Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junoon )Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junoon )Episode 26
••••••
گاڑی گھر کی حدود میں داخل ہوئی تو وہ دور سے ہی اس عالی شان بنگلے کو دیکھنے لگی تھی جو اپنے آپ میں ہی ایک خوبصورتی کا شاہکار تھا ۔
تانیہ اور مس میری روحی کے ساتھ پہلے ہی گھر جا چکی تھیں کیونکہ انہیں گھر میں اس کے ویلکم کی تیاری کرنی تھی ۔
اسے اندر ہی اندر بہت ڈر لگ رہا تھا پتا نہیں آج اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا ۔بظاہر تو وہ بہت بہادر بننے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اندر سے اس کا دل کسی ننھے معصوم بچے کی طرح ڈرا ہوا تھا ۔
گاڑی حویلی سے اندر داخل ہوئی تو ہر طرف گولے اور دھماکوں کی آواز شروع ہوگئی۔لائٹنگ وغیرہ بالکل ہلکی سی کی گئی تھی صرف سفید لائٹس ہی لگائی گئی تھی ۔بہت تھوڑی سی تیاری تھی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وقت ہی اتنا تھا تو یہ غلط نہیں تھا ۔
داخلی دروازے کے سامنے پھولوں سے راستہ بنایا گیا تھا جو بے حد دلکش لگ رہا تھا وہ گاڑی روک کر اس کی طرف کا دروازہ کھولے کھڑا تھا جبکہ وہ خاموشی سے دروازےکے سامنے کھڑی تانیہ روحی اور مس میری کو دیکھ رہی تھی جن کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
میرے خیال میں ہمہیں مزید انتظار نہیں کروانا چاہیے ایام کب سے ہاتھ سامنے کیے کھڑا تھا جب کہ وہ خاموشی سے اپنے دونوں ہاتھ اپنی گود میں رکھے بیٹھی تھی جب اس نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
ہیر جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھی۔ اس کے ہاتھ کو اگنور کرتی ہوئی وہ زمین پر قدم رکھ کر دروازہ بھی بند کر چکی تھی۔ایام نے آہستہ سے اپنا ہاتھ بند کر لیا ۔
جب کہ وہ آگے کی طرف قدم بڑھا چکی تھی وہ بھی اس کے پیچھے ہی قدم اٹھاتا ان کےسامنے دروازے پر جا رکا۔
رکیں رکیں آپ اس طرح سے اندر نہیں جا سکتے پہلے ہمیں آپ دونوں کی نظر اتارنی ہے۔ اور رسم کے مطابق آپ کو ہمیں نیگ دینا پڑے گا ۔
تانیہ نے شرارتی انداز میں کہا تو ایام نے کندھے اچکا دیے ۔
مجھے ایسی کوئی رسم نہیں کرنی میں بہت تھک چکی ہوں تانیہ راستہ چھوڑووہ کافی اکتائے ہوئے لہجے میں بولی ۔
ہمہں پتا اے اپ تک گی ہیں لیتن رشم تورشم ہتی اے نا(ہمیں پتا ہے آپ تھک گئی ہیں لیکن رسم تو رسم ہوتی ہے نہ)روحی نے معصومیت سے کہا ۔
اس کے معصومانہ انداز پر ایک لمحے کے لیے وہ شرمندہ سی ہو گئی تھی ۔اس کے اتنے سخت لہجے پر اسے کتنا برا محسوس ہوا ہوگا وہ جو پہلی دفعہ اس سے ماں کے روپ میں مل رہی تھی۔
اس نے مسکرا کر اسے تھام کر اپنے ساتھ لگا لیا تھا جبکہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اُس کے دونوں گالوں کو چومتی اس کے ہاتھوں پر بھی اپنے لب رکھ چکی تھی۔
نہیں میری روحی جورسم کہے گی وہ رسم ضرور ہوگی وہ زمین سے اسے اٹھا کر کھڑی ہوتی تانیہ سے بولی تھی ۔جس کے محبت سے بھرپور انداز پر مسکرا کر اس کی نظر اتارنے لگی ۔
سرہم کم میں نہیں ٹلنے والے پہلے بتا رہے ہیں اچھی خاصی موٹی رقم لیں گے ۔تانیہ نے ماحول کو خوشگوار کرنے کے لئے شرارتی انداز میں کہا تو اس نے اپنے پیچھے کھڑے ایک آدمی کو اشارہ کیا تھا جو لمحے میں اس کی چیک بک لے کر آ گیا تھا ۔
