Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junoon ) Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junoon ) Episode 31
°°°°°°
وہ جلدی سے دودھ لے کر آیا تھا وہ وہاں بیڈ پر ہی تھی۔ لیکن کچھ بولی نہیں تھی اور نہ ہی اسے دیکھا تھا۔
اسے آنے میں ٹائم لگ گیا تھا اور اب وہ روحی کے کمرے کی طرف آیا تو وہ ابھی تک سو رہی تھی ۔
اپنی بیٹی کی روٹین سے وہ اچھے سے واقف تھا وہ فجر کی اذان سے پہلے جاگ جاتی تھی۔
اپنی بیٹی کے تو ایک ایک لمحے کا اسے اچھے سے حساب تھا وہ دودھ کی بوتل اس کے قریب رکھتا آہستہ سے اسے اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے اسے نیم نیند میں لانے لگا تھا ۔
تاکہ وہ اسے دودھ پلا سکے اور دودھ پینے کے فورا بعد وہ دوبارہ سو جاتی ۔ابھی فجر ہونے میں کافی ٹائم باقی تھا وہ اسے دودھ پلا کر واپس کمرے میں آیا تو وہ بیڈ پر کمبل میں منہ دیے ہوئے تھی۔
اس نے آہستہ سے اس کے چہرے سے کمبل ہٹا یا تو اسے گہری نیند میں پایا وہ اسے سونے سے منع کر کے گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس وقت گہری نیند میں اتر چکی تھی ۔اس نے بھی تو کل رات اس پر ظلم ہی ڈھایا تھا اسے ایک لمحے کو میں سونے نہیں دیا ۔ساری رات اسے اپنی محبتوں کا یقین دلاتا رہا تھا ۔اسے اپنی محبت کی بارش میں بھگوتا رہا ۔وہ مسکرا کر اس پرکمبل واپس ٹھیک کرتے ہوئے فریش ہونے چلا گیا ۔
فریش ہو کر واپس آیا تو بھی وہ اسی طرح سے سو رہی تھی وہ اسے تنگ کیے بنا ہی وہ اپنےکمرے سے باہر نکل آیا آج کا دن بھی بہت مصروف ہونے والا تھا ۔
آج اس کا ولیمہ تھا اور کل کی طرح وہ چاہتا تھا کہ آج بھی سب کچھ پرفیکٹ ہو۔کل اس نے اپنی بیٹی کو خوش کیا تھا اور آج وہ اپنی بیوی کو خوش کرنے جا رہا تھا ۔
°°°°°°°
سر الموسٹ ہر چیز مکمل ہے ۔ساری تیاری ہو چکی ہے بس مہمان آنا شروع ہوجائیں آپ بالکل فکر نہ کریں ہم نے سکیورٹی ہائی الرٹ کردی ہے ۔
آج ہم نے ڈبل سیکیورٹی کر دی ہے کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے کوئی بھی انجان آدمی اندر نہیں آ سکتا ۔
یہاں تک کہ جن لوگوں کے پاس کارڈ ہوگا ہم انہیں اندر انٹری کرنے کی اجازت دیں گے اس کے علاوہ باہر کا کوئی انسان نہیں ہوگا آپ بالکل بے فکر ہو جائیں میڈم ہر طریقے سے سیف ہیں۔
ہر دروازے پر چیکنگ کے لیے سکیورٹی گارڈ موجود ہیں ۔کسی طرح کا کوئی غیر قانونی کام ہم یہاں ہونے ہی نہیں دیں گے ۔
اگلے پچھلے سب دروازے ہم نے سیکیورٹی کور کر لیے ہیں ۔ہر ایک دروازے پر گارڈ اپنا کام سرانجام دے رہا ہیں
ہم ہر چیز کا دھیان رکھ رہے ہیں آپ کو ہم سے کوئی شکایت نہیں ہوگی ۔وہ اپنے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ باہر آکر ایک بار پھر سے چیکنگ کرنے لگا تھا جب وہ اسے یقین دلاتے ہوئے بولا ۔
