60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon )Episode 27

ماما دانی اد شے اپ یہ ہی امارے تمرے میں شویا ترودی ۔اول می اپ تے بیت می (ماما جانی آج سے آپ یہیں ہمارے کمرے میں سویا کرو گی اور میں یہاں آپ کے بیج میں )وہ اپنے ٹیڈی کو اپنی باہوں میں بھرتے بالکل اس کے ساتھ چپک کرلیٹی ہوئی تھی۔
جب کہ وہ جو یہ سوچ سوچ کر گھبرا رہی تھی کہ نہ جانے ایام اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا
اسے اس طرح سے اپنے قریب سوتے ہوئے دیکھ کچھ حد تک بے فکر ہو گئی تھی وہ اپنی بیٹی کے سامنے یقینا اسے کچھ نہیں کہنے والا تھا ۔
اور نہ ہی کوئی اس طرح کی بے باک حرکت کرنے والا تھا جس پر وہ پریشان ہوتی
وہ صبح سے یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوگئی تھی کہ اب وہ ایام کی بیوی ہے اور ایام اس پر ہر طرح کا حق رکھتا ہے ۔اور یقینا وہ اس رشتے کو آگے بڑھانے پر بھی زور دینے والا تھا لیکن یہ بات تو اس کے ذہن سے ہی نکل گئی تھی کہ روحی بھی اس کے ساتھ اسی کمرے میں رہتی ہے
ایام سے بچنے کے لئے اس کے پاس روحی کا سہارا موجود تھا ۔جو یقینا اس کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہونے والی تھی
اس وقت بھی وہ روحی کو اپنے ساتھ لگائے اس سے باتوں میں مصروف تھی اور اس کی یہی کوشش تھی کہ روحی جاگتی رہے ۔یا پھر ایام کے واپس آ جانے سے پہلے وہ دونوں ہی سو جائیں ۔
لیکن ایام اس کے ساتھ اس بیڈ پر سونے والا ہے یہی سوچ اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی تھی ۔اتنا تو اس نے نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے نہیں سوچا تھا جتنا اس کے ساتھ اس بیڈروم کو شیئر کرنے کے بارے میں سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی ۔پتا نہیں اس کی زندگی میں آگے کیا کیا امتحان لکھے ہوئے تھے ۔وہ تو پہلی سیڑھی پر تھک چکی تھی
°°°°°°
وہ پرسکون سا کمرے کے اندر داخل ہوا تو بیڈ پر نظر پڑتے ہی اس کے عنابی لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی وہ مسکراتے ہوئے بیڈ کی طرف آیا تھا۔
جہاں اس کی بیٹی اور بیوی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے گہری نیند میں سوئے ہوئیں تھیں۔
روحی کی دونوں ٹانگیں اپنی ماماجانی کے اوپر تھیں جبکہ اس نے روحی کو خود سے چپکا کر رکھا ہوا تھا۔
وہ نیند میں بھی اس سے کافی خوفزدہ محسوس ہو رہی تھی ۔
اس کے ڈر کو وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ رہا تھا ۔
اس نے مسکرا کر جھکتے ہوئے اپنی بیٹی کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دئیے تھے جبکہ ہیر کے ساتھ اس نے ہنوز فاصلہ برقرار رکھا لیکن اس کے چہرے پر بکھری لٹوں کو دیکھ کر اس کے دل نے اس سے بغاوت کرنا شروع کر دی۔
اس کا ہاتھ اپنے آپ ہی اس کے چہرے پر بکھری زلفوں کو سلجھانے کے لئے اٹھا اس نے بے حد نرمی سے اس کے چہرے سے بال پیچھے ہٹائے تھے اس کا روشن پرنور چہرہ اس کی نگاہوں کے سامنے تھا دنیا بھر کی معصومیت لیے وہ گہری نیند میں بھی خوفزدہ سی محسوس ہوئی ۔
اس وقت وہ بالکل سادہ سے ڈریس میں اس کے آنے سے پہلے ہی فریش ہو چکی تھی
