Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junoon) Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junoon) Episode 15
ہیر وہاں سے سیدھا اپنے کمرے میں آئی تھی اور آتے ہی اس نے سعد کو کال ملانا شروع کر دی مسلسل رنگ جارہی تھی لیکن سعد نے دوسری طرف سے فون نہیں اٹھایا
لیکن آج ہمت اس نے بھی نہیں ہاری تھی وہ مسلسل بنا رکے اسے فون کرتی رہی بار بار کال جانے کے بعد اس دفعہ فون ہی بند ہوگیا تھا اسےسعد کی لاپروائی پر بہت غصہ آیا تھا ۔
سعد ایسا کیسے کر سکتا تھا وہ اس کی ذمہ داری تھی وہ اس طرح سے اس سے جان نہیں چھڑا سکتا تھا یہاں وہ اس کا بھائی جسے نہ جانے وہ کیا کیا سمجھتا تھا وہ اس کی بیوی پر اتنی گندی نظر رکھے ہوئے تھا ۔اور وہ۔وہاں بےفکر ہو کراپنا کام کررہا تھا۔
ایام اس کے ساتھ اتنی فضول اور گھٹیا باتیں کر رہا تھا اور وہاں سعد بالکل بے فکر ہو گیا تھا ۔اس کا اپنے بھائی پر یہ اندھا اعتماد کتنا غلط تھا یہ وہ اسے بتانا چاہتی تھی
کہ جس انسان کو سعد فرشتہ بنائے بیٹھا ہے وہ اصل میں کوئی فرشتہ نہیں بلکہ ایک انتہائی گھٹیا انسان ہے جس کی گندی نظر اسی کے بھائی کی بیوی پر ہے ۔
مانا کے اس کا سگا بھائی نہیں تھا لیکن سعد کے مطابق تو ایام اس کے سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر تھا ۔ایام کو شرم آنی چاہیے تھی ایسی گھٹیا اور گری ہوئی بات کرتے ہوئے لیکن شرم تو کیااس کے چہرے پر یہ بات کرتے ہوئے اتنا اطمینان تھا جیسے وہ کوئی بہت نیک کام کرنے جا رہا ہو۔
سعد فون اٹھائے یا نہ اٹھائے لیکن اس شخص کی گھٹیا باتیں سننے کے بعد اور اس کی نیت کے بارے میں جاننے کے بعد ہیراس کے گھر میں تو ہرگز نہیں رہ سکتی تھی ۔۔
سعد کی طرف سے ناامید ہونے کے بعد اس نے اپنی ساس کو فون کرنا شروع کر دیا تھا ۔دو تین دفعہ فون کرنے کے بعد جب انہوں نے فون نہیں اٹھایا تو ہیر نے بیٹھ کر رونا شروع کر دیا ۔اس وقت اسے اور کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا
وہ کہاں پھنس چکی تھی کہاں جاتی وہ اس وقت ایک اس کا محرم اس سے اتنا دور تھا اور جس کے بھروسے وہ یہاں پر آئی وہ ساس بھی اس کے پاس نہیں تھیں۔
یہ انجان شخص نہ جانے اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا ۔اس کی نیت کب سے اس پر خراب تھی یہ تو وہ نہیں جانتی تھی لیکن سب جاننے کے بعد اس کا یہاں رہنا بالکل ناممکن سا ہو گیا تھا نہ جانے کب تک وہیں بیٹھے روتی رہتی جب اس کا فون بجا ۔
اس نے فون اٹھا کر دیکھا تو امی جان کا فون آرہا تھا اس نے فورا ہی کال اٹینڈ کر لی تھی اس کا ارادہ انہیں سب کچھ بتانے کا تھا کہ جس شخص کا بھروسہ کرکے وہ اسے یہاں چھوڑ کر گئیں ہیں وہ انسان کتنا گھٹیا ہے وہ اس کے بارے میں کیسی گندی سوچ رکھتا ہے ۔
اور وہ اسے یہ تک کہہ گیا تھا کہ اگر سعد کو واپس نہ آنے دے تو وہ کیا کر لے گی ۔۔۔؟
