60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junoon) Episode 11

وہ اب کافی بہتر ہوچکی تھی۔انہیں یہاں رہتے دو ہفتے ہوچکے تھے۔دوبارہ اس پر کسی قسم کا حملہ نہیں ہوا۔وہ اس ڈر سے باہر نکل آئی تھی۔اور روحی اور تانیہ کے ساتھ کافی خوش تھی۔
ایام نے پھر سے اسے مخاطب نا کیا تھا وہ صبح کا گیا رات کو گھر واپس آتا تھا اس سے اس کی ملاقات دو یا تین دفعہ ہی ہوئی تھی وہ بھی صرف سلام دعا کی حد تک
لیکن روحی اور تانیہ کےساتھ اس کی دوستی بہت گہری ہوچکی تھی۔اس نے تانیہ سے وہ روحی کی پسندیدہ عجیب مگر ٹیسی ڈش بھی بنانا سیکھ لی تھی۔ اور روحی نے اس کے ہاتھ سے وہ کھانےکے بعد فصیلہ کیا تھا کہ ہیر ہی اس کے لیے وہ ڈش بنایا کرئے گی۔
امی جان نے اسے کسی چیز سے ٹوکا نا تھی وہ اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتی تھی۔بلکہ روحی کے ساتھ وہ خود اسے وقت گزانے کا کہتی تھیں۔
°°°°°°°
نہیں یہ نہیں ہو سکتا ہے ایسا کیسے ممکن ہے اس طرح سے وہ لوگ بھاگ گئے کیا تم لوگ سو رہے تھے ۔۔۔۔۔۔؟ تم لوگوں نے ایسا ہونے کیسے دیا۔۔۔۔؟
کیا تم لوگوں کی سکیورٹی اس حد تک کمزور ہے کہ اتنے خطرناک مجرم تم لوگوں کی کسٹڈی سے بھاگ گئے اور تم لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ۔۔۔۔؟
مجھے کسی طرح کا کوئی ایکسکیوز نہیں سننا کیسے بھی ان لوگوں کو پکڑو وہ پہلے بھی میرے گھر کے انسان پر حملہ کر چکے ہیں وہ دوبارہ ایسا نہیں کریں گے اس بات کی کیا گارنٹی ہے ۔۔۔۔۔؟
سر آپ فکر نہ کرے ہم کیسے بھی ان لوگوں کو گرفتار کر لیں گے ہم پوری کوشش کر رہے ہیں آفیسر نے یقین دلاتے ہوئے کہا۔
تمہاری کوشش کی ایسی کی تیسی تم تو مجھے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ وہ لوگ پولیس کی کسٹڈی سے نکل ہی نہیں سکتے کتنی ہوشیاری سے وہ لوگ رات کے اندھیرے میں وہاں سے نکل گئے اور تم کچھ بھی نہیں کر سکے مجھے بس اس بات کا جواب دو کہ تم کچھ کر سکتے ہو یا نہیں ۔وہ غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا
جی سر ہم آپ کی بات کو مکمل طور پر سمجھ رہے ہیں آپ کا غصہ بالکل جائز ہے لیکن ایسا کچھ ہو جائے گا یہ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا پلیز سر ہماری اس غلطی کو معاف کر دیں ہم ان مجرموں کو جلد ہی دوبارہ پکڑ لیں گے ۔
تم لوگ کچھ نہیں کر سکتے کچھ بھی نہیں اب اس کیس کو مجھے میرے طریقے سے ہینڈل کرنا پڑے گا وہ غصے سے کہتا اپنا فون بند کر چکا تھا جب کہ اپنے سکیورٹی گارڈ سے کہہ کر اس نے اپنی سکیورٹی مزید ٹائٹ کروانے کا حکم جاری کردیا تھا کہ ہیر کو وہ اب کسی بھی طرح کے خطرے میں نہیں ڈال سکتا ۔
