60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon ) Episode 29

°°°°°°°
ماما دانی اپ تو پتا اے تل میلا بڈے اے؟؟
(ماما جانی آپ کو پتہ ہے کل میرا برتھ ڈے ہے ۔۔۔۔۔۔؟(وہ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے پوچھنے لگی لہجے میں کافی زیادہ ایکسائٹمنٹ تھی وہ مسکرا کر ہاں میں سر ہلا گئی
اتھا فیر تو اپ تو دے بی پتا او دا تہ بابا دانی نے میلےلیےتیا دفت لیااے(اچھا پھر تو آپ کو یہ بھی پتہ ہوگا کہ بابا جانے میرے لئے کیا گفٹ لے کر آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟)اس کی ہاں میں سر ہلانے پر اس نے دوسرا سوال کیا تھا ۔ساتھ ہی ساتھ اس کے معصوم چہرے پر ایکسائٹمنٹ کا اضافہ ہوا تھا ہیر مسکرا دی۔
نہیں جانو مجھے نہیں پتا کہ آپ کے بابا جانی آپ کے لئے کیا گفٹ لے کر آئے ہیں ۔اس نے سچ کہا ۔اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ایام اس کے لئے کون سا تحفہ لانے والا ہے ۔
ایشے کیشے
(ایسے کیسے )
ہشبنڈ واف می تو توئی شکیریٹ نی اوتا
(ہسبنڈ وائف میں تو کوئی سیکریٹ نہیں ہوتا )۔وہ مایوسی سے بولی
اچھا ایسا کیا یہ آپ کو کس نے کہا ۔۔۔۔۔۔؟ہزبینڈ وائف میں بھی بہت سارے سیکریٹس ہوتے ہیں ۔وہ سمجھانے والے انداز میں بولی
نی اوتے(نہیں ہوتے)
اپ نے ٹی وی پل نی دیکاتا( آپ نے ٹی وی میں نہیں دیکھا تھا )
وہ تھوتی پرشش اپنی ماما توبولتی ہے تہ بابا اپ تو شب کتھ بتاتے ہی
(وہ چھوٹی والی پرینسز اپنی ماما کو بول رہی تھی کہ بابا آپ کو سب کچھ بتاتے ہیں)
۔اس نے کل رات چلنے والی فلم کو یاد کرتے ہوئے کہا ۔
اوہو روحی آپ نہ فلموں کو بہت غور سے دیکھنے لگی ہو ایسا کچھ نہیں ہوتا ہر انسان کے اپنے سیکریٹس ہوتے ہیں اور آپ کے بابا جانی نے مجھے نہیں بتایا کہ آپ کو کون سا گفٹ دینے والے ہیں ۔
اور ویسے بھی اب آپ کو نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ کل تو ابھی ہوجائے گی جیسے ہی آپ سوگی اور صبح ہوتے ہی آپ کو پتا ہے آپ کا گفٹ مل جائے گا ۔وہ اسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے کہنے لگی ۔
بٹ مدھے میلا لوم تاہیے۔(بٹ مجھے میرا روم چاہیے ) ۔وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی ۔تو ہیر نے اس کے منہ میں فیڈر ڈال کر اسےمزید بولنے سے روک دیا ۔اور اسے تھپکتی خود بھی اس کے ساتھ ہی لیٹ گئی وہ آج بھی ایام کی آنے سے پہلے ہی سونے کا ارادہ رکھتی تھی
°°°°°°°
وہ کمرے میں آیا تو وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لگیں کل کی طرح گہری نیند میں تھیں اسے دیکھتے ہی ایام نے خاموشی سے اپنا اسٹڈی روم اوپن کیا ۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔اس کے حکم کے مطابق سارا کام ہو چکا تھا اسے لگ رہا تھا کہ کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ جائے گی لیکن اس کے ملازموں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی اب وہ بالکل ریلکس ہو چکا تھا باقی کام اس نے خود کرنا تھا ۔
