60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon) Episode 12

سر ہمیں کسی بھی طرح اس لڑکی کو اس حویلی سے باہر نکالنا ہوگا اس حویلی کی سکیورٹی کافی زیادہ ٹائٹ ہے جب تک وہ لڑکی خود باہر نہیں نکلتی تب تک ہم لوگ حملہ نہیں کر سکتے ۔

یہ ہمارے لئے بہت مشکل ہو گیا ہے وہ آدمی کافی زیادہ پاور میں ہے۔اس کا تعلق بہت پاور فل سیاسی پارٹی سے ہے۔ وہ اتنی آسانی سے اپنے گھر آئے مہمان کو خطرے میں نہیں آنے دے گا ۔

مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ایام سکندر کے ساتھ اس لڑکی کی رشتہ داری کیا ہے وہ کیوں اسے بچا رہا ہے ۔۔۔۔۔؟

وہ ہمارے راستے میں آ گیا اور پاگلوں کی طرح مجھے مارنے لگا سر اس نے تو میری حالت خراب کر دی تھی اتنے زور کے مکے تو مجھے پولیس والوں نے نہیں مارے جتنی زور سے اس نے مجھے مارا ہے ۔اگر وہ پولیس والے اسے نہ پکڑتے تو وہ مجھے جان سے مار ڈالتا

ہمیں اس لڑکی کو آپ تک پہنچانے کے لیے سب سے پہلے اس گھر سے نکالنا ہوگا جب تک وہ ایام سکندر کے گھر سے نہیں نکلتی ہم کچھ بھی نہیں کر پائیں گے ۔

تو وہ اس گھر سے کیسے نکلے گی اس لڑکی کے ساتھ اس کا کوئی رشتہ نہیں ہے یہ لڑکی کسی سعد نامی آدمی کے نکاح میں ہے ۔وہ سعد کی بیوی ہے

ایام سکندر کے ساتھ اس کا کوئی بھی تعلق ہونا ممکن ہی نہیں ہے اس لڑکی کا تعلق سیدھے سیدھے سعد نامی بندے سے ہے اور یہی لڑکی اس آدمی کی کمزوری ہے ۔

اس آدمی کی کمزوری کو استعمال کرنے کے لئے ہمیں وہ لڑکی چاہیے ہر قیمت پر تم لوگ کس طرح سے اسے یہاں لے کر آتے ہو یہ تم لوگوں کی ذمہ داری ہے لیکن وہ لڑکی مجھے کسی بھی قیمت پر چاہیے ۔اس کا باس غصے سے بولا

سر وہ لڑکی تب ہمارے ہاتھ آئے گی جب اس گھر سے نکلے گی وہ حویلی سے نکل ہی نہیں رہی ہم چوبیس گھنٹے اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن کسی بھی طریقے سے ہم اس گھر کے اندر نہیں گھس پا رہے ۔

کیوں کہ سیکورٹی بہت زیادہ ٹائٹ ہے کوئی راستہ نہیں ہے ایام سکندر کےگھر کے اندر جانے کا حویلی پوری طرح سے محفوظ ہے چاروں طرف گارڈر کھڑے ہیں ۔وہ بھی 24 گھنٹے کی سروس پر

ہمیں کوئی راستہ نہیں مل رہا جس سے ہم اندر جا سکیں سربس ایک بار وہ لڑکی نظر آ گئی تو ہم کسی بھی طریقے سے اسے آپ تک لے آنے میں کامیاب ہو جائیں گے بس وہ ایک بار اس گھر سے باہر نکل آئے ۔

کوئی تو طریقہ ہو گا ہی نا اسے اس گھر سے نکالنے گا کچھ بھی کرو لیکن اسے یہاں لے کر آؤوہ لڑکی ہمارے دشمن کی کمزوری ہے اور دشمن کی کمزوری کو استعمال کرکے ہی ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو پائیں گے اس کا انداز انہیں بہت کچھ جتلا گیا تھا