پہلے تو اسے لگا تھا کہ وہ لوگ معمولی ہیں جو اغواء کے کیس میں شامل ہیں۔اسے یہی لگا تھا کہ یہ چھوٹے موٹے مجرم ہیں وہ اغوا کے کیس کے سلسلے میں اسے لے کر جارہے تھے لیکن پھر بعد میں ان کے لیے بڑے بڑے لوگوں کا فون آنا اور اس کیس میں سیاست کےبڑےبڑے لوگوں کی دلچسپی دکھانے کا مطلب یہ تھا کہ یہ کوئی عام لوگ نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق کسی مضبوط گینگ سے ہے ۔
وہ کسی گینگ سے نہیں ڈرتا تھا لیکن اب بات معافیہ کی طرف جا رہی تھی ان لوگوں کا اتنی مضبوط سکیورٹی سے غائب ہو جانے کا مطلب یہی تھا کہ اس کے پیچھے کوئی بہت مضبوط ہاتھ ہے ۔
اور وہ ہیر کو کسی بڑے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔اس کیس سے کہیں نہ کہیں ہیر کی زندگی جڑی ہوئی تھی وہ ہیر کو کسی طرح کی مصیبت میں نہیں ڈال سکتا تھا ۔
ابھی اسے اس ڈر سے نکلنے میں وقت لگ رہا تھا اور اگر اسے یہ پتہ چل جاتا کہ اس کے اغواء کار جیل سے باہر آزاد گھوم رہے ہیں تو وہ ایک بار پھر سے خوف کی زد میں آجائے گی ۔
اس لیے اس نے یہ بات سب سے چھپانے کا ارادہ کیا تھا ۔
°°°°°°°
ایام ہیر کی طرف سے ریلکس ہو گیا تھا وہ نوٹ کررہا تھا کہ کچھ دنوں میں اس کی حالت سنبھل چکی تھی ۔
وہ اب روحی کے ساتھ باہر گھومتی تھی اور زیادہ تر وہ لوگ باغ میں ہی رہتی تھیں اسے باغ والی جگہ پسند تھی اور وہ اس چیز کو لے کر پرسکون تھا۔
لیکن اب اس کا سکون غرق ہو چکا تھا اگر یہ بات ہیر کو پتہ چلتی ہے تو وہ کبھی اتنی خوشی سے یہاں وہاں نہ گھوم پاتی ۔وہ ایک بار پھر سے اس ڈر کی ذد میں آجاتی اور وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔
حویلی سے باہر جانے کی غلطی اس نے اب تک نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ ایسا کوئی ارادہ رکھتی تھی ۔تانیہ نے اسے بہت بار باہر چلنےکے لیے کہا بھی تھا لیکن وہ نہیں مانی۔
اور خود اس نے بھی اسے باہر جانے کے لیے نہیں کہا تھا کیونکہ باہر خطرہ تھا اور اب اس کا خطرہ مزید بڑھ چکا تھا وہ لوگ پولیس کی گرفت سے نکل چکے تھے وہ لوگ آزاد تھے اور اسی علاقے میں ہی تھے ۔
اور کبھی بھی کسی بھی وقت ہیر پر حملہ کرسکتے تھے حویلی کے اندر کسی چیز کا ڈر نہیں تھا یہاں پر کوئی پرندہ بھی اس کی اجازت کے بنا پر نہیں مار سکتا تھا لیکن باہر کچھ بھی ہو سکتا تھا اسی لئے وہ خود بھی اب اس کو باہر بھیجنے کے حق میں نہیں تھا
°°°°°°°°
بابادانی آئے ام کھتے ہیں ۔دوشت نے آنکوں پل پتی بندی ہوی اے اول مدھے دھود لی ہے اول میں اپ تے پاش ہو۔۔۔۔۔۔۔
(بابا آئیں نا ہم کھیلتے ہیں دوست نے آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے اور وہ مجھے ڈھونڈ رہی ہے میں آپ کے پاس ہوں۔)
وہ مزے سے دیکھتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکرا دیا تھا وہ اسے اپنے ساتھ وہاں لے کر جانا چاہتی تھی لیکن اسے وہاں جانا عجیب لگ رہا تھا ۔