وہ اپنے بیڈ کے پاس آتے ہوئے ہیر کا کندھا ہلانے لگا آج اس نے خود ہی اس کے لیے جگہ چھوڑ دی تھی لیکن آج وہ اپنی جگہ کے لیے نہیں بلکہ کسی اور کام کے لئے جگا رہا تھا ۔
ہیر ہیر اٹھ جاؤ یار کتنی گہری نیند سوتی ہو تم وہ اسے کندھے سے باربار ہلاتا آخر اٹھنے پر مجبور کر ہی چکا تھا وہ حیرانگی سے دیکھ رہی تھی جو اس پر جھکا بہت آہستہ آواز میں بات کر رہا تھا ۔
خدا کا شکر ہے کہ تمہاری آنکھ کھلی کتنی گہری نیند سوتی ہو تم اٹھو روحی کابرتھ ڈے سیلیبریٹ کرنا ہے تیاری کرنی ہے ابھی تھوڑی دیر میں اس کی سالگرہ شروع ہو جائے گی ۔
سب کچھ تیار ہے بس اس روم کو تھوڑا سا ڈیکوریٹ کرنا ہے میں اتنی بورنگ سچویشن میں اپنی بیٹی کا برتھ ڈے نہیں منا سکتا ۔
وہ اسے اٹھانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر اپنےسامنے کھڑا بھی کر چکا تھا وہ بھی اس کے ساتھ ہی پیچھے پیچھے آ رہی تھی ۔
ہم کیا آپ کے سٹڈی روم میں روحی کا برتھ ڈے منائیں گے وہ اس کے پیچھے آتی ہوۓ اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے اس سے سوال کر رہی تھی لیکن جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔
سامنے ڈبل ماسٹر بیڈ تھا جس کے آگے پیچھے بچوں کے ان گنت کھلونے تھے ۔وہ حیرت کا مجسمہ بنی اس کمرے کو دیکھ رہی تھی جو آج صبح تک تو اس کا اسٹڈی روم تھا ۔
نہیں ہم روحی کے اپنے روم میں اس کا برتھ ڈے منائیں گے میری بیٹی بہت وقت سے مجھے کہہ رہی ہے بابا جانی مجھے اپنا کمرہ چاہیے اگر دیکھا جائے تو اس کا کمرا اس گھر میں موجود تو ہے ۔جو میں نے بہت محبت سے اس کے لیے بنوایا ہے وہاں اس کی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے لیکن وہ چھوٹی سی بچی اکیلے اس کمرے میں کیسے رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟
بس اسی لیے میں نے اپنے اسٹڈی روم کا قتل کر دیا ۔
اور اپنی بیٹی کا روم یہاں بنا دیا وہ بڑے مزے سے اپنا کارنامہ اسے سناتے ہوئے کہہ رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ بیڈ پر پڑے بڑے بڑے شاپروں کو بیڈ پر ہی الٹا دیا ۔
جس میں ایک بلون ایئر مشین کے ساتھ نہ جانے کتنے بلونز تھے اتنا ہی نہیں بلکہ اس میں لائٹنگ کا سامان بھی موجود تھا اور بہت ساری چھوٹی چھوٹی چیزیں جس سے اس کے کمرے کو برتھ ڈے روم بنایا جا سکتا تھا ۔
چلو اب وہاں کھڑی مت رہو کہ ہمارے پاس ایک گھنٹہ بھی نہیں بچا بہت کچھ کرنا ہے۔وہ اسے جلدی جلدی کام سمجھاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
اگر باقی سب کچھ ملازموں نے کر دیا تھا تو یہ بھی آپ ان سےہی کروا لیتے اب ایک گھنٹے میں ہم اتنی تیاری کیسے کریں گے وہ پریشانی سے کہنے لگی ۔
ایسے کیسے ملازموں سے کرا لیتا میں نے اپنی بیٹی کو کہنا ہے کہ اس کی برتھ ڈے کو میں نے خود سپیشل بنایا ہے نہ کہ ملازموں نے ۔وہ کہہ کر ایک بار پھر سے غبارے پھیلانے لگا جبکہ دوسری طرف ہیر وائرل مشین کا استعمال کرتے ہوئے غباروں میں ہوا بھررہی تھی ۔