اس نے اپنا سائن کر کے بنا رقم بھرے ایک چیک پھاڑکر تانیہ کے حوالے کردیا تھا ۔
یہ لواس میں تم جتنی چاہے رقم بھر کر کیش کروا لینا ۔اب اگر اجازت ہو تو ہم اندر جا سکتے ہیں ۔تانیہ جو حیرت سے اس کی حرکت دیکھ رہی تھی اس کی اجازت مانگنے پر فورا راستے سے ہٹ گئی ۔
وہ بھی اس کے ساتھ ہی اندر داخل ہو گیا تھا جب کہ وہ روحی کو باہوں میں اٹھائے اندر کی جانب بڑھ رہی تھی ۔اس نے آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنا شروع کیا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کے پیچھے آرہا ہے اور وہ کون تھا یہ جان کر اس نے پلٹنا ضروری نہ سمجھا
مس میری کچن میں جا چکی تھی جب کہ تانیہ کا ارادہ اسے کمرے میں چھوڑ کر آنے کا تھا ۔
لیکن وہ خود ہی آگے آگے بڑھ رہی تھی ۔تو اس نے کچھ نا کہا
••••••
کس طرف جا رہی ہو تم اب سے تمہارا کمرا یہ والا ہے وہ اسے اپنے کمرے کی طرف جانے کے بجائے اپنے پرانے کمرے کی طرف جاتے دیکھ کر بولا تھا ۔
یش مامادانی اد شے اپ ہمارے والے لوم می رہے دی (یس ماما جانی آج سے آپ ہمارے والے روم میں رہیں گی)روحی نے خوشی سے تالیاں بجاتے ہوئے اسے بتایا تھا ۔
اب شے می اپ دونوں تے بیچ می شویا تروں دی (اب سے میں آپ دونوں کے بیچ میں سویا کروگی )وہ کافی زیادہ خوش تھی۔
روحی کے باتیں سن کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی وہ کیسے جائے گی اس کے کمرے میں سوچ سوچ کروہ پریشان ہو رہی تھی جب اچانک تانیہ اس کے قریب آ کر اسے تھامنے لگی ۔
ہاں ہیر آو میں اور مس میری تمہیں سر کے کمرے میں چھوڑ آتے ہیں ویسے یہ سب کچھ بہت دھوم دھام سے ہونے والا تھا یہ تو ہم نے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سب یوں ہوگا خیر جو بھی ہوتا ہے اچھا ہی ہوتا ہے بےکار میں پرانی چیزیں سوچنی نہیں چاہیے ہم تمہیں چھوڑ آتے ہیں ۔وہ مسکرا کر اس سے کہہ رہی تھی
جب کہ ایام اپنے کمرے میں جانے کے بجائے وہیں سے سیڑھیاں اترتا اپنا موبائل کان سے لگائے نیچے چلا گیا تھا ۔
ارے یہ سراچانک کہاں چلے گئے خیر کوئی کام ہو گا انہیں چھوڑو ہم چلتے ہیں ۔اس کے اچانک جانے پرتانیہ نے کہا تھا لیکن پھر اسے تھام کر اندر لے جانے لگی ہیر نے بھی زیادہ اس چیز پر دھیان نہ دیا تھا ۔
چلو ماما دا نی بابا دانی اود ہی ا دائے دے (چلو ماماجانی باباجانی خود ہی آ جائیں گے )
اپ او می اپ تو لوم دکاتی ہوں ( آپ آؤ میں آپ کو روم دکھاتی ہوں) روحی اس کا ہاتھ تھامے ہوئے بول رہی تھی اس کی خوشی کی تو مانو آج کوئی انتہا ہی نہیں تھی اس کا بس نہیں چل رہا ہے آپ کے ساتھ چپک جائے۔
اس نے نوٹ کیا تھا وہ اسے تانیہ سے بھی بات نہیں کرنے دے رہی تھی ۔تانیہ کافی دیر اس کے پاس بیٹھی رہی لیکن پھر روحی کی ناراضگی دیکھ کر گڈنائٹ کہتی چلی گئی تھی ۔
اس نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اب وہ اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں ہر الٹی سیدھی سوچ کو اپنے دماغ سے نکال کر اپنی نئی زندگی کی شروعات کرے لیکن وہ جانتی تھی کہ ہیرکو یہ سب کچھ قبول کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا ۔
یہ سب کچھ جس طرح سے ہوا تھا اس کے بعد وہ اتنی آسانی سے ان چیزوں کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتی تھی اسے تھوڑے سے وقت کی ضرورت تھی ۔