مجھے تم لوگوں کی سکیورٹی پر یقین ہے لیکن میں پھر بھی ایک دفعہ چیک کرنا چاہتا ہوں ۔
کل تم لوگوں کے کام سے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے لیکن آج خطرہ زیادہ ہے مہمان زیادہ ہوں گے ۔
اسی لیے میں کسی طرح کا رسک نہیں لینا چاہتا ۔میری بیوی اور بیٹی کے پاس اپنی سکیورٹی آفیسرز کی ڈیوٹی لگا دو وہ ایک لمحے کے لیے بھی اکیلی نہیں ہونی چاہیے ۔وہ انہیں سمجھاتے ہوئے خود سارا گھر چیک کرنے لگا تھا ۔اس نے گھر پر ہائی سکیورٹی ارینج کروائی تھی
وہ کنگ کی طرف سے تقریبا بے فکر ہی تھا ۔کیونکہ کنگ کی دھمکیوں نے اس پر کوئی خاص اثر نہیں دکھایا تھا ۔لیکن اس کے باوجود بھی وہ ہیر اور روحی پر کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں چاہتا تھا۔
کنگ نے جس طرح کی دھمکیاں اسے دی تھی اس کے بعد اسے یقین تھا کہ وہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کرے گا جو اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔
اسے یقین تھا کہ کنگ چپ نہیں بیٹھے گا وہ ایسا کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا جو اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو کیونکہ وہ اسے اپنا آپ ضرور دکھائے گا ۔
اس طرح چھپ کےبیٹھ کروہ اس پر اپنی پاور کس طرح سے ظاہر کرے گا۔اگر وہ شخص پاور میں تھا تو وہ اپنی پاور کا استعمال تو لازمی کرتا ۔
آخر اس نے کوئی چھوٹا سا کام تو نہیں کیا تھا ۔اس نے اس لڑکی سے شادی کی تھی جسے کنگ نے اس کے شوہر سے خریدا تھا ۔ہیر اس کی خواہش تھی اور وہ اس طرح اپنی خواہش کو رد تو نہیں ہونے دے سکتا تھا۔
اسی لیے وہ کوئی نہ کوئی ایسا قدم تو اٹھانے والا تھا جو اسے کنگ کی طرف سے خوفزدہ کر دے اسی لئے اس نے اپنی سکیورٹی کا انتظام کر رکھا تھا ۔
کیونکہ بے شک اسے کنگ کا کوئی خوف نہیں تھا ۔وہ اسے زیادہ سے زیادہ کیا نقصان پہنچا سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔؟
اسے خود سے کہیں زیادہ اپنی بیوی اور بچی کی فکر تھی وہ اپنی اور کنگ کی لڑائی میں اپنی فیملی کو نہیں آنے دینا چاہتا تھا ۔۔
وہ اپنی ہیر کو کنگ جیسے خطرے سے دور رکھنا چاہتا تھا اسی لیے اس نے گھر پر اتنی سیکیورٹی کا انتظام کروایا تھا ۔
اگر وہ چاہتا تو وہ ولیمہ فی الحال کے لیے ٹال بھی سکتا تھا ۔لیکن اگر وہ ایسا کچھ کرتا تو اس کا مطلب تھا کہ وہ کنگ سے خوفزدہ ہے ۔
اور ایسا نہیں تھا وہ کنگ سے خوفزدہ نہیں تھا ۔اسے اگر کسی کا خوف تھا تو وہ صرف اپنے خدا کا جو اس کی دنیا اور آخرت کا مالک تھا کنگ جیسے بے ضمیر لوگوں سے ڈر کر یا دب کر رہنے والوں میں سے وہ تھا ہی نہیں ۔
لیکن اسے کنگ کو دیکھنے کی خواہش ضرور تھی وہ خود اس سے روبرو ملنا چاہتا تھا اس کی آواز سے وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ کس طرح کی طبیعت کا مالک ہے ۔