میرا نہیں خیال کہ وہ اتنی سمجھ دار ہے کہ آپ کی اس بات کو لے کر زیادہ سوچے سمجھے گی ۔
اسے نہ جانے کیوں ایام کےلاجک پر ہنسی آئی تھی ۔
ڈیر وافئی مجھے فرق نہیں پڑتا کہ میری بیٹی کتنی سمجھ دار ہے لیکن میں تو اتنا سمجھ دار ہوں نہ کہ اپنی بیٹی کی برتھ ڈے کو خود اسپیشل بناوں۔کتنی غلط بات ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کی برٹھ ڈے کے لئے کچھ نہیں کیا ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تو ہیر نے صرف ہاں میں سر ہلا دیا ۔
کچھ تھا ہی نہیں کہنے کو بس دل نے گواہی دی تھی وہ انسان جیسا بھی ہو لیکن باپ بہت اچھا ہے ۔
تقریبا ایک ڈیڑھ گھنٹے میں وہ سارا کام کر چکے تھے روحی کی برتھ ڈے شروع ہونے میں صرف سات سے آٹھ منٹ باقی تھے ۔
سب کچھ ہو گیا اب میں پرنسز روحی کو لے کر آتا ہوں وہ مسکرا کر کہتا اپنے کمرے میں آیا اور روحی کا نرم و نازک سویا ہوا وجود اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے واپس کمرے میں آکر اسے بیڈ پر لیٹانے لگا ۔
اب ہم تھوڑی دیر میں روحی کوجگائیں گے لیکن پہلے تھوڑی پکچر بنا لوں۔وہ اپنا موبائل نکالتے ہوئے تصویریں بنانے لگا ۔
اور کون کون ہوگا اس روم میں روحی کا برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی تھی ۔
رات کہ اس وقت بلا اور کون آئے گا اس کا برتھ ڈے منانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔؟
پچھلے سال میں نےاکیلے منایا تھا ۔وہ اپنی بات مکمل کرتا گھڑی کی طرف دیکھنے لگا ۔
اور اس سے پچھلے سال ۔۔۔۔۔؟اس نے بے ساختہ پوچھ لیا جب ایام اسے گھورنے لگا ۔
یہ روحی کی سیکنڈ برتھ ڈے ہے ۔اس نے جتانے والے انداز میں کہا تو وہ کچھ شرمندہ ہو گئی۔
اصل میں وہ پوچھنا یہ چاہتی تھی کہ روحی کی ماں کہاں ہے کیااس نے کبھی بھی روحی کی کوئی خوشی اس کے ساتھ نہیں منائی لیکن ہمیشہ اس کے منہ سے کچھ الٹا سیدھا ہی نکلتا تھا ۔
نہیں میرا پوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ جب روحی پیدا ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔؟
جب روحی پیدا ہوئی تب میں یہاں نہیں تھا روحی لندن میں پیدا ہوئی تھی اور اس کے پیدا ہوتے ہی میں اسے پاکستان لے آیا تھا ۔
میں چاہتا تھا کہ میری بیٹی میری ملک میں رہے ۔یہیں بڑی ہو اپنے ملک سے محبت کرے چلو اب باقی سوال بعد میں پہلے روحی کو جگاتے ہیں ۔
وہ مسکرا کر گھڑی کی طرف اشارہ کرتا جوپورے بارہ بجا رہی تھی بیڈ کی طرف آیا تھا اور ساتھ ہی اسنےروم کے فریج سے کیک نکال کر لانے کا آڈر بھی جاری کر دیا ۔وہ ہاں میں سر ہلاتے کمرے کی طرف چلی گئی تھی جبکہ ایام روحی کے پاس بیٹھ گیا ۔وہ ایک منٹ میں ہی کیک لے کر حاضر ہو چکی تھی۔
آپ سے ایک اور سوال پوچھوں ۔۔۔۔۔۔۔؟وہ روحی کو جگانے ہی والا تھا جب اس نے پوچھا ۔