لیکن ایام جیسے اچھے انسان کے ساتھ اس کی زندگی خوبصورت ہو جانے والی تھی
°°°°°°
یہ بہت عجیب سی جگہ تھی ۔یہ کسی بہت بڑی بلڈنگ کانچلا حصہ معلوم ہوتا تھا جہاں کسی کا آنا جانا نہیں تھا اس نے دروازے پر قدم رکھا تو اسے مردانہ چیخوں کی آواز سنائی دی ۔وہ لوگ بہت درد میں تھے
اس کے لب اپنے آپ مسکرا دیئے تھے ۔اس کے حکم کے مطابق ان لوگوں کی کھال تک ادڑی جا رہی تھی ۔
وہ گہرا سانس لیتا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا تھا ۔اس کی آنکھوں کے سامنے بہت سارے مرد الٹے لٹکے ہوئے تھے جن کی حالت بہت زیادہ خراب ہو چکی تھی۔
اس کو دیکھتے ہی سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔
سر ان میں سے ایک مر گیا باقی سارے زندہ ہیں حال دیکھ لیجئے آپ اب خود پوچھئے کہ ان لوگوں کا کیا مقصد تھا ۔
ان میں سے ایک آدمی اس کے پاس آتے ہوئے اسے تفصیل بتا رہا تھا وہ اسے پیچھے ہٹاتا اس آدمی کی طرف بڑھا تھا جو اس وقت ہیر کے چہرے پر جھک رہا تھا۔
پلیز ہمیں چھوڑ دو خدا کے لئے ہمہیں یہاں سے جانے دو میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔۔۔وہ آدمی دہائی دیتے ہوئے بولا اس وقت اس کا وہی حال تھا جو اس کنڈیشن میں اس کا ہونا چاہیے تھا لیکن افسوس کی بات یہ تھی کہ ایسے لوگوں کو بچے اور بیوی تب ہی یاد آتی ہے جب وہ اس حالت میں ہوتے ہیں ۔
عام حالات میں بیوی بچے مرتے رہتے ہیں ان لوگوں کو کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ان لوگوں کو صرف اپنی ہوس پوری کرنی ہوتی ہے۔بس کوئی بھی لڑکی مل جائے جس سے وہ اپنی ہوس پوری کر سکیں اس وقت نہ تو انہیں کسی بیوی سے کوئی لینا دینا ہوتا ہے اور نہ ہی کسی بچے سے لیکن جب خود پر بنتی ہے تب بیوی اور بچوں کے واسطے دینے لگتے ہیں ۔
اس نے ایک زور دار مکا بنا کر اس آدمی کے منہ پر مارا تھا ۔
تیرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں یہ بات تجھے آج یاد آئی جب کل تجھےاس معصوم سی لڑکی کی زندگی برباد کرنے کا خیال آیا تھاتب تجھے کیوں نہ یاد آیا کہ تیرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔
وہ اسے اس کے بالوں سے پکڑ کر اسے پیچھے کی طرف کھینچتے ہوئے بولا تھا۔درد کی شدت سے وہ بلبلا اٹھا تھا ۔لیکن ترس کھانا تو دور کی بات وہ اس کے لیے مزید اذیت کا انتظام کر رہا تھا ۔
بتا تجھے یہاں کس نے بھیجا ہے اور کیوں کیا مقصد تھا تیرا ۔کون ہے تیرا باس اور ہیر کے ساتھ کیا دشمنی ہے ۔کم لڑکیاں تو نہ ہو گی اس کے پاس توہیرہی کیوں ۔۔۔۔۔۔؟وہ اس کی معصومیت کیوں برباد کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟
بتا مجھے وہ اپنے ہاتھ میں ایک چاقو پکڑے کھڑا تھا جس کا رنگ سرخ انگارے جیسا تھا ان کی آنکھوں کے سامنے ہی اسے اس گرم آگ پروہ لوگ سینک رہے تھے اس وقت وہ چاقو اپنی اصل حالت میں ہی نہیں تھا۔
اسے مجھ سے دور رکھو میں کچھ بھی نہیں جانتا مجھے کچھ بھی نہیں پتا بس سر نے کہا تھا ۔ اس لڑکی کو کڈنیپ کرنے کے لئے تو میں پہنچ گیا اس کے ساتھ ہماری کوئی پرسنل دشمنی نہیں ہے ۔
بس سر کے کسی دشمن کی یہ منظور نظر بننے والی ہے جس کی وجہ سے سر نے اسے اغوا کرنے کا حکم دیا تھا اور ہم لوگوں نے اسے کڈنیپ کر بھی لیا تھا جب تم بیچ میں آگئے ۔
وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ اس نے ایک زور دار مکا اس کے منہ پر دے مارا وہ کرسی سمیت زمین پر جا گرا۔
