60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon) Episode 2

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور وہ اندر داخل ہوگیا وہ سر جھکائے بیٹھی اپنے آپ کو اس ماحول کا حصہ بنانے کی کوشش کرنے لگی تھی اس کے چہرے پر گھونگھٹ تھا ۔
جو یہاں سے جانے سے پہلے اس کی ساس اس کے چہرے پر ڈال کر گئی تھی تاکہ اس کا شوہر اس کے حسن کا دیدار کرنے سے پہلے اسے گفٹ میں کچھ تو ضرور دے ۔
اپنی ساس کی باتوں سے اس نے یہ تو محسوس کرہی لیا تھا کہ جہیز نہ لا کر اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔جس کی وجہ سے آگے جا کر بھی کافی کچھ سسنے والی تھی
لیکن اس نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ اس کے چہرے کو لے کر وہ بہت زیادہ خوش ہے بار بار آ کر اس کا ماتھا چومتی اور اس کی بلائیں لیتے ہوئے کہتیں کہ اور کچھ ہو نہ ہو میری بہو حسین تو بہت ہے اس کا بار بار کہناکہ وہ اس گھر میں بےشمار حسن لے کر آئی ہے اسے سر تک نہیں اٹھانے دے رہا تھا۔
اس کی ماں تو اکثر اس کی بلائیں لیتی تھیں اور بھائی نے بھی اسے اس بات کا احساس دلایا تھا کہ وہ بہت حسین ہے لیکن اپنوں کو تو ہر انسان ہی خوبصورت لگتا ہے۔
حالانکہ بھابی نے کبھی اسے اس بات کا احساس نہیں دلایا تھا کہ وہ خوبصورت ہے ۔اس لیے اس نے بھی کبھی اس بات پر کبھی مان نہیں کیا تھا
اور وہ یہی سوچ کر خوش ہوگئی تھی کہ اس کی ساس اس پر کسی چیز کے لئے تو خوش ہے ۔
اور یقینا اس کے شوہر کو بھی اس کا حسن اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو ہی جانے والا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی وہ سعد کے ساتھ اس کمرے میں بالکل تنہا تھی وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کے ساتھ کافی فاصلے پر بیڈ پربیٹھ گیا تھا ۔
یہ چہرے سے پردہ ہٹا دو ہیر پلیز وہ سیریس انداز میں بولا تو ہیر نے بھی زیادہ دیر نہ کی تھی اپنے آپ کو اس کے سامنے لانے کی وہ زمین پر نظر گاڑے پریشانی سے بیٹھا ہوا تھا جبکہ وہ بس اسے دیکھ رہی تھی ۔
کیا ہوا سعد آپ ٹھیک تو ہیں نا اسے کافی خاموشی سے بیھٹے دیکھ کر اس نے پریشانی سے پوچھا تھا وہ بہت پریشان لگ رہا تھا ۔اس کے پوچھنے پر وہ اٹھ کرکھڑا ہوا اور پھر کمرے میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا اس کی پریشانی اس کی سمجھ سے باہر تھی۔
میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا میں تمہیں کس طرح سے یہ بات بتاؤں ہیر وہ پریشانی سے اپنا سر ہاتھوں میں لے کر پھر سے بیٹھ گیا ۔
سعد۔آپ مجھے بتائیں گے تو میں کچھ بول پاؤں گی نہ آپ کو جو بھی پریشانی ہے پلیز مجھ سے شیئر کریں میں آپ کی بیوی ہوں ۔
اس نے خود ہی سعد کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا جب اگلے ہی لمحے سعد اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا جیسے اس نے اپنی بیوی کو نہیں کسی کرنٹ کو چھو لیا ہو ۔
تم پلیز دور رہو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ دور صوفے پر جا بیٹھا تھا جبکہ اس کا یہ انداز ہیر کو بری طرح شرمندہ کر گیا تھا۔
وہ تو بس اس کی پریشانی بانٹنے کے لیے اس کے قریب ہوئی تھی ۔لیکن سعد کا یوں کہنا کہ تم مجھ سے دور رہو اسے سچ میں شرمندہ کر گیا تھا
سعدآپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔؟ہیر پریشانی سے ان سب چیزوں میں اپنا قصور تلاش کرنے لگی تھی