بھاگ لو مسز کتنا بھاگ سکتی ہوتم مجھ سے آنا تو تمہیں میرے پاس ہی ہے اب تمہارا ہر راستہ ایام سکندر ہے اور منزل بھی آنا تو تمہیں میری پناہوں میں ہی ہوگا میری باہیں تمہاری منتظر ہیں۔
ایام اس کے کان کے قریب سرگوشی نما کہتا پیچھے ہٹتے ہوئے واش روم میں جا بند ہوا ٹھنڈے پانی سے اپنے اعصاب پرسکون کرنے کے بعد وہ واپس کمرے میں آیا ۔
اس کی معصوم سی کوشش پر اس کے لب ایک بار پھر سے مسکرا اُٹھے تھے وہ عجیب تیڑے میڑے انداز میں بیڈ پر سوئی ہوئی تھی جبکہ ایک کمبل ایک طرف تو دوسرا کمبل دوسری طرف پڑا تھا شاید وہ اس کی جگہ بیڈ پر سےختم کرنے کی کوشش کر چکی تھی ۔لیکن بھلا ایسا کہاں ممکن تھا ۔
وہ اس کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اس وقت اور کوئی چارا نا تھا۔وہ بیڈ پر آتے ہوئے آرام سے بیک کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھا اور پھر اس کا کندھا ہلانے لگا ۔
ڈارلنگ اگر تم آج کی رات اپنی میٹھی نیند میں کسی طرح کا خلل نہیں چاہتی تو میرے لئے جگہ تم خود بنا دو ورنہ اگر میں نے اپنے لیے خود جگہ بنائی تو تمہیں بالکل پسند نہیں آئے گا اس نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا تھا جب کہ اس کا ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کرتے ہوئے ہیر اگلے ہی لمحے میں نیند کی وادیوں سے باہر نکل آئی تھی ۔
اس کے چہرے پر گھبراہٹ دیکھ اس کے لب پھر سے مسکرا اٹھے جبکہ اس کے لئے جگہ بناتے ہیر کو ایک لمحہ ہی لگا تھا وہ روحی کو اس طرف کرتے خود دوسری طرف ہو گئی تھی ۔
اس وقت نیند اتنی غالب تھی کہ وہ کچھ سوچ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی ہاں لیکن سونے سے پہلے اس نے دیکھا تھا کمرے میں کچھ دن پہلے تک جو صوفہ موجود تھا آج وہاں سے غائب ہو چکا تھا یعنی وہ اسے خود سے دور نہیں کرنے والا تھا۔اسی لیے ہٹوا دیا تھا۔
وہ کتنی ہی دیر چور نگاہ سے اسے دیکھتی رہی جب کہ وہ بیڈ پر آرام سے پھیل کر لیٹ گیا اس نے اس کے کچھ بولنے کا انتظار کیا تھا لیکن وہ اسے کچھ نہیں کہہ رہا تھا یہ بھی غنیمت تھی ۔
اب اتنی بھی دور مت جاؤ کہ تمہاری خوشبو کو بھی محسوس نہ کر سکوں ۔اسے پھر سے گمبھیر آواز سنائی دی جسے وہ اگنور کرتی روحی کو مزید اس کی سائیڈ کرتی خود بیڈ کے دوسرے کونے میں جا پہنچی تھی ۔
آرام سے بیڈ سے نیچے مت گرجانا اور ۔۔۔۔۔۔بلکہ رہنے دو اس وقت تم اس کنڈیشن میں ہی نہیں ہو کہ میری بات کو سمجھ سکو۔۔۔سو جاو آرام سے۔۔۔۔ وہ کچھ کہتے کہتے اپنی بات بدل گیا نہ جانے وہ اس سے کیا بات کرنے والا تھا جو بھی تھا اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا
کہ وہ اسے سونے کی اجازت دے رہا تھا۔
باقی جو بھی تھا صبح دیکھا جائے گاوه سب صبح پر چھوڑ کر لیٹ گئی تھی۔اس نے خود ساختہ فاصلہ قائم کیا تھا لیکن پھر بھی اس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا کہیں وہ ہاتھ بڑھا کر یہ فاصلہ مٹا نا دے ۔وہ کب تک جاگتا رہا یا کب تک اس کی پیٹھ کو گھورتا رہا اسے اندازہ نہ ہو سکا لیکن تھوڑی دیر میں وہ خود نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی تھی ۔