میں نے پوچھا کہ تمہارے باس کا نام کیا ہے ۔۔۔وہ دھاڑا تھا
اسٹیفن ۔۔۔۔۔۔اسٹیفن نام ہے ان کا ۔۔۔۔۔ اس لڑکی کے ساتھ سر کی کوئی دشمنی نہیں ہے وہ سب کچھ تو ہم کنگ کی وجہ سے کر رہے ہیں کنگ اس لڑکی پر مر مٹا ہے اور اس کے شوہر کو اس کی قیمت بھی کنگ نے ہی دی تھی ۔
ہم اس لڑکی کو اس لیے اغوا کرنا چاہتے تھے تاکہ ہم کنگ سے اپنے مطلب کا کام نکلوا سکے وہ اس لڑکی کی وجہ سے اپنے کام پر فوکس نہیں کر پا رہا وہ اس کا اتنا دیوانہ ہو چکا ہے کہ اس کے نام پر ہم اس سے کچھ بھی کروا سکتے ہیں ۔
وہ بولے جا رہا تھا جب کہ وہ خاموشی سے اسےسن رہا تھا ۔
سر اس کنگ کے بارے میں ہم۔نے بھی سن رکھا ہے۔اس کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن یہ اس وقت پورے انڈرولڈ میں غیر قانونی کام کر رہا ہے ۔
یہ بہت خطرناک آدمی ہے ۔اپنا اصل نام یہ بہت پہلے ہی بدل چکا ہے۔اور اس کا اصل نام کوئی نہیں جانتا اس وقت اس کی شناخت کنگ ہے ۔
گناہوں کی دنیا میں اس کا یہی نام چلتا ہے ۔لیکن ہیر میڈم پر اس کی نظر کہاں سے پڑی اور یہ ان کے پیچھے کیوں لگ گیا اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں ۔اور نا ہی آج تک کسی نے اس کی شکل دیکھی ہے یہ جہاں بھی جاتا ہے ماسک پہن کر جاتا ہے ۔تاکہ کوئی بھی اسے پہچان نہ سکے اس کے پیچھے کھڑا آدمی اسے سب کچھ بتا رہا تھا ۔
تو کیا ان لوگوں کا تعلق بھی کہیں نہ کہیں گناہوں کی دنیا سے ہے وہ سامنے بیٹھے لڑکے کو دیکھ کر کہنے لگا ۔
جی سر ان سب کا تعلق وہی سے ہے انسانیت کے دشمن ہیں یہ لوگ ۔۔وہ غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولا تھا ۔
تو کیا ااسے جینے کا حق ہے ۔۔۔۔؟ ایام کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جسے سن کر وہ گھبرانے لگا
نہیں سر اسے ایسا کوئی حق حاصل نہیں۔جس کی بنا پر اسے زندہ چھوڑ دیا جائے۔ وہ بات ختم کر چکا تھا ۔اور اس کے ساتھ ہی ایام کے ہاتھ میں موجود چاقو اس کی گردن کے آر پار ہوچکا تھا۔
اسے چیچنے کا بھی موقع نہ ملا۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ وہاں موجود لوگوں میں ایک وحشت سی چھا گئی تھی۔۔اس کے بعد کسی کی آواز تک نہ آئی ہر طرف خاموشی چھا گئی تھی۔
سر آپ گھر جائیں ۔باقی کی ساری معلومات لے کر ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔اس کے آدمی نے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا کر وہاں سے نکل گیا تھا۔
••••••
وہ اپنا کام ختم کرکے اپنے گھر کی حدود میں داخل ہوا تو اس کا فون بجنے لگا اس نے اپنا موبائل نکال کر دیکھا تو اسے انجان نمبر سے کال آرہی تھی۔
اس کا یہ پرسنل نمبر بہت کم لوگوں کے پاس تھا ۔بلکہ یہ کہا جائے کہ صرف اس کے اعتبار کے لوگوں کے پاس ہے تو زیادہ بہتر رہے گا ۔
کسی انجان انسان کے پاس یہ نمبر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ کون ہو سکتا ہے سوچ کر اس نے فون اٹھا لیا تھا ۔
اسلام علیکم کون بات کر رہا ہے اس نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہاتھا۔
وعلیکم اسلام ایام سکندر کیسے ہو تم خوش ہو آخر تمہاری شادی ہوئی ہے آج لیکن اس خوشی میں بھول مت جانا کہ کس کی امانت کو اپنے روم کی خوبصورتی کے لئے لاۓ ہو۔