نہیں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔میں بہت بڑی مشکل میں پھنس چکا ہوں ہیر بہت بڑا مسئلہ ہوگیا ہے مجھے میں تمہیں بتا بھی نہیں سکتا کہ کیا ہوا ہے وہ پریشانی سے اپنا سر ہاتھوں میں پکڑے اسے بتا رہا تھا
سعد جب تک مجھے بتائیں گے نہیں مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ آپ کو کیا پروبلم ہوئی ہے کیا آپ کو کچھ فائینشنل مسئلہ ہوگیا ہے دیکھیں میرے پاس زیادہ تو کچھ نہیں ہے لیکن میں بھائی سے بات کرکے آپ کی ۔۔۔۔۔۔۔”
نہیں ہیر مجھے پیسوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر مجھے پیسے چاہیے ہوتے تو میں لالاسے مانگ لیتا ۔مجھے کچھ بھی چاہیے ہو تو میں ان سے کہوں گا انہوں نے خود مجھے کہا ہے کہ وہ میری ہرطرح کی پرابلم کو حل کریں گے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔”
لیکن کیا۔۔۔۔؟ اس کے خاموش ہونے پر وہ پھر سے پوچھنے لگی تھی اس کا دل چاہا کہ وہ اٹھ کر اس کے پاس چلی جائے لیکن وہ نوٹ کر رہی تھی کہ وہ خود اس سے دور بھاگ رہا ہے ۔
وہ اسے کچھ بتانے ہی والا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا ۔
ہیر مجھے بہت ضروری کام ہے میں تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں وہ بس اتنا کہہ کر اپنا موبائل لے کر باہر نکل گیا تھا جبکہ وہ اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی ۔یہ سب کیا تھا وہ سمجھ نہیں پائی ۔لیکن سعد کی پریشانی نے اسے بھی پریشان کر دیا تھا
اسے کیا پریشانی تھی کیا مسئلہ تھا اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن یہ سمجھ چکی تھی کہ ضرور کوئی بہت بڑی بات ہے جس کے لیے وہ اتنا زیادہ پریشان تھا ۔
وہ واپس کمرے میں آیا تو وہ اسی طرح بیڈ پر بیٹھی اس کے واپس آنے کا انتظار کر رہی تھی ۔
مجھے کہیں باہر جانا ہوگا تم ایسا کرو کہ چینج کرکے آرام کرو اور دروازہ اندر سے بند کر دینا ۔اور کسی کو بتانا مت کہ میں کہیں باہر گیا ہوا ہوں
وہ چینج کرنے کے لیے واش روم میں جا چکا تھا واپس آتے ہوئے اسے بتانے لگا جب کہ وہ صرف ہاں میں سر ہلاتے اٹھ گئی تھی
اس کے شوہر کو کیا مسئلہ تھا وہ اتنی رات کو کہاں جا رہا تھا اسے کس کا فون آیا تھا سوال تو بہت تھے اس کےپاس لیکن فی الحال وہ پوچھنے کی ہمت نہیں کر پائی تھی ۔
سعد کے چلے جانے کے بعد اس نے اٹھ کر دروازہ بند کیا اور اپنے کپڑے نکال کر چینج کرنے چلی گئی ۔
اپنے جسم پر یہ سرخ رنگ دیکھ کر آج کتنی نگاہوں میں اس نے لئے رشک دیکھاتھا۔کتنا عجیب احساس تھا یہ وہ سعد کی بیوی بن کر اس گھر میں اس کے کمرے میں آئی تھی لیکن وہ کہیں جا چکا تھا ۔
یہ حقیقت تھی کہ وہ سعد کو لے کر بہت آگے کی نہیں سوچ رہی تھی لیکن پھر بھی ہر لڑکی کی طرح اس کے بھی کچھ ارمان تھے ۔جہیں سعد نے اپنے مسئلے میں اگنور کر دیا تھا
ہیر چینج کرکے واپس آئی تب بھی اس کے دماغ میں بہت سارے سوال گردش کر رہے تھے ۔
°°°°°°°°°
نیند کوسوں دور تھی اسی لیے وہ کھڑکی کے قریب آ کر رک گئی ۔وہ آسمان پر چاند کو ہزاروں ستاروں کے بیج دیکھ کر بے ساختہ مسکرائی تھی ۔