مطلب وہ پتا نہیں اس کے بارے میں کیا کیا سوچے ہوئے تھا ۔اس لیے کال اٹینڈ کرتے ہوئے ہی اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ انہیں اپنے پاس بلانے کے لئے کہے گی
°°°°°°°
السلام علیکم امی جان شکر ہے آپ نے مجھے فون کر دیا میں آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔میں آپ کو ایام کےبارے میں بتانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا تھا جب اسےدوسری طرف سے سسکیوں کی آواز سنائی دی تو وہ پریشان ہو گئی تھی ۔
وعلیکم السلام بیٹا سعد کے ماموں نہیں رہے تھوڑی دیر پہلے ان کی وفات ہوگئی ہےڈاکٹر نے بہت کوشش کی لیکن وہ بچ نہیں سکے ۔ امی جان نے روتے ہوئے اسے بتایا تھا جبکہ وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہی ۔
امی جان آپ ٹھیک تو ہیں نا دیکھیں پلیز مت روئیں میں آپ کا دکھ سمجھ سکتی ہوں یہ وقت آپ کے لیے بہت مشکل ہے لیکن آپ کو صبر سے کام لینا ہوگا ۔آپ کے لئے ہی نہیں بلکہ ماموں کے گھر والوں کے لیے بہت مشکل وقت ہے اگر آپ صبر سے کام نہیں لیں گے تو ان سب کا کیاہوگا
پلیز آپ حوصلہ رکھیں امی کی روتی ہوئی آواز اس کی آنکھوں میں بھی آنسو لے آئی تھی وہ تو انہیں اپنے مسئلےبتانے جا رہی تھی لیکن دوسری طرف وہ تو اپنا بھائی ہی کھو بیٹھی تھیں
وہ انہیں کچھ بھی بتا ہی نہیں سکتی تھی اس حال میں اگر وہ ان سے کچھ کہتی تو نہ جانے وہ کیا سوچتیں ۔
یہ وقت انہیں دلاسہ دینے کا تھا انہیں سہارا دینے کا تھا انہیں یہ بتانے کا تھا۔ کہ کوئی تو ہے ان کے پاس ان کے دکھ میں برابر کا شریک اور اس بات میں کوئی جھوٹ نہیں تھا ۔
اسے یہ جان کر سچ میں بہت افسوس ہو رہا تھا کہ امی جان کا بھائی ان کے پاس نہیں رہا اس کا بھائی دنیا میں ہوتے ہوئے بھی اس کے پاس نہیں تھا لیکن وہ تو اپنے حلقے خدا سے جا ملے تھے ۔
یہ وقت بالکل بھی صحیح نہیں تھا انہیں ایام کے بارے میں بتانے کے لیے ۔اس وقت وہ اپنے بھائی کے غم میں چور تھیں۔ ان کے لئے یہی پریشانی کافی تھی اگر وہ انہیں ایام کے بارے میں کچھ بھی بتاتی تو نہ جانے ان کا کیا حال ہوتا وہ انہیں بنا کسی بھی پریشانی میں ڈالے انہیں حوصلہ دیتی رہی ۔
اسے یقین تھا کہ امی جان جلد ہی واپس آ جائیں گیں۔اور ان کے آتے ہی وہ انہیں سب کچھ بتا دے گی یہاں رہنے کا تو اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور ہو سکتا تھا کہ سعد اپنے ماموں کی آخری رسومات کے لئے واپس آئے اگر وہ واپس آگیا
تو وہ اسےسب کچھ بتا دے گی اب مزید ان سب چیزوں کو برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔تانیہ کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ اس نے امی جان کو دلاسہ دیتے ہوئے فون بند کیا تھا ۔
°°°°°°°°
