Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junon) Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junon) Episode 24
ہیر عجیب سی جگہ پر پہنچی تھی اس کے لئے یہاں پہنچنا مشکل تو نہیں رہا تھا۔کیونکہ لوکیشن کی وجہ سے یہاں آسانی سے پہنچ گئی تھی ۔ لیکن جگہ کھنڈر نما تھی ۔
دیکھنے میں تو یہ بہت پرانی سی جگہ معلوم ہوتی تھی ۔اور یہ چھوٹی ہرگز نہیں تھی۔یہ کھنڈر دور دور تک پھیلا ہوا تھا اس علاقے میں ایسی بھی کوئی جگہ ہے اسے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔
اس طرح کی جگہ اس نے پہلے کبھی دیکھی ہوئی نہیں تھی اس لیے کافی زیادہ پریشان تھی کہ وہ یہاں سے کس طرف جائے ۔
اس جگہ کی خاموشی اور ویرانی دیکھتے ہوئے اسے عجیب سے خوف نے آ گھیرا تھا شاید وہ غلط جگہ پہنچ ائی تھی سوچ کر اس نے ایک بار پھر سے لوکیشن چیک کی تھی۔
وہ بالکل صحیح جگہ پر پہنچی تھی لیکن اب وہ کہاں جائے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہاں تو کوئی انسان تھا ہی نہیں ۔
جس سے وہ کچھ نہ کچھ پوچھ یا کہہ پاتی یہ بہت عجیب طرح کی جگہ تھی ۔نجانے سعد نےاسے کس طرف بلایا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
وہ آگے کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے اس عجیب وغریب طرح کے کھنڈر میں داخل ہوگئی تھی۔بڑا بڑا گھاس جو اس کے قد کے برابر آرہا تھا شاید نہیں یقینا یہاں سالوں سے صفائی نہیں ہوئی تھی ۔اس کا آگے جانا ٹھیک بلکل نہیں تھا ۔
یہاں تو دور دور تک راستہ بھی نہیں تھا پتا نہیں وہ کس طرف آ گئی تھی۔
مجھے اس طرف آنا ہی نہیں چاہیے تھا مجھے واپس چلے جانا چاہیے ۔یہی بہتر ہے اس نے سوچتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہا جب اپنے سامنے ایک اونچے لمبے ہٹے کٹے آدمی کو دیکھ کر اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کے نیچے رہ گئی۔
اس آدمی نے اپنے ہاتھوں میں موجود ایک کپڑا اس کے منہ پر رکھ دیا تھا ۔جس کے بعد اسےکوئی ہوش و ہواس نہ رہا
°°°°°°°
سر میرا نہیں خیال کہ میڈم اس جگہ پر آئی ہوں گی۔
یہ تو عجیب سی جگہ ہے اور سر میڈم اس طرف کیوں آئیں گیں۔اگر انہوں نے جانا ہی ہوا تو وہ واپس اپنے شہر کی طرف جانے کی کوشش کریں گیں۔کیونکہ وہ اس شہر میں کسی کو نہیں جانتیں۔
مجھے تو لگتا ہے کہ ہمیں ایسی جگہ پر دیکھنے کے بجائے ریلوے اسٹیشن جانا چاہیے ۔کیونکہ انہیں اگر کہیں جانا ہوا تو وہ واپس اپنے شہر جانے کی کوشش کریں گی
امجد اس کے ساتھ چلتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا ایام نفی میں سر ہلا تا آگے پیچھے دیکھنے لگا تھا۔
نہیں ہیر یہیں پر ہے دیکھو اس کے موبائل کی لوکیشن ابھی تک یہیں پرٹریس ہو رہی ہے ۔
ہم بالکل صحیح جگہ آئے ہیں۔
سر لیکن یہ تو بہت عجیب ہے وہ یہاں کیوں آئے گی ۔۔۔۔۔۔؟
وہ خود بھی کافی زیادہ الجھا ہوا تھا جبکہ امجد اس کی لوکیشن دیکھتے ہوئے گارڈز کو اس جگہ دیکھنے کے لئے کہہ چکا تھا ۔
وہ ہر طرف اس جگہ کو چیک کر رہے تھے یہ دکھنے میں بہت پرانی جگہ لگتی تھی جیسے یہ کوئی قدیمی جگہ ہو اس طرف کوئی بھی نہیں آتا جاتا تھا
کیونکہ یہاں پر عجیب طرح کے قصے مشہور کردیے گئے تھے شاید لوگوں کو جن بھوت وغیرہ کا ڈر بتا کر اس جگہ کو بند کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی کئی دفعہ نشے میں دھت لوگوں کو اس طرف دیکھا گیا تھا ۔