°°°°°°

ہائے اللہ مرگئی امی فون کان سے لگاۓ اپنی بھابھی کے کال آنے پر خوش ہو رہی تھیں۔جب ان کے بیٹے نے بتایا کہ کل رات سے ان کا بھائی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہے حالت بہت نازک ہے ۔

ڈاکٹر نے امید چھوڑ دی ہے۔ آخری بار آ کر اپنے بھائی کی طرف سے ملنے والی خبر سے ان کی حالت ہی خراب ہونے لگی تھی اتنی بری خبر سن کروہ دل تھام چکی تھیں۔ ان کا ایک ہی بھائی تھا جس کے بارے میں یہ خبر سن کر بہت تکلیف میں تھیں

اللہ پاک میرے بھائی کو زندگی دے اسے کچھ بھی نہ ہو وہ بہت زیادہ روتے ہوئے بول رہی تھیں۔جب ہیر آ کر ان کے پاس آ کر بیٹھی اور انہیں سہارا دینے لگی

ہاں ہاں بھابھی میں آ جاؤں گی آپ فکر نہ کریں میں وقت پر پہنچنے کی کوشش کروں گی میں ایسا کروں گی کہ آج رات ہی یہاں سے نکل جاؤں گی اللہ پاک میرے بھائی کو لمبی زندگی دے

اس پر آئی ہر مصیبت کو ٹال دے وہ اپنے بھائی کے لیے ڈھیروں دعائیں مانگتے ہوئے فون پر کہہ رہی تھیں جبکہ ہیر ان کے پاس ہی بیٹھی ان کے کچھ کہنے کی منتظر تھی فون بند کرتے ہوئے وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئی تھی ۔

ہیر رات کو سعد کے ماموں کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ ہسپتال میں داخل ہیں ڈاکٹر نے کوئی اچھی امید نہیں دی اللہ پاک میرے بھائی کو زندگی دے اسے کچھ بھی نہ ہو مجھے اس سے ملنے جانا ہو گا ۔

جی جی امی آپ ضرور جائیں ہم چلیں گے میں ابھی اپنا سامان تیار کرتی ہوں آپ پلیزگھبرائیے نہیں انہیں کچھ نہیں ہو گا اللہ پاک ان کی زندگی میں برکت ڈالے ان کے لئے آسانیاں پیدا کرے وہ اپنی طرف سے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہہ رہی تھی لیکن وه اس کے ساتھ جانے کا سن کر اور بھی زیادہ پریشان ہو گئی تھیں ۔

نہیں نہیں تو نہیں جائے گی میں اکیلے جاؤں گی ہیر تیرا یہاں سے نکلنا ٹھیک نہیں ہے تو اس چار دیواری کے اندر محفوظ ہے تو یہیں پر رہے گی جب تک سعد واپس پاکستان نہیں آ جاتا تو یہاں سے کہیں نہیں جائے گی اور میں بھی زیادہ دن نہیں رہوں گی اللہ پاک خیریت کرے میرے بھائی کے ٹھیک ہوتے ہی میں واپس آ جاؤں گی میری جان تو یہیں پر رک

وہ اسے بے حد پیار سے سمجھا رہی تھیں

لیکن اپنی کی زندگی کی خاطر وہ اتنے مشکل وقت میں اپنی ساس کا ساتھ چھوڑ نہیں سکتی تھی

نہیں امی وہاں آپ کو میری ضرورت ہوگی میں ہرگز آپ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی مجھے آپ کے ساتھ آنا ہوگا وہ انہیں سمجھاتے ہوئے بول رہی تھی ۔

نہیں نہیں میں اپنا خیال رکھ لوں گی تو یہاں اپنا خیال رکھ تو یہاں پر محفوظ ہے میں تجھے کسی خطرے میں نہیں ڈال سکتی میری جان سمجھنے کی کوشش کر اس چار دیواری کے اندر تو محفوظ ہے یہاں ہزار طرح کے گارڈ تھے تیری رکھوالی کے لیے وہاں میں بوڑھی جان تجھے کیا سنبھالوں گی اگر پھر سے کسی نے تجھ پر حملہ کر دیا تو ۔۔۔۔۔؟