اسے اپنی بیٹی کی یہ عادت بہت پسند تھی کہ وہ اس کی بات کو ایک ہی بار کہنے پر مان جانتی تھی۔اس نے ہیر کو چاچی کہنے سے منا کیا تو وہ اس کی یہ بات مان گئی تھی۔اس نے پوچھا تھا کہ وہ اسے چاچی کیوں نا کہے ۔جس پر اس نے کہا تھا کیونکہ روحی کے بابا نہیں چاہتے ۔بس اس کے بعد اس نے ہیر کو دوست کہنا شروع کر دیا تھا۔
وہ اس کے معصوم چہرے کو دیکھ رہا تھا جو اسے وہاں لے جانے کی ضد پر قائم تھی آخر مجبور ہوکر اس نے اپنے قدم اس طرف بڑھا دیے تھے جہاں وہ آنکھوں پر پٹی باندھے کبھی ادھر کبھی ادھر روحی کو آوازیں دے رہی تھی ۔
°°°°°°°
کدھر ہوروحی جانومیں آپ کو نہیں ڈھونڈ پا رہی پلیز آپ مجھے آواز دو آئی پرومس یہ چیٹنگ بالکل بھی نہیں ہوگی بس میں آپ کی طرف آنے میں کامیاب ہو جاؤں گی وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی بولی تھی ۔
اس کے کہنے پر روحی اس کا ہاتھ چھوڑ کر دوسری طرف بھاگ گئی تھی اس کے قدموں کی آواز پر وہ مسکرائی تھی کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ روحی اسی طرف بھاگی ہے ۔اپنی بیٹی کی چالاکی پر وہ بھی مسکرا دیا تھا۔
روحی کم ازکم چھوٹی سی قہقی ہی لگا دو تاکہ میں آسانی سے آپ تک پہنچ سکوں میری باری کب آئے گی ۔وہ اداسی سے اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اوتے می یاں ہوں۔(اوکے میں یہاں ہوں) اسے اپنے پیچھے سے آواز سنائی دی جب کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ کھڑی اسے آواز دیتی پھر سے دوسری جانب بھاگ گئی تھی۔
اسے ان کا کھیل بہت دلچسپ لگ رہا تھا اس کی بیٹی ضرورت سے زیادہ ہوشیار تھی یا پھر یہ کھیل کھیلا ہی اسی طریقے سے جاتا تھا اس نے یہ گیم کبھی بھی نہیں کھیلی تھی۔
وہ مکمل طور پر انجان تھا ان سب چیزوں سے شاید یہی وجہ تھی کہ اسے کافی دلچسپی محسوس ہو رہی تھی۔اس کی بیٹی کی بھی یہ فیورٹ گیم تھی ورنہ باقی کھیل تو وہ کھیل کھیل میں ہی بھول جایا کرتی تھی۔
وہ بہت دلچسپی سے انہیں دیکھ رہا تھا وہ آنکھوں پر پٹی باندھے اس کی طرف آرہی تھی۔اس نے پیچھے ہٹنےکی یا بھاگنے کی کوشش نہ کی تھی وہ تو بس اپنے سینے پر اس کے نازک سے ہاتھ کا لمس محسوس کررہا تھا۔
پکڑ لیا پکڑ لیا میں نے روحی کو پکڑ لیا دیکھا اتنا بھی مشکل نہیں تھا آپ کو پکڑنا آپ چاہے کتنا ہی دور کیوں نہ بھاگ جائیں لیکن آپ اتنی لمبی کیسے ہو گئی اچھا تو میرے سامنے تانیہ کھڑی ہے لیکن یہ تم بھی اتنی لمبی نہیں تھی اور اتنے سخت بازو
وہ اپنی ہی روانی میں بولے جا رہی تھی جب کہ وہ اپنے بے حد قریب اس کے ہونٹوں کی حرکت کو دیکھ رہا تھا ۔
جب پیچھے سے اسے اپنی بیٹی کی کھلکھلاہٹ کی آواز سنائی دی وہ ناچتے ہوئے تالیاں بجاتے اس کا مذاق اڑا رہی تھی ۔