لیکن لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ نشے میں لوگوں کو اپنی کوئی خبر نہیں ہوتی تو وہ جن بھوتوں جیسے چکروں میں کہاں پڑ سکتے ہیں ۔
اسی لئے اس طرف سوائے نشئیوں یا پھر غنڈوں کے اور کوئی نہیں آتا جاتا تھا۔
سر مجھے تو لگتا ہے کہ میڈم کا فون وغیرہ چوری ہوگیا کسی نشئی نے شاید یہ حرکت کی ہوگی ریلوے اسٹیشن پر یہ بہت عام سی بات ہے مجھے یہی لگ رہا ہے کہ ہم صرف یہاں پر وقت برباد کر رہے ہیں اور کچھ بھی نہیں ۔
ہمیں ریلوے اسٹیشن جانا چاہیے ابھی سب کچھ پتہ چل جائے گا ہمیں یہاں وقت نہیں برباد کرنا چاہیے امجد نے اسے سمجھانا چاہا تھا ۔
جس پر وہ ہاں میں سر ہلاتا باہر کی طرف جانے لگا کیونکہ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا ممکن تھا کہ اس کا فون چوری ہو گیا ہو وہ کتنی سمجھدار تھی یہ تو وہ اس کی اس حرکت سے اندازہ لگا ہی چکا تھا ۔
اسے مزید اس جگہ پر وقت برباد نہیں کرنا تھا ۔
°°°°°°°°
سر یہ رہی لڑکی اب بتائیں اس کا کیا کرنا ہے وہ زمین پر بے ہوش و حواس پڑی تھی جبکہ وہ لوگ سعد کے ماتھے پر بندوق رکھے ہوئے اسے ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ہیر کو دیکھ کر اسے سکون ملا تھا اسے نہیں لگا تھا کہ وہ یہاں آ جائے گی لیکن وہ نہ صرف یہاں آ گئی تھی بلکہ وہ تو ان لوگوں کو مل بھی چکی تھی ۔
سر دیکھیں دیکھیں ہیر آ گئی ہے اب پلیز آپ مجھے چھوڑ دیں مجھے جانے دیں۔آپ کو یہ لڑکی چاہیے تھی نہ تو لڑکی آپ لوگوں کے سامنے ہیں آپ لوگوں کو اس کے ساتھ جو کرنا ہے کریں بس مجھے جانے دیں ۔
بری طرح سے روتے ہوئے کہہ رہا تھا ڈر سے اس کی جان جا رہی تھی ۔
او بے غیرت تو چپ کر کے بیٹھ ۔
اور تم لوگوں نے ٹھیک سے پتا کروایا ہے نا یہی وہ لڑکی ہے نہ جو اس آدمی کو چاہیے اسی کی خاطر اس نے اسے پیسے دیے تھے نہ وہ ان لوگوں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔
اب یہ تو یہ آدمی بتائیے گا نا اس نے سوچا تھا کہ ہم اسے اتنی آسانی سے چھوڑ دیں گے ۔اور یہ اپنی ماں کو لے کر یہاں سے بھاگ نکلے گا
تجھے کیا لگا اگر تو لڑکی کو طلاق دے دے گا تو تو بچ جائے گا یا ہم تجھے ایسے ہی جانے دیں گے ۔بول یہی ہے نہ وہ لڑکی جس کے لیے کنگ نے تجھے پیسے دیے تھے
وہ سعد کے بال پیچھے کھینچتے ہوئے اس کے منہ پر بندوق رکھ کر پوچھنے لگے ۔
ہاں ہاں یہی ہے وہ لڑکی اسی کیلئے کنگ نے مجھے پیسے دیے تھے
اس کے آدمی میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے پوچھنے لگے تھے کہ کیا یہ لڑکی میری منگیتر ہے ۔
میں نے ان کو بتا دیا کہ یہ لڑکی میری منگیتر ہے اور دوسالوں بعد میری اس سے شادی ہونے والی ہے ۔
لیکن اس آدمی نے کہا کہ ابھی شادی کروا لو ۔اور ہم تمہیں اس شادی کی قیمت دیں گے میں لالچ میں آ گیا کہ مجھے بہت سارے پیسے ملنے والے ہیں ۔
ہیربہت خوبصورت تھی مجھے یہی لگا کہ وہ بڈھا اس پر مر مٹا ہے تو اچھا موقع ہے پیسے کمانے کا میں نے اس سے بہت بڑی رقم لے لی اور وعدہ کیا کہ میں اسے اس تک پہنچا دؤں گا ۔
شادی کے بعد تو میں نے ہیر کو ہاتھ بھی نہیں لگایا کیونکہ اس آدمی نے کہا تھا کہ اس کی خوبصورتی پر صرف اس کا حق ہوگا ۔
لیکن شادی والے دن مجھے پتہ چلا کہ اس آدمی کے بہت سارے دشمن ہیں جو میرے پیچھے لگ گئے ہیں کیونکہ اس آدمی کی کمزوری میری بیوی ہے ۔
مجھے اس آدمی کا فون آیا اور اس نے مجھے کہا کہ ہیر کو کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے ہیر دو مہینے تک اس کی امانت میرے پاس رہے گی ۔