ماشاءاللہ سے تو بہت خوبصورت ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ جو تجھے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی ہے دوبارہ کی جائے ۔

کیا تو نے خبروں میں کبھی نہیں سنا کہ کس طرح خوبصورت لڑکیوں کو اغوا کر کے دوسرے ملک جا کر بیچا جاتا ہے اور ان کی زندگی برباد کر دی جاتی ہے میں تجھے اپنے ساتھ لے کر ہرگز نہیں جاؤں گی۔

جب تک تیرا مضبوط صائیبان تیرے پاس واپس آ نہیں آ جاتا تب تک تو میرے ساتھ کہیں نہیں جائے گی تو یہی اسی گھر میں رہے گی ۔

اور میں بھی جلدی واپس آ جاؤں گی تو گھبرا مت یہاں تو اکیلی تھوڑی ہے روحی ہے تانیہ ہے ایام ہے تیرا خیال رکھنے کے لیے وہ اسے اپنے ساتھ لگاۓ پیار سے سمجھا رہی تھیں جب کہ وہ کچھ بھی بول نہیں پائی وہ یہ بھی نہیں کہہ پائی کہ اسے کسی انجان مرد کے ساتھ اس کے گھر میں رہنا عجیب لگ رہا تھا ۔

لیکن اس نے ایام میں کوئی بری عادت نہیں دیکھی تھی بہت اچھا انسان تھا تعریف کے قابل تھا وہ اس کے بارے میں کچھ غلط سوچ کر خود کو شرمندگی میں نہیں رہ سکتی تھی

آخر کار وہ انہیں اکیلے بھیجنے کے لیے راضی ہو گئی تھی

°°°°°°°

جی میں نے بھی سنا کہ آپ کے بھائی کو رات کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے مجھے بہت افسوس ہوا یہ جان کر اب میں نے آپ کی تیاری کروا دی ہے میرا ڈرائیور آپ کو گھر تک چھوڑ کر آئے گا

ٹرین کی ٹکٹ بک نہیں کروائی میں نے میں آپ پر بھی کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں آنے دے سکتا اسی لئے واجد آپ کو گھر تک چھوڑ کر واپس آئے گا اگر آپ واپس آنا چاہیں تو اس کے ساتھ ہی آجائیے گا اور ہیر کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ یہاں بالکل محفوظ ہے ۔

جب تک وہ یہاں رہے گی کوئی بھی اسے کچھ بھی نہیں کر پائے گا۔یہ میری ذمہ داری ہے اور سچ کہوں تو سعد نے بھی مجھے فون کر کے یہی کہا ہے کہ ہیر کو گھر سے باہر نہ نکالا جائے تب تک تو ہرگز نہیں جب تک ان لوگوں کے بارے میں سب کچھ پتہ نہیں چل جاتا ۔

اور ہیر آپ کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ جب تک چاہے اس گھر میں آرام سکون سے رہ سکتی ہیں اگر آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مس تانیہ ہر وقت آپ کے ساتھ ہوتی ہیں اور پھر یہاں آپ کو خوش رکھنے کے لئے روحی ہے نہ

آپ کی دوست آپ کو بور تو ہرگز نہیں ہونے دیتی ہوگی ۔اس نے روحی کی طرف اشارہ کیا تو وہ مسکرا دی تھی وہ سمجھ چکا تھا کہ اسے اکیلے یہاں رہنے میں اچھا محسوس نہیں ہو رہا۔

اسی لیے اس نے مس تانیہ کو چند دن کے لئے یہی اسی گھر میں رہنے کے لیے کہہ دیا تھا تانیہ کو کوئی مسئلہ نہیں تھا وہ ویسے بھی ساڑھے دس بجے کے بعد ہی گھر جاتی تھی۔

وہ اس کے ساتھ گھر میں رہنے کے لیے بھی تیار ہو گئی تھی اسے اس پر کسی طرح کا کوئی ڈاوٹ نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ اپنی طرف سے حفاظتی اقدامات کر رہا تھا تو اس نے بھی کچھ نہیں کہا تھا بلکہ اسے یہ جان کر خوشی ہو رہی تھی کہ وہ اس کی پرابلم کو سمجھ رہا ہے ۔