اس سے پہلے وہ کھڑکی سے ہٹتی اس کا دھیان نیچے کی طرف گیا جہاں باہر اسے ایک آدمی باہر لان میں ٹہلتا ہوا نظر آیا اس کے کندھے پر ایک بچہ تھا جسے شاید وہ سلانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اسے تو وہ آدمی پاگل ہی لگا تھا اتنی سردی میں وہ ایک بچے کو باہر لیے گھوم رہا تھا حالانکہ اس نے بچے کو کبمل میں بہت اچھے طریقے سے کور کیا ہوا تھا لیکن وہ خود بالکل بھی کور نہیں تھا
ٹراؤزر کے ساتھ شرٹ پہنے وہ پیروں میں سلیپرز پہنے ہوئے تھا ۔
اور یہ بھی ہیر نے اس وقت نوٹ کیا تھا جب وہ روشنی کی طرف گیا تھا اس کے چہرے کی طرف نہ تو اس کا دھیان گیا تھا اور نہ ہی وہ اسے دیکھنے کے خواہش مند تھی لیکن اسے بچے کو لے کر اسےپریشانی ہو رہی تھی جو بہت برے طریقے سے رو رہا تھا شاید وہ بچے کا باپ تھا ۔
رات کے اس پہر تو بچے کو اپنی ماں کی ضرورت ہوتی ہے شاید شادی میں وہ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں لے کر آیا تھا گھر میں بہت سارے مہمان آئے ہوئے تھے ۔یقیناً وہ بھی شادی پر آیا کوئی مہمان تھا یقیناً سعد کا کوئی رشتہ دار
وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی جب ایک آدمی بھاگتا ہوا اندر آیا اور اسے کچھ کہنے لگا ۔وہ آدمی کون سی چیز لے کر آیا تھا اسے بالکل بھی سمجھ میں نہیں آیا لیکن اس نے وہ اس بچے کو پکڑایا تو بچہ رونا بند کر چکا تھا ۔
تھوڑی دیر کے بعد اس نے اس آدمی کے ساتھ اپنی ساس کو دیکھا تھا جو اسے کچھ کہہ رہی تھیں۔
اس کی ساس نے بچے کو اپنی طرف کرنے کی کوشش کی تو وہ اس آدمی کے کندھے سے چپک گیا ۔
ناکامی پر پیچھے ہوئے اس کی ساس نے اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے تھے جب اس آدمی کی نظر سامنے اس کمرے کی طرف اٹھی اس نے اگلے ہی لمحے خود کو پیچھے کی طرف کر لیا تھا ۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ سعد باہر کسی کو بتا کر گیا ہے باہر جانے کے بارے میں یا نہیں اسی لئے وہ کسی کے سامنے آکر خود پر کسی طرح کا سوال برداشت نہیں کر سکتی تھی اگر اس آدمی نے اسے دیکھ لیا ہوتا تو یہی سوچ رہا ہوتاکہ پہلی رات کی دولہن کھڑکی پر کھڑی کیا کر رہی ہے ۔۔۔۔”
وہ تو اس آدمی کو جانتی تک نہیں تھی۔
اسے تو بس اتنا ہی بتایا تھا کہ اس کی ساس کو ایک بے حد خوبصورت بہو چاہیے تھی جس کی وجہ سے اس نے خاندان کے باہر اپنے بیٹے کے لیے رشتہ ڈھونڈا تھا جب کہ اسے یہ بھی پتا تھا کہ سعد کے بابا صرف دو بھائی تھے وہ بھی آپس میں سوتیلے ان کی ماں نے دو شادیاں کر رکھی تھی ۔
پہلی شادی ان کی کسی گاؤں کے وڈیرے سے ہوئی تھی جو کامیاب نہ ہوسکی لیکن اس میں سے بھی انہیں ایک بیٹا تھا جب کہ دوسری شادی ان کے سعد کے دادا سے ہوئی تھی۔
اور دوسری شادی میں سے بھی ان کا ایک ہی بیٹا تھا جن کی اولاد سعد تھا ۔
پہلے تو کافی عرصہ تک ان دونوں میں کوئی تعلق نہ رہا لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ان دونوں نے آپس میں تعلقات قائم کرلیے تھے ۔
اور سعد کی طرف سے جتنی بھی سسرالی رشتہ دار ان کی طرف آئے تھے وہ سعد کی امی کےرشتے دار تھے ۔
ان خاندانی چکروں نے اسے بری طرح سے گھما کر رکھ دیا تھا اسے فلحال اپنا کوئی سسرالی رشتہ سمجھ میں نہیں آیا تھا لیکن ایک چیز جو اسے سمجھ میں آئی تھی وہ یہ تھی کہ سعد کا کوئی بھائی بہن نہیں ہے اس کی صرف ایک ماں ہے ۔
اس کے بابا تین سال پہلے انتقال کر چکے تھے ۔اور اس کے علاوہ اسے اور کچھ بھی سمجھنے کی ضرورت نہیں تھی یہ اس کی بھابھی کے کہنے تھے ۔