°°°°°
ماما بتاو ۔۔۔۔۔۔۔ماما بتاو۔۔۔۔۔۔۔(ماما بچاو ۔۔۔۔۔۔۔ماما بچاو)
صبح اس کی آنکھ روحی کے شور سے کھلی تھی ۔ہیر حیران سی کروٹ بدل کر پیچھے کی طرف دیکھنے لگی جہاں وہ اسے گدگدا نے میں مصروف تھا ۔
ایک لمحے کیلئے اس کے لبوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی تھی کیونکہ روحی اس سے بچنے کے لیے کبھی اپنی ٹانگوں کا تو کبھی اپنے ہاتھوں کا استعمال کر رہی تھی اور بار بار اپنی ٹانگ استعمال کر کے اپنا بچاو کر رہی تھی کیونکہ وہ اس کے پیر کو پکڑ کر وہاں گدگدانے لگتا تو روحی کی مزید چیخیں بلند ہوتی ۔
وہ دونوں اپنی مستی میں اس حد تک مگن تھے کہ انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ ان کے قریب کوئی تیسرا موجود بھی ہے ۔
اتھا اتھا اب نی تروں دی (اچھا اچھا اب نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔)۔۔روحی نےہارتے ہوئے کان کو ہاتھ لگا کر توبہ کی ۔
جب وہ اس کے توبہ کرنے والے انداز پر فدا ہوتا اس کے دونوں گالوں کو چومتا دوبارہ اس کے ساتھ لیٹا تھا جب روحی کے ٹھنڈے ٹھنڈے ہاتھ ایک بار پھر سے اس کی گردن پر گدگدانے لگے
پھر سے بابا جانی کے ساتھ پنگے اب تو روحی نہیں بچے گی روحی بےبی تو گئی ۔وہ اسے وارن کرتا ایک بار پھر سے اٹھا کر اپنے قریب کر چکا تھا ان دونوں کا کھیل کافی دلچسپ تھا وہ اپنے چہرے پے آنے والی مسکراہٹ کو روک نہیں پائی تھی ۔
اتھا اتھا شولی اب نی توروں دی پرومش
(اچھا اچھا سوری اب نہیں کروں گی پرومس )وہ اونچی اونچی آواز میں چلاتے ہوئے بول رہی تھی لیکن وہ تو اسے خوب تنگ کرنے میں لگا ہوا تھا ۔
نہیں اب بابا جانی کو روحی کا سوری نہیں چاہئے اب تو بدلا ہوگا بدلا وہ اعلانیہ کہتا ایک بار پھر سے اس کی ٹمی پر گدگدی کرنے لگا ۔
ماما بتاو ۔۔۔۔ماوما بتاو۔۔۔پلج بتا۔۔۔۔۔
(ماما بچاؤ۔۔۔۔۔ ماما بچاؤ۔۔۔۔ پلیز بچاؤ) ۔۔۔۔اسے جاگتے پا کر اس نے دوہائیاں دینا شروع کر دی تھی جب کہ اچانک روحی کے اس طرح سے پکارنے پر پہلے تو وہ بوکھلا گئی
چھوڑ دیجئے اسے ۔۔۔۔روحی بار بار اس کا دوپٹا کھینچ رہی تھی اس نے بیچ میں بولنا ضروری سمجھا تھا
روحی کی ماما جانی بیچ میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے یہ نہ ہو کہ اپنے پارٹنر کو بچاتے بچاتے تم میرے ہتھے چڑجاو اس نے کھلے کھلے الفاظ میں اسے دھمکی دی تھی جب کہ وہ جو اپنا ہاتھ آگے بڑھانے ہی والی تھی اپنے آپ ہی پیچھے کر گئی ۔
روحی نے بے یقین نظروں سے اسے دیکھا تھا جب کہ وہ خود کو کسی طرح کی مشکل میں پھنسانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی اسی لیے نگاہیں چرا کر واش روم میں جا بند ہوئی ۔
روحی کی ماما جانی تو بھاگ گئی شو شیڈ اب روحی کو کون بچائے گا ۔وہ اسے خود میں بھیجے پوچھ رہا تھا جب کہ وہ معصومیت کی انتہا کرتے ہوئے چہرے کو حددرجہ لٹکا چکی تھی اسے خود بخود ہی اس پر ترس آنے لگا
اس نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا تھا اور خود ایک بار پھر سے آنکھیں بند کی ہی تھی کہ اسے پھر سے اپنی گردن پر ننھا سا ہاتھ محسوس ہوا ۔
پھر روحی جو وہاں سے بھاگنے کی کوشش میں تھی اگلے ہی لمحے ایک بار پھر سے اس کے قابو میں آ چکی تھی
