Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junon)Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junon)Episode 25
وہ اتنی بے بس ہو جائے گی یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔
ایام کی نگاہوں کی سرخی اس بات کی گواہ تھی کہ اگر اس نے اس کی مرضی کے خلاف کچھ بھی کیا تواب وہ نرمی سے پیش نہیں آئے گا ۔
اب تو وہ اس کے بارے میں یہ تک جان چکاتھا کہ وہ اسے دھوکہ دے کر یہاں سے بھاگنے والی تھی ۔اب وہ اسے معاف نہیں کرنےوالا تھا۔یہ سوچ ہی اس کی جان لے رہی تھی ۔
اس نے یہاں آکربہت بڑی بےوقوفی کی تھی۔
اسے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا ۔ جب ساری چیزیں اس کے ہاتھ لگ چکی تھی تو اسے آج ہی ایام پر یہ بات ظاہر کر دینی چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کے بلانے پر سعودیہ جانے والی ہے ۔
لیکن سعدنے اسے بلا کر اس کا سارا کام خراب کر دیا تھا ۔
اور جو اس کا بھائی اس کے ساتھ کرنے والا تھا ۔۔۔۔۔؟
وہ کہاں اس قابل تھا کہ وہ اس کے پاس جاتی ۔۔۔۔؟
لیکن وہ ایام پر یقین کیوں کر رہی تھی ممکن تھا کہ وہ صرف اسےاس سےبد گمان کرنے کے لیے جھوٹ بول رہا ہو۔
لیکن اتنی بڑی بات وہ وہ اتنی دعوے سےکیسے کہہ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔؟
وہ الجھ کر رہ گئی تھی اس وقت اس کے پاس یہ سب کچھ سوچنے کا وقت نہیں تھا اس وقت وہ صرف ایام کو روکنا چاہتی تھی اور ایام کے ارادے رکنے والے نہیں تھے ۔
وہ اپنی بات پر قائم تھا اس وقت وہ مسجد میں پردے کے ایک طرف تھی جبکہ دوسری طرف بہت سارے مرد حضرات تھے ۔
ایام اسے یہاں چھوڑ کر جانے سے پہلے کہہ کر گیا تھا کہ اگر اس نے مولوی صاحب کے سامنے انکار کیا تو اس کی اگلی منزل قبر ہی ہوگی ۔
بے شک وہ خود کو اس کے سامنے کتنی ہی بہادر ظاہر کیوں نہ کرے لیکن وہ تھی ایک کمزور اور بے بس لڑکی۔
اور موت کا ڈر کسے نہیں ہوتا وہ بھی ڈرتی تھی مرنے سے اور ایسی موت مرنے سے کس کو ڈر نہیں لگتا ۔۔۔۔۔؟
وہ دوسری طرف پتا نہیں کون سے انتظامات میں مصروف تھا جب اچانک اسے دوسری طرف سے روحی کی معصومانہ آواز سنائی دی تھی تانیہ اور مس میری اس کے ساتھ یہاں آ رہی تھیں ۔
اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھوڑی ہی دیر میں پردہ ہٹا کر وہ لوگ اس طرف داخل ہوئیں تو روحی بھاگتے ہوئے اس سے آ کر لپٹ گئی تھی ۔
بابادانی تہہ رے ہیں تہ آد ہی اپ میلی مامادانی بننےوالی ہیں(بابا جانی کہہ رہے تھے کہ آج ہی آپ میری ماما جانی بننے والی ہیں )
وہ بہت خوشی سے اس سے لپٹی ہوئی بول رہی تھی جبکہ تانیہ جو پریشان سی اسے دیکھ رہی تھی اس کے بکھرے بالوں کو دیکھ اور پریشان ہوئی تھی۔
ہیر تم نے ایسی حرکت کیوں کی یار تم نے ایام سر کو غصہ کیوں دلایا ۔تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کتنی محبت سے وہ تمہارے لئے تمہاری خوشی کیلئے یہ سب کچھ کر رہے تھے اور تم نے ۔۔۔۔۔وہ اس سے سخت خفا لگ رہی تھی
تانیہ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی پلیز سمجھنے کی کوشش کرو میں ایام سے شادی نہیں کروں گی کچھ کرو تانیہ پلیز کچھ ایسا کرو کہ ایام انکار کر دیں ۔
ان سے کہوکہ مجھے تھوڑا وقت چاہیے ان سب چیزوں کو قبول کرنے کے لئے میں وعدہ کرتی ہوں میں اب ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گی جو انہیں غصہ دلائے لیکن فی الحال میں شادی کے لیے تیار نہیں ہوں ۔