میں جانتی ہوں تم بہت دکھ میں ہو تمہارے شوہر کے ماموں تھے ظاہری سے بات ہے وہ تمہارے لیے بھی بہت خاص مقام رکھتے تھے ہیر مجھے ان کا بہت افسوس ہے سر ایام کو تو جیسے ہی خبر ملی وہ فورا وہاں کےلیے نکل گئے ۔
تھوڑی دیر پہلے میرے خیال میں تمہارے شوہر نے ہی فون کرکے انہیں بتایا تھا وہ اس کے پاس بیٹھی اسے بتا رہی تھی جبکہ اسے افسوس ہو رہا تھا وہ نہ جانے کب سے سعد کو فون کرکے ہلکان ہو رہی تھی اور وہ اسے جواب دینے کے بجائے ایام کو فون کرکے بتا رہا تھا کہ اس کے ماموں کی وفات ہوچکی ہے ۔
کتنا غیر ذمہ دار شخص تھا یہ کہ وہ اس کی ذمہ داری تھی وہ جو اس کے نام پر بیٹھی تھی اسے اپنی بیوی۔کی فکر نہیں تھی اور وہ انجان شخص جو اس کی بیوی پر نظر رکھے ہوئے تھا اسے سب کچھ بتا رہا تھا لیکن وہ انجان تو اس کے لیے تھا اس کے شوہر کی خاطر تو وہ اس کا سب سے بڑا ہم درد تھا ۔
وہ گئے تو مجھے اپنے ساتھ لے کر کیوں نہیں گئے یا مجھے بتایا کیوں نہیں کہ وہاں جانے والے ہیں مجھے بھی تو جانا تھا وہ میرے سسرال کے اہم فرد تھے اس وقت میری ساس کو میری ضرورت ہے اور وہ مجھے یہاں چھوڑ کر چلے گئے کیا ان کا فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ مجھے یہ سب کچھ بتائیں ۔
انہیں سب کچھ پتہ چل ہی گیا تھا تو مجھے بھی بتانا چاہیے تھا اگر اتفاق سے مجھے امی کا فون نہیں آتا تو شاید مجھے تو یہ بات کل صبح پتا چلتی ۔اسے بہت غصہ آرہا تھا ایام پر ۔خالانکہ وہ اس پر غصہ کرنے کا کسی طرح کا کوئی حق نہیں رکھتی تھی ۔
شایدوہ تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتے ہوں گے مجھے تو یہی لگتا تھا کہ تم سوچکی ہو گی ابھی میں کمرے میں آئی تو تمہیں جاگتے ہوئے پا کر یہاں آ گئی تمہیں بتانے کے لئے ۔
یہ تو زندگی کا حصہ ہے یہ سب کچھ تو لگا ہی رہتا ہے میں جانتی ہوں اس وقت تم بہت پریشان ہو
سر کہہ رہے تھے کہ جنازہ ہوتے ہی وہ واپس آ جائیں گے میرے خیال میں کل صبح ہی جنازہ کر دیا جائے گا اور سر کی واپسی ہوگی ان کی غیر موجودگی میں ہمیں روحی کا خیال رکھنا ہوگا میں اس کو لے کر آتی ہوں وہ کمرے میں اکیلی سو رہی ہے ۔
سر نے مجھے منع کر رکھا ہے روحی کو بلکل بھی اکیلے نہیں چھوڑنا ہے
تو تم جانتی ہو وہ سر اس کے معاملے میں کتنے زیادہ پرزیسوز ہیں۔میں اسے لے کر آتی ہوں تم بھی سونے کی تیاری کرو ۔ابھی تو نہیں لیکن شاید صبح اسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا ۔
کیونکہ وہ صبح اپنے باپ کا چہرہ دیکھے بنا آنکھیں نہیں کھولتی ۔وہ اسے مسکرا کر بتاتے باہر چلی گئی تھی جبکہ ہیر بیڈ پر لیٹی تانیہ کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگی
°°°°°°°°°
لوحی تے بابا دانی تدھر ہے(روحی کے باباجانی کدھر ہیں) وہ فریش ہو کر باہر نکلی تو اسے آواز سنائی دی شاید وہ خود کو ابھی تک اپنے کمرے میں ہی تصور کر رہی تھی اس کے انداز پر مسکرا کر اس کے پاس آگئی تھی ۔