لیکن اس کے ساتھ میری بات یاد رکھنا کہ وہ تمہارے کمرے کی خوبصورتی کو بڑھا سکتی ہے لیکن بستر کی نہیں۔۔۔۔۔۔۔اس کے انداز نے ایام کی رگوں میں شرارے دوڑا دیےتھے ۔
اس بکواس کی وجہ بتانا پسند کرو گے تم وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا تھا ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ میری ہے اور میری ہی رہے گی اگر تم نے اس کے نزدیک جانے کی کوشش کی یا پھر اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعلق بنایا تو تمہاری زندگی کا آخری دن ہوگا یاد رکھنا ۔
میں تمہیں اس کی منہ مانگی قیمت دونگا جو چاہو گے وہ پاؤ گے لیکن اس کے پاس جانے کی غلطی کبھی مت کرنا ۔ورنہ میں تمہیں وہاں پہنچاؤں گا جہاں دوسری سانس بھی نہیں آئے گی
اگر اپنی زندگی چاہتے ہو تو میری یہ بات یاد رکھنا یہ نہ ہو کہ تم وجہ پوچھتے رہ جاؤ اور سانسوں کی ڈور کٹ جائے ۔
وہ لڑکی صرف میری ہے اور میری ہی رہے گی خبردار جو تم نے اس کے نزدیک جانے کی کوشش کی وہ تمہارے پاس میری امانت ہے ۔جو میں جب چاہوں تم سے آ کر لے لوں گا
وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولے جا رہا تھا جبکہ دوسری طرف وہ خاموشی سے سن رہا تھا اس کے ماتھے کی اور گردن کی رگیں واضح ہوچکی تھی جبکہ ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے شاید وہ اپنے غصے کو کنٹرول کر رہا تھا ۔
آنکھوں کی سرخی کسی کو بھی چیر پھاڑ دینے کی طاقت رکھتی تھی۔اگر یہ شخص اس وقت اس کے سامنے ہوتا تو وہ اسے چیڑ کر رکھ دیتا لیکن وہ بزدل تو صرف فون پر دھمکیاں دے رہا تھا ۔
یہ تمہاری اوقات ہے کہ تم میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ تم میرے سامنے آ کر یہ بکواس کر سکوں مجھے تمہاری باتوں پر ہنسی آرہی ہے کنگ اتنے گرے پڑے ہو تم کے میرے سامنے آنے کی ہمت بھی نہیں کر پائے ۔
تمہاری آواز سن کر تم مجھے ساٹھ سے اوپر کے آدمی لگ رہے ہو بڑے ہی کوئی گھٹیا آدمی ہو۔ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی کے بارے میں سوچتے ہوئے تمہیں شرم تک نہیں آ رہی اور تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ۔اور تمہیں لگتا ہے کہ میں تم سے ڈر جاؤں گا گھٹیا ذلیل شخص اگر ہمت ہے تو میرے سامنے آ کر کے یہ بکواس کر ۔
اگر دوسری سانس لینے کے قابل بچا تو ایام سکندر کا نام بدل دینا ۔لیکن نہیں تو ایک بزدل انسان ہے تجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ تو میرے سامنے آ کر بات کر سکے تو صرف فون پر دھمکیاں دے سکتا ہے ۔
بڈھے تیری اللہ اللہ کرنے کی عمر ہے ٹانگیں تیری قبر میں لٹکی ہیں اور تو مجھے دھمکی دے رہا ہے ایام سکندر کو اپنی جان پر رحم کھا ۔۔۔۔۔۔
اور ایک بات اگر اپنی زندگی چاہتا ہے تو ہیر کاخیال بھی اپنے دماغ سے نکال دے کیونکہ مجھے منظور نہیں کہ میری بیوی کے بارے میں کوئی غیر مرد سوچے بھی اور اس منڈے کو ہمارا ولیمہ ہے اور ولمیے سے پہلے نہ ایک اور رسم پوری کی جاتی ہے بیوی کو خود پر حلال کیا جاتا ہے تبھی تو ستر لوگوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔
اتنا تو پتا ہی ہوگا نا تجھے یا پھر ساری زندگی حرام کاموں میں ہی گزارکر برباد کردی ہے
ہیر کا نام لینے سے پہلے آج کے بعد یہ بات یاد رکھنا کہ وہ مسز ہیر ایام سکندر ہے اورایام سکندر کی بیوی پر نگاہ اٹھا کر دیکھنے والے کی ایام سکندر نسلیں تک ہلا کر رکھ دے گا
°°°°°°°°°
