°°°°°°
ارے نہیں ہم اپنے ہی ملک میں سیر و تفریح کے لیے نکلتے ہیں ۔اور ویسے بھی میں کبھی بھی اپنے ملک میں گھومنے کے لیے نہیں گئی
مجھے کسی باہر ملک جانے کا شوق نہیں ہے میں تو بس اپنے ہی علاقے کو دیکھنا چاہتی ہوں اس کی ہر خوبصورتی کو محسوس کرنا چاہتی ہوں ۔
وہ صبح اسے کہہ کر گیا تھا کہ اس کے آنے سے پہلے کوئی ایسی جگہ فائنل کرلے جہاں وہ کچھ دن گھومنے پھرنے کے لیے جائیں گے الیکشن شروع ہونے سے پہلے ایام اسے بھرپور وقت دینا چاہتا تھا ۔
تانیہ نے تو اسے بہت ہی بڑی مزے مزے کی جگاہیں دکھائی تھیں لیکن اس نے ایک ہی بات کی تھی کہ وہ اپنے ملک میں کہیں گھومنے کے لیے جائے گی ۔
جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ تینوں انٹرنیٹ پر کسی اچھی سی جگہ کو دیکھ رہی تھی تانیہ اسے دیکھتے ہی اٹھ کر کھڑی ہوگئی جبکہ ہیر اور روحی کا اب تک سارا دھیان موبائل کی سکرین پر تھا جب اچانک اس نے ایک لفافہ لا کر اس کے موبائل کی سکرین پر رکھ دیا
یہ کیا آپ نے ٹکٹ بک کروا لی کہاں جانے کا ارادہ ہے آپ کا وہ اسے گھورتے ہوئے کہنے لگی اس کا ارادہ پاکستان میں گھومنے کا تھا لیکن اب تو شاید وہ اپنے ساتھ کہیں اور لے کر جانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
ان کی شادی کو دو ہفتے ہو چکے تھے زندگی پرسکون گزر رہی تھی وہ اس کی سنگت میں بے انتہا خوش تھی ۔
اور آج کل اس کی ساری باتیں یہی بھی کہ وہ اسے کہاں گھمانے کے لئے لے کر جائے گا ایام خود بھی گھنٹوں اس چیز پر اس کے ساتھ باتیں کرتا تھا کیونکہ اب تک وہ کوئی جگہ فائنل نہیں کر پائے تھے کہ وہ تینوں کہاں جائیں گے ۔
پھر اچانک اس نے ڈیسائیڈ کرلیا اور اس نے ٹکٹ بھی بک کروا لیے ہیر جو۔ اب یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اپنے ہی ملک میں گھومے گی لفافہ دیکھ کر اس کا موڈ اچھا خاصہ خراب ہوا تھا ۔
مجھے بعد میں گھورنا پہلے اسے کھول کر دیکھو ۔وہ روحی کو اپنے قریب کرتا اسے بتاتے ہوئے گدگداتے ہوئے بولا تھا جس پر وہ اسے گھورتی ہوئی لفافہ کھول کر دیکھنے لگی ۔
لیکن جیسے جیسے وہ ٹکٹس دیکھتی گئی اس کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اسے ایسی کوئی جگہ دکھانے اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
ایام ہم ۔۔۔۔۔ہم عمرہ پر جائیں گے ۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تو اگلے ہی لمحے ایام نےسیدھے ہوتے اسے اپنے ساتھ لگا لیا جبکہ تانیہ کمرے سے نکل گئی تھی ۔
اس میں رونے والی کون سی بات ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے نا کہ اللہ پاک ہمیں وہاں بلا رہا ہے ۔وہ اس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے محبت سے بولا تو وہ خوشی سے اپنے آنسو صاف کرتے ایک بار پھر سے اس کے سینے سے لگ گئی تھی
جبکہ روحی کافی دیر انہیں ایک دوسرے سے لگے دیکھتی رہی پھر خود بھی ان کے گرد باہوں کا حصار بناتی اپنی جگہ بنا گئی تھی وہ دونوں اسے اپنے ساتھ لگاتے خوشی سے مسکرا دیے تھے ۔
وہ جانتا تھا کہ ہیر آسانی سے ڈیسائیڈ نہیں کر پائے گی کہ وہ لوگ کہاں پر جا کر اپنا ہنیمون منائیں لیکن اپنی پیاری سے بیوی کو خوش کرنے کے لئے اس نے خود ہی ایک فیصلہ کرلیا تھا ۔
اور اسے یقین تھا کہ ہیر کو بھی اس کا یہ فیصلہ بہت پسند آئے گا اور اس کی سوچ کے عین مطابق وہی ہوا تھا
ہیر یہ جان کر بے انتہا خوش ہوگئی تھی کہ وہ اسے عمرے پر اپنے ساتھ سعودی عرب لے کر جا رہا ہے ۔
اب رونا دھونا پیار محبت بعد میں بھی کر سکتے ہیں جلدی سے تیاری کرو پرسوں رات کی فلائٹ سے ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔وقت کم ہے
۔وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے اسے بتانے لگا جبکہ روحی یاہو کا نعرہ لگاتے ایک بار پھر سے خوشی سے ناچنے لگی تھی
°°°°°°