آپ کے بابا جانی تو نہیں ہیں لیکن یہاں آپ کی دوست ہے جسے آپ آنکھیں کھول کر دیکھ سکتی ہو اسے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے دیکھ کروہ اس کے پاس ہی بیٹھی اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھوں رکھ چکی تھی ۔
نی لوحی اپنے بابا دانی تو دیکھ کل انکیں کھولی ہے ماما دانی تو نی(نہیں روحی اپنے بابا جانی کو دیکھ کر آنکھیں کھولتی ہے ماما جانی کو نہیں۔)
وہ معصومیت سے بولی تھی لیکن اس کا اپنے آپ کو ماما جانی کہہ کر بلانا اسے بہت عجیب لگا تھا شاید یہ کل رات کی باتوں کا ہی اثر تھا ۔
روحی آپ ایسے نہیں بول سکتی میں آپ کی چاچی ہوں اور آپ مجھے چاچی ہی کہ کر بلایا کرو آپ کے بابا نے ۔۔۔۔۔۔
میلے بابادانی نے بولا اے وہ اپ تو میلی ماما دانی بنا دے دے(میرے بابا جانی نے بولا ہے کہ وہ آپ کو میری ماما جانی بنا دیں گے)
تو اش حشاب سے آپ میلی ماما دانی ہوئی نہ ( تو اس حساب سے آپ میری ماما جانی ہوئی نہ )وہ آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے اسے دیکھتے ہوئے بولی وہ اپنی بات سے پلٹنے کو تیار نہیں تھی جبکہ ہیرکو ایام پر۔غصہ آرہا تھا۔ اس معصوم سی بچی کے ذہن میں اس کے باپ نے کیا ڈال دیا تھا ۔
نہیں میں آپ کی ماما جانی نہیں ہوں اور میں نہیں جانتی کہ آپ کی ماما جانی کہاں ہے میں آپ کی چاچی ہوں اور آپ مجھے چاچی ہی کہہ کر بلایا کرو آپ کے بابا جان نےآپ سے جھوٹ بولا ہے ۔اس نےاپنا غصہ دبانے کی کوشش کی تھی ۔
نی جوت تو دندے لود بولتے ہیں اور میلے بابا دانی بت اتھے ہیں
وہ تبھی جوت نی بولتے (نہیں جھوٹ تو صرف گندے لوگ بولتے ہیں اور میرے بابا جان بہت اچھے ہیں وہ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے )
روحی کو اس کی بات بالکل اچھی نہ لگی تھی تب بھی وہ روٹھےانداز میں بولی کوئی اس کے باپ کو کچھ کہہ دے اور خاموشی سے سنتی رہے۔ ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا اس کے انداز پر ایک لمحے کے لیے تو ہیر بھی پریشان ہوگئی ۔
ارے بابا میں یہ تھوڑی نہ کہہ رہی ہوں کے آپ کے بابا جانی نے جھوٹ بولا ہے میں توکہہ رہی ہوں۔کہ آپ کے بابا جانی کو غلط فہمی ہوئی ہے اور کچھ بھی نہیں اور آپ مجھے چاچی ہی کہہ کر بلایا کرو وہ اسے اٹھا کر روم میں لے جانے لگی تھی ۔لیکن روحی کا موڈ آف ہو گیا تھا وہ خاموش ہو گئی تھی۔
آج شاید وہ اپنے اور ہیر کے رشتے کو لے کر کنفیوز ہو گئی تھی اسے ہیرچاہیے تھی اپنی ماما جانی کے روپ میں یہ بات اس نے اس کی شدت سے بھرپور انداز سے سمجھی تھی لیکن وہ اسے کسی خوش فہمی میں نہیں رہنے دے سکتی تھی ۔
جو رشتہ کبھی بن ہی نہیں سکتا تھا اس رشتے کے لئے غلط بیانی کرنا ایک انتہائی بری بات تھی اور ایام کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اپنی گھٹیا اور غلیظ سوچ کو اس نے اپنی بیٹی کے اندر انڈیل دیا تھا جو اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی
°°°′°°°
روحی بیٹا پلیز رونا بند کر دو آپ کے بابا تھوڑی دیر میں آ جائیں گے ۔روحی نےتھوڑی دیر کے بعد ہی رونا شروع کر دیا تھا وہ اپنے باپ کے بنا اپنی کوئی صبح نہیں کرتی تھی ۔
ویسے تو تھوڑی دیر پہلے اس کی ایام سے بات ہوگئی تھی ویڈیو کال پر اس نے اس سے بات کی تھی اور روحی نے اسے کچھ بتایا تھا ۔فون بند ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی اس نے رونا شروع کر دیا وہ آج ہیرکے پاس بھی نہیں جا رہی تھی
تانیہ اور ہیر کے ساتھ ساتھ سارے ملازم الرٹ ہوئے اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ ایام کے علاوہ اور کسی سے سنبھلتی ہی کہاں تھی۔
جنازہ 11 بجے کے قریب تھا تو یقین ہو چکا تھا اب تک ایام نکل چکا ہوگا لیکن تب تک روحی کو کون سنبھالتا وہ بہت زیادہ رو رہی تھی ۔
ملازموں کے مطابق ایام اپنی بیٹی کو اکیلا چھوڑ کر کہیں نہیں جاتا تھا صبح وہ اس سے مل کر جاتا تھا اوردن میں دو یا تین مرتبہ فون پر اس سے بات کرکے اس کی خیریت جانتا تھا ۔
اور خود اس سے بات بھی کرتا تھا لیکن آج ایسا نہ ہو سکا تھا تانیہ نے کہا تھا کہ راستے میں سروس کا کوئی مسئلہ ہے شاید اسی لیے سر نے ابھی تک فون نہیں کیا ۔لیکن پھر بھی صبح بات ہوئی تھی ایام۔کی روحی سے
روحی جو ہر وقت کھیلتی کودتی رہتی تھی آج اسے اپنے باپ کے لیے اس طرح سے روتے دیکھ کر اسے بہت برا لگ رہا تھا وہ اس معصوم بچی کو کیسے سنبھالے اسےسمجھ ہی نہیں آ رہا تھا ۔
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے دائیں بائیں گھوم رہی تھی روحی نے کچھ بھی کھانے سے انکار کر دیا تھا اس نے دورھ تک نا پیا ۔آج تک اس نے کسی کا اتنی شدت سے آنے کا انتظار نہ کیا تھا جتنا وہ آج ایام کے آنے کا انتظار کر رہی تھی ۔
بس وہ شخص ایک بار گھر واپس آ جائے اسے اور کچھ نہیں چاہئے تھا روحی کے آنسو اسے برداشت نہیں ہو رہے تھے ۔
°°°°°°
اس نے روحی کو چپ کروانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن وہ اس کی بات ماننے کو تیار نہ تھی وہ اسے سلانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی لیکن وہ اس کی کسی بات کو نہیں سننا چاہتی تھی۔اس کے رونے کی وجہ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی جب اچانک گاڑی آکر رکی ۔
یقینا وہ واپس آ چکا تھا ہیر روحی کو اٹھائے تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی جب کہ وہ بھی جلدی جلدی اندر داخل ہو رہا تھا ۔
اسے دیکھتے ہی روحی اس کے پاس جانے کو مچل اٹھی۔ جب کہ وہ بھی تیزی سے اس کی طرف آتا اسے اپنی باہوں میں اٹھائے اپنے ساتھ لگا چکا تھا ۔
میرا بچہ میری جان اتنا رورہا تھا ۔کیا ہوگیا اتنے موٹے موٹے آنسو میری پرنسز کی آنکھوں میں وہ اس کی دونوں آنکھوں کو چوم کر اپنے ساتھ لگائے ہوئے تھا جبکہ روحی کو چپ دیکھ کر وہ پرسکون ہو گئی تھی ۔