امی کل صبح یہاں سے نکلنے والی تھیں۔ ڈرائیور خود ہی انہیں گھر تک چھوڑ کر آنے والا تھا وہ ان کا سارا سامان تیار کر چکی تھی ۔

اور دعا مانگ رہی تھہ کہ ماموں جلد سے جلد ٹھیک ہوجائیں اور وہ واپس یہاں آ جائیں کیونکہ سعد کی اجازت کے بنا وہ کہیں بھی نہیں جا سکتی تھی اور سعد کا یہی کہنا تھا کہ وہ اسی گھر میں رہے گی ۔

امی کا اگر جانا ضروری نہ ہوتا تو یقینا وہ بھی اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جاتیں لیکن ان کا جانا بہت ضروری ہو گیا تھا اس لیے اس نے اس معاملے میں کچھ بھی نہیں کہا تھا

°°°°°°°

صبح ہوتے ہی امی اپنی جانے کی تیاری مکمل کر چکی تھیں اسے ہزاروں ہدایت دینے کے بعد آخر وہ ڈرائیور کے ساتھ جانے لگیں

وہ بھی انہیں اپنا خیال رکھنے کا کہتی انہیں الوداع کہہ چکی تھی ان کے جاتے ہی روحی اس کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو گئی

اس نے ایک ایک کرکے آج اسے پورا گھر دکھایا تھا ایک ایک کمرا اندر سے سارے کمرے ایک جیسے دیکھتے تھے اور کچھ کمروں کی بناوٹ تو بالکل ایک جیسی تھی ۔

لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس رات کے بعد وہ کوئی بھی غلطی نہیں کرتی تھی وہ اپنے روم میں جانے سے پہلے بھی ایک دفعہ تانیہ سے احتیاطی پوچھ لیتی تھی کہ اس کا کمرا کون سا والا ہے ۔

اس نے امی سے کہا تھا کہ وہاں پہنچتے ہی اسے فون کرے اس نے اپنا موبائل چارج پر لگایا اور پھر سارا دن روحی کے ساتھ اس محل نماگھر میں ادھر سے ادھر گھومتی رہی

جب تک تانیہ اپنا کام ختم کرتی تب تک وہ پورا گھر دیکھ چکی تھی اور اب وہ تینوں بیٹھ کر روحی کی فیورٹ پرنسز مووی دیکھ رہیں تھیں ۔

کیوں کہ وہ اسے بھی کافی زیادہ پسند آ رہی تھی لیکن تانیہ کو شاید اس میں کچھ زیادہ انٹرسٹ نہیں تھا لیکن روحی کی خاطر بیٹھے وہ دیکھتے ہوئے تبصرہ کر رہی تھی کیونکہ اس کی میڈم روحی چاہتی تھی کہ ایسا کیا جائے ۔

کبھی کبھی اسےتانیہ پر ترس آتا تھا اکثر وہ روحی کی الٹی سیدھی حرکتوں سے تنگ بھی آ جاتی تھی لیکن مجبوری تھی کہ وہ اسے غصہ نہیں کر سکتی تھی اسے ڈانٹ نہیں سکتی تھی ۔

کیونکہ اس معاملے میں ایام بہت زیادہ سٹریکٹ تھا وہ کسی کو بھی روحی پر چلانے کی اجازت نہیں دیتا تھا ہے یہ نوکر تھے اپنی تنخواہ لیتے تھے۔اور روحی کی ہر چیز برداشت کرنا ان کا کام تھا۔

لیکن بے شک اسے کتنی ہی تنخواہ کیوں نہ ملتی ہو لیکن کچھ چیزیں بچوں کی مائیں ہی برداشت کرتی ہیں ۔

مگر روحی کی ماں نہیں تھی اس کی ساری ذمہ داری ان ملازموں پر تھی ہاں لیکن یہ الگ بات تھی کہ اگر وہ تھوڑا بہت تنگ کرتی تھی تو وہ ہر کسی سے بہت پیار بھی کرتی تھی وہ بہت اچھی بچی تھی ساری ضدیں شراتیں صرف اپنے بابا سے ہی کرتی تھی جو اس کی ہر ضد پوری کرتے تھے ۔

