Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junoon) Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junoon) Episode 1
تم سمجھ نہیں رہے ہو وقار مجھے وہ لڑکی ہر قیمت پر چاہیے میں اسے حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلا جاؤں گا مجھے بس وہ چاہیے میں اس لڑکی کو اپنے بستر تک لانا چاہتا ہوں ۔
میں کیا کروں ۔۔،؟
وقار میں کیا کروں مجھے سمجھ میں نہیں آرہا وہ لڑکی مجھے پاگل کر دے گی اس کی ہنسی اب تک میرے کانوں میں گونج رہی ہے ۔
وقار تم میری حالت کو سمجھ رہے ہو نہ تم سمجھ رہے ہو نا ۔۔۔؟وہ پاگل ہوا جارہا تھا جب کہ وقار کو اس کی ذہنی کنڈیشن پر پہلے سے ہی شک تھا اب تو اسے یقین ہوتا جا رہا تھا ۔
جی جی سر میں آپ کی بات کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ رہا ہوں میں اس لڑکی کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں میں اس کے بارے میں پوری معلومات لے کر آپ کو بتاتا ہوں ۔
معلومات نہیں وقار معلومات نہیں چاہیے مجھے وہ لڑکی چاہیے کسی بھی قیمت پر ۔
ڈھیر لگا دو اس کے قدموں میں دولت کا جس چیز کی خواہش کرتی ہے اس کو دے دو بس اسے میرے بستر تک لے آؤ ۔
اسے میرے پاس لے آؤ ۔کچھ بھی کرو لیکن اسے لے کر آؤ ۔
ٹھیک ہے سر میں کچھ کرتا ہوں آپ پلیز پریشان مت ہوں انشاءللّه اس لڑکی کے بارے میں سب کچھ پتہ چل جائے گا
میں جتنا جلدی ہو سکے اس کی ساری انفارمیشن نکال کر آپ کو دیتا ہوں وہ جلدی سے جلدی وہاں سے نکلنا چاہتا تھا نہ جانے یہ پاگل انسان اب اس سے کیا چاہتا تھا ۔
اس طرح کی دیوانگی اگر کوئی نوجوان دکھاتا تو بات کچھ اور تھی لیکن ایک ساٹھ سال کا بوڑھا اپنی ہوس مٹانے کے لئے یہاں ایک بیس سال کی لڑکی کی فرمائش کر چکا تھا ۔
کل وہ اپنے دوست کی شادی پر گئے تھے جہاں پر ایک لڑکی کو دیکھا اور جب سے اس لڑکی کو دیکھا تھا اس کا دیوانہ ہو چکا تھا وہ ہمیشہ سے ہی عیاش پسند رہا تھا اپنے بوس کی طبیعت سے وہ اچھے سے واقف تھا ۔
لیکن یہاں آ کر اس کے بوس کی ضد ایک الگ روپ اختیار کر چکی تھی ۔اس کا بوس ایک معصوم سی لڑکی کو بس ایک رات کے لیے اپنے بستر کی زینت بنانا چاہتا تھا ۔
اور وہ یہ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ آخر وہ لڑکی اسے کہاں سے لا کر دے وہ اسے جانتا تک نہیں تھا یہاں تک کہ اس نے تو شاید ایک نظر بھی مشکل سے ہی اسے دیکھا تھا اب کہاں سے تلاش کر کے لائے گا اس لڑکی کو ۔۔۔؟
اپنے بوس کو تو اس نے یقین دلایا تھا کہ وہ کہیں سے بھی اس لڑکی کو ڈھونڈ لائے گا لیکن یہ کتنا مشکل تھا یہ تو صرف وقار کو ہی پتہ تھا ۔لیکن اپنی نوکری بچانے کے لئے اسے ڈھونڈنا تو تھا ہی ۔
°°°°°°
سر میں نے اس لڑکی کے بارے میں سب کچھ پتہ لگا لیا ہے ۔یہ لڑکی زیادہ امیر نہیں ہے لیکن کچھ ہی دنوں میں اس کا نکاح ہونے والا ہے ۔
کیا مطلب ہے تمہارا میں کسی نکاح کو نہیں مانتا مجھے وہ لڑکی چاہیے ہر قیمت پر اسے لے کر آؤ میرے لیے یہ تمہارا کام ہے تم کیسے کروگے میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں ۔