جلدی پوچھو وہ کافی جلدی میں تھا ۔
آپ روحی کی سالگرہ اکیلے مناتے ہیں تو اس بار مجھے کیوں شامل کیا آپ نے وہ کب سے مچلتا دل میں سوال اپنے لبوں پر لے آئی تھی جب کہ وہ اس کے سوال پر مسکرا دیا ۔
کیونکہ تم اس کی ماما دانی ہو سٹوپڈ۔۔۔۔۔” وہ مسکرا کر کہتا روحی کو جگانے لگا تھا جب کہ وہ بھی اپنے چہرے پے آنے والی بے ساختہ مسکراہٹ کو روک نہیں پائی تھی
°°°°°°°
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ہیپی برتھ ڈے روحی۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اسے جگاتے ہوئے گنگنا رہے تھے پہلے تو وہ کافی دیر تک اپنی آنکھیں ملتی رہی کیونکہ اسے سوئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا ۔
پھر وہ حیرانگی سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے ان کے لفظوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی ۔
وہ خوش کیوں نہیں ہو رہی ہے ہیر نے اسے دیکھتے بہت کم آواز میں کہا تھا ۔
جب وہ جاگتی ہے نہ تو اپنی یاداشت بھول چکی ہوتی ہے اس لئے وہ بھی کم آواز میں لیکن شرارتی لہجے میں بولا تھا ۔
ہیرنے گھورکر اسے دیکھا لیکن تب تک روحی کی چہچہاہٹ شروع ہوچکی تھی ۔
وہ دونوں سے ملتے ہوئے اپنی خوشی کا بھرپور اظہار کر رہی تھی اور اسے خوش دیکھ کر جہاں ایام مسکرا رہا تھا ہیر بھی خوش ہوگئی۔
ام تہاں پل ہیں (ہم کہاں پر ہیں )روحی کی طرف سے سوال آیا ۔
ہم اس وقت تو پرنسز روحی کے کمرے میں ہیں ایام نے اس کی طرف جھکتے ہوئے جواب دیا تھا ۔
شچی۔۔۔۔۔سچی۔۔۔۔۔۔۔وہ جوش سے پورے کمرے کی طرف دیکھنے لگی اور پھریقین کرنے کے بعد کہ وہ اپنے الگ کمرے میں ہے اگلے ہی لمحے بیڈ پرچڑکر اچھلنے لگی۔
وہ اپنا کمرہ پا کر ضرورت سے زیادہ ہی خوش ہو رہی تھی شاید وہ پہلے ہی اپنی خواہش کا اظہار ایام کے سامنے کر چکی تھی وہ سونےسے پہلے اس سے بھی کہہ رہی تھی کہ اسے اپنا الگ کمرہ چاہیے ۔
اب اسے اپنا الگ کمرہ کیوں چاہیے تھا یہ تو وہ نہیں جانتی تھی لیکن اس وقت وہ اپنا کمرہ پا کر بہت زیادہ خوش لگ رہی تھی ۔
وہ کبھی ایام پر چڑتی تو کبھی ہیرپر اسے خوش دیکھ کر وہ دونوں خوش ہوگئے تھے اور پھر اس کی خوشی کو دوبالا کرتے ہوئے دونوں نے کیک کاٹا تھا ۔
ویسے تو ایام نے اس کی برتھ ڈے کی خوشی میں گھر پر بہت بڑی پارٹی رکھی ہوئی تھی لیکن وہ پارٹی سب کے لیے تھی۔اور یہ پارٹی صرف اس کی بیٹی اور بیوی کیلئے تھی اس وقت وہ اپنی بیٹی کا برتھ ڈے منا رہا تھا اپنے سٹائل میں ۔
اس وقت تو بالکل الگ ایام لگ رہا تھا جس ایام کو وہ جانتی تھی اس سے تو یہ کہیں سے بھی میل نہیں کھا رہا تھا ۔
شاید اس وقت وہ صرف روحی کا باپ لگ رہا تھا ۔دنیا کا سب سے اچھا باپ ۔ہیر مسکرا کر ان دونوں کی نوک جھوک انجوائے کرتی رہی اور پھر وہ روحی کی انٹرٹینمنٹ کے لیے وہ اس کی فیورٹ فلم بھی لے کر آیا تھا روحی کا برتھ ڈے مزید بیسٹ بنانے کے لیے ۔