میں نے یہی سوچا کہ میں ہیر کو لے کر یہاں سے بھاگ جاتا ہوں کیونکہ اس کی خوبصورتی پر میرا اپنا ایمان خراب ہونے لگا تھا ۔
لیکن میں نے ایسا نہیں کیا ۔کیونکہ اس طرح میری جان کو بھی ہر وقت خطرہ لاحق تھا ۔ہیر کو محفوظ جگہ پہنچانے کے لیے میں نے اسے اپنے کزن کے گھر بھیج دیا اور خود یہاں سے بھاگ کر لندن چلا گیا تھا تاکہ کنگ کے دشمنوں کی نظر مجھ پر نہ پڑے۔
باقی اسے اغواء کرنے کی کوشش تو آپ لوگوں نے بھی کی تھی لیکن ایام سکندر کے علاقے میں کوئی پرندہ ھی پر نہیں مار سکتا ۔
پچھلے چار مہینوں سے ہیر عدت میں تھی اس کی عدت پوری ہوئی تو آج وہ گھر سے باہر نکلی اور اس وقت یہ آپ کے سامنے ہے اب مجھے یہاں سے جانا ہے ۔
آپ لوگوں کا کام ہو گیا پلیز اب آپ لوگ مجھے چھوڑ دیں میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں میں یہاں سے بہت دور بھاگ جاؤں گا میں آئندہ ایسا کچھ بھی نہیں کروں گا مجھے جانے دیجئے ۔
اپنا منہ بند کر ورنہ میری بندوق بولے گی وہ اسے دھمکی دیتا دھکا مار کر پیچھے کرتا خود اپنا موبائل فون نکال کر کان سے لگا چکا تھا ۔
سر کنگ والی لڑکی مل چکی ہے ۔واقعی اتنی خوبصورت تو ہے کہ کنگ جیسے آدمی کا ایمان اس پر خراب ہو جائے اسے کہاں لے کر آنا ہے ۔
کہیں تو حیسنا بائی کے کوٹھے پر چھوڑکرآوں۔ایک ہفتے کے اندر اندر حسینہ اسے کوٹھے کی سب سے بڑی اور مہنگی طوائف بنائے گئی پھر کنگ کو بھیجیں گے اس کے پاس ۔۔۔۔۔۔۔وہ بے ڈھنگ سا قہقہ لگاتے ہوئے بولا تھا ۔
لیکن دوسری طرف سے کچھ کہا گیا فون بند کرنے کے بعد وہ اپنے آدمیوں کو ہیر کو بوس کے گھر بھیجنے کا حکم جاری کرنے لگا ۔
اسے باس کے گھر پہنچا دو سر نے کہا ہے کہ پہلے اس کا ایک ویڈیو بنا کر کنگ کو بھیجیں گے ۔تاکہ کنگ کو اندازہ ہوجائے کہ وہ چاہے اپنی چیز ہزار پردوں میں چھپا کر رکھے تب بھی اسٹیفن کی نظر سے بچ نہیں سکتی۔
اسٹیفن سر نے کہا ہے کہ پہلے وہ خود اس کے ساتھ اپنا وقت رنگین کریں گے اور پھر اسے حسینہ کے کوٹھے کی سب سے بڑی طوائف بنائیں گے ۔تاکہ ان کے دشمن کو پتہ چل جائے کہ وہ اس کے ساتھ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔
وہ اپنی بات مکمل کرتا ہیر کے چہرے کو دیکھنے لگا ۔
واقعی اس لڑکی پر تو کسی کا بھی دل آ سکتا ہے ۔اس نے ہیر کے قریب جاتے ہوئے کہا تھا ۔
اس کی نگاہیں اس کے چہرے پر الجھنے لگی تھیں وہ اس کے چہرے پر جھکنے ہی لگا۔
جب پیچھے سے اسے آدمی کی آواز سنائی دی ۔
سر اس طرح مت کریں اگر بوس کو پتہ چل گیا تو وہ آپ پر خفا ہوں گے ۔اور ویسے بھی ان کے بعد سب کچھ آپ کے ہی تو حصے میں آتا ہے تھوڑا صبر کر لیں ۔شاید وہ اس کی نیت کو سمجھ گیا تھا ۔
ارے یار انہیں تھوڑی نا پتہ لگے گا ۔کچھ بھی اور میں کون سا اسے کوئی بڑا نقصان پہنچانے جا رہا ہوں وہ مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے اس کے چہرے پر جھکنے ہی لگا تھا اچانک کسی نے زوردار لات اس کے منہ پر دے ماری ۔
وہ دور جا گرا تھا۔
جب کہ اپنے بوس کو گرتے دیکھ سب لوگ الرٹ ہوکراس کی طرف بھاگنے لگے تھے ۔
ان سب کا مقصد ان پر حملہ کرنا تھا لیکن ایام سکندر کو وہ لوگ جانتے ہی کہاں تھے ۔
وه تو بپھرا ہوا شیر تھا اپنے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو چیڑپھاڑ کر رکھ دینے کا حوصلہ رکھتا تھا ۔
اور وہ اس وقت اس آدمی کو چیڑپھاڑ دینا ہی چاہتا تