60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon )Episode 28

°°°°°°°
ایام اپنی بات مکمل کرکے چلا گیا تھا۔جبکہ وہ کتنی ہی دیر وہیں بیٹھی رہی ۔اسے ایام کی باتیں بری نہیں لگی تھی۔
کیونکہ اس کی کوئی بھی بات غلط نہیں تھی ۔وہ اپنی زندگی میں کسی طرح کا کوئی مسئلہ کوئی پریشانی نہیں چاہتا تھا۔
اور اس سے بھی یہی امید رکھتا تھا کہ وہ بھی اس کے ساتھ ایک پرسکون زندگی کی شروعات کرے۔یہ اس کے لیے بہت مشکل تھا۔کیونکہ اس شادی میں اس کی مرضی شامل نہیں تھی۔لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ سعد کے ساتھ شادی میں بھی وہ راضی نہیں تھی۔
اگر وہ سعد کے ساتھ ایک پرسکون زندگی کے خواب سجا سکتی تھی تو ایام کے ساتھ کیوں نہیں۔وہ ایام کا ساتھ قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر سکتی تھی۔
یہ اتنا مشکل نہیں تھا۔لیکن اسے نجانے کیوں اسے ایام پر یقین نہیں تھا۔وہ ایام کا اپنی طرف جھکاو صرف وقتی سمجھتی تھی۔
اسے لگتا تھا کہ ایام کو اس کی خوبصورتی اپنی طرف کھنچتی ہے۔اور اس نکاح کے پچھے بھی یہی وجہ ہے۔کیونکہ اس کی نیت اس پر اس کی طلاق سے پہلے ہی خراب تھی۔۔وہ پہلے سے اس پر غلط نگاہ رکھے ہوئے تھا۔
اگر وہ اپنے بھائی کی بیوی پر غلط نگاہ رکھ سکتا تھا تو وہ اس پر کیسے یقین رکھتی۔اسے یقین تھا کہ وہ اس سے کوئی پیار مجبت نہیں کرتا ۔وہ صرف اس کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور جس دن اس نے اسے حاصل کر لیا ۔وہ اسے دوبارہ منہ بھی نہیں لگائے گا۔
اس کی سوچ ایام کو لے کر دن با دن خراب ہوتی جا رہی تھی۔وہ ایام کو بہت غلط سمجھ رہی تھی۔پھر اسے یہ بھی خیال آتا کہ اگر ایام صرف اسے حاصل کرنا چاہتا تو اس سے شادی کیوں کرتا۔وہ ایک مضبوط مرد تھا۔وہ اسے اپنے زور بازو پر بھی حاصل کرسکتا تھا۔اسے اس سے شادی کرنے کی ضرورت ہرگز نہیں تھی۔وہ بُری طرح الجھی بیٹھی تھی ۔جب وہ واپس آتا نظر آیا۔
وہ باہر جانے کے بجائے اسی کی طرف آ گیا تھا ۔وہ جو وہاں سے اٹھ کر جانے کا ارادہ رکھتی تھی واپس بیٹھ گئی وه اس کے پاس آر کا
اب کون سی فصول سوچوں میں ڈوبی ہو۔۔۔۔؟ بیوی میں منع کررہا ہوں تو بہتر ہے کہ تم اپنی فصول سوچوں سے باز آ جاو ورنہ اپنے لیے تم خود برا کرو گی۔
اگر تم نہیں سکون سے بیٹھ پارہی اپنی سوچوں سے جان نہیں چھڑا پا رہی تو میرے بارے میں سوچو بلکہ ہماری آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو یہ سوچو کہ آگے کیا ہوگا ہم اپنی زندگی کو کس طرح سے خوبصورت بنائیں گے ۔
اگر تم چاہو تو تمہارے پاس بہت کچھ ایسا ہے جسے سوچ کر تم پرسکون رہ سکتی ہو ۔۔۔۔۔اپنے آپ کو کسی اذیت میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ اللہ تعالی کی اس نعمت کا شکریہ ادا کیا جائے جو آپ کے حصے میں آئی ہے ۔
اور میرے خیال میں میں بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوں اگر تم سوچو تو ۔۔۔۔۔۔۔جانتی ہو میرا شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ میں اپنی بیٹی کو ہمیشہ اکیلے پالنےوالا تھا ۔