یہ اتفاق تھا یا کچھ اور لیکن دا جنگل بک ہیر کی اپنی بھی بہت فیورٹ فلم تھی ۔روحی کے حکم پر اس نے وہ فلم لگائی تھی اور پھر رات دن گئے تک وہ تینوں اس فلم کو انجوائے کرتے رہے ۔
روحی کے سونے سے پہلے ایک اور حکم جاری ہوا تھا کہ روحی کے کمرے کے باہر بورڈ لگا ہونا چاہیے کہ وہ یہ روحی کا کمرہ ہے ۔اور اس کا حکم وہ صبح سویرے پورا کرنے والا تھا رات کو وہ دونوں روحی کے ماسٹر بیڈ پر ہی سوئے تھے ۔
رات کو وہ لوگ کافی لیٹ سوئے تھے یہ جاننے کے باوجود بھی صبح ایک بہت مصروف ترین دن ان کا انتظار کر رہا ہے
°°°°°°°
صبح ہوتے ہی ایام کمرے سے نکل گیا تھا پارٹی دوپہر کے تین بجے کے قریب شروع ہونے والی تھی ۔
اور اسے بہت سارے انتظامات کرنے تھے ۔
اس کا کام ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا تھا صبح سے لے کر دوپہر تک اس نے ایام کو نہیں دیکھا تھا حالانکہ آج تووہ چھٹی پر تھا جبکہ پالروالی خود اس کے کمرے میں اسے تیار کرنے کے لئے آئی تھی ۔
اسے وہی ڈریس پہننا پڑا تھا جو ایام اس کے لئے آج کی پارٹی میں پہننے کے لئے لے کر آیا تھا ۔
پالر والی نے اسے بہت اچھے طریقے سے تیار کیا تھا اور تین بجے سے پہلے ہی وہ اپنا کام ختم کر کے جا چکی تھی تانیہ کے بھی آج بہت چکر لگ رہے تھے جبکہ روحی تو اپنے کمرے میں ہر چیز سے بے خبر پہلے تو نیند پوری کرتی رہی اور بعد میں وہ میں اپنا پرنسز ڈریس پہن کر پرنسز بنی ہر جگہ گھومتی رہی
اور آخر میں چار ڈریسز کا بیڑا غرق کرنے کے بعد وہ اپنی ماماجانی کے ساتھ میچنگ ڈریس میں اپنی برتھڈے میں جانے کے لیے بالکل تیار ہو گئی تھی اپنی ماما جانی کی مدد سے ۔
تانیہ نے اسے صبح ہی منع کردیا تھا کہ روحی کو وہ والا ڈریس نہ پہنایا جائے جو اس کو پارٹی میں پہنانے کے لئے لایا گیا ہے ۔کیونکہ وہ شام تک اس قابل رہے گا ہی نہیں کہ اسے پارٹی میں پہنا جا سکے اسی لیے ہیر اسے صبح سے باقی ڈریسز ہی پہناتی رہی تھی ۔
اور اب جاکر تین بجنے سے تقریبا دس منٹ پہلے اس نے روحی کو تیار کیا تھا ۔جو اس وقت سچ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔اس نے فرمائش کر کے ہیرسے اپنےبالوں کا بن بنوایا تھا بالکل ویسا ہی جیسا اس کی ماما جانی کا بنا ہوا تھا۔
وہ ہر لحاظ سے اس کی طرح دکھنا چاہتی تھی ۔جبکہ ہیرتو بس اس کی باتوں پر مسکراتی رہی
°°°°°°°
محفل اپنی عروج پر تھی وہاں پر بہت سارے بچے تھے ۔روحی تھوڑی ہی دیر میں ان بچوں کے ساتھ گھل مل گئی تھی
وہ کبھی ادھر بھاگتی تو کبھی ادھر محفل بہت بڑی تھی یہاں پر بہت بڑے بڑے لوگ شامل تھے سیلیبریٹیز سے لے کر سیاست کے لوگ تک اس محفل کا حصہ تھے ۔
اسے نیچے جانے میں بہت ڈر لگ رہا تھا لیکن اوپر کھڑی وہ کھڑکی سے لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگا چکی تھی ۔
چلو ہیر سر بلا رہے ہیں تمہیں بہت سارے لوگوں سے ملنا ہے تانیہ کمرے میں آتی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی تو اس کے چہرے کی اڑتی ہوایاں دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی تھی ۔