بابا جانی سے ہوشیاری ۔۔۔۔۔۔وہ اسے قابو کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولا جو معصوم لیکن شرارتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
°°°°°°°
اسے واش روم کے اندر بھی روحی کی چہکنے کی آوازیں سنائی دیتی رہی وہ بری طرح سے پھنسی ہوئی تھی کبھی وہ اونچی اونچی آواز میں اسے صدائیں دیتی تو کبھی اپنے بابا جانی کو سوری بول کر معاملہ ختم کرنے کی کوشش کرتی۔
لیکن وہ معصوم ہرگز نہیں تھی تھوڑی دیر کے بعد خود ہی کوئی نہ کوئی ایسی شرارت کرتی کہ بری طرح سے پھنس جاتی ۔
ویسے تو روحی کو وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ گئی تھی لیکن آج وہ اسے پہلے سے کہیں زیادہ شرارتی محسوس ہوئی تھی ۔
وہ نہا کر باہر نکلی تو وہ ابھی تک ایک دوسرے میں ہی مگن تھے ۔اسے دیکھتے ہی روحی نے پھر سے دہائی دینا شروع کر دی وہ بس اپنا آپ اس کی گرفت سے چھڑانا چاہتی تھی۔
لیکن ایسا ممکن نہیں تھا وہ نازک سی جان اس فولادی جسم کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی اسے ایک لمحے کیلئے روحی پر ترس آیا تھا ۔
لیکن اسے بچانے کے لیے آگے بڑھنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ اس کا انجام وہ بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی ۔
وہ جانتی تھی کہ اس کو بچانے کے چکر میں وہ خود ہی کسی بڑی مصیبت کا شکار ہو جائے گی ۔لیکن وہ روحی کو اس طرح سے نا امید بھی تو نہیں کر سکتی تھی نہ اس نے آئینے کے سامنے رک کر اپنا دوپٹہ اپنے سر پر ٹھیک کیا۔
جبکہ روحی اب تک اسے پکار رہی تھی اس نے ایک قدم بیڈ کی طرف بڑھاتے ہوئے اچھی طرح سے بیڈ کا معائنہ کیا تھا اور پھر دروازے کا بھی ۔
وہ بیڈ پر روحی اور اسے نظر انداز کر کے دروازے تک آئی اور دروازے کو پوری طرح سے کھول دیا لیکن باہر نکلنے کے بجائے وہ واپس آئی تھی اس نے بیڈ پر ان دونوں کو ایک دوسرے میں مگن دیکھا ۔اور پھر ایام سے بولی۔
آپ کا فون بج رہا ہے اس نے سائیڈ ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اس کے اچانک پکارنے پر ایام نے پہلے اسے پھر پیچھے مڑ کر دیکھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ واپس اس کی طرف مڑتا اس نے پھرتی سے روحی کو بیڈ سے اٹھاتے باہر کی طرف دوڑ لگائی تھی
۔اس کی اس حرکت پر تو وہ چند لمحوں کے لیے سمجھ ہی نہیں پایا کہ آخر ہوا کیا ہے
جب کہ دور تک اسے روحی کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دیتی رہی
الو بنایا بلا مجا آیا(الو بنایا بڑا مزا آیا ۔۔۔۔۔۔۔)
ان دونوں کی اس ملی بھگت پر اس کے لب اپنے آپ مسکرا اُٹھے تھے ۔جب کہ وہ نفی میں سر ہلا تا خود بھی بیڈ سے اٹھتے ہوئے فریش ہونے چلا گیا
فریش ہونے کے بعد اس نے باہر جانے کے بارے میں سوچا تھا ۔کیونکہ اپنے ہنستی مسکراتی زندگی کے ساتھ اس کی صبح تو خوشگوار ہو ہی چکی تھی اب اس کا ارادہ اپنا دن بھی خوشگوار کرنے کا تھا
°°°°°°
لوحی ناشتہ نےترے دی لوحی نے ابی برچی نی تی(روحی ابھی ناشتہ نہیں کرے گی روحی نے برشی نہیں کی ) تانیہ روحی کو ناشتہ کرنے کے لیے کہنے لگی تو اسے آگے سے جواب آیا تھا ۔