ہاہاہا بابا دانی پتڑے دے اب بابادانی انکوں پل پٹی باندھےدے(ہاہاہا بابا پکڑے گئے اب بابا جانی آنکھوں پر پٹی باندھے گے) وہ جانتا بھی نہیں تھا کہ روحی اسے بھی اپنے اس کھیل میں شامل کر چکی تھی جب کہ اس کی آواز سن کر ہیر نے فٹافٹ اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹائی تھی ۔
میں صرف کھڑا تھا مجھے روحی یہاں زبردستی کھینچ لائی نہ جانے کیوں اس نے وضاحت دی تھی جب کہ وہ اس سے دور ہٹ کر کھڑی ہوگئی تھی ۔
مجھے یہ کھیل نہیں آتا اور نہ میں یوں آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنی چیٹر بیٹی کو ڈھونڈ سکتا ہوں ۔اس کی بات پر ہیر کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔
تلو تلو دوشت اب بابادانی تی انکوں پل پتی باندھ دو(چلو چلو دوست اب بابا جانی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دو) وہ اتنی آسانی سےاسے بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی جبکہ وہ نہیں نہیں کرتا رہ گیا ۔
نی دوشت نے اپ تو پٹڑا اے اب رول کے حشاب شے اپ تی بالی اے تلو تلو آپ تو ہمہیں پتلنا پلے دا تلو تلو (نہیں دوست نے آپ کو پکڑا ہے اب روز کے حساب سے آپ کی باری ہے آپ کو ہمیں پکڑنا پڑے گا چلو چلو) وہ اسے یہاں سے جانےکی اجازت نہیں دینے والی تھی جبکہ اس کی ضد پر مجبور ہو کر نیچے زمین پر بیٹھ گیا تھا۔
ہیر تو پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوگئی تھی وہ ٹیری میڑی جیسے باندھ سکتی تھی اس کی آنکھوں میں باندھی تھی ۔ ایام کو اپنی بیٹی کے پٹی باندھنے کا اسٹائل پسند آیا تھا وہ آسانی سے سب کچھ دیکھ پا رہا تھا۔ہیر کو بھی اس کی پٹی دیکھ کر ہنسی آئی تھی۔
دوشت بابا تو دیکتا ہے شب کتھ اپ پتی باندو (دوست بابا کو دیکھتا ہےسب کچھ آپ باندھو) اسے جلدی احساس ہو گیا تھا کہ وہ اس کام کو نہیں کر پا رہی اسی لیے اس نے اسے پکارا تھا ۔۔
ارے روحی مجھے صرف تھوڑاتھوڑا دکھتا ہے اتنا الاوڈ ہوتا ہے۔اس نے اسے نیا رول سمجھنا چاہا تھا جس پر اس نے ہیر کو دیکھا۔
ہیر نے فورا نفی میں سر ہلایا۔وہ اپنی بیٹی کو چیٹر کہہ رہا تھا اور خود نئے رولز بنا رہا تھا۔
نی اشا نہ ہوتا (نہیں ایسا نہیں ہوتا) وہ منہ کے ڈائزین بناتی اسے گھورتے ہوئے بولی۔ہیر کو تو بےساختہ اس پر پیار آیا تھا۔
جی آئیں دوست صاحبہ باندھیے ورنہ نہ تو یہ آپ کو یہاں سے جانے دے گی اور نہ ہی مجھے اسے اتنی دیر خاموشی سے روحی کے ساتھ اشاروں میں باتیں کرتے تو وہ کب سے نوٹ کر رہا تھا ۔ وہ خود ہی آگے آتے ہوئے بولا۔
ہیر نے ہاں میں سر ہلا کر فورا ہی اس کے پیچھے جاتے ہوئے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی تھی لیکن اس کی ہائٹ کافی زیادہ تھی ۔ہیر اسے کہہ نہیں پارہی تھی کہ وہ تھوڑا سا جھک جائے لیکن شاید وہ خود ہی سمجھ گیا۔