ہیر تانیہ کو اپنی آخری امید کی طرح دیکھ رہی تھی لیکن تانیہ اس معاملے میں اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی جو غلطی ہیر نے کی تھی وہ سچ میں بہت بڑی تھی
وہ اس پر یقین کر رہا تھا اسے اس کے حال پر چھوڑ رہا تھا اسے وقت دے رہا تھا لیکن وہ اندر ہی اندر اسے دھوکا دے رہی تھی اس کے ساتھ گیم کھیلنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
اب تو وہ اسے کسی قیمت پر معاف نہیں کرنے والا تھا ایسے میں تانیہ اپنے آپ کو کسی مصیبت میں نہیں ڈال سکتی تھی
اس نے آہستہ سے شاپر سے ایک بڑا سا خوبصورت ڈوپٹہ نکالتے ہوئے اس کے سر پر پھیلا دیا ۔
میں جانتی ہوں اس وقت میں تمہیں بہت بری لگ رہی ہوں گی شاید تم مجھے اپنا دشمن سمجھ رہی ہو گی لیکن آگے جاکر تمہیں یہ میرا قدم زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ لگے گا ۔
ایک مخلص دوست ہونے کے ناطے میں تمہیں اتنا ہی کہوں گی کہ ایام سر تمہارے لیے ایک بہترین جیون ساتھی ہیں ۔
تم ان کے ساتھ بہت خوش رہو گی وہ کبھی تمہاری زندگی میں کوئی تکلیف نہیں آنے دیں گے وہ بہت اچھے انسان ہیں اور تمہیں بہت خوش رکھیں گئے۔
میری نیک تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں اللہ پاک تمہاری نئی زندگی کو خوشیوں اور رنگوں سے بھر دے وہ اس پر دوپٹہ پھیلاتے ہوئے دعائیں دے رہی تھی۔
جب کہ وہ حیرت سے تانیہ کو دیکھ رہی تھی جو اس کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی بلکہ اس کی ہر بات ہر آنسو کو مکمل نظرانداز کئے اپنی ہی باتیں کرنے میں مگن تھی ۔
تانیہ تم تو میری دوست ہو تم تو مجھے سمجھو پلیز خدا کے لئے مجھے اس مصیبت سے نکالو ۔
اس نے تانیہ کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے ۔
مس میری میری مدد کریں تھوڑی دیر میں مولوی صاحب اندر آنے والے ہوں گے دلہن کو اس حالت میں دیکھ کر کیا سوچیں گے وہ لوگ ۔۔۔۔۔؟
وہ ایک بار پھر سے اسے نظر انداز کرتی مس میری کی طرف متوجہ ہوئی جو اس کے کہنے پر فورا آگے بڑھتے ہوئے اس کا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی تھی ۔
جبکہ روحی کبھی اس طرف تو کبھی اس طرف جا رہی تھی ۔اسے تو بس اتنا پتا تھا کہ اس کی دوست آج اس کی ماما جانی بن جائے گی ۔
بابا دانی اور بت شارے انتل آرے ہیں (باباجانی اور بہت سارے انکل آرہے ہیں)روحی نے اندر جھانک کر بتایا تو تانیہ اور مس میری ایک طرف ہوگئی ۔جب کے ہیر کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی تھی
°°°°°°°°
ہیر راشد خان ولد راشد خان آپ کا نکاح ایام سکندر ولد سکندر شاہ سے کیا جا رہا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔۔۔؟
تیسری دفعہ مولوی صاحب کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی ۔
اور ہر بار کی طرح آواز کے ساتھ اس کی آنکھوں کے سامنے ایام کی کی ریولور لہرا گئی تھی اس کے انکار کرنے پر وہ جو دھمکی دے کر گیا تھا کارآمد ثابت ہوئی تھی ۔
اس نے چپ چاپ اس کی بات مان کر اپنی آتی جاتی سانسوں کی ملکیت اس کے ہاتھ میں تھما دی تھی ۔
قبول ہے کے ساتھ ہی مبارکباد کا شور بلند ہوا تو تھوڑی ہی دیر میں مولوی صاحب کے ساتھ آئے چند لوگ اٹھ کر باہر چلے گئے تھے تانیہ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا جب کہ وہ خاموشی سے یہ سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی
جب سعد کے ساتھ اس کا نکاح ہوا ۔تب وہ بہت ساری ٹینشنوں کے زیر اثر تھی ایک طرف اس کی بھابھی تھی جو اس پر بہت خرچہ کر رہی تھی اس کا رونا رو رہی تھی اور دوسری اسے طرف اپنی ہونے والے ہم سفر اور سسرال کو سمجھنے کی ٹینشن تھی
لیکن اس وقت وہ ہر طرح کی ٹینشن سے آزاد بیٹھی تھی اس وقت میں اسے کسی چیز کی ٹینشن تھی توایام کے ری ایکشن کی
پتا نہیں اب اس کی زندگی میں کیا ہونے والا تھا وہ اس کے ساتھ نکاح کر چکی تھی اسے اپنا محافظ بنا چکی تھی نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس نکاح کو دل سے قبول کر گئی تھی کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی کہ اب ایام پیچھے نہیں ہٹے گا
وہ سمجھ گئی تھی کہ اب ایام اسے اپنی زندگی میں شامل کرکے ہی دم لے گا اور اس نکاح کو دل سے قبول نہ کر کے وہ خدا کی نظروں میں گناہگار نہیں ہو سکتی تھی ایک وہی تو تھا اس کا واحد سہارا ۔
وہ اس کا سب سے پسندیدہ کام کرنے جارہی تھی تو پھر اس میں وہ کسی طرح کی بےایمانی نہیں کر سکتی تھی ۔
اس نے اپنے دل کی تمام تر رضامندی سے ایام سکندر کو اپنا ہم سفر قبول کر لیا تھا ۔اور ایام سے کہیں زیادہ اس نے روحی کو قبول کیا تھا ۔
اس نے دل سے بس ایک دعا مانگی تھی کہ اللہ کبھی اسے روحی کی سوتیلی ماں نہ بنائے کبھی اس کے دل میں سوتیلا پن نا جگائے ۔
وہ روحی کو اسکی سگی ماں بن کر پالنا چاہتی تھی اور جہاں تک ایام کا سوال تھا تو اب اگر زندگی اس کے ساتھ جڑ ہی گئی تھی تو اسی اس کو قبول تو کرنا ہی تھا ۔
اس وقت وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی جب روحی بھاگتی ہوئی اندر آئی
°°°°°°
(یہ لے مامادانی مٹائی تھائیں )یہ لیں ماماجانی مٹھائی کھائیں
یہ آدی بابادانی نے تھائی اے اول ادی اپ تےلیے( یہ آدھی بابا جانی نے کھائی ہے اور آدھی آپ کے لئے
وہ اس کے منہ میں مٹھائی کا ٹکڑا ڈالتے ہوئے بولی تھی ۔
اس نے پوری بات اسے مٹھائی کھلانے کے بعد بتائی تھی جس پر وہ چاہ کر بھی اس مٹھائی کو منہ سے نکال ناسکی جو اس سے پہلے ایام کے پاس سے ہو کر آئی تھی ۔
نکاح مبارک ہو میری جان تانیہ نے اس کو اپنے ساتھ لگا کر مبارکباد دی تومس میری نے بھی اسے کانگریچولیشن کہہ کر مٹھائی کا ٹکرا اٹھا کر اس کے منہ میں ڈالا تھا بالکل تانیہ کی نقل کرتے ہوئے ۔
جب تانیہ کے موبائل پر میسج آیا ۔
ہیر میں اور مس میری جا رہے ہیں ہمیں گھر جاکر نئی دلہن کے ویلکم کی تھوڑی بہت تیاری کرنی ہوگی تم سر کے ساتھ آجانا ۔
روحی بھی ہمارے ساتھ جا رہی ہے اس نے بھی اپنی ماما جانی اور بابا جان کے لیے کچھ کرنا ہے وہ روحی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اٹھ گئی تھی جبکہ وہ حیرانگی سےانہیں دیکھ رہی تھی تو کیا وہ اسے ایام کے پاس اکیلا چھوڑ کر جا رہی تھی ۔
تانیہ پلیز ہم ساتھ چلتے ہیں نہ وہ اس کا ہاتھ تھام چکی تھی۔
نوڈارلنگ سر کا آرڈر ہے جسے ہمیں فالو کرنا پڑے گا سر نے کہا ہے کہ تم ان کے ساتھ آؤ گی اور ویسے بھی تو رخصتی دولہے کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔
ہم جا کر تب تک تمہارے ویلکم کی تیاری کرتے ہیں وہ مسکرا کر اس کا گال چومتے ہوئے مس میری کے ساتھ روحی کو اٹھائے باہر نکل گئی تھی اور اب وہ بالکل اکیلی یہاں بیٹھی ہوئی تھی ۔