یہاں تو بہت لوگ ہیں تانیہ مجھے ڈر لگ رہا ہے میں ان سے کیا کہوں گی ۔
تم کچھ بھی نہیں کہو گی میری جان جو کہیں گے سر کہیں گے وہ تمہیں سب کے سامنے انٹروڈیوز کروائیں گے اور ویسے بھی کل ولمیےپر تو اس سے بھی زیادہ لوگ ہوں گے ۔ان کا سامنا کس طرح سے کرو گی یہ تو کچھ بھی نہیں ہے وہ اس کا ہاتھ تھامیں اسے باہر کی طرف لاتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔
جب کہ وہ اندر ہی اندر قرآنی آیات کا ورد کرتی کمرے سے باہر قدم رکھ چکی تھی کل ولیمےکا سوچ کر اسے ایام کی باتیں یاد آنے لگی اس نے اسے دو دن کا وقت دیا تھا جو آج رات ختم ہو جانا تھا ۔
اب سے روحی کا بھی الگ کمرہ تھا ۔اب تو اس کے بچنے کے کوئی چانس بھی نہیں تھے ۔
اس کے ساری سوچیں ایام کی طرف چلی گئی تھیں جب اس نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا اچانک لائٹ آف ہوگئی ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا لوگوں کی آوازیں اوپر تک آنے لگی تھیں ۔جب اسے ایام کی آواز سنائی دی ۔
ریلکس ایوری ون لائٹس میں نے خودآف کروائی ہیں کیونکہ اس وقت اس محفل میں بہت اسپیشل انسان آنے والا ہے اس محفل میں آپ سب کو بلانے کی وجہ صرف میری بیٹی نہیں ہے بلکہ میں آپ سب لوگوں کو اپنی بیوی سے بھی انٹروڈیوز کروانا چاہتا ہوں ۔سپورٹ لائٹ میں روشن ہوتا ایام کا چہرہ اس اندھیرے کا مرکز تھا ۔وہ وہیں پہلی سیڑھی پر کھڑی اسے سن رہی تھی
میں جانتا ہوں میری شادی آپ سب کے لیے ایک سرپرائز ہوگئی۔لیکن آپ لوگ یہ بھی تو جانتے ہیں کہ ایام سکندر کو سرپرائز دینے کی عادت ہے لیجئے آپ سب کے لئے ایک اور سرپرائز حاضر ہے مسز ہیر ایام سکندر ۔
مائی بیوٹی فل فائف ۔میری جان میری محبت میرا سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے اوپر کی طرف اشارہ کر چکا تھا ۔کیمرہ مین نے اچانک سپورٹ لائٹ میں اسے فوکس کر دیا تھا۔جبکہ اس آفتاد پر وہ مزید نروس ہوتی ہوئی تانیہ کا ہاتھ تھام چکی تھی ۔
جب تانیہ نے اسے نیچے کی طرف چلنے کے لیے کہا اسپوٹ لائٹ کی روشنی میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی سیڑھیاں اترنے لگی تھی جب اچانک تانیہ نے اس کا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں تھما دیا۔
اس نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو اس کا مسکراتا ہوا چہرہ اس کے سامنے تھا ۔
ویلکم ٹو مائی لائف مائی لو۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نرمی سے مسکراتا اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتا اس کے گرد اپنا مضبوط حصار بنا گیا ہیر کو لگا جیسے وہ دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ہے اس وقت وہ اپنے آپ کو اس دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ میں محسوس کر رہی