کافی دیر تک کھڑے رہنے کے بعد آخر وہ بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی تھی سعد کا انتظار لاحاصل ہی تھا ۔
شاید اسے واپس نہیں آنا تھا ۔اس کے انتظار کے دوران ہی آزانیں شروع ہو گئی تھی اس نے اٹھ کر وضو کیا اور اپنی شادی شدہ زندگی کی بہتری کے لیے دعا مانگی وہ دعا مانگ رہی تھی کہ اس کے شوہر کو جو بھی پریشانی ہے وہ حل ہو جائے ۔اب تو اس کی دعائیں بھی صرف اس کے محرم کے نام تھی
نماز ادا کرنے کے بعد وہ بیڈ پر آکر بیٹھی جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔
اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سعد پرسرار انداز میں اندر داخل ہوا تھا
تم سوئی نہیں ابھی تک وہ دروازہ بند کرتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا
نہیں میں آپ کے آنے کا انتظار کر رہی تھی آپ کی پریشانی حل ہوئی ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی تو سعد نفی میں سر ہلا تا صوفے پر جا بیٹھا
یہ پریشانی شاید اب جلدی حل نہ ہو سکے گی تم آرام کرو سو جاؤ ولیمہ ہوگا آج ہی تھوڑی دیر نیند لے لو ہمیں تھوڑی دیر میں جگا دیا جائے گا وہ صوفےپر لیٹتے ہوئے بولا
آپ وہاں بے سکون رہیں گے یہاں آجائے اس نے کافی دیر کے بعد کہا تھا پہلے تو وہ کتنی دیر سوچتی رہی کہ اسےایسی کوئی بات کرنی بھی چاہیے یا نہیں
نہیں میں گزرا کر لوں گا تم سو جاؤں گا پھر آنکھ نہیں کھلے گی میں جاگ رہا ہوں تم تھوڑی دیر آرام کر لو ۔نجانے کیوں ایسے لگا سعد جیسے کوئی بہانہ کر رہا ہے ۔اس سے دور رہنے کا ۔
لیکن اس کی ساس کے مطابق تو بے انتہا خوبصورت تھی تو پھر ایسی کونسی وجہ تھی جو سعد کو اس کی طرف قدم بڑھانے سے روک رہی تھی ۔شاید یہ صرف اس کا وہم تھا اور کچھ بھی نہیں
سعد کو واپس روم میں پا کر اب نیند اس پر بھی طاری ہونے لگی تھی کیونکہ سعد کا اس طرح سے آدھی رات کو باہر جانا اسے پریشان کر گیا تھا لیکن اب آہستہ آہستہ ہی سہی لیکن اب وہ اس پریشانی سے باہر نکل آئی تھی لیٹتے ہوئے اس نے سعد کو دیکھا تھا جو چھت کو دیکھتے ہوئے کسی گہری سوچ میں تھا ۔
اسے دیکھتے دیکھتے ہی وہ نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی تھی ۔
°°°°°°
تاتی۔۔۔۔۔۔۔پریتی تاتی اتھو۔۔۔۔۔۔(چاچی ۔۔۔۔پریٹی چاچی اٹھو۔۔۔۔۔)
اس نے اپنے چہرے پر کسی کے ننھے ہاتھوں کا لمس محسوس کیا تھا ۔آنکھیں کھولی تو اس کے سامنے ریڈ فراک میں ایک بہت ہی پیاری سی سرخ پھولےپھولے گالوں والی بچی کھڑی تھی اس کے چہرے پر دنیا جہان کا نور تھا ۔
وہ اتنی پیاری تھی کہ ہیر نے بے ساختہ ہی اسے اپنی باہوں میں بھر لیا تھا اس سے پہلے اس نے اس بچی کو کہیں نہیں دیکھا تھا ۔
لیکن اسے سمجھ نہ آیا یہ بچی کون ہے اور کہاں سے آئی ہے
دروازے کی طرف دیکھا تو دروازہ کھلا ہوا تھا یعنی کہ سعد کمرے سے باہر جا چکا تھا ۔
روحی۔۔۔۔۔۔۔بیٹا کہاں چلی گئی تم میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا تھا۔وہ بچی سے بات کر رہی تھی کہ خوبرو نوجوان تیزی سے اس کے کمرے میں داخل ہوا اور اس بچی کو اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا
بابادانی۔۔۔۔تاتی ۔۔۔پریتی تاتی۔۔۔۔۔(بابا جانی۔۔۔۔۔۔ چاچی پریٹی ۔۔۔۔۔چاچی )
وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہیر کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