لیکن وہ اس سے ملنا چاہتا تھا اور اس کےدل سے ہیر کی خواہش کو کرید کر مٹا دینا چاہتا تھا ۔
کیونکہ وہ اپنی بیوی کی خواہش بھی اب کسی غیر مرد کے دماغ میں نہیں آنے دینا چاہتا تھا ۔
°°°°°°
میلی پاری مامادانی (میری پیاری ماما جانی)
بیوٹیشن اسے تیار کر رہی تھی جب کہ روحی ہر تھوڑی دیر کے بعد کمرے میں جھانک کر بھاگ کر اس کے پاس آتی اور اسے ہگ کر کے باہر بھاگ جاتی۔
اس کی حرکتیں وہاں کام کرتی بیوٹیشن کے ساتھ سیکیورٹی گارڈ بھی انجوائے کر رہی تھی ۔
مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ کی شادی اب ہو رہی ہے تو یہ چھوٹی بچی ۔ ۔ ۔۔۔؟
وہاں موجود سکیورٹی گارڈ جو اس وقت بہت ہی خوبصورت لباس میں بیوٹیشن کی ہلپر بن کر اس کے سامنے کھڑی تھی ۔روحی کے اتنے پیار بھرے مظاہرے پر اس سے پوچھنے لگی۔
وہ سر کی پہلی وائف میں سے ہے یہ سر کی سیکنڈمیرج ہے اور پھر یہ بچی ان سے بہت زیادہ اٹیچڈ ہو گئی ہے ۔
بیوٹیشن نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا تھا ۔
او اچھا آپ اس کی سٹیپ مدر ہیں ۔اللہ آپ دونوں کا پیار ایسے ہی سلامت رکھے ۔آجکل بہت کم اس طرح کا پیار دیکھنے کو ملتا ہے دوسری بیوی بھلا کہاں یہ پہلی اولادیں برداشت کرتی ہے ۔
اللہ آپ کا دل مزیدبڑا کرے ۔وہ مسکرا کر کہتی شاید بات ختم کر چکی تھی۔ لیکن نہ جانے کیوں ہیر کے دل میں اس کے الفاظ قید ہو کر رہ گئے تھے “سٹیپ مدر” چھوٹا سا لفظ تو نہ تھا ۔
لیکن تھی تو حقیقت ہی وہ روحی کی سگی ماں نہیں تھی ۔اور شاید پھر ساری زندگی یہی بات اس پر ثابت کرتی رہتی ۔
کتنے تلخ ایکسپیرینس جڑے ہوئے تھے اس لفظ سے لوگوں کے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا ۔عورت بے شک سب برداشت کر لے لیکن اپنی زندگی میں کسی دوسری عورت کا وجود برداشت نہیں کر پاتی ۔اور پھر اس وجود سے پلتی اولاد ۔
اللہ نہ کرے یہ میں کیا سوچ رہی ہوں اللہ پاک کبھی مجھے روحی کی سوتیلی ماں نہ بنائے ۔وہ آئینے میں اپنا سجا سنورا روپ دیکھتی اپنے دل میں خدا سے مخاطب تھی ۔
اس کی بس ایک ہی دعا تھی کہ وہ ہمیشہ روحی کی ماما جانی بن کر رہے کبھی اس کی سوتیلی ماں نہ بنے۔اور اسے یقین تھا کہ اس کا خدا اس کی یہ دعا ضرور قبول کرے گا ۔
وہ اپنے دل میں کبھی یہ احساس ہی نہیں آنے دے گی کہ وہ روحی کی سگی ماں نہیں ہے۔اور اگر وہ خود اس رتبے پر فائز ہو گئی تو اگر اس کی اپنی اولاد دنیا میں آگئی تو ۔۔۔۔۔؟
بے شک اپنی اولاد دنیا میں آجانے کے بعد دل میں کہیں نہ کہیں یہ بات آہی جاتی ہے ۔
لیکن وہ نہیں آنے دے گئی وہ کبھی روحی کی جگہ کسی کو نہیں دے گی
اور اس سوچ کے ساتھ اس نے ایک اور بہت بڑا فیصلہ کر لیا تھا ۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ روحی کی محبت میں کبھی کسی کو شریک ہی نہیں ہونے دے گی ۔وہ کبھی بھی روحی کی سوتیلی ماں نہیں بنے گی بے شک اس کے لیے اسے اپنی اولاد کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے ۔