لیکن شاید دوسرا انسان پر سکون نہیں تھا وہ اسے گھورتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا سب نوکر جو اپنی شامت کا انتظار کر رہے تھے خود کی بجائے اسے ہیر کی جانب غصے سے دیکھتے پریشان ہوئے ۔
تم سے ایک چھوٹی سی بچی نہیں سنبھلتی ۔۔۔۔۔۔”
کتنی بے وقوف ہو تم چھوٹی بچی ہو کیا جو تمہیں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ جب بچہ روتا ہے تو کیا کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔”
مسلسل کال کر رہا ہوں تمہیں فون کہاں ہے تمہارا کچھ ہوش ہے تمہیں اس طرح سے تم بنو گی اس کی ماں اس طرح سے اس کا خیال رکھوگی ۔۔۔۔۔۔؟
دیکھو ہیر پیار محبت سب اپنی جگہ لیکن اپنی بیٹی کے معاملے میں کسی طرح کا کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا ۔۔۔۔”
میں اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتا ہوں اس کے آنسو میں برداشت نہیں کر سکتا اور خبردار جو آج کے بعد تم نے میری بیٹی کے سامنے کوئی بھی الٹی سیدھی بات کی میری بیٹی کی آنکھوں میں آنسو تمہاری وجہ سے ہیں
کیا کہا تھا تم نے اسے صبح بیڈ پر۔۔۔۔۔؟کہ تم اس کی ماں نہیں ہو ۔؟وہ غصے سے گھورتے ہوئے بولا جبکہ اس کے سوال پر وہ بوکھلا کر اسے دیکھنے لگی
تم اس کی ماں ہو اور یہ بات میں نے اسے بتائی ہے اس کا باپ کبھی جھوٹ نہیں بولتا ۔
میری بیٹی کے دماغ میں کچھ بھی الٹا سیدھا ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے
۔تم اپنے آپ کو تیار کر لو تمہارے لیے بہتر ہو گا اس دماغ میں یہ بات بہت اچھے طریقے سے ڈالو کہ تم اس کی ماں ہو اور تمہیں اس کی ماں بن کر ہی اس کا خیال رکھنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔”
آج کے بعد اگر تم نے میری بیٹی کے سامنے کوئی بھی بکواس کی نا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آنے سے پہلے تمہارے جسم سے روح نکلے گی ۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔؟وہ بڑی مشکل سے کچھ بولنے کے قابل ہوئی
سب کچھ پتہ ہے تمہیں بار بار دہراؤں گا نہیں محبت ہو گئی ہے تم سے ۔بہت جلد سعد کا قصہ ختم کرکے تمہیں اپنی دلہن بناؤں گا اپنے دماغ سے الٹے سیدھے خرافات نکال دو میری ہونے والی بیوی ہو تم ۔
اسے سنبھالو اس کا خیال رکھو ۔کیوں کے میں اپنی زندگی کا فیصلہ کر چکا ہوں اور تمہاری زندگی کا بھی ۔
اپنے آپ کو میرے لیے تیار کرلو تم پر تمہاری روح پر صرف میرا حق ہے ۔
مامادانی دندی۔۔۔۔۔(ماما جانی گندی )روحی سوں سوں کرتے اس کے ساتھ لگی بولی تھی
نہیں میری جان وہ گندی نہیں ہے بس ابھی اس کو پتہ نہیں ہے ۔ہم بتا دیں گے نہ اسے سب کچھ وہ اسے اپنے ساتھ لگاۓ اندر لےگیا۔جبکہ ہیر کو اب سمجھ میں آیا تھا کہ روحی کیوں رو رہی تھی۔