ایم سوری میں معذرت خواہ ہوں ریلی سوری ۔۔۔ وہ آدمی اس کی طرف نگاہ اٹھائے بنا بس اتنا کہہ کر اپنی بچی لے کر کمرے سے باہر نکل چکا تھا جب کہ وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتی رہی ۔
وہ یقین سے کہہ سکتی تھی کہ یہ وہی آدمی ہے جو رات کو وہاں باہر اپنے بچے کو کندھے پر آٹھائے گھوم رہا تھا شاید وہ بچہ نہیں بچی تھی۔
رات کو تو وہ اسے نہیں دیکھ پائی تھی لیکن اس وقت اپنے اتنے قریب کھڑے اس خوبرو نوجوان کو دیکھ چکی تھی ۔جس کی عمر 28 کے قریب تو یقینًا تھی ۔گھنی مونچھیں عنابی لب ۔وہ شکل سے ہی کسی ریاست کا شہزادہ لگتا تھا ۔
لیکن وہ اس طرح کسی شہزادے کو اپنے کمرے میں آنے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی اس نے جلدی سے اٹھ کر دروازے کو اندر سے بند کر دیا تھا ۔اسےسعد کی لاپرواہی پر بہت غصہ آ رہا تھا کیساآدمی تھا اپنی ایک رات کی دلہن کو یوں کمرے میں چھوڑ کر باہر نکل گیا اور جاتے جاتے دروازہ کھلا رہنے دیا ۔
وہ اپنے غصے پر قابو کرتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی تھی جب اچانک اس کا پیر مڑگیا
اچانک لڑکھڑا کر وہ گری تھی جب کسی کی مضبوط آہنی باہوں نے اس کے گرد حصار کھینچ لیا ۔
اچانک ہونے والی اس افتاد پر ہیر کی سانسیں مشتعل ہوگئی ۔کسی کی انگلیوں کے لمس کی حدت اپنی کمر پر محسوس کرتےاسے گھبراہٹ نے آ لیا تھا۔وہ سر اٹھا کر دیکھنے کی ہمت خود میں نہیں کر پائی تھی لیکن اپنے بے حد قریب سےآتی مردانہ پرفیوم کی خوشبو نےاس کے حواسوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا ۔اس کی دھڑکنوں میں اشتعال برپا ہو گیا تھا جبکہ اسے سنبھالے کھڑا شخص بھی شاید اسی طرح کی کسی کیفیت میں تھا
ایم سوری میں دوبارہ آپ کو زحمت دے رہا ہوں میری بیٹی کا جوتا آپ کے کمرے میں رہ گئے ۔
وہاں پڑا ہے ۔۔۔ابھی سمجھ نہیں ہے اسے تو اتار کر ہاتھ میں رکھ لیتی ہے اور پھر کہیں بھی پھینک دیتی ہے ۔
آپ کے پاس یہاں بیٹھی تھی اسی لیے شاید وہ خود ہی کمرے میں بےججک داخل ہوتے ہوئے اپنی بیٹی کا جوتا اٹھا کر اسے بتانے لگا تھا ۔
اب آپ کو میری طرف سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی وہ چھوٹا سا جوتا اٹھا کر باہر نکل گیا تھا جب کہ وہ کتنی ہی دیر اس شخص کی پیٹھ کو گھورتی رہی ۔
اس سے پہلے کہ دروازہ بند کرتی کچھ لڑکیاں اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھیں اس کے ساتھ ہی ایک پالروالی بھی تھی جو یقینا اسے تیار کرنے آئی تھی ۔
تھوڑی دیر میں ہی ولیمہ شروع ہو جائے گا آپ کی ساس نے ہمہیں بھیجا ہے آپ کو تیار کرنے کے لئے وہ سامان رکھتے ہوئے اسے بتانے لگی تھیں جب کہ وہ خاموشی سے سر ہاں میں ہلاتی ان لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ بنا چکی تھی ۔
آپ تو ماشاءاللّه سے اتنی خوبصورت ہیں کہ آپ کو کسی میک اپ وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں آپ کی ساس اتنی تعریف کر رہی تھیں۔ آپ کی ۔لیکن پھر بھی آپ کو اس تقریب کے لئے تو دلہن بننا ہی ہوگا
اور دلہن بننے کے لئے آپ کو اس ہار سنگھار کی ضرورت ہے وہ اسے کرسی پر بٹھاتے ہوئے اس کے حسن میں قصیدے پڑھنے لگیں تھیں جب کہ وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی اسے اس کا کام کرنے دے رہی تھی ۔سچ تھا اگر سعد نےہی اس کی حسن کو تعریف کے قابل نہ جانا تھا تو کسی اور کے لفظوں سے کیا فرق پڑتا تھا