ہاں وہ صرف روحی کی ہی ماما جانی بن کر رہے گی وہ کبھی اس کی سوتیلی ماں نہیں بنے گی بے شک اسے اس کے لئے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے لیکن وہ روحی کے ساتھ کبھی کوئی ناانصافی نہیں ہونے دے گی ۔
°°°°°°
سر پلیز ہمیں معاف کر دیجئے ہمارا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کل وہاں اندر جانے کی لیکن ہم لوگ نہیں جا پائے ہر انسان کو کارڈ ملا ہوا تھا۔
اور کارڈ کے بنا کسی کی بھی انٹری اندر ممکن ہی نہیں تھی ہم نے بہت کوشش کی کہ ہم کسی طرح اندر داخل ہو جائیں لیکن ایسا ممکن ہی نہ ہوسکا ہماری ساری کوشش دھری کی دھری رہ گئی وہ آدمی بہت تیز ہے سر ۔
ہم نے اسے معمولی سمجھ کر بہت بڑی غلطی کی ہے اس کا دماغ بہت چلتا ہے وہ کوئی عام آدمی نہیں ہے بلکہ سیاست کا جیتا جاگتا نام ہے
اس نے بہت ہی سٹرونگ سکیورٹی رکھی ہوئی ہے وہ کسی بھی طرح کی کوئی غلطی کر ہی نہیں رہا جس کی بنا پر ہم اس پر حملہ کر سکے ۔
ہماری پوری کوشش تھی کہ ولیمے سے پہلے ہم اس لڑکی کو کڈنیپ کر لیں گے لیکن ایسا ہو ہی نہیں سکا ۔
ہم گھر کے اندر تک نہیں جا سکے گھر سے تقریبا تین میل دور تک سیکیورٹی گارڈ کی سخت نگرانی ہے ۔ہماری ساری پلاننگ کو پوری طرح سے فیل کر چکا ہے۔
وہ ہم سے بہت آگے ہے سر اس کا ہر قدم ہم سے دس قدم آگے ہےوہ کسی بھی طرح ہاتھ نہیں آ رہا ۔
اس کے گھر تو دور کی بات ہے ہم اس کے بنگلے کے تین میل سے بھی دور تھے ۔وہ اتنا پاور میں ہے کہ ہم اس کے گھر تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے تھے ۔
ہم نے ویٹر بن کر بھی وہاں جانے کی کوشش کی لیکن ویٹرز کی بھی اتنی ہائی چیکنگ ہو رہی ہے کہ وہاں اندر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہاں اندر ہم لوہے کی چیز لے کر نہیں جا سکتے تو آپ بتائیں کہ ہم وہاں سے اس لڑکی کو اغوا کرکے کیسے لائیں
اورویسے بھی اب تو کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
وقار آدھی ادھوری بات کرکے اس کی طرف دیکھنے لگا جو غصے سے اسے گھور رہا تھا اس کے گھورنے پر وہ بوکھلا گیا ۔
سر ۔۔۔۔۔میرا مطلب۔۔۔۔۔ ہے آپ۔۔۔۔۔ کو ان ٹچ ۔۔۔۔۔لڑکی چاہیے ۔۔۔۔۔تھی تو اب۔۔۔۔ تو وہ اس ۔۔۔کی بیوی ہے۔۔۔۔ تو اس نے کہا ۔۔۔۔تو تھا وہ اپنی۔۔۔۔۔ بیوی کو خود۔۔۔۔۔ پر حلال کر۔۔۔ کے ولیمہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔وقار کی بولتی بیچ میں ہی بند ہو گئی تھی کیونکہ کنگ کا زور دار تھپڑ اسے زمین بوس کر چکا تھا ۔
سرایم ۔۔۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔ سر غلط۔۔۔۔ی ہوگئی پلیز مجھے معاف کر۔۔۔۔۔۔۔ دیجیے میں تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے ۔کہ کنگ اس کی طرف بڑھ کر اسے مزید کوئی نقصان پہنچاتا اور وہیں زمین پر پڑے اس کے پیر پکڑ کر معافی مانگنے لگا وہ اس کا سب سے خاص آدمی تھا اسے معاف کرنا اس کی مجبوری تھی ۔
