60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon) Episode 3

ولیمہ شروع ہو چکا تھا ۔اسے پالر والی تیار کر کے گئی تھی ۔اسے فون کرکے تھوڑی دیر پہلے اس کے بھائی نے بتایا تھا کہ وہ جا رہا ہے۔
اس کا دل بہت چاہا کہ وہ اسے کہ بس ایک بار وہ اس سے مل کر چلا جائے لیکن شاید اس کا جواب وہ جانتی تھی اسی لیے اس نے چاہ کر بھی اپنی زبان پر یہ الفاظ نہ آنے دیے تھے۔اس نے اپنے آنسوؤں کو بہت مشکل سے بہنے سے روکا تھا
اسے بتایا گیا کہ اس کا ولیمہ حال میں ہوگا اسے ایک گاڑی میں حال تک لایا گیا تھا ۔ اور پھر اسے ایک کمرے میں لا کر بٹھا دیا گیا ۔وہ کافی دیر حال کے اس کمرے میں بیٹھی رہی اس کی ساس الگ الگ عورتوں کو اس کے کمرے میں لا کر اس سے ملو آ رہی تھیں تھوڑی دیر کے بعد انہیں باہر بٹھایا گیا تھا جہاں بہت سارے لوگ باری باری آ کر ان سے مل رہے تھے
تاتی ۔گپت ۔۔۔۔(چاچی۔ ۔۔گفٹ)وہ سر جھکائے بیٹھی تھی جب اسے صبح والی اسی بچی کی آواز آئی تھی جو ہاتھ میں ایک پیارا سا پیکٹ پکڑ کر اس کی طرف بڑھا رہی تھی نہ جانے کیوں اسے یہ اتنی اپنی اپنی لگی تھی وہ بچی اسے بے حد پسند آئی تھی بےشک وہ بہت کیوٹ تھی۔
اسے دیکھتے ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی اس نے اس کے ہاتھ سے اس کا لایا ہوا گفٹ پکڑ لیا ۔
یہ تمہارے اکلوتے جیٹھ کی اکلوتی بیٹی ہے ۔عربوں کھربوں کی جائیداد کا اکلوتا وارث ہے ایام سکندر اور ایک اکلوتی بیٹی ہے اس کی ماشاءاللّٰه سے بہت پیار کرتا ہے وہ اس سے ۔
روحی بیٹا چاچی پسند آئیں تمہیں خوبصورت ہے نا اس کی ساس اسے بتانے کے بعد بچی کی طرف متوجہ ہوگئیں جب کے وہ اسے دیکھ کر خوش ہو رہی تھی ۔
مدھے تاتی تی گود می بتھنا ہے( مجھے چاچی کی گود میں بیٹھنا ہے )وہ اچانک ہی دونوں ہاتھ اس کی طرف اٹھا کر کہنے لگی تو امی نے اسے اٹھا کر اس کی گود میں رکھ دیا تھا ۔
بہت پیاری بچی ہے ماشاءاللّٰه سے زیادہ تنگ نہیں کرتی کسی کو بھی بلکہ یہ کہوں کہ سوائے باپ کے کسی کو تنگ نہیں کرتی تو ٹھیک رہے گا۔
اب کل رات کی بات لے لو ایام اس کا کھلونا ساتھ لانا بھول گیا یہ رات ساری سوئی ہی نہیں بس روتی ہی رہی آٹھ بجے کے قریب ملازم کو واپس گھر بھیجا تھا جس نے آتے آتے چار پانچ گھنٹے لگادیے
دو بجے آ کر اس بیچارے نے اس کا کھلونا اس کے حوالے کیا تب جا کر کہیں سوئی یہ وہ اسے تفصیل سے بتا رہی تھیں جب کہ وہ بھی سمجھ چکی تھی کہ رات وہ آدمی کون سی چیز لا کر اسے دے رہا تھا
روحی وہ کونسا ٹوائے ہے جو آپ کو اتنا زیادہ پسند ہے کہ اس کے بنا اتنا شارا روئی ۔۔۔۔۔؟ وہ بچی کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی محبت سے پوچھنے لگی
میلا ٹیدی اے میلا بیشٹ فریند بابا اش کو بول ائے تے(میرا ٹیڈی ہے میرا بیسٹ فرینڈ بابا اس کو بھول آئے تھے) ۔
