60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon ) Episode 30

°°°°°°
بھرپور تالیوں کے بیج کیک کاٹا گیا۔وہ کیوٹ سی پرنسز ٹیبل پر کھڑی اپنے بابا اور ماماجانی کے ساتھ اپنی ہائٹ میچ کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو ناممکن تھا لیکن اس کے باوجود بھی وہ ان دونوں کے کافی قریب تھی ۔
ہیر اور ایام نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے کیک کاٹنے میں مدد دی تھی جب کے سب کے تالیاں بجانے پر خوش ہوتی وہ خود بھی تالیاں بجا رہی تھی ۔
اور انہیں تالیوں کے بیج اس نے کیک کا ٹکرا ایام کے منہ کی طرف بڑھایا لیکن جیسے ہی ایام نے اپنا منہ کھولا وہ شرارت سے کیک ہیر کے منہ میں ڈال گئی۔
اس کی اس حرکت پر جہاں ایام نے اسے گھور کر دیکھا وہیں ہیر خوش ہوئی تھی ۔جبکہ باقی لوگ روحی کی حرکتیں انجوے کر رہے تھے ۔
روحی تو پوری پارٹی کی جان بنی ہوئی تھی وہ کبھی اس طرف کھیل رہی ہوتی تو کبھی اس طرف ۔۔۔۔۔ہیر تو ہر تھوڑی دیر کے بعد اسے ڈھونڈنے لگتی تھی جو نا جانے کہاں گم ہو جاتی تھی
پارٹی میں بچوں کا کوئی شمار نہ تھا ۔کیوں کہ یہ پارٹی رکھی ہی بچوں کے لئے گئی تھی اس لیے یہاں بچوں کی تعداد باقی لوگوں سے زیادہ تھی وہاں موجود سب لوگ اپنے بچے کے ساتھ لے کر آئے تھے ۔
اسی لیے پارٹی میں شوروہنگامہ بھی کافی زیادہ تھا ۔چھوٹے چھوٹے بچے رنگ برنگے کپڑے پہنے اپنی دنیا میں مگن تھے ہیر نے آج تک اس طرح کی کوئی پارٹی اٹینڈ نہیں کی ہوئی تھی شاید یہ بھی ایک وجہ تھی اسے یہاں بہت مزہ آ رہا تھا ۔
بچے ایک دوسرے سے گفتگو میں مگن نہ جانے کون سی زبانیں بولتے تھے جنہیں سمجھنے سے وہ قاصر تھی ۔لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ یہ دن ہیر کہ زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا
°°°°°°°°
تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھی ہوئی ہو آؤ میں تمہیں سب لوگوں سے ملواتا ہوں اس پارٹی میں جتنے بھی لوگ ہیں وہ میرے سوشل سرکل کا حصہ ہیں مطلب کبھی نہ کبھی ان لوگوں سے مجھے کوئی نہ کوئی کام پڑتا رہتا ہے یہ سارے میرے کام کے لوگ ہیں ۔
یہ میرے کام کا حصہ ہیں۔اور تمہیں ان سے ملوانا چاہتا ہوں تمہیں میرے کام کے بارے میں بھی اچھی سمجھ آ جائےگی وہ مسکرا کر کہتا اسے لینے باہر آیا تھا جہاں وہ بچوں کو دیکھنے میں مگن خوش ہو رہی تھی ۔
اس نے نوٹ کیا تھا اسے صرف روحی ہی نہیں پسند تھی بلکہ وہ سارے بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتی رہتی تھی ۔
نہیں میں کیا کروں گی وہاں اندر جا کر میں تو کسی کو ٹھیک سے جانتی بھی نہیں اور ویسے بھی وہ لوگ آپ کے سوشل سرکل کا حصہ ہے تو میرا وہاں بھلا کیا کام ۔۔۔۔۔۔۔؟
آپ کو انہیں ٹائم دینا چاہیے میں تو بس روحی کو دیکھ رہی تھی کتنی خوش ہے نہ آج یہاں ۔
بچوں کو دنیا کی کوئی بھی خوشی کیوں نہ دے دی جائے لیکن انہیں اصل خوشی تب ملتی ہے جب ان کو اس کی آزادی ملتی ہے بچے ہمیشہ چھوٹے بچے بچوں میں ہی خوش رہتے ہیں ۔وہ روحی کو چھوٹے بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر کہنے لگی تھی اس کے بات سن کر ایام بھی مسکرا دیا ۔