لیکن اتنی آسانی سے وہ معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا وہ اس کا گریبان پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کر چکا تھا ۔
وقار تم میرا مذاق اڑا رہے ہو تمہیں لگتا ہے کہ میں اس لڑکے سے ہار گیا۔۔۔۔۔۔۔؟
اس کل کے لڑکے سے جو مجھے اپنی سیاست کی پاور دکھا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کون ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کون ہوں میں انڈر ورلڈ کا سب سے خطرناک مجرم سب سے خطرناک انڈر ورلڈ کا ایک ایک کا آدمی کانپتا ہے میرے نام پر ۔۔۔۔۔۔۔۔” تمہیں لگتا ہے کہ میں اتنی آسانی سے اس لڑکی کو چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اس لڑکی پر میرا دل آیا ہے وقار اور اس ایام سکندر نے مجھے اس کے لئے تڑپایا اس نے مجھے چلینج کیا ۔اس نے اس لڑکی کے ساتھ رشتہ بنایا جو مجھے چاہیے تھی ۔
اور تمہیں لگتا ہے کہ میں اسے اتنی آسانی سے چھوڑ دوں گا ۔۔۔۔!
نہیں وقار نہیں میں اسے بتاؤں کہ کون ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔”
میں اسے بتاؤں گا کہ اس نے کس سے پنگا لیا ہے۔۔۔۔۔۔” اگر اسے لگتا ہے کہ اس لڑکی کو اپنی بیوی بنا کر اس نے اسے مجھ سے محفوظ کرلیا ہے یہ صرف اس کی غلط فہمی ہے ۔
میں اسے کسی قیمت پر معاف نہیں کروں گا میں اسے بتاؤں گا کہ کنگ آخر چیز کیا ہے کنگ کے ساتھ پنگا لے کر اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے۔۔۔۔۔۔
بہت بڑی غلطی۔۔۔۔۔۔۔” اس نے اس لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کیا جس کی ایک ایک سانس پر کنگ کا حق تھا وہ میری پسند پر اپنی ملکیت جتا رہا ہے۔۔۔ ۔
جو میں کبھی ہونے نہیں دوں گا اس لڑکی پر صرف میرا حق ہے اسے دیکھتے ہی میں اس کا دیوانہ ہو گیا تھا ۔
تو اسے دیکھنے کا حق تو صرف مجھے ہے وہ صرف میری ہے ۔
مجھے اس لڑکی کی خواہش ہے بلکہ اس لڑکی کے لئے میں کچھ بھی کر جاؤں گا ۔
اس کی خوبصورتی پر میرا حق ہے میں اسے کسی کا نہیں ہونے دوں گا ایام سکندر کو لگتا ہے کہ اس نے اس کے ساتھ رشتہ بنا کر اسے مجھ سے چھین لیا تو ایسا کچھ نہیں ہوگا اس لڑکی کو میں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا ساری زندگی وہ میری باہوں میں گزارے کی ۔
اگر اس لڑکی کے لیے کوئی تڑپے گا تو وہ ایام سکندر ہوگا اور کوئی نہیں میں اس لڑکی کو اپنا بنا کر ہی دم لونگا اس پر صرف کنگ کا حق ہوگا ۔تم لوگ نہیں جا سکتے نا اسے لانے کے لئے تو میں خود اسے لے کر آؤں گا۔
بے شک ایام سکندر نے اسے اپنا بنا لیا ہے بےشک وہ ایام سکندر کی بیوی بن چکی ہے لیکن وہ کہلائے گی ہمیشہ کنگ کی ۔