اتیلا لو لا تا اشی لے می نے اش تو بلا لیا اپنے پاش (اکیلا روں رہا تھا ۔اسی لئے میں نے اس کو بلا لیا اپنے پاس )۔وہ اس کی گود میں بیٹھی بہت کیوٹ انداز میں جواب دے رہی تھی اس سے باتیں کرتے ہوئے ہیر کو بہت مزہ آ رہا تھا
آپ ملو دی میلے پیسٹ فرینڈ سے(آپ ملوگی میرے بیسٹ فرینڈ سے) اس کا چہرہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں تھامے ہوئے اس نے پوچھا تھا جس پر ہیر نے فورا حامی بھر دی تھی
ہاں بالکل آپ مجھے ملاو نا اپنے بیسٹ فرینڈ سے ضرور ملوں گی ۔بہت دنوں کے بعد اسے کوئی ایسا انسان ملا تھا جو بناوٹ سے پاک تھا
بہت صاف ستھرے دل کا مالک وہ اسے بہت زیادہ پسند آئی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ بچی اس سے دور جائے لیکن اس کا باپ تھوڑا ظالم قسم کا آدمی تھا ابھی وہ اس سے باتیں کرنے میں مصروف تھی جب اچانک ہی وہاں آ گیا
روحی آؤ چلے ہمہیں نکلنا ہے وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلا رہا تھا جس پر وہ فورا اس کی گود سے اترتے ہوئے اس کے پاس چلی گئی تھی
ارے ایام بیٹا یہ کیا تھوڑی دیر رکتے نہ اتنا جلدی کیوں جا رہے ہو مانا کہ تم بہت مصروف ہو تمہیں بہت کام ہے لیکن ولیمہ ختم ہونے تک تو رکتے
ابھی تو میرے خیال میں تم ہیر سے بھی نہیں ملے ہو ہیر یہ تمہارا جیٹھ ہے ایام سکندر ۔
اور ایام بیٹا یہ ہیرہے میری بہو انہوں نے بہت خوشی سے تعارف کروایا تو اس نے مسکراتے ہوئے اس پر سلامتی بھیجی تھی جسکا جواب اس نے سر کے اشارے سے دیا
ابھی ہم نکلے گے تاکہ وقت پر پہنچ سکے ۔
آپ کو تو پتہ ہی ہے یہ اگلے دن میرے کتنے مصروف ہو جائیں گے سچ کہوں تو آج بھی بہت امپورٹ میٹنگ تھی لیکن سعد کی شادی کی وجہ سے مجھے چھوڑنی پڑی میں مزید نہیں رک سکتا لیکن آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ انشاءللّٰه ضرور چکر لگاؤں گا سعد کہاں ہے کافی زیادہ غائب رہنے لگا ہے
میں صبح سے اسے ڈھونڈ رہا تھا اسے تحفہ دینا تھا لیکن نجانے کہاں ہے وہ کل صبح سے مجھے نظر ہی نہیں آیا ایک لفافہ وہ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہہ رہا تھا بیٹا اس کی کیا ضرورت تھی امی نے لفافہ کھولتے ہوئے اس میں کچھ ٹکٹ دیکھے تھے ۔
ضرورت کیسے نہیں تھی چاچی جان گفٹ تو مجھے دینا ہی تھا بہت سوچا لیکن کچھ سمجھ ہی نہیں آیا پھر یہی بہتر لگا ۔چلیں انشاءللّٰه پھر ملاقات ہوگی ۔علاقے کا چکر تو لگائیں گے ہی نہ سعد اوراسکی مسز تو انشاءللّٰه وہاں ملاقات ہو جائے گی آپ بھی ضرور آئیے گا ۔
وہ ان کے سامنے سر جھکاتے ہوئے ان سے ملنے لگا جبکہ روحی کو پیار کرتے ہوئے آخر انہوں نے ان دونوں کو جانے کی اجازت دے دی تھی ۔
بہت پیارا بچہ ہے ماشاءاللّه سے بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ سارے خاندان میں اس کے جیسا کوئی بھی نہیں