لیکن سر میں کیسے لے کر آؤں اس کی شادی ہو رہی ہے اس کے گھر میں شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں یہ ممکن نہیں ہے سمجھنے کی کوشش کریں
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے کیسے سمجھائے اس آدمی نے سچ میں اس کا دماغ خراب کر دیا تھا۔
یہ سب میں نہیں جانتا وقار میں دبئی جا رہا ہوں دو مہینے کے لئے دومہینے کے بعد وہ لڑکی مجھے چاہیے ۔ان ٹچ کسی مرد نے اسے نگاہ بھر کر دیکھا نہ ہو کسی مرد نے اسے چھوا ہوا نہ ہو یاد رکھنا وہ میرے پاس آئے تو بالکل صاف آئے
سر مجھے کیا پتا کہ وہ ان ٹچ ہے یا نہیں وہ پریشانی سے بولا تھا
اب تک تو ہے اگر تمہاری غلطی سے کسی اور کی راحت کا سامان بن گئی تو میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا یہ بات یاد رکھنا ۔
سر میں پوری کوشش کروں گا لیکن اگر بعد میں اس میں کوئی خامی نکلی تو ۔۔۔۔”
شٹ اپ بکواس کرکے میرا وقت برباد مت کرو جتنا کہا ہے اتنا کرو تمہارے پاس صرف دو مہینوں کا وقت ہے یہ بات یاد رکھنا مجھے ہر قیمت پر وہ لڑکی چاہیے اور اسے لا کر تم مجھے دو گے ۔
دوسری طرف سے فون بند ہوچکا تھا جبکہ وقار اپنے موبائل کی بند سکرین کو گھور رہا تھا اس کے بس میں کچھ بھی نہیں تھا اس کا بوس اس کے حلق تک آ چکا تھا
وہ بھی ایک لڑکی کے پیچھے جس کی شادی تھی کچھ ہی دنوں میں وہ کیا کرے اس بوس کے لیے جس پر ہوس کا جنون سوار تھا ایک معصوم سی لڑکی کی زندگی تباہ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا ۔
اور وقار کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے وہ نہ تو اس لڑکی کی شادی کو روک سکتا تھا اور نہ ہی اسے لڑکیوں کو اغوا کرنا آتا تھا
اسے اپنی نوکری بے حد عزیز تھی اسی کے سہارے اس کی زندگی چل رہی تھی اس کا بوس اسے کم کام میں زیادہ تنخواہ دیتا تھا بے شک اس کے سارے کام لیگل نہیں ہوتے تھے لیکن پھر بھی وہ اپنی نوکری پوری ایمانداری سے کرکے ہی پیسے لیتا تھا ۔
یہ بھی اس کے کام کا حصہ تھا وہ اپنے بوس کو لڑکیاں بھی لا کردیتا تھا لیکن اس دفعہ اس کے بوس نے اسے بہت مشکل کام دے دیا تھا ۔اس دفعہ وہ بہت برے طریقے سے پھنس چکا تھا
°°°°°°°
تھوڑی دیر میں مولوی صاحب آنے والے ہیں ان کی آتے ہی ہم نکاح کے رسم ادا کریں گے ۔
بھابی نے اندر داخل ہوتے ہوئے بتایا تھا اور وہ جو لہنگے میں تیار بیٹھی اپنی ہونے والی زندگی کا فیصلہ سن رہی تھی ۔خاموشی سے اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کو پیچھے دھکیلتی ہاں میں سر ہلا گئی تھی ۔
بہت اچھا لڑکا ہے بہت بڑے خاندان سے ہے ۔یہ مت سوچنا کے ہم نے جلد بازی میں تمہیں کسی کے بھی پلے باندھ دیا ۔
تمہارے بھائی نے بہت سوچ سمجھ کر تمہاری شادی کا فیصلہ کیا ہے میری جان پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بھابھی کو آخر کار اس کی حالت پر ترس آ ہی گیا تھا تب ہی وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ کر اسے سمجھانے لگی ۔
آج تک بھابھی کے منہ سے اس نے کبھی اتنا نرم لہجہ نہیں سنا تھا لیکن آج ان کے الفاظ سن کر اس نے ان کے کندھے پر سر رکھ دیا تھا ۔اس کے سسکنے پر بھابھی کو اس کے میک اپ کے فکر کھائے جانے لگی