لیکن تمہاری وجہ سے مجھے اپنا یہ فیصلہ بدلنا پڑا ۔۔۔۔اور مجھے ایسا کیوں کرنا پڑا یہ تم بھی جانتی ہو اب میں یہاں کھڑے ہو کر تمہارے حسن کے قصیدے نہیں پڑھوں گا ۔کیونکہ میرے خیال میں جو چیز میری ہے اس کی تعریف میں کبھی بھی کر سکتا ہوں اور یہ کام میں نے پرسوں کے لیے چھوڑ دیا ہے ۔
ویسے میں نے سنا ہے کہ دو طرح کی عورتیں بہت خطرناک ہوتیں ہیں ایک وہ جو خوبصورت ہوتی ہیں اور دوسری وہ جن کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ خوبصورت ہیں۔مجھے پتا ہے تم میرے لئے بہت خطرناک ثابت ہونے والی ہو وہ شرارتی انداز میں کہتا اسے نگاہ اٹھانے پر مجبور کر گیا ۔
میں آپ کو عورت لگتی ہوں۔۔۔۔۔۔؟ وہ جو نہ جانے اسے کیاسنانے کا منتظر تھا اس کے منہ بناکریہ کہنے پر اپنا کہ قہقہ ضبط نہ کر سکا ۔
او سوری سوری سوری میرے خیال میں اس وقت دنیا کی سب سے بڑی غلطی کر چکا ہوں ۔ایک لڑکی کو عورت کہنا بھی میرے خیال میں گناہ کے زمرے میں آتا ہے ۔میں کوشش کروں گا کہ مجھ سے دوبارہ یہ گناہ سرزد نہ ہو ۔میں چلتا ہوں خیال رکھنا اپنا جلدی آنے کی کوشش کروں گا ۔
وہ اس کے سامنے کھڑا مسکرا کر بول رہا تھا جب کہ وہ حیران سی یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ اسے یہ سب کچھ کیوں بتا رہا ہے جب اگلے ہی لمحے اس نے جھکتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھے ۔ہیر جی و جان سے لرز کر رہ گئی وہ اس طرح کی کوئی حرکت کرے گا یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔
جب کہ وہ اسے کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بنا اپنے قدم اپنی گاڑی کی طرف بڑھاچکا تھا ۔
°°°°°°°
یہ لو محترمہ تمہارا ڈریس ابھی آیا ہے مجھے تو بہت زیادہ پسند آیا ہے یقیناً تمہیں بھی بہت پسند آنے والا ہے ۔
اس کی ڈیزائننگ تو چیک کرو یار واللہ کتنی خوبصورت ہے ۔روحی کا بھی بالکل سیم ٹو سیم تمہارے جیسا ہے آرڈر تو ایک ڈیڑھ ہفتہ پہلے کیا تھا۔اور آنے والا بھی کل ہی تھا لیکن آج ہی ڈلیور ہو گیا ۔
وہ اس کے سامنے ایک بے تحاشا حسین ڈریس پھیلاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
یہ ولیمے کا ڈریس ہے وہ ایک نظر اس گولڈن ڈریس پر ڈالتے اس سے کہنے لگی تھی اس نے کھول کر دیکھنےیا پھر ہاتھ لگانے کی غلطی نہیں کی تھی ۔
ارے نہیں یار یہ تو روحی کی سالگرہ کا ڈریس ہے ویسے تمہیں اپنے ولیمے کی ڈریس دیکھنے کی اتنی جلدی ہے یہ تو مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا میں سر سے کہہ دیتی ہوں کہ تمہارے ولیمے کا ڈریس جلدی منگوا لیا جائے۔
کیونکہ ہماری دلہن صاحبہ کو بہت جلدی ہے وہ اس کے کندھے کے ساتھ کندھا ملاتے چھیڑنے والے انداز میں بولی۔
توبہ توبہ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے میں تو بس ایسے ہی تم سے پوچھ رہی تھی ۔وہ اس سے کہتی ڈریس گھسیٹ کر اپنے قریب کر چکی تھی اس کی زپ کھولتے ہوئے وہ اسے بیگ سے باہر نکالنے لگی ۔