تم دونوں کو تحفے میں پیرس کا ٹکٹ دے کر گیا ہے 15 دن کے لیے ہنیمون پیکج ۔دولت مند لوگ ہیں جو چاہے کر سکتے ہیں ان کے لئے ملک سے باہر آنا جانا عام سی بات ہے ۔ان کا ایک قدم امریکہ میں تو دوسرا لندن میں ہوتا ہے
ان کی بیوی کہاں ہے میرا مطلب ہے روحی کی ماں اسے ان کی باتوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اسی لئے روحی کے بارے میں پوچھنے لگی ۔
روحی کی ماں نہیں ہے ۔صرف باپ ہی ہے تم بیٹھو میں ذرا مہمانوں کو دیکھ کر آتی ہوں وہ اسے کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر نیچے چلی گئی تھی جبکہ ان کی باتوں اسے کچھ بھی سمجھ نہ آئی تھی
روحی کی ماں نہیں ہے کیا وہ مر چکی ہے یا ان کی طلاق ہو چکی ہے یا کچھ اور وہ سمجھ نہ سکی لیکن اس کے ساس اپنی بات مکمل کر کے جا چکی تھی جبکہ اس کی نگاہیں سعد کو ڈھونڈنے لگی تھی ۔
°°°°°°°°
سعد کب سب ٹھیک ہوگا کب آپ کی پریشانی ختم ہوگی وہ اس کے ساتھ آ کر بیٹھا تو وہ اس سے پوچھنے لگی وہ ابھی بھی پریشان لگ رہا تھاسب کچھ ٹھیک ہو جائے گا تم پریشان مت ہو تمہارا بھائی جا چکا ہے اپنی بیوی کو لے کر۔جانے سے پہلے اس نے اپنا گھر بیچ دیا ہے ویسے گھر بیچنے کی ضرورت تو نہیں تھی ان لوگوں نے کیا واپس کبھی یہاں نہیں آنا
اس نے اسے دیکھتے ہوئے دھماکے دار خبر دی تھی وہ خود بھی حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی اس کا بھائی گھر بیچ کر جا چکا تھا اس بارے میں تووہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی ۔
میرے خیال میں اس نے تمہاری بھابھی کو ہمیشہ کے لئے بلا لیا ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے بتا رہا تھا کہ شاید اسے اپنے مسئلے سے ہٹانے کے لیے یہ بات شیئر کربیٹھا تھا لیکن جو بھی تھا اسے اپنے بھائی کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے تکلیف ہوئی تھی
کوئی نہیں تھا اس کا یہاں اور بھائی بھی چھوڑ کر جا چکا تھا اگر اسے اس سے بھی اچھی امید نہیں تھی اتنی بری بھی امید نہ تھی
امی لالا کہاں ہیں ۔کہیں نظر نہیں آرہے اس کی ماں کے پاس آکر بیٹھی تو وہ پوچھنے لگا
جا چکا ہے واپس اپنی بیٹی کو لے کر کافی دیر تمہارے بارے میں پوچھتا رہا کم از کم اس وقت یہاں پر ہونا چاہیے تھا تمہیں یہ کون سا طریقہ ہے اپنی ہی شادی والے دن گھر سے غائب ہو جانا کتنے غیرذمہ دار ہو گئے ہو تم سعد کسی چیز کی فکر نہیں ہے تمہیں لوگ ہزار طرح کے سوال کرتے ہیں
ایک ویسے بھی بہو کے گھر سے کوئی بھی نہیں آیا اس بات کے الگ ہمیں جواب دینے پڑ رہے ہیں اور تم بھی غائب ہو گئے میں کون کون سے معاملے کو سنبھالوں
اچھا نہ ٹھیک ہے اب بس کریں اس قصے کو یہیں ختم کریں
میں دیکھ لوں گا سب کو کسی کو بلا کر ہیر کو کمرے میں بھجوا دیجیے کافی تھکی ہوئی لگ رہی ہے نہ جانے کب سے بیٹھی ہے یہاں
تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ابھی فوٹو سیشن ہو گا اس کے بعد ہیر کو کمرے میں بھیج دیں گے اور تم بھی کہیں غائب نہ ہونا کیمرامین بھی ہزار طرح کے مجھ سے سوال کر کے گیا ہے امی اس سے کہتیں وہاں سے جا چکی تھی جب کہ وہ بھی کیمرہ مین کے کہنے پر اس کا ہاتھ تھام کر نیچے کی طرف جانے لگا
°°°°°
فوٹو سیشن کے بعد اسے کمرے میں بھیج دیا گیا تھا آہستہ آہستہ مہمان جانے لگے جو دور کے تھے وہیں رک گئے اور جو جانے والےتھے تقریبا سبھی لوگ چلے گئے وہ پرسکون ہو چکی تھی ویسے تو آج اس کی گھر جانے کی رسم ادا ہونی تھی لیکن اس کا بھائی تو پہلے ہی جا چکا تھا کون تھا جس کے لیے وہ گھر جاتی اس کا گھر بک چکا تھا
کچھ بھی نہیں بچا تھا اس کے پاس جتنا وہ ان سب باتوں سے بچنا چاہتی تھی اتنا ہی وہ اس کے دماغ پر حاوی ہو رہی تھیں
کتنی حسرت تھی اسے کہ کاش اس کا بھائی اس کے ساتھ ہوتا دکھاوے کےلیے ہی سہی کاش وہ دو دن بعد چلاجاتا اسے اتنی تکلیف تو نہ ہوتی جتنی وہ اس وقت سہہ رہی تھی
وہ انہیں سوچوں میں گم تھی جب اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور سعد اندر آیا
ارے تم نے ابھی تک چینج نہیں کیا چینج کر لو اور آرام سے سو جاؤ میں سب مہمانوں کو بھیج کر ہی ایک بار ہی آؤں گا تم آرام کرو
کافی دیر باہر بیٹھی رہی ہو تھک گئی ہو گی ۔قسم سے مجھے یہ لوگوں کی عادتیں بہت بری لگتی ہیں ڈیکوریشن پیس بنا کر رکھ دیتے ہیں لڑکی کو ۔اٹھو جاؤ تم آرام سے چینج کرو اور آرام کرو مجھے آنے میں دیر لگ جائے گی مجھے کچھ ضروری کام کے لئے باہر جانا ہے
اپنا خیال رکھنا اور اگر میرے بارے میں پوچھے تو کہہ دینا کہ میرے ایک دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے حالت کافی نازک ہے اس کے پاس جانا بہت ضروری ہے ۔وہ چینج کر کے باہر آیا اور اسے بتانے لگا
کیا سچ میں اس کے کسی دوست کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جہاں وہ جانے والا تھا اس نے پوچھنا چاہا لیکن اتنی مہلت اس نے اسے دی ہی نہیں تھی وہ کمرے سے باہر نکل گیا اس نے اٹھ کر کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیا تھا
رات سےوہ اس بات کو لے کر پریشان تھا شاید اس کے کسی دوست کا بہت سیریس ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور جس پریشانی کا ذکر وہ کل رات اس کے سامنے کر رہا تھا شاید وہ پریشانی یہی تھی اور وہ پتا نہیں کیا کیا سوچ رہی تھی
یقینا وہ دوست اس کے لیے بہت خاص ہو گا تبھی تو اس کے لیے پریشان تھا اور جیسا کہ اس نے بتایا حالت نازک ہے یقینا یہ پریشانی والی بات تھی
کل کی طرح آج بھی چینج کرکے وہ بیڈ پر آ لیٹی تھی صبح اس کی نیند پوری نہ ہو سکی تھی اور اس وقت سچ میں وہ بہت زیادہ تھکاوٹ کا شکار تھی