اسے جھکنا پڑا تھا لیکن شاید یہ جھکاؤ اس کے لئے برا نہیں تھا وہ اس کے سامنے جھکا مسکرا رہا تھا جب کہ وہ مضبوطی سے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ چکی تھی چیٹنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔اس کی اتنی مضبوطی سے پٹی باندھنے پر وہ مسکرا دیا تھا۔اس کی بیٹی اور اس کی دوست کے کھیل کے اصول کافی سخت تھے
اور اب پھر روحی بھاگ رہی تھی جب کہ وہ کچھ فاصلے پر جاکر وہی رکھے بینچ پر بیٹھ گئی تھی ۔اسے ایام کے ساتھ کھیلنے مین دلچسپی نا تھا وہ تو صرف روحی کو خوش کرنا چاہتی تھی۔
دوشت آو نا مجا آلا اے(دوست او نہ مزا آرہا ہے )وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔
نہیں دوست آپ کھیلو میں تھک گئی ہوں اب میں تھوڑی دیر یہاں بیٹھوں گی تب تک آپ اپنے بابا جانی کے ساتھ کھیلو وہ پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے بولی تو وہ بھاگ کر اپنے بابا جانی کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو گئی ۔
وہ دور بیٹھی انہیں دیکھ رہی تھی ۔وہ اس کے بے حد قریب کھڑا تھا وہ اس کی پرفیوم سے بھی اندازہ نہ لگا سکی کہ وہ تانیہ نہیں بلکہ ایام ہے۔وہ کوئی بچی یا لڑکی نہیں بلکہ کوئی مرد ہے وہ کتنی پاگل تھی پتا نہیں اب یہ آدمی اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے بارے میں سوچنے لگی تھی ۔
روحی نے اچانک اسے چاچی کہنا چھوڑ دیا تھا اسے عجیب تو لگا لیکن تانیہ نے کہا کہ اس نے روحی کو بولا تھا کہ ہیر اس کی اور روحی کی دوست ہے جس پر روحی نے اسے دوست کہنا شروع کردیا ہے۔اس کے پیچھے کی وجہ یہ ہے کہ روحی چاہتی ہے کہ وہ صرف روحی کی دوست بنے تانیہ کی نہیں۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں انہیں دیکھ رہی تھی ۔
ایام جی سمجھ گئے ہوں گے کہ میں غلط فہمی کے تحت ان کے پاس آ گئی ہوں میرا نہیں خیال کہ وہ میرے بارے میں کچھ غلط سوچ رہے ہوں گئے وہ اپنی ہی سوچ میں مصروف تھی جب تانیہ بھی اس کے پاس ہی آ کر بیٹھ گئی ۔
وہ تانیہ سے باتوں میں مصروف ہو گئی تھی جو روحی کی حرکتوں کو دیکھ دیکھ کر ہنس رہی تھیں وہ کسی طرح سے ایام کے ہاتھ نہیں آرہی تھی اور ایام اس گیم میں بری طرح سے پھنس چکا تھا ۔
اور پھر آخر کار اس کا موبائل فون بجنے لگا تبھی جا کر اس نے تھوڑا سکون کا سانس لیا ۔
اور اپنا موبائل لے کر ایک طرف آ گیا کیونکہ اس کے فون پر سعد کی کال آ رہی تھی وہ اس کے سامنے بھی سعد سے بات کر سکتا تھا لیکن یقینا وہ دونوں آپس میں باتیں کرتے ہیں رہے ہوں گے یہ سوچ کر وہ تھوڑا سائیڈ پر آگیا ۔