یہ تو بہت زیادہ بھاری ہے میں اسے پہن کر کیسے چلوں گی تانیہ اور روحی کیلئے بھی یہ کافی بھاری ہوگا وہ پریشانی سے اسے دیکھنے لگی ۔
جبکہ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے ڈریس کے نیچے چھپے روحی کے ڈریس کو کھولنے لگی تھی ۔
لیکن اس نے نوٹ کیا تھا کہ روحی کا ڈریس اتنا زیادہ ہیوی نہیں تھا بچوں کی مناسبت سےوہ بالکل پرفیکٹ تھا ۔
ارے نہیں روحی کا ڈریس بالکل بھی ہیوی نہیں ہے وہ بہت آسانی سے اسے کیری کر پائے گی تم اپنا سوچو کیوں کہ تمہارے لئے آسان ہرگز نہیں ہوگا وہ اسے روحی کی طرف سے بے فکر کرتے ہوئے کہنے لگی ۔
میں کوئی اور پہن لوں گی اس میں تو چلنا بھی محال ہو گا ۔خود ہی فیصلہ کرتے ہوئے کہنے لگی ۔
نہیں جانو تم کوئی اور نہیں پہن سکتی تمہیں یہی ڈریس پہننا ہوگا کیونکہ یہ سر اپنی پسند سے لے کر آئے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ تم ان کی پسند کو نظر انداز کرو گی ۔
ویسے تم نے کل رات کے بارے میں مجھے کچھ بھی نہیں بتایا کیا ہوا کل رات کو سر نے غصہ تو نہیں کیا ویسے وہ رات کافی دیر سے گھر واپس آئے تھے میرے خیال میں تب تک تم سوچکی ہوگی ۔
تانیہ نے سرسری سے انداز میں پوچھا تھا اسے یاد آیا کہ کل تانیہ نے اس کے ساتھ کچھ خاص اچھا نہیں کیا تھا ۔
وہ اس کی مدد کرنے کے بجائے ایام کے حکم کو فالو کر رہی تھی اور اسے یہ بات بہت بری لگی تھی وہ اس کی دوست تھی اس کی مدد کر سکتی تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور اب وہ اس سے بالکل نارمل بات کر رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔لیکن حقیقتاً کل تانیہ نے اس کا بہت دل دکھایا تھا
ویسے اگر دیکھا جائے تو وہ بھی مجبور تھی وہ ایام کی ملازمہ تھی۔اگر وہ اس کی کوئی بھی مدد کرتی تو یقیناً اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتی اور اس کا تو کوئی سہارا بھی نہیں تھا
شاید جو تانیہ نے کیا وہ ایک طرح سے صحیح بھی تھا ۔
کیوں کہ تانیہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔تانیہ کی نظر میں ایام ایک بہت اچھا انسان تھا ۔جو تانیہ کے حساب سے اس کے لئے بہت اچھا ثابت ہونے والا تھا ۔تانیہ کے ساتھ کسی بھی طرح کی ناراضگی ظاہر کرکے وہ اسے شرمندہ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اس وقت یہاں اسے سمجھنے والی صرف یہی اس کی دوست تھی۔
کہیں نہ کہیں اس کے اور ایام کے نکاح میں قسمت کا کھیل تھا ۔پہلے سعد کے ساتھ اچانک شادی اور پھر اچانک طلاق اس کے نصیب میں لکھی تھی اور پھر جب وہ اپنے بھائی کے قریب جانے والی تھی ان مصیبتوں سے نکلنے والی تھی ۔اس کی ایام کے ساتھ شادی ہوگئی ۔یہ سب اس کے نصیب کا لکھا تھا ۔
اور یہ جیسا بھی تھا اسے قبول کرنا تھا ۔شاید ایام ایک بہت برا انسان ہو گا شاید آگے جا کر وہ اس کے لیے اچھا ہسبنڈ ثابت نہ ہو لیکن وہ سعد جتنا برا بھی نہیں ہو سکتا جو اپنی ہی بیوی کا سودا کر دے۔