کیا کر رہی ہو پاگل ہو گئی ہو ہیر سارا میک اپ خراب کر دو گی تم ابھی نکاح ہونے والا ہے ۔ایسا کون کرتا ہے بے وقوف میری شادی ہوئی نہ مجھے بھی بہت رونا آ رہا تھا لیکن یہ وقت ہوتا ہی خود کو سنبھال کر رکھنے والا ہے وہ پیار سے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہنے لگی دو ماہ پہلے وہ کتنی خوش تھی اس کی ماں زندہ تھی اس کو سنبھالنے کے لیے ۔
وہ صرف دو بہن بھائی ہی تھے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بابا نے ایک رات خاموشی سے ساتھ چھوڑ دیا ۔
شروع شروع میں تو بھائی نے ہر جگہ خوب نخرا اٹھایا لیکن بعد میں اسے احساس ہوا کہ باہر ملک جاکر وہ یہاں سے بہتر کمائی کر سکتا ہے بس پھر باہر جانے کا ایسا جنون سوار ہوا دیکھا ہی نہیں اور وہ باہر کو نکل گیا ۔
تین چار سال سعودیہ میں خوب کمائی کر کے واپس آیا تو امی کو اس کی شادی کی فکر ہونے لگی پھر کیاخاندان میں سب سے اچھی اور خوبصورت لڑکی کو بیاہ کر اپنی بہو کے روپ میں لے آئیں ۔
شروع شروع میں تو سب کچھ اچھا رہا شادی کے چند دن رہ کر بھائی واپس سعودی عرب چلا گیا ۔
ابھی بھی اس کی پڑھائی کی فکر میں ہلکان ہو رہا تھا جب بیوی نے کہہ دیا کہ اس کو بھی وہاں بلا لیا جائے ۔
امی کو یہ بات کچھ پسند نہیں آئی وہ ہمیشہ یہی کہتی کہ پہلے ہیر کی پڑھائی کے بارے میں سوچو یہ اپنے آپ کو سنبھالنے کے قابل ہو جاۓ گی تب لے جانا اپنی بیوی کو اپنے پاس ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ مت بھولو کہ بوڑھی ماں اور جوان بہن ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔
ان کی بہو نے تو ایسے بیٹے کو اپنے ہاتھ لیا تھا کہ وہ بہو کی ہر بات کو صحیح کہتا ۔
اماں کا فلحال ہیر کی شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ چاہتی تھی کہ وہ خوب پڑھے لکھے اور اپنے باپ کا نام روشن کرے ۔لیکن ایسے خواب صرف ماں باپ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔اماں کو ایک رات اچانک طبعیت خراب ہو جانے کی وجہ سے ہسپتال لے کر گئے تو پتہ چلا کی کینسر جیسے جان لیوا مرض کی لپیٹ میں آ چکی ہیں ۔
بس پھر کیا اماں کو بیٹی کی فکر ہونے لگی ۔اور بہو کو اس کی شادی کی فکر لگ گئی ۔وہ اپنے ہی خاندان میں الگ الگ جگہ اس کے لیے رشتے تلاش کرنے لگی ۔
یقینا ساس کی فکر تو اس کو رہی نہیں تھی اب فکر تھی تو صرف اس ایک نند کی ڈر تھا کہ کہیں ماں کے گزرنے کے بعد بہن کی محبت نہ بھائی کے دل میں جاگ جائے اسی لیے ہمدردیوں کے تمام تر ریکارڈ توڑتے ہوئے اس نے بھی اپنی جان لگا دی۔
لیکن کوئی بھی رشتہ قابل قبول نظر ہی نہیں آیا اور آخرکار ایک دن اپنے آپ ہی ایک رشتہ انکے گھر آیا پتا چلا کے وہ ہیر کی کسی سہیلی کا دور کا کزن ہے اور ہیر کو شادی پر دیکھ کر اس کے لیے رشتہ لے کر آیا ہے ۔
بس ماں کو رشتہ پسند آ گیا اور وہ منگنی کے بعد دو سال کا شادی کا وقت رکھنا چاہتی تھی کیونکہ وہ چاہتی تھی ہیر اس رشتے کو سمجھنے کے قابل بن جائے ۔