وہ صرف اپنے باباجانی کے ساتھ صبح صبح پنگے کر رہی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا ۔ابھی تک اس نے برش بھی نہیں کیا تھا
جب تک اس کے بابا جانی کمرے سے نہیں نکل آتے تب تک تووہ کمرے میں نہیں جا سکتی تھی اسی لیے بابا جانے کے باہر آنے کا انتظار ہی کر سکتی تھی حالانکہ ابھی اسے بھوک بھی لگی ہوئی تھی ۔
تانیہ نے دوبار آکر اسے ناشتہ کرنے کے لیے کہا تھا جب کہ وہ دونوں جاسوس بنی ہوئی تھی کہ کب ایام کمرے سے نکلے اور وہ دونوں جا کر فریش ہوں ۔
کل رات ہی تانیہ نے اس کا سارا سامان ایام کے کمرے میں شفٹ کروا دیا تھا۔جس کی وجہ سے صبح اسے فریش ہونے میں کافی آسانی ہوئی تھی ورنہ اسے دوسرے کمرے میں جانا پڑتا اور روحی کا تو سب کچھ تھا ہی وہیں ۔
رات روحی کو کہانی سناتے سناتے وہ نجانے کب سو گئی تھی ۔ایام نے اسے آکر جگایا تھا کیونکہ اس نے ایام کے لئے جگہ ہی نہیں چھوڑی تھی بیڈ پر رات کے بارے میں سوچ کر وہ ایک بار پھر سے ایام کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
کل رات اگر وہ چاہتا تو اپنا حق اس سے لے سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا کیوں یہ تو نہیں جانتی تھی لیکن اسے یقین تھا وہ زیادہ دن تک اسے خود سے دور نہیں رہنے دےگا
وہ صاف صاف کہہ چکا تھا کہ وہ اس کے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتا ہے ۔جس کا مطلب یہی تھا کہ وہ اسے فضول میں وقت میں نہیں دے سکتا ۔
اگر تم دونوں کی جاسوسی ہو گئی ہو تو جا کر فریش ہو لو ۔اسے اپنے پیچھے سے آواز سنائی دی تھی تو روحی تو اس کے ساتھ چپک گئی تھی جبکہ چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی وہ ان دونوں کو دیکھ کر مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا ۔
تلو دلدی لوم می تچلتے ہی اول اندل شے لات کل دے دے ۔تو بابادانی اندل نی آ ستے دے(چلو جلدی سے روم میں چلتے ہیں اور اندر سے لاک کر دیں گے تو بابا جانی نہیں آ سکے گے )۔
وہ اس کی گردن میں باہیں ڈالے ہوئے اپنا خرافاتی دماغ استعمال کر رہی تھی۔
اگر آپ کے باباجانی آپ کو سزا دیتے ہیں تو بہت اچھا کرتے ہیں آپ ہوہی اتنی شرارتی ۔مجھے پتا نہیں اپنے اس شرارتی دماغ میں مزید کیا کیا سوچے ہوئے ہو اس کو گھورتے ہوئے بولی تو روحی کھلکھلا کر ہنسی ۔
جبکہ وہ مسکرا کر روحی کو لئے واپس روم کی طرف چلی گئی تھی
°°°°°°°
وہ اسے تیار کروا کر نیچے لائی تو وہ ناشتے کی ٹیبل پر ان دونوں کے آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔
کب سے انتظار کر رہا ہوں اتنا ٹائم لگا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ان دونوں کو آتے دیکھ کر اس نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا تھا ۔
روحی کو کچھ پسند ہی نہیں آرہا تھا ۔وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے اسے دیرسے آنے کی وجہ بتانے لگی ۔
ہہہہہم ۔جب کہ وہ ہنکارہ بھرتا اب اپنا کھانا شروع کر چکا تھا ۔
ناشتے کے دوران وہ کچھ نہیں بولا۔جبکہ ناشتے کے بعد روحی اپنے کھیل کود میں مصروف ہو چکی تھی