اس نے اپنا موبائل تلاش کرنا چاہا تھا۔
لیکن اس کا موبائل اس کے پاس نہیں تھا شاید جہاں سے اس آدمی نے اسے بے ہوش کیا تھا وہیں کہیں گر گیا تھا ۔۔۔
اب وہ اپنے بھائی سے کیسے رابطہ کرے گی۔وہ اسے کیسے بتائے گی کہ وہ یہاں کتنی بڑی مصیبت کا شکار ہوگئی ہے ۔
وہ بہت پریشان تھی جبکہ اپنی آنے والے وقت کو سوچ کر اس کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا تھا اس کی زندگی کون سا موڑ اختیار کرنے والی تھی
یہ سوچ کر ہی اس کی جان ہوا ہو رہی تھی پتہ نہیں ایام اب اس کے ساتھ کیسا سلوک کرے گا کیا وہ اس بات پر اسے ذلیل کرے گا کہ وہ اسے دھوکہ دے کر یہاں سے بھاگ رہی تھی ۔
وہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی ۔ابھی تک باہر سے لوگوں کے باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
جبکہ وہ مسجد سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لگی لیکن پھر سوچ کر وہیں ایک کونے میں بیٹھ گئی کہ اگر یہاں سے بھاگ بھی جائے تو کہاں تک جائے گی۔
اب ایام سکندر کا نام تو اس کے نام کے ساتھ جڑ چکا ہے جو شاید اب کبھی بھی اتر نہیں سکتا تھا ۔
اب جو بھی تھا جیسا بھی تھا ایام سکندر اس کا شوہر تھا اور اسے قبول کرنا تھا ۔
اسے اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا وہ گھٹنوں میں سردیے بیٹھ کر رونے لگی ۔
اسے اپنی زندگی سے کچھ اچھا ہونے کی امید کبھی بھی نہیں تھی لیکن اس کے ساتھ اتنا برا ہوگا یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا سعد کے دھوکے پر بھی وہ سنبھل گئی تھی وہ آگے بڑھنے کی کوشش کرنا چاہتی تھی۔
لیکن اب جب سب کچھ ٹھیک ہونے والا تھا وہ اپنے بھائی کے پاس جانے والی تھی تب یہ ہوگیا تھا جو شاید وہ کبھی بھی نہیں چاہتی تھی
°°°°°°
وہ وہی گھٹنوں میں سردیے مسلسل روئے جا رہی تھی جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے بے حد قریب ہے۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھنا چاہا تواسے اس کے بوٹ نظر آئے تھے وہ جانتی تھی کہ اس کے پاس کون کھڑا ہے اور ویسے بھی اس کے اتنے پاس آنے کا حق تو اب صرف وہی محفوظ رکھتا تھا ۔
فرمالیا تم نے رونے دھونے کا شغل تو اٹھو گھر چلیں ۔اب میں سارا دن یہاں کھڑے ہو کر انتظار نہیں کر سکتا کہ کب تم اپنا یہ شوق پورا کرو گی اور اس کے بعد میں کوئی اور کام کروں گا اس کا لب و لہجہ طنز میں ڈوبا ہوا تھا ۔
مجھے کہیں نہیں جانا اس کے انداز نےاس کے اندر دبی انا کو سر اٹھانے پر مجبور کر دیا تھا ۔
تمہیں سچ میں لگتا ہے کہ میں تمہارا یہ جواب سننے کے لیے یہاں کھڑا ہوں اس کا انداز آہستہ آہستہ سختی پکڑ رہا تھا ۔یقیناً وہ اپنے پہلے والے انداز میں واپس آنا چاہتا تھا ۔
میری بات کان کھول کر سن لیجئے مسٹر ایام سکندر اب آپ میرے ساتھ کسی طرح کی زبردستی نہیں کر سکتے ۔اگر آپ نے مجھے نکاح کرنے پر مجبور کر لیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں آپ کی پابند ہو گئی ہوں۔یا آپ مجھ پر اپنا حکم چلا سکتے ہیں ۔اب آپ مجھ پر کسی طرح کی کوئی دھونس نہیں جما سکتے سمجھے آپ ۔۔۔۔۔۔؟
وہ اچانک اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے اس کے روبرو آتی انگلی اٹھا کر اسی چیلنجنگ انداز میں وارن کر رہی تھی ۔