لیکن بھابھی اس چیز کے لیے تیار نہ تھی ان کا کہنا تھا کہ ماں کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں وہ ایک جان لیوا مرض کی لپیٹ میں ہیں لیکن امی اپنی بات پر ڈٹے رہی اور بھائی کو بھی دنیا سے جانے سے پہلے وصیت کر دی کہ جب تک ہیر بیس سال کی نہ ہوجائے تب تک اس پر زور نہ ڈالا جائے اماں تو دنیا سے رخصت ہوگئی لیکن اسے امید تھی کہ بھائی اس کا ساتھ ضرور نبھائے گا ۔
لیکن بھائی کو تو جیسے صرف بہانہ چاہیے تھا منگیتر صاحب کی طرف سے ذرا سا زور ڈالا گیا ماں کہ جانے کے دو مہینے کے کے بعد ہی اس کے گھر بارات آ گئی تھی ۔
اور اب وہ خاموشی سے بیٹھی نکاح نامہ پر سائن کر رہی تھی ۔اسے پتہ چلا تھا کہ اس کے ولیمے میں اس کے بھائی اور بھابھی شامل نہیں ہوں گے کیونکہ بھائی بھابھی کو کل صبح ہی اپنے ساتھ سعودی عرب لے کر جا رہا ہے وہ اس کے سارے پیپر تیار کروا چکا تھا
بس اسے ہی لاعلم رکھا گیا تھا ۔اسے اب تک یقین نہ آیا اس کا بھائی اسے اس طرح بے آسرا بے سہارا چھوڑ کر جارہا تھا
اس نے باتوں ہی باتوں میں اپنے بھائی سے اس بات کا ذکر کیا تو اس نے کہہ دیا کہ وہ کوئی انجان تو نہیں ہے تمہارے لیے تم لوگوں کی اتنے مہینے منگنی رہی ہے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے ۔ایک دوسرے سے واقف ہو اور وہ کونسا لمبی چوڑی خاندان برداری رکھتا ہے جو تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت ہے ۔
تم اچھے سے رہنا اس کے ساتھ وہ بھی تمہارے ساتھ اچھے سے رہیں گے جو تم اپنی بھابھی کے ساتھ کرتی ہو ویسا کچھ بھی مت کرنا بھائی کے یہ الفاظ اسے بری طرح سے توڑ گئے تھے اس نے اپنی بھائی کی ڈیڑھ سالہ زندگی پر نظر ڈالی تو اسے ایسا کوئی سلوک یاد نہ آیا بھابھی کے ساتھ جس کا ذکر اس کا بھائی کر رہا تھا ۔
جو بھی تھا زندگی تھی جو اس نے گزارنی تھی اس کا بھائی اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا اب اسے خود اپنا گھر بسانا تھا ۔
رخصتی پر بھی اس کی بھابھی اس کے کان میں بس یہی بولتی رہی کہ زیادہ رونا دھونا کرنے کی ضرورت نہیں ہے میک اپ خراب نہیں ہونا چاہیے بہت مہنگے پالر سے کروایا ہے کم از کم سسرالی رشتہ داروں کو تو دیکھنا ہے تمہیں ۔
اور بھائی اس نے بھی کیا رخصت کیا ایک بوجھ تھا جو اپنے سر سے اتار دیا تھا ۔
°°°°°°
اس کے سسرالی رشتہ دار زیادہ نہیں تھے شادی میں بس چند ایک گاڑیاں ہی تھی جو اسے رخصت کروانے کے لیے آئی تھیں۔
اس کی ساس نے تو دہیج میں اچھا خاصہ منہ پھاڑ کر جہیز مانگا تھا لیکن بھائی بھابی نے غربت کی وہ وہ داستانیں سنائی کہ وہ بھی خاموش رہ گئی لیکن اندر ہی اندر اسے اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے یہ ملال کھائے جا رہا تھا کہ وہ خالی ہاتھ آئی ہے ۔
اماں کی مہربانی سے تھوڑا بہت جو جوڑ کر رکھا تھا دنیاداری کے لئے بھائی نے اس کے حوالے کر دیا تھا لیکن خود سے بس جو شادی کروانے کا خرچہ اٹھا لیا تھا اتنا ہی کافی تھا ۔
اس کی بھابھی تو اتنے میں ہی غریب ہو گئی تھی ۔