ہاں تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو اسی لیے تو میں بھی جلد سے جلد اپنے دوسرے بچے کے بارے میں سوچنا چاہتا ہوں تاکہ روحی کو خوش کرنے کے لئے کسی غیر کو گھر نہ بلانا پڑے۔
ہمیں اندر چلنا چاہیے کیونکہ بے شک وہ لوگ میرے سوشل سرکل کا حصہ ہیں لیکن میری بیوی ہونے کے ناطے تمہیں ان سے ملنا ہوگا ۔صرف ہائے ہیلو کردو ۔وہ لوگ کب سے تمہارے بارے میں پوچھ رہے ہیں
اپنی بات مکمل کرتا ایام اس کا چہرہ دیکھنے لگا تھا جہاں لمحوں میں ہی سرخی چھانے لگی تھی۔اور اس دفعہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے جانے پر ہیر نےکسی طرح کی کوئی بات نہیں کی تھی ۔
اسے اندازہ نہ تھا یہ شخص اس کی کون سی بات کا کون سا مطلب نکال کر اسے اپنے پاس سے الفاظ کا لباس پہناکر اس کے سامنے پیش کردے ۔بلکہ اسے شرمندہ کر دے۔
°°°°°°°
ہیلو مسز ایام آپ تو بہت حسین ہیں ماشاءاللہ سے مجھے اب اندازہ ہو رہا ہے کہ ایام شادی کیوں نہیں کر رہا تھا ۔
یقیناً وہ آپ کے انتظار میں تھا ۔ویسے آپ لوگوں کی پہلی ملاقات کہاں ہوئی اور ایام نے بتایا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے تو ایام نے آپ سے اپنی محبت کا اظہار کیا ۔
ان ساری باتوں کو چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ ایام کی پہلی بیوی سےطلاق وغیرہ ہوگی نا۔میرا مطلب ہے کہیں وہ اب تک تو ایام کی زندگی میں نہیں ہے نا ۔
ویسے ایام کی پہلی شادی کب ہوئی اور طلاق کب ہوئی کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی ۔
بس جب ایام کی بیٹی کی بات باہر نکلی تب ہی پتہ چلا کہ اس کے والدین نے اس کی زبردستی شادی کروا دی تھی جس میں سے اس کی ایک بیٹی بھی ہے لیکن بیوی کے ساتھ کچھ خاص بنی نہیں تو اس کو چھوڑنے والا ہے ۔
وہ دو تین عورتیں پتا نہیں کیا کیا کہہ رہی تھیں ہیر کو ان کی باتوں میں کوئی دلچسپی تو نہیں تھی لیکن پھر بھی یہ اس کی زندگی سے جڑی ہوئی باتیں تھیں جو اسے سننی تھیں ۔
لیڈیز کیا باتیں ہو رہی ہیں تم لوگ میری مسز کو بڑکا تو نہیں رہیں۔۔۔۔۔؟ایام ایک آدمی کے ساتھ وہاں آ کر رکا تو ساری عورتوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
ارے نہیں نہیں ہم تو آپ کی پہلی شادی کے بارے میں بات کر رہے تھے کہ اچانک شادی ہوئی پھر اچانک آپ کی طلاق کی خبر آگئی ۔اور پھر آپ کی بیٹی بھی اتنی پیاری ہے ۔عورت کچھ حد تک شرمندہ ہوئی تھی
ہاں کیوں کہ وہ نصیب کا لکھا تھا اچانک شادی ہوئی ہماری۔ نہیں بن پائی اچانک طلاق ہو گئی۔اس شادی میں میری مرضی شامل نہیں تھی میرے والدین نے زبردستی شادی کروائی تھی سو ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کرسکے ۔
لیکن اب میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے تو میری زندگی سب کے سامنے ہے وہ ہیر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کرتے ریلکس انداز میں بولا تھا ۔