خود پر کمبل ڈالتے ہوئے اس نے اپنے دل سے اپنے بھائی کی سوچ کو مٹا دیا تھا اب اس کے اپنے یہ لوگ تھے جن کے ساتھ اس نے ساری زندگی گزارنی تھی اسی لیے اپنے بھائی کے دکھ میں ہلکان ہونے کے بجائے وہ اپنی آنے والی زندگی کو خوشحال بنانے کا سوچ رہی تھی
°°°°°°
امی امی امی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا پلیز اس وقت آپ میرا دماغ خراب نہ کریں میں پہلے ہی بہت زیادہ ٹینشن میں ہوں آپ نے کہا تھا اس وقت لے لو پیسے جتنے لے سکتے ہو ۔
اور میں نے بھی لے لیے اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ لوگ اتنے خطرناک ہوں گے ابھی لوگوں کی ڈیمانڈ ہے نہ جو نہ تو آپ پوری کر سکتی ہیں اور نہ ہی میں امی مجھے ڈر ہے کہ وہ کچھ کر نہ دیں ان لوگوں کی دھمکیاں ایسی ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں
تو پھر دیر کیوں کر رہے ہو بس تم لوگوں کا کام کر دو اور بات ختم
امی بات ہی تو ختم نہیں ہو رہی وہ آدمی یہاں پر ہے ہی نہیں اپنے کسی ضروری کام کے لئے ملک سے باہر جا چکا ہے ۔
اور اب اس کی غیر موجودگی میں مجھے ہی پیچھے یہ سب کچھ سمبھالنا ہو گا اس کے دشمن کی مجھ پر نظر ہے
اسے پتہ چل چکا ہے کہ اس آدمی کی کمزوری اس وقت میرے پاس ہے اور وہ لوگ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں مجھے کچھ کرنا پڑے گا ۔
لالہ سے مدد لوں ۔ہوسکتا ہے اس معاملے میں وہ میری مدد کریں۔وہ بہت پاور میں ہیں ان کا بہت بول بالا ہے
اللّه اللّه دماغ تو خراب نہیں ہوگیا تمہارا کیا تم جانتے نہیں ہو یہ ہمارے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے وہ آدمی اتنا خطرناک نہیں ہوگا جتنا اس معاملے کی تہہ تک پہنچ کر ایام خطرناک ثابت ہوگا ۔
اس مسئلہ کا بس ایک ہی حل ہے میرے بیٹے کے تم ان لوگوں کی ڈیمانڈ کو پورا کردو اور بول دو ان دشمنیوں کے چکر میں تجھے نہیں پڑنا
یہی تو مسئلہ ہے امی جان یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے آپ لوگوں نے کہا ہے کہ جب تک وہ آدمی واپس نہیں آ جاتا تب تک میں اس کی امانت کو ہر نظر سے بچا کر رکھوں اور یہ میرے بس میں نہیں ہے ۔
بارات کی گاڑیوں کے پیچھے جو گاڑیاں آرہی تھی نہ وہ ان ہی لوگوں کی تھی کبھی بھی حملہ کر سکتے تھے وہ لوگ لیکن لالہ کے گارڈ کو دیکھ کر انہوں نے کوئی پنگا نہیں لیا ورنہ پتہ نہیں کیا سے کیا ہو جاتا ۔
اب تو بس ایک ہی حل ہے کہ آپ اور ہیر دونوں لالہ کے گھر میں چلے جائیں پیچھے مجھ سے جتنا ہوا میں سنبھالنے کی کوشش کروں گا جب یہ مسئلہ حل ہوجائے گا میں آپ لوگوں کو واپس بلا لوں گا
وہ ابھی بات کر رہا تھا کہ ہیر اندر داخل ہوئی ہیر کو اندر آتے دیکھ ان دونوں کے چہرے پر پریشانی جھا گئی تھی
کیا ہوا سعد آپ کے مسئلے کا کوئی حل نکلا وہ یہ جان چکی تھی کہ وہ لوگ کسی مسئلے پر بات کر رہے ہیں اور یقین مسئلہ وہی کل رات والا ہوگا ۔
اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے ہیر میرے پیچھے کچھ لوگ لگ گئے ہیں جو کہ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں ان سے نہیں ڈرتا اسی لئے اب ان لوگوں نے میری فیملی پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے
یہ معاملہ بہت پیچیدہ ہے یہ لوگ بہت خطرناک ہیں میں اپنی امی اور تم پر کسی طرح کا کوئی رسک نہیں لے سکتا اسی لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں اور امی کو میں کچھ دن کے لئے لالہ کے گھر بھیج رہا ہوں
جب یہ مسئلہ حل ہوجائے گا میں تم دونوں کو واپس بلا لوں گا
وہ ایک ہی سانس میں بولتا چلا جا رہا تھا جب کہ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ اپنی ایک دن کی دلہن کو خود سے دور بیجھنے کے بارے میں بات کر رہا ہے کل تک تو مسئلہ اس کے دوست کے ایکسیڈنٹ کا تھا اب اس کی اپنی جان خطرے میں کیسے آ گئی تھی
ہاں ٹھیک ہے بیٹا تو جو کہتا ہے ہم ایسا ہی کریں گے بس تجھے کچھ نہیں ہونا چاہیے ہم تجھے اس حال میں نہیں دیکھ سکتے یہ مت بھول تو صرف اس ماں کا سہارا ہی نہیں بلکہ اس لڑکی کا بھی تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے بھائی نے تو اس سے ایسی جان چھڑائی ہے کہ کبھی واپس آئے گا ہی نہیں
اب صرف تو ہی ہے امی نے بات شروع کی تو بیچ میں اس کے بھائی کو بھی گھسیٹ لیا تاکہ وہ کسی طرح کا کوئی سوال نہ کر سکے
ویسے بھی وہ کون سا کوئی سوال کرنے والی تھی اب اس کے لیے تو اس کا جینا مرنا سب سعد ہی تھا وہ جہاں چاہے اسے لے جائے
آپ نے تو کہا تھا کہ آپ کے دوست کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اب یہ بات جان کے خطرے تک کیسے پہنچ گئی آپ مجھے ٹھیک سے کچھ سمجھائیں گے تو ہی مجھے کچھ پتہ چلے گا نا سعد وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے بولی لیکن سعد نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکال لیا
اس وقت میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تم لوگ واپس آؤ گے میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا ایک ایک بات بتا دوں گا فی الحال یہ معاملہ بہت زیادہ سنگین ہے تم اپنا سامان پیک کرو امی آپ بھی تیاری کریں میں ابھی لالا سے اس بارے میں بات کرتا ہوں آپ لوگوں کو انہیں کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے میں بات کر لوں گا
اور آپ لوگوں کو بھی اسی بات پر قائم رہنا ہے وہ ان دونوں سے کہتے ہوئے اپنا موبائل فون لیے باہر نکل گیا تھا جبکہ اس کے باہر جاتے ہی امی نے بھی جلدی جلدی کا شور مچا دیا تھا ۔اسے کمرے میں بھیج کر اپنی تیاری کرنے لگی تھی جب کہ وہ بھی خاموشی سے کمرے میں آ کر اپنا سامان پیک کرنے لگی تھی