جبکہ روحی ان دونوں کے بیچ آکر بیٹھ گئی تھی۔وہ تانیہ سے بات کرتی روحی اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اس کا چہرا تھام کر اپنی طرف کر لیتی تھی۔تانیہ تو اس کی حرکتوں پر ہنستی جا رہی تھی۔جبکہ ہیر اب پریشان ہونے لگی تھی۔
روحی کو اس کی عادت ہوتی جارہی تھی۔وہ ڈیڑھ سال کی معصوم بچی اسے بہت زیادہ چاہنے لگی تھی اور جب وہ یہاں سے چلی جائے گی تو کیا روحی کے لیے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔اس کے دماغ میں پتا نہیں کیوں روحی کو لے کر یہ سوچ آئی تھی۔
°°°°°°
اسلام علیکم لالہ کیسے ہیں آپ خیریت تو ہے نا ۔سعد نے اس کے فون اٹھاتے ہی کہا
وعلیکم السلام الحمداللّه میں بالکل ٹھیک ہوں تم سناؤ کب تک آرہے ہو واپس ہیر سے بات ہوتی رہتی ہے تمہاری ۔۔۔۔۔۔؟ وہ صوفے پر بیٹھ کر اس سے سوال کرنے لگا ۔
نہیں ہیر سے میری بات نہیں ہوسکی کچھ دنوں سے آج فون کروں گا وقت ہی نہیں مل رہا تھا اسے فون کرنے کا اس نے بات گول مول کی تھی کیونکہ ہیر کا سوال یہ تھا کہ وہ کب تک واپس آئے گا اور اس کی پرابلم کیا ہے ہیر جاننا چاہتی تھی کہ آخر اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے اور وہ اپنا مسئلہ اس کے کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتا تھا اسی لیے اس نے اسے کال کرنا ہی چھوڑ دیا تھا ۔
میں آپ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ ہیر پر دوبارہ تو کسی نے حملہ نہیں کیا نا میرا مطلب ہے کہ دوبارہ کسی نے اس طرح کی کوئی حرکت تو نہیں کی ۔
میں جانتا ہوں میری وجہ سے آپ بھی بہت بڑی پرابلم میں پھنس گئے ہیں لیکن میں بہت مجبور ہوں میں بہت جلد واپس آنے کی کوشش کروں گا ۔وہ یقین دلا رہا تھا ۔لیکن اس کا انداز کافی ڈرا ہوا تھا وہ کسی چیز سے خوف زدا تھا۔
نہیں نہیں سعد ایسا کچھ بھی نہیں ہے ہیرپر دوبارہ کسی نے حملہ نہیں کیا وہ گھر کے اندر ہے اور بالکل محفوظ ہے میں نے سیکیورٹی بھی ٹائٹ کر دی ہے وہ بلکل ٹھیک ہے تم آرام سکون سے اپنا کام ختم کرکے واپس آ جاؤ ۔اس کا ہیر کی فکر کرنا اسے نجانے کیوں برا لگا تھا لیکن خود کو کنٹرول کرتے اس نے تفصیل سے جواب دیا
مجھے آپ پر پورا یقین ہے لیکن اب ڈر بھی لگتا ہے پتا نہیں ان لوگوں کا کیا مقصد تھا میری عزت آپ کے پاس ہے لالا۔وہ بہت عاجزی سے بولا
جب تک ہیر یہاں پر ہے وہ بالکل ٹھیک رہے گی اس کی طرف سے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں اس نے اسے پورا یقین دلایا تھا ۔
تھینک یو سو مچ لالا ہیر کو گھر سے باہر مت نکلنے دیجئے گا نہ جانے وہ لوگ کون ہیں ہو سکتا ہے وہ دوبارہ یہ حرکت کرنے کی کوشش کریں اس نے اپنا ڈر چھپاتے ہوئے کہا تھا جب کہ ایام اس کے ڈر کو اس کی محبت سمجھ کر اسے دلاسہ دینے لگا تھا کہ دوبارہ اگر ایسا ہوا بھی تو ایام ہیر کو کچھ نہیں ہونے دے گا۔