یار تمہاری پہلی بیوی نے تم سے بیٹی کی ڈیمانڈ نہیں کی میرا مطلب ہے تم اسے چند دن کی ہی پاکستان لے آئے تھے نا ۔۔۔۔۔اس کے ساتھ کھڑے آدمی نے سوال کیا ۔
نہیں اسے بیٹی نہیں چاہیے تھی بلکہ زندگی گزارنے کے لئے اچھی رقم چاہیے تھی اور مجھے میری بیٹی اس کے لیے میں اسے کچھ بھی دے سکتا تھا ۔اور اس نے اپنی بیٹی کو ہر طریقے سے کیش کروانے کی کوشش کی ہے ۔خیر میں فضول باتوں کو دوبارہ یاد نہیں کرنا چاہتا اس لیے چہرے پر بشاشت طاری کرتے ہوئے شاید اپنی اذیت کا گلا گھونٹا تھا ۔ہیر کو لگا جیسے وہ سب کچھ یاد کرتے ہوئے اسے تکلیف ہو رہی ہے ۔
ہم بھی کون سی فضول باتوں میں لگ گئے یار ان دونوں کو دیکھو یہ نیا شادی شدہ جوڑا ہے تم لوگ کھڑے ان سے فضول باتیں کر رہے ہو یہ نہیں کہ رومینٹک ڈانس کی فرمائش کر دو ۔
اس آدمی نے اچانک سے ان کا دھیان اس طرف دلایا تو سب کی آنکھیں چمک اٹھیں وہ نہ نہ کرتے رہ گئے لیکن وہ لوگ انہیں ڈانس فلور پر لا کر ہی مانے ۔
°°°°°°°
مجھے ڈانس نہیں آتا وہ ان سب کی باتوں سے ہار کر یہاں آ تو گئی تھی لیکن اب بری پھنس چکی تھی۔
ڈارلنگ ڈانس کوئی سائنس نہیں ہے جو تمہیں نہیں آئے گی بس ہلکا سا موو ہی تو کرنا ہے خود کو ۔میں تمہارے ساتھ ہوں بے فکر رہو وہ ڈی جے کو اشارہ کرتا ہے اس کے کان میں بولا تھا ۔
اور تھوڑی ہی دیر میں فضا میں ایک رومانٹک سا میوزک بجنے لگا تھا وہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھتا اس کے ایک ہاتھ کو اپنے کندھے پر جب کہ دوسرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھام چکا تھا ۔
تم اگر مناو گے تو مان جاؤں گا ۔
میں تیرے بلانے پر لوٹ آؤں گا ۔
ہر سفر میں ساتھ تیرا
میں یوں ہی نبھاؤں گا ۔۔۔۔۔۔”
کبھی تمہیں یاد میری آئے۔۔
پلکوں سے زلف ہٹا لینا
صاف دِکھوں گا میں تم کووہیں ۔
جو نہ دِیکھوں تو بتا دینا
کبھی مجھے دیر ہو جائے گی
وقت کو تھوڑا بچا لینا
پھر سے ملوں گا میں تم کو وہیں
جو نہ ملوں تو سزا دینا ۔۔۔”
ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ڈانس کرتے دیکھ روحی بھی وہیں کھڑی ایک طرف ناچتی ہوئی تالیاں بجانے لگی۔
میری زمین کو تیرے قدم کا۔
نہ جانے کب سے تھا انتظار ۔
اک نا اک دن آنا ہے تم کو۔
دل کو میرے ہے یہ اعتبار ۔۔۔۔”
میں خدا سے تیرے سوا
کچھ اور نہ مانگوں گا۔
کبھی تمہیں یاد میری آئے
اتنی سی بات سمجھ جانا ۔
پھر سے ملوں گا میں تم کو وہیں۔
راہ سے میری گزر جانا ۔
وہ آہستہ آہستہ اس کے ساتھ موو کر رہی تھی۔وہ شاید بہت اچھے سے ڈانس جانتا تھا لیکن اس نے اسے بھی اپنے سہارے پر کھڑا کیا ہوا تھا۔ہیر کا ڈر اب ختم ہو چکا تھا۔
تم اگر مناو گے تو مان جاؤں گا ۔
میں تیرے بلانے پر لوٹ آؤں گا ۔
ہر سفر میں ساتھ تیرا
میں یوں ہی نبھاؤں گا ۔۔۔۔۔۔”
کبھی تمہیں یاد میری آئے۔۔
پلکوں سے زلف ہٹا لینا
صاف دِیکھوں گا میں تم کووہیں ۔
جو نہ دِیکھوں تو بتا دینا
کبھی مجھے دیر ہو جائے گی
وقت کو تھوڑا بچا لینا