روحی سب کے ساتھ بہت پیار سے رہتی تھی وہ ان سب کو اپنی فیملی سمجھتی تھی ۔اس معصوم سی بچی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ نوکر یا ملازم کسے کہتے ہیں شاید یہی وجہ تھی کہ سب اسےبھی بہت پیار سے محبت سے رکھتے تھے ۔

تانیہ کبھی کبھی اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے تھک جاتی تھی اور اسے انکار کر دیتی تھی مزید نہ کھیلنے کا جس پر وہ ضد کرتی تھی اور وہ اس کی ضد پر اسے ڈانٹ نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ اس کی ماں نہیں تھی ۔

اگر اس کی ماں ہوتی تو یقینا وہ ضدی ہرگز نہیں ہوتی ۔آج اس کی ساری سوچیں روحی کی طرف آ گئی تھی اس کی زندگی میں کسی چیز کی کمی تو نہیں تھی سوائے اس کی ماں کے اور اس کمی کے ساتھ اس میں بہت ساری ایسی عادات تھیں جو اتنی چھوٹی بچی میں نہیں ہونی چاہیے ۔

اسے پتہ نہ تھاشاید اس کی ماں اسے پیدا کر کے چھوڑ گئی تھی یقینا ایام کی طلاق ہو چکی تھی ۔تبھی اپنی بیٹی کو اکیلے پال رہا تھا لیکن وہ اپنی بیٹی کو جائز ناجائز کی تمیز نہیں سکھا رہا تھا۔

صرف اس کی ہر ضد کو پوری کر رہا تھا اس کی ہر خواہش اس کے کہنے سے پہلے اس کے سامنے حاضر کر رہا تھا شاید وہ اپنی طرف سے بیسٹ فادر بن رہا تھا لیکن شاید ان سب چیزوں کی وجہ سے اس کی معصوم سی بیٹی بگڑ رہی تھی

۔

ہاں شاید وہ اسے بگاڑ رہا تھا وہ اس طرح بیسٹ فادر تو رہا تھا لیکن اس کی بیٹی شاید بیسٹ ڈوٹر نہ بن پاتی

کیا ہوا کن سوچوں میں لگ گئی ہو مووی دیکھو نا اسے کافی دیر خاموش پا کر تانیہ نے کہا تھا ان دونوں میں آپ جناب کا تکلف اب ختم ہو چکا تھا وہ دونوں اچھی نہیں بلکہ بہت اچھی دوست بن چکی تھی ۔

ہاں دیکھ رہی ہوں اچھی مووی ہے مجھے اس طرح کی فلمیں کافی زیادہ پسند ہیں اس نے مسکراتے ہوئے بتایا تھا۔

کیا سچ میں مجھے ایسی فلمیں بالکل پسند نہیں ہیں بچوں والی فلمیں جس میں لوجک کچھ بھی نہیں سب جھوٹ مجھے رییلٹی والی فلمیں پسند ہیں ۔اس طرح کی فلمیں مجھے بور کر دیتی ہیں

تانیہ نے پوری ایمانداری سے بتایا تھا جب کہ اس کی حالت سے وہ یہ ساری بات پہلے ہی سمجھ گئی تھی ۔

تمہاری شکل دیکھ کر ویسے بھی میں اندازہ لگا چکی ہوں تم ایسا کرو اپنے موبائل پر انجوائے کرو تب تک میں اور روحی مووی دیکھتے ہیں ۔

ارے نہیں سر نے روحی کو اکیلےچھوڑنے کے لئے منع کیا ہے اس کے پاس رہنا ہے ہمیشہ ہر وقت وہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔

ارے یار تم بھی نہ میں ہوں نہ اس کے پاس تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں جب اسے کسی چیز کی ضرورت ہوگی میں تمہیں بتا دوں گی ویسے بھی روحی کے لیے ایک ہی بیسٹ فرینڈ کافی ہے ۔