کل اس کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا یہ تو وہ نہیں جانتی تھی اور نہ ہی اسے ان سب چیزوں کا ہوش رہا تھا لیکن غنودگی میں بھی اسے اپنے آس پاس ہونے والی باتوں کی آواز سنائی دیتی رہی وہ ہر چیز تو نہیں سمجھ پائی تھی لیکن بہت ساری انجان آوازوں میں اسے سعد کی جانی پہچانی آواز سنائی تھی
جو ان غنڈوں سے کہہ رہا تھا کہ اس نے اسے کسی کے آگے بیچ دیا تھا اور اس کی شادی کے پیچھے کی وجہ بھی یہی تھی ۔یہاں تک کہ اس نے شادی بھی کسی کے کہنے پر کی تھی ۔اور پھر اس نے اسے ایام کے گھر بھیج دیا تھا ۔
اور بعد میں اپنی جان بچانے کے لیے اس نے اسے طلاق دے دی وہ کتنا گرا ہوا انسان تھا سوچ کر ہی اسے اس سے نفرت ہونے لگی تھی۔کیا کوئی اتنی گھٹیا اور گری ہوئی حرکت کرسکتا ہے کہ اپنی ہی بیوی کو کسی کے آگے بیچ دیے اسے سوچ سوچ کر اس سے نفرت محسوس ہو رہی تھی ۔
وہ اپنی زندگی میں سعد کو کبھی دوبارہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔اور ایام شاید یہ سوچتا تھا کہ اس کی ساری سوچیں سعد کی طرف ہیں یا۔وہ سعد کے لئے کوئی جذبات رکھتی ہے حالانکہ وہ آج کل صرف اپنے بھائی کو سوچ رہی تھی کہ وہ اس سے رابطہ نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ اس کا موبائل اس کے بھائی کا نمبر ہر چیز وہ کھو چکی تھی ۔
ہاں لیکن ایام کیا سوچتا تھا کیا نہیں اسے فرق نہیں پڑتا تھا وہ اس وقت اپنی ہی الجھنوں میں الجھی ہوئی تھی
یقینا تانیہ اسے خوش نصیب سمجھتی تھی جسے ایام کی ہمراہی ملی تھی ۔لیکن وہ اسے کیا بتاتی کہ سعد کی اتنی گھٹیا حرکت نے اس کا مرد ذات پر سے یقین ہی ختم کر دیا تھا
اس کی زندگی میں آیا ایک مرد بھی اس قابل نہ تھا کہ وہ اس پر یقین کر پاتی پہلے اس کا باپ دو بچے پیدا کرکے اس کی ماں کو بے آسرا بے سہارا چھوڑ کر کہیں بھاگ گیا ۔
اور آج تک کبھی اس کا کوئی پتہ نہ ملا اور پھر اس کا بھائی اس کی شادی والے دن اسے کسی بوجھ کی طرح اپنے سر سے اتار کر ہمیشہ کے لیے پھینک گیا اور پھر اس کا شوہر اسے کسی دوسرے کے آگے بیچ چکا تھا ۔
وہ ایام پر کیا یقین کرتی جو اپنے کزن کی بیوی کے بارے میں اتنی غلط سوچ رکھتا تھا آج وہ اس کی بیوی تھی اس کے نکاح میں تھی لیکن پرانی باتیں بھولی تو نہ تھی ۔
لیکن وہ تانیہ کو وہ کچھ کہہ نہیں سکتی تھی تانیہ کی سوچ الگ تھی اور کسی کی سوچ بدلنا کہاں کسی کے بس میں ہے ۔
°°°°°°
وہ فریش ہو کر باہر نکلی تو کمرے میں کوئی بھی موجود نہیں تھا وہ آئینے کے سامنے آکر اپنے بال سکھانے لگی ۔
جب وہ کمرے کے اندر داخل ہونے لگا لیکن اسے دیکھ کر وہی دروازے پر ہی رک گیا
وہ دروازے کے فریم سے ٹیک لگائے کھڑا اسے یک تک دیکھے جا رہا تھا ۔جبکہ دوسری طرف ہیر اپنے ہی دھیان میں اپنے لمبے گھبے آبشار زلفوں کو سلجھانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی ۔
اس کا دھیان ابھی تک دروازے کی طرف گیا ہی نہیں تھا ۔کیوں کہ اس وقت تو وہ صرف اپنے بالوں کو ٹھیک کرنے کی جدوجہد کر رہی تھی۔