پھر سے ملوں گا میں تم کو وہیں
جو نہ ملوں تو سزا دینا ۔۔۔”
خوبصورت سے گانے کا احتمام ہوا اور محفل میں ایک بار پھر سے روشنی چھا گئی پھر روحی جو کب سے ان دونوں کے ڈانس کو انجوائے کر رہی تھی بھاگتی ہوئی اس کے پاس آچکی تھی وہ اسے اپنی باہوں میں اٹھاتا اپنے ساتھ لگا چکا تھا ۔جبکہ ہیر کے کندھے پر اب تک اس کا ہاتھ تھا۔وہ تیوں ایک ساتھ ایک مکمل فیملی کا منظر پیش کر رہے تھے۔
°°°°°°°°
روحی تو کمرے میں آتے ہی سو گئی ۔اس نے بھی اسے تنگ نہیں کیا تھا وہ سارا دن ناچتے گاتے کافی تھک گئی تھی ۔اب تو اس کا سونا بنتا تھا ۔
اور سب سے زیادہ تو اسے اپنے نئے کمرے میں سونے کی جلدی تھی ۔پارٹی ختم ہوتے ہی وہ کمرے میں آ گئی۔
جلدی جلدی برش کیا اور اپنا نائب ڈریس پہنا ۔
اور اس کے فورا بعد وہ اپنے بستر میں گھس گئی ۔
اور پھر باتیں کرتے کرتے نہ جانے کب وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی ۔
آج اس کے چہرے پر بہت خوشی تھی وہ سارا دن بہت خوش رہی تھی ۔
اور اسے خوش دیکھ کر ہیربھی خوش ہوگئی تھی کیونکہ ایام کی محنت وصول ہو چکی تھی ۔
ایک باپ اپنی بیٹی کو خوش کرنا چاہتا تھا اور اس کی بیٹی بے انتہا خوش تھی ۔
اس وقت بھی وہ اپنے مہمانوں کو سی آف کرنے گیا تھا ۔
جب کہ وہ روحی کے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔
وہ کبھی بھی یہاں آنے والا تھا اور اس کے بعد کیا ہوتا وہ جانتی تھی ۔
صبح سے ان سب چیزوں کو سوچ کر کافی حد تک خود کو اس کے لیے تیار کر چکی تھی ۔
آج نہیں تو کل یہ سب کچھ تو ہونا ہی تھا تو پھر وہ کب تک ایام کو خود سے دور رکھتی ۔
کب تک اس کو اس کا حق لینے سے روکتی ۔
ان کی شادی ہو چکی تھی اور اب اسے سب کچھ قبول کرنا تھا ۔
بہت کوشش کے بعد بھی اسے نیند نہ آئی تھی ۔آج وہ اپنی اس کوشش میں بھی ناکام ہی رہی ۔
وہ روحی کے ساتھ لیٹی نہ جانے کون سی سوچوں میں مصروف تھی جب اسے دروازہ بند ہونے کی آواز سنائی دی ۔
اور قدموں کی چاپ کے ساتھ اس کا دل بھی دھڑکنے لگا تھا ۔
°°°°°°
اب یہ مت کہنا کہ تم سو گئی ہو۔ پھر سے میرے آنے سے پہلے ۔۔۔۔۔۔”
ورنہ میرے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہو جائے گی
آج کی یہ رات بہت سپیشل ہے میرے لیے ۔اسے سو کر نہ برباد کروں گا اور نا ہی تمہیں کرنے دوں گا ۔
چلو جلدی سے اٹھ جاؤ ۔میرا موڈ بہت اچھا ہے خراب کرنے کی ضرورت نہیں ۔وہ اس کے کان کے بےحد قریب جھک کر سرگوشی نما آواز میں بولا تھا۔
ہیر کے جسم میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔اس کی گرم سانس اپنے کان کی لوح پر محسوس کرتے ہوئے۔
جبکہ اس کا ہاتھ اس کی کمر کے بالکل اوپر تھا ۔
ہیر میں پیار سے کہہ رہا ہوں اٹھ جاؤ پھر میں اپنے طریقے سےجگاوں گا تو تمہیں اچھا نہیں لگے گا ۔اس کے لہجے میں سختی تھی شاید آج وہ اس سے ایسی امید نہیں رکھتا تھا۔
ہیر میں جانتا ہوں تم جاگ رہی ہو تو یہ ڈرامے بند کرو ۔۔۔۔۔شاید وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ صرف جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہے ۔یا شاید وہ اس کے کانپتے ہاتھ دیکھ چکا تھا۔