چلو تمہارے بھائی نے دیا دلایا تو کچھ نہیں لیکن ہمیں بہو خوبصورت مل گئی اسی پر گزارا کر لیں گے ۔ویسے تمہارے بھائی بھابی صبح سویرے ہی یہاں سے نکلنے والے ہیں تو ہمارا گھر تو مہمانوں سے بھرا ہوگا تم کیسے جاؤ گی ان سے ملنے کے لیے اسے لا کر کمرے میں بٹھایا گیا تو اس کی ساس اس سے باتیں کرنے لگی ۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ خود نہیں آئیں گے مجھ سے ملنے کے لئے یہاں ۔۔۔۔؟اس کا دل بہت زیادہ گھبرا رہا تھا ایسے میں لڑکی کے گھر کی طرف سے کسی ایک رشتہ دار کا ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے لیکن یہاں اس کے پاس کوئی بھی نہیں تھا
ارے کہاں ان لوگوں نے تو کہا ہے کہ اگر ممکن ہوسکے تو تمہیں ان سے ملوانے ایئرپورٹ پر لے آیا جائے لیکن تم بھی بچی تھوڑی ہو خود سوچو اگر شادی کی پہلی صبح ہی دلہن کو گھر سے کہیں باہر لے جایا جائے تو کتنا برا لگے گا خیر چھوڑو ان سب باتوں کو میں بھی کیا فضول چکروں میں پڑ رہی ہوں تھوڑی دیر میں سعد آنے والا ہوگا ۔
اس کے دوست آئے ہوئے ہیں باہر ان لوگوں نے بٹھایا ہوا ہے تم تھوڑی دیر یہاں بیٹھو میں ذرا مہمانوں کو دیکھتی ہوں اور سعد کو بھی اندر بھیجتی ہوں ۔
وہ اس کے قریب سے اٹھ کر باہر جانے لگی مانا کہ کچھ لے کر نہیں آئی تھی لیکن اس کا خوبصورت چہرہ ان کے رشتہ داروں کو جلانے کے لیے کافی تھا اور وہ تو اپنی بہو کی اس خوبصورتی پر صدقے واری جا رہی تھی ۔
اپنے بیٹے کے لیے انہوں نے اپنے خاندان کی ہر خوبصورت لڑکی کا ہاتھ مانگا تھا لیکن سعد کی اچھی نوکری نہ ہونے کی وجہ سے تقریبا سارے ہی رشتوں پر انکار ہو گیا تھا اور اب ان سے بدلہ لینے کے لئے وہ سب سے خوبصورت لڑکی کو اپنے خاندان کی بہو بنا کر لے آئی تھی اب اتنا تو بنتا تھا ۔
اور پھر سعد کے تایا کے بیٹے کی وجہ سے سعد کی بہت اچھی نوکری بھی لگ گئی تھی ۔
اب تو ان کی چپ ہی نرالی تھی
°°°°°°
اپنے بھائی کی بے وفائی کا غم تو اسے بہت تھا لیکن اب اس نے اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنا تھا یہ سب کچھ اس کے لیے بہت مشکل تھا ۔
سعد کے ساتھ سات مہینوں سے اس کی بات چل رہی تھی لیکن ایک حد میں کیوں کہ ہمیشہ سعد سے بات کرتے ہوئے اپنی اماں کے سامنے رہتی تھی اس نے سعد سے بھی یہ بات صاف لفظوں میں کہہ رکھی تھی کہ اماں سامنے بیٹھی ہوئی ہیں کبھی کبھی تو سعد اس بات سے خاصہ بد مزا ہو جاتا تھا کم ازکم اماں کا پلو چھوڑ کرمجھ سے بات کر لیا کرو لیکن اسے ڈر لگتا تھا کہ سعد پتہ نہیں اس سے کس طرح کی بات کرے گا ۔
لیکن یہ بھی خدا کی کرم نوازی تھی کہ ماں کی موجودگی کی وجہ سے سعد نے کبھی اس سے الٹی سیدھی کوئی بات نہیں کی تھی بس حال چال پوچھ کر فون بند کر دیتا ۔
اور ماں کی وفات کے بعد وہ تو اس صدمے سے نکلنے میں ہی اچھا خاصہ وقت لے چکی تھی ۔اس کی ماں اس دنیا میں اسے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی ہے اور پھر جب ایک رات سعد نے فون کیا ۔تب اس نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اب وہ فون پر زیادہ لمبی گفتگو نہیں کر سکتی اسے صبح اٹھ کر بھابھی کو ہزار طرح کی باتوں کے جواب دینے پڑتے ہیں
اور یہ اس دن سے اگلے دن کی بات تھی جب سعد نے شادی پر زور ڈالنا شروع کر دیا ۔اور آج وہ اس وقت اس کے کمرے میں بیٹھی اسی کے آنے کا انتظار کر رہی تھی