وہ اسے باہر لان میں آنے کا اشارہ کرتا ہوا خود باہر جا چکا تھا وہ کافی دیر سوچنے کے بعد خود کو اس کے سامنے جانے کے لیے تیار کر چکی تھی ۔
اس نے اسے کیوں بلایا تھا اسے اس سے کیا باتیں کرنی تھی دماغ میں چل تو بہت کچھ رہا تھا لیکن ان سب سوالوں کے جواب اسے تب ہی ملنے تھے جب وہ اس کے روبرو ہوتی ۔
°°°°°°
آپ نے بلایا وہ جواپنے پودوں میں مگن تھا اس کی آواز سن کر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
ہاں آؤ بیٹھو وہ باہر رکھی کرسی پر اشارہ کرتے ہوئے بولا تو وہ سر ہلاتے کرسی پر بیٹھ گئی
یہاں باہر وہ اس سے خوفزدہ ہرگز نہیں تھی وہ یہاں باہر یقیناً اس کے ساتھ کوئی بےباکی نہیں کر سکتا تھا ۔
تم سوچ رہی ہو گی کہ میں نے تمہیں یہاں کیوں بلایا تو مزید ٹائم برباد نہیں کرتا اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ کرایام اپنی بات شروع کرنے لگا تو وہ بھی پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوگئی۔
جی بولیں۔۔۔۔۔اس کے سامنے بیٹھنے پر وہ سمٹ سی گئی۔
کل ہماری شادی ہو چکی ہے تو اب آفیشیلی ہم ہسبنڈ وائف ہیں ۔میں اپنی زندگی میں کسی طرح کی کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تم میری بیوی ہو اور میں تمہارے ساتھ اس رشتے کو لے کر بہت فئیر ہوں۔
کل رات میرے آنے سے پہلے تم چینج کرکے سو گئی یامیرے آنے کا انتظار نہیں کیا ۔اس طرح کی کوئی سوچ میرے دماغ میں ہے ہی نہیں ۔اگر ہوتی تو تمہیں کل رات ہی بتا دیتا۔
تم نے مجھے دھوکا دیا یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی جو کہ ایک بہت بری حرکت تھی اور آگے جا کر تمہارے لئے بہت ساری مصیبتوں کے دروازے کھول سکتی تھی۔خیرجو بھی ہوا بھول جاتے ہیں اور اپنی زندگی میں آگے بڑھتے ہیں ۔
پرسوں روحی کی سالگرہ ہے اور اس سے اگلے دن ہمارا ولیمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں ان دو دنوں کا وقت دے رہا ہوں اپنے آپ کو جتنا ہو سکے اس رشتے کو قبول کرنے کے لئے تیار کرلو کیونکہ میں مزید انتظار نہیں کر سکتا ۔
مجھے میری زندگی میں اب کوئی پرابلم نہیں چاہیے ۔میں اپنے دل کی پوری رضامندی سے تمہیں اپنی بیوی بنا چکا ہوں ۔
میں جانتا ہوں تم مجھے ٹھیک سے جانتی تک نہیں تمہیں میرے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا ایسے شخص کے ساتھ ساری زندگی گزارنا تمہارے لئے مشکل ہو سکتا ہے لیکن میرے خیال میں پاکستان میں 80 فیصد لڑکیوں کی زندگی کے فیصلے اسی طرح سے ہوتے ہیں ۔
تم یہ ہی سمجھنا کہ ہماری ارینج میرج ہوئی ہے ۔اور ہر ارینج میرج میں مرد کی کچھ سوچیں ہوتی ہیں کچھ ڈیمانڈز ہوتی ہیں اور میرے دماغ میں یہ سوچ ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ تم فضول طرح کی سوچیں اپنی زندگی میں لا کر اپنی اور میری زندگی کو ڈسٹرب کرو
میں یہ چاہتا ہوں کہ تمہاری سوچوں پر بھی صرف میری حکمرانی ہو ۔اور ان سب چیزوں کو قبول کرنے کے لئے تمہیں میں دو دن کا وقت دے رہا ہوں روحی کی سالگرہ کی رات تم مجھے تمہارے دل کی پوری رضامندی کے ساتھ ملو گی ۔اب تم اسے میرا حق سمجھو یاحکم ۔تمہاری مرضی لیکن اس سے زیادہ وقت میں تمہیں نہیں دوں گا