تم جاؤ جاکر اپنے طریقے سے انجوائے کرو میں اور روحی یہاں انجوائے کرلیں گے ایک دوسرے کے ساتھ اس نے مسکراتے ہوئے اسے کہا تھا جبکہ روحی اپنی فلم میں اتنی زیادہ بزی تھی کہ اسے کوئی انٹرسٹ ہی نہیں تھا ان دونوں کی باتوں میں ۔

اور تانیہ بھی روحی کو اس کے پاس چھوڑتی خود کچن میں آ کر اپنے موبائل فون پر مصروف ہو گئی تھی

°°°°°°

اس نے اندر قدم رکھا تو اسے روحی اور ہیر کے قہقوں کی آواز سنائی دی ۔

وہ دونوں شاید مووی کا کوئی سین دیکھ کر ہنس رہی تھیں۔اس کی بیٹی اس وقت اس کی گود میں بیٹھی مسلسل ہنس رہی تھی شاید کوئی فنی سین چل رہا تھا پھر بھی اس سین کو کافی زیادہ مزے سے دیکھ رہی تھی ۔

بہت مکمل سا منظر تھا جیسے دو ماں بیٹیاں ایک دوسرے کے پاس بیٹھی لمحات کو انجوائے کر رہی ہوں وہ کتنی ہی دیر ان دونوں کو یوں ہی کھڑے دیکھتا رہا تھا

۔

پھر اچانک اس کے دماغ میں ایک عجیب سا خیال آیا

تانیہ کہاں تھی ۔۔۔۔؟اس نے تو تانیہ کو ہر وقت اپنی بیٹی کے آس پاس رہنے کے لئے کہا تھا

وہ تانیہ سے کہتا تھا کہ وہ روحی کو اس بات کا احساس دلایا کرےکہ وہ صرف ایک ملازمہ ہے اور اپنا کام کر رہی ہے ۔

لیکن وہ ہیر کو نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اسے یہ احساس دلائے کہ وہ یہاں صرف ایک مہمان ہے اور واپس چلی جائے گی وہ نوٹ کر رہا تھا کہ روحی اس کے بہت قریب آتی جا رہی ہے۔

اس کا سارا وقت روحی کے ساتھ گزرتا تھا وہ 24 گھنٹے اس کے آس پاس رہتی تھی اور اب تو روحی کی ساری باتوں میں بھی ہیر ہوتی تھی

وہ اسے بتاتا رہتا تھا کہ ہیر چلی جائے گی وہ مہمان ہے کچھ دن میں اس نے واپس اپنے گھر چلے جانا ہے اس کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزارا کرے۔لیکن نہیں وہ اپنی بیٹی کو مجبور بھی نہیں کر سکتا تھا اس کی بیٹی کو ہیر کا ساتھ پسند تھا ۔

وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی یہاں تک کہ دو تین دفعہ تو وہ یہ بھی کہہ چکی تھی کہ ہم ہیر کو واپس اس کے گھر نہیں بھیجیں گے ہمیشہ کے لئے اپنے گھر میں رکھ لیں گے

کچھ دن پہلے تانیہ نے اس سے کہا تھا کہ آپ کو ماما مل سکتی ہے جب آپ کے بابا شادی کریں گے اس نے اپنے باپ کو یہ تک کہہ دیا تھا کہ وہ ہیر سے شادی کر کے اسے اس کی ممی بنا ڈالے ۔

اور اس بات پر اس نے تانیہ کو کافی زیادہ ڈانٹا بھی تھا کہ اس نے اس کی بچی کے دماغ میں اس طرح کی کوئی بات کیوں ڈالی جس پر تانیہ شرمندہ ہوگئی تھی اس نے تانیہ سے کہا تھا کہ وہ اس کے سامنے ایسی کوئی بات نہ کرے لیکن اسے احساس نہ تھا کہ روحی اس بات کو لے کر اتنا سیریس ہو جائے گی ۔

وہ اب تک اس بات پر اسے منا رہی تھی کہ اسے ہیر کو اپنی ممی بنانا ہے