تم ایسے نہیں مانو گی ۔اب مجھ سے کوئی شکایت مت کرنا ۔۔۔۔۔۔”
وہ اپنی بات مکمل کرتا ۔اس کا نازک سا وجود اپنی باہوں میں بھر چکا تھا ۔اور اب سچ میں ہیر کی جان پر بن آئی تھی۔کیونکہ وہ اسے یونہی اٹھائے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
°°°°°°°
یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔؟چھوڑیں مجھے پلیز ۔۔۔۔۔۔”اس کی باہوں میں وہ۔کانپ رہی تھی۔جبکہ وہ روحی کے کمرے کا دروازہ بند کر چکاتھا۔
تمہیں چھوڑنےکےلیے شادی نہیں کی تھی تم سے۔۔۔۔۔اور یہ میں وہی کررہا ہوں جو ہر شوہر اپنی بیوی کےساتھ کرتا ہے ۔کوئی انوکھا کام نہیں کرنے جارہا میں۔تمہارے ساتھ اپنی شادی شدہ زندگی کی شروعات کررہا ہوں۔
ویسے میرے سننے میں آیا ہے کہ بیوی کی عقل اسی طرح سے ٹھکانے لگتی ہے ۔اور ۔بیوی کی عقل ٹھکانے لگانا ہر شوہر کا فرض ہے ۔
اور تمہاری عقل ٹھکانے لگا کر میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔وہ شوخ انداز میں کہتا اسے بیڈ پر لیٹا چکا تھا۔ہیر کو اس کے انداز ڈرا رہے تھے
جبکہ اس وقت وہ اپنی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھے مارتا سمندر بسائے اس کے نازک وجود کو اپنی بہکی بہکی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
تم لاکھ حسن ہو مانا۔
لیکن تم پر حق تو
ہمارا ہی ہے جاناں۔۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر کہتا اس پر جھکا اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھ چکا تھا۔اس کی شدت پر ہیر کا دل رفتار پکڑ چکا تھا۔
اس کی سانسوں کی گرمائش محسوس کرتی وہ چہرا پھیر کر پیچھے ہٹی تھی ۔لیکن اس بار ایام نے برا نہیں منایا تھا۔بلکہ آج تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ ٹھہر سی گئی تھی۔
تمہیں لگتا ہے کہ تم آج مجھ سے بچ سکتی ہو ۔۔۔۔؟یا میں آج کی یہ حسین رات تمہاری وجہ سے برباد ہونے دوں گا۔
نو ڈارلنگ آج کا یہ وقت میں تمہاری کسی بےوقوفی کی نظر نہیں ہونے دوں گا۔سو فضول ضد چھوڑو
کم ہیئر۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔
ہیر جو ایک طرف چہرہ کیے خاموش پڑی لمبی لمبی سانسیس لے رہی تھی۔اس کے ہاتھ بڑھانے پر اس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئی۔وہ نئی شروعات کررہا تھا۔
اس کی ہر غلطی کو نظراندز کر کے وہ اس پر ایک بار تو یقین کر ہی سکتی تھی۔وہ اسے ایک موقع تو دے سکتی تھی۔وہ اس کا منتظر تھا ۔تو کیوں نا وہ خود ایک بار اس کی ہو کر دیکھے ۔اپنی ساری سوچیں ایک طرف رکھتی وہ اپنی آنکھیں سختی سے میچتی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ چکی تھی۔
جسے اپنی مضبوط گرفت میں لیتے ایام نے اپنی طرف کھینچا تھا ۔وہ ٹوٹی ڈال سی اس کی باہوں میں قید ہوئی تھی۔
اور ایام نے اسے سمیٹ لیا تھا۔اپنی چاہت سے محبت سے وہ اس کے گرد اپنا حصار تنگ کر گیا۔
اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے وہ اس کے لبوں کو قید کر گیا۔اس کی سانسوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں بسا کر وہ اسکے چہرے پر جابجا اپنے لبوں کی مہر لگاتا اپنے پیار کی بارش میں بھگا تا رہا۔
اس کا انداز اتنا خوبصورت تھا کہ وہ خود کو اس کا ہونے سے روک ہی نہیں پائی ۔اس کی محبت کی پھوار خود پر بھی محسوس کرتی وہ اپنے دل کے دروازے اس شخص پر کھول چکی تھی
وہ پوری طرح اس کی بازوں میں قید تھی۔ایام اس پر اپنی محبت ظاہر کرتا اسے ہر طرح اپنا بنا چکا تھا۔محبتوں کے معاملے میں بہت امیر شخص تھا ۔اس کا اظہار محبت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا اس کے کان میں وہ اپنی محبت کی نجانے کتنی سرگوشیاں کر چکا تھا۔
اس کا انداز اتنا نرم اور محبت بھرا تھا ۔کہ ہیر ایک لمحے کے لئے بھی اس سے الگ نہ ہوئی تھی وہ اس وقت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے خوش قسمت ترین لڑکی محسوس کر رہی تھی ۔آج اسے اس کے ایک ایک لفظ پر یقین آنے لگا تھا
کیونکہ اس کے انداز میں محبت سے کہیں زیادہ احترام تھا ۔وہ اسے کسی قیمتی متاع کی طرح چھو رہا تھا ۔ایک عورت کے لئے عزت سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا اور آج وہ عزت وہ مان ہیر کو ایام نے دیا تھا جو وہ اپنے شوہر سے چاہتی تھی۔
اس کی باہوں میں قید وہ اپنے آپ کو یہ سوچنے سے روک نہیں پائی تھی کہ آخر اس کی پہلی بیوی نے اسے کیوں چھوڑا ۔یہ تو اتنا محبت کرنے والا اتنی عزت دینے والا انسان تھا تو بھلا وه اسے چھوڑ کر کیوں گئی ۔
ایک پل کے لئے اس کا دل چاہا کہ وہ اس سے پوچھ لے لیکن پھر ان نازک لمحات کو سوچتے ہوئے اس نے اپنا ہر سوال خود تک ہی محدود کر لیا ۔یقینا وہ اس وقت اس سے اپنی پہلی بیوی کی بارے میں ہرگز بات نہیں کرنا چاہے گا ۔
°°°°°°
کہاں جا رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟ وہ اسے پوری طرح سے اپنا بنا کر اچانک اس کے قریب سے اٹھ کر جانے لگا تو ہیر نے بے ساختہ اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
میری جان روحی کو دودھ دینے جا رہا ہوں تھوڑی دیر میں جاگ جائے کی وہ بس تھوڑا سا صبر ابھی واپس آ رہا ہوں۔بس میں یوں گیا اور یوں آیا ۔میں خود بھی تمہارے بنا نہیں رہ پاؤں گا ۔مسکرا کر اس کا ماتھا چومتے ہوئے شرارتی انداز میں بولا تو ہیر نےفوراً اپنا ہاتھ چھوڑ دیا ۔
نہیں نہیں کوئی جلدی نہیں آنے کی ضرورت نہیں آپ آرام سے آئیے گا ۔ویسے بھی سونے لگی ہوں ۔وہ فوراً آنکھیں بند کرنے لگی جب کہ پھر سے مسکرا دیا ۔
تمہیں جلدی ہو یا نہ ہو مجھے تو ہے اور سونے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ اس دفعہ میں ایسے طریقے سے جگاوں گا کہ ساری زندگی کے لیے نیندیں آڑ جائیں گی ۔وه دھمکی دینے والے انداز میں کہتا اٹھ کر باہر نکل گیا تھا جب کہ وہ اپنے سرخ ہوتے چہرے پر تکیہ رکھ کر مسکراتے ہوئے اس کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگی ۔
°°°°°°