میں اسے چھین لوں گا اس سے ۔ا سے میری زندگی میں آنا ہوگا اس پر صرف اور صرف کنگ کا حق ہے وہ غصے سے اس کے منہ پر دہاڑتا اسے پیچھے کی طرف دھکا دیتے خود دروازے سے باہر نکل گیا تھا جبکہ وقار نے گہرا سانس لیا ۔
اسے اس وقت اس آدمی پر بہت غصہ آرہا تھا ایک معصوم سی لڑکی جو اپنی زندگی کی ایک بہترین شروعات کر چکی تھی۔ آگے بڑھ چکی تھی اس کے بارے میں ایسی سوچ رکھنا ۔۔۔۔۔۔”
کل تک یہ بوڑھا آدمی صرف ان لڑکیوں کی زندگی برباد کرتا تھا جو خود اس کے پاس آتی تھیں لیکن اب اس کی نظر کسی کی عزت پر تھی ۔
اس نے اس لڑکی کو اپنے لئے ایک چیلنج بنا لیا تھا وہ صرف اب اس کو ایام سکندر سے چھیننا چاہتا تھا ۔
°°°°°°
ولیمہ اپنے عروج پر تھا ہر کوئی اس کی پسند کو داد دے رہا تھا ان کی جوڑی کو لوگ چاند سورج کی جوڑی کہہ رہے تھے ۔
وہ اس کے پاس آ کر بیٹھا تو ہیر نے نظریں جھکا لیں
صبح روحی کو دودھ دینے کے بعد وہ واپس آیا تو اسے سوتے ہوئے پایا تھا وہ پتا نہیں کیسے سو گئی تھی ۔
حالانکہ اس نے منع کیا تھا اور ہیر انتظار بھی کر رہی تھی لیکن اچانک ہی نیند کا آہستہ جھونکا آیا کہ وہ گہری میٹھی نیند میں اترتی چلی گئی۔
ایم سوری میں نے صبح آپ کا انتظار کیا تھا لیکن پتہ نہیں کیسے میری آنکھ لگ گئی نجانے اسے کیوں محسوس ہوا کہ وہ اس سے اس بات پر ناراض ہو گا لیکن اس کی آواز سن کر وہ ایک نظر اسے دیکھتا گہرا سامسکرا دیا ۔
تو میری جان اس میں سوری کرنے والی کونسی بات ہے نیند تو آہی جاتی ہے ویسے میں نے تو سنا ہے کہ نیند پتھروں پر بھی آجاتی ہے ۔اس میں سوری کرنے والا تو کچھ نہیں تھا وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے نرمی سے بولا ۔
نہیں مجھے لگا کہ شاید آپ اس بات پر مجھ سے ناراض ہوں گے۔
ہیر اس کا رات کا انداز یاد کرتے ہوئے کہنے لگی وہ جو اس سے بےرخی برتناچاہتی تھی جو اس کے ساتھ اس رشتے کی شروعات ہی نہیں کرنا چاہتی تھی اس وقت اس کی ناراضگی کے ڈر سے پریشان ہو رہی تھی ۔
بے شک چاہے جانے کے احساس سے بڑھ کر اور کوئی احساس نہیں ہوتا اور ہیر کو کل رات یہی احساس تو تحفے میں ملا تھا ۔
میری جان میں تم سے بالکل ناراض نہیں ہوں ۔لیکن اگر تم پھر بھی مجھے منانا چاہو تو آج کی رات میں تمہیں خود کو منانے کا پورا پورا موقع دونگا ۔وہ ذو معنی انداز میں کہتا اسے جھنپنے پر مجبور کر گیا تھا جب کہ روحی تو اب تک صبح سے بار بار آکر کبھی اسے ہگ کرتی تو کبھی اسے کس کر کے” میری پاری ماما” کہہ کرچلی جاتی ۔
یقیناً اس نے پہلی دفعہ ہیر کو اتنا تیار دیکھا تھا اور وہ اپنے انداز میں اس کی تعریف کر رہی تھی
مجھے بھی تمہیں ایسے ہی ہگ اور کس کر کے میری پاری بیوی بولنا ہے ۔وہ اس کے کان میں سرگوشی نما آواز میں بولا ۔توہیر نے اسے گھور کر دیکھا جبکہ آیام کا زو معنی قہقہ بے ساختہ تھا
°°°°°°