ہوگئی بکواس یا ابھی کچھ باقی ہے وہ آنکھوں میں شرارے لیے اسے گھورتے ہوئے بولا تھا مطلب صاف تھا کہ وہ اب اس کی کوئی بدتمیزی برداشت نہیں کرنا چاہتا لیکن اس کے غصے سے ڈر کر یا اس کے سامنے خود کو کمزور ثابت کرکے وہ اسے خود پر شیر بھی نہیں ہونے دے سکتی تھی ۔
مجھے کہیں نہیں جانا اس نے جیسے بات ہی ختم کرنی چاہی تھی جب اچانک اگلے ہی لمحے وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا وہ جو توازن برقرار نہ رکھ پائی اور اگلے ہی لمحے اس کی باہوں میں آ چکی تھی ۔
مجھے ہمیشہ ایسی بیوی چاہیے تھی جو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔مجھ سے اپنی بات منوانے کا ہنر رکھتی ہو۔مجھے خوشی ہے کہ تم کچھ حد تک میری پسند کے مطابق ہو
لیکن ایک بات کان کھول کر سن لو مسز ایام سکندر اس طرح کے نخرے میں تب برداشت کروں گا جب تم خود کو میری پسند کے مطابق ڈھال لو گی ۔
مجھے زبان چلانے والی ۔۔۔۔”بدتمیزی کرنے والی ۔۔۔۔۔۔”اور بد اخلاق بیوی نہیں چاہئے لیکن اب مل گئی ہے تو سدھارنا بھی اچھےسے جانتا ہوں میں ۔مجھے مجبور مت کرو خود پر سختی کرنے کے لئے ۔
ورنہ پھر تمہیں آگے جاکر مجھ سے شکایت ہوگی کہ شادی کے اولین دن جب ہسبنڈ وائف رومینٹک پیریڈ کو جی رہے ہوتے ہیں میں نے تمہیں سدھارنے میں برباد کردیے ۔
میں آپ کی یہ ساری فضول ۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے کرتے ہوئے بولی ۔
جب اچانک وہ اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے اس کے اس کے لفظوں کو اپنے لبوں میں روکنےلگا۔
توبہ بیوی اپنی اداؤں پر کنٹرول کرو ہم مسجد میں کھڑے ہیں ۔وہ اس کے لبوں کے بجائے اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے اس انداز میں بولا کہ وہ اندر تک کانپ اٹھی۔
میرے خیال میں ہمیں یہاں مزید نہیں رکنا چاہیے ۔وہ اس سے کہہ رہا تھا یا خود ہی سے بول رہا تھا ہیر سمجھی نہیں لیکن اگلے ہی لمحے وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر کی طرف لے گیا تھا
وہ مزاحمت کرنا چاہتی تھی اسے روکنا چاہتی تھی وہ خود کو اس کے حوالے نہیں کر سکتی تھی اسے یہاں نہیں رہنا تھا اسے اپنے بھائی کے پاس جانا تھا ۔
وہ ایک ایسے انسان کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی وہ اپنی مرضی سے جینا چاہتی تھی وہ ایام سکندر کی قید میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔
لیکن وہ اب اس کی ساری راہیں بند کر چکا تھا ۔اسے اپنے نکاح میں لے کر وہ اسے اپنا زندگی بھر کے لئے پابند کر چکا تھا ۔
لیکن وہ اپنی سانسوں کی ڈوری اس شخص کے نام کیوں کرتی ۔۔۔۔”
وہ اسےاپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے لارہاتھا گاڑی کا دروازہ کھول کر اس نے اس سے فرنٹ سیٹ پر بٹھایاتھا جب اچانک اس کا فون بجنے لگا ۔
ہاں بولو امجد ۔۔۔۔”وه گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا
کوئی بات نہیں ایک ہی مرا ہے نہ باقی سب تو زندہ ہیں ان سے پوچھو کہ کون ہے ان کا بوس اور کہاں سے ملے گا مجھے ۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی جو کسی کے مرنے کی بات اتنے سکون سے کر رہا تھا ۔
ٹھیک ہے میں خود ہی آ کر باقی کی انفارمیشن ان سے لے لوں گا ۔
وہ پرسکون سا کہتا فون بند کر چکا تھا ۔
اتنے برے حلیے میں ہوں۔بیوی دیکھنے کے قابل تو ہرگز نہیں ہوں اسے خود پر نظریں جمائے دیکھ کر وہ دل فریب انداز میں مسکرایا تو وہ اگلے ہی لمحے نظرپھیرکر باہر دیکھنے لگی