ایام نے اس سے کبھی بھی دوپٹے کے بنا نہیں دیکھا تھا اس لیے اندازہ نہ تھا کہ اس کے بال اتنے لمبے اور خوبصورت ہوں گے ۔
وہیں کھڑے کھڑے اچانک اس کا دل چاہا کہ وہ ان بالوں کی خوبصورتی کو اپنے ہاتھوں کی پوروں پر محسوس کرے۔
اور وہ رکا نہیں تھا۔وہ اس پر ہرطرح کا حق رکھتا تھا تو اپنی کوئی بھی خواہش وہ دل میں کیوں رکھتا۔
ایام آہستہ آہستہ چلتا اس کے پاس آ رکا تھا اس نے آئینے میں اس کا عکس دیکھ کر سامنے سے ہٹنے کی کوشش کی تھی ۔جب اس نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا ۔اور اس کا رخ اپنی جانب کرتے اسے اپنے روبرو کیا۔ہیر اس کے سامنے نگائیں جھکائے کھڑی اس کی والہانہ نظروں سے کافی خوفزدہ تھی
میرے خیال میں اب تمہیں فضول کا بھاگنا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ اب نہ تو یہ تمہارے بس میں ہے اور نہ ہی اب میں ایسا کچھ ہونے دوں گا ۔وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی نما آواز میں بولا ۔
جب کہ اسے اتنے قریب محسوس کرتے ہوئے ہیر کی دھڑکنوں میں اشتعال برپا ہوگیا ۔
وہ مجھے باہ۔۔۔۔۔باہر جانا۔۔۔۔وہ اچھی خاضی نروس ہو گئی تھی۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی میں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں۔وہ حکمیہ بولا۔جبکہ اس کے الفاظ پر ہیر کی تو مانو سانسیس ہی اٹک گئی۔
دیکھیں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھنا ہی تو چاہتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی نازک مرمریں کمر کے گرد اپنا حصار بناتا وہ اس کی بات کاٹ گیا۔
یقین نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔محبت اتنی حسین بھی ہو سکتی ہے۔وہ گمبیر لہجے میں کہتا اس کے چہرے پر جھکا تھا۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ کوئی گستاخی کرتا وہ رخ پھیر گئی۔اس کی گہری نگاہوں کا سامنا کرنا ہیر کےلیے دنیا کا سب سے مشکل کام تھا۔
لیکن شاید ایام کو اس کی یہ حرکت پسند نہیں آئی تھی تبھی تو وہ اسے ایک جھٹکے میں واپس کھینچتا اپنے قریب کرگیا۔اس کا انداز کافی زیادہ جارہانہ تھا۔وہ اس کے چوڑے سینےسے لگی اس کی سرخ انگارہ آنکھوں میں صرف ایک لمحہ ہی دیکھ پائی
میں نے کہا مجھ سے دور بھاگنا بند کرو نہیں جا سکتی تم مجھ سے دور ہمیشہ میرے پاس رہو گی وہ اس کے دونوں بازوں کو تھامیں اپنے بے حد قریب کیے اس کے چہرے پر غرا کر بولا تھا ۔
آج ایک بات میں تم سے کہنے جا رہا ہوں اسے اپنے دل میں اور دماغ میں اچھی طرح سے بٹھا لو محبت کرنے لگا ہوں تم سے۔
بہت بہت زیادہ چاہنے لگا ہوں تمہیں میری بیٹی کے بعد تم سے زیادہ مجھےکسی سے محبت نہیں میری زندگی میں صرف تم دونوں ہو ۔
اور میں چاہتا ہوں کہ تمہاری زندگی میں میرے علاوہ اور کوئی نہ ہو ۔میں محبت کےمعاملے میں بہت خالص ہوں ہیر ۔میں محبت کے بدلے محبت چاہتا ہوں تمہیں دیکھ کر جو جذبات میرے دل میں جاگے ہیں وہ کبھی کسی کے لئے نہیں جاگے اگر سعد تمہیں خود نہیں چھوڑتا تو میں اسے مجبور کر دیتا ۔لیکن تمہیں اپنا بنا کر ہی دم لیتا کیونکہ ایام سکندر ہر کسی سے محبت نہیں کرتا اور جس سے محبت کرتا ہے اسے کسی اور کا نہیں ہونے دیتا ۔
میں نے تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ اسی دن کر لیا تھا جب تمہیں پہلی دفعہ دیکھا تھا ۔
ہاں تمہاری شادی کے اگلے دن صبح سعد کے کمرے میں اس دن حالات کیسے تھے ۔تمہاری زندگی میں کیا ہو رہا تھا میں کچھ نہیں جانتا تھا ۔تمہیں دیکھتے ہی مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی اور اسی دن میں نے تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دیکھو آج تم میری ہو ۔
تم میری ہو ہیر ایام سکندر تم پر میرا حق ہے ۔اور میں اس حق کو سود سمیت لینا بھی جانتا ہوں ۔
مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرو ۔میں چاہتا ہوں کہ تم اپنے دل کی پوری رضامندی سے مجھے قبول کرو اور تمہیں ایسا کرنا پڑے گا ۔
کیونکہ تمہارے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے اور اس راستے کا نام ایام سکندر ہے ۔اس کا سخت ہوتا لہجہ اپنے آپ نرم ہو گیا تھا اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامیں وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا ۔
ہیر خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔جب اسے اپنی آنکھوں پر اس کے لبوں کا لمس محسوس ہوا ۔اس نے اگلے ہی لمحے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا تھا ۔اپنی پلکوں پر اس کی گرم سانسوں کا لمس محسوس کرتی وہ لز کررہ گئی ۔
جبکہ ایام اس کی آنکھوں کی جبش دیکھتا اس کے سرخ خساروں پراپنے دہکتے لب رکھتا اس کے ہونٹوں کے کناروں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتا بہکی بہکی نگاہوں سے اس کے چہرے کو دیکھتا مزید کوئی گستاخی کرنے ہی والا تھا کہ اگلے ہی لمحے دروازہ کھلا ۔
اور روحی اپنے ٹیڈی کے ساتھ باتوں میں مگن اندر داخل ہو گئی ۔ہیر نے اگلے ہی لمحے اس سے دور ہونے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن اس کا ہاتھ اب تک اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں سختی سے لئے ہوئے تھا ۔جب کہ اس کا دوسرا ہاتھ اب تک اس کی کمر کے گرد حمائل تھا
وہ اس کا ہاتھ یونہی اپنی سخت گرفت میں لیے بیڈ کی سائیڈ دراز تک آیا اور اس میں سے کچھ نکالنے لگا اپنی تلاش مکمل کرتے ہوئے اس نے چھوٹی سی ڈبی نکال کر یونہی اس کا ہاتھ تھامے کھولی تھی ۔
کہ بے تحاشا خوبصورت سا بریسلیٹ نکال کر وہ اس کی مومی کلائی میں پہناتے ہوئے اس کے ہاتھ کو ہر طرف سے دیکھ رہا تھا ۔
نکاح کا تحفہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پیار سے مسکرا کر کہتا اس کے نازک سے ہاتھ کو اپنے لبوں سے چھوتا اسے اس کے حال پر چھوڑتے ہوۓ روحی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا جب کہ وہ کتنی ہی دیر اپنے ہاتھ میں موجود اس نازک بریسلیٹ کو دیکھتی اس کی محبت کی حدت کو محسوس کرتی رہی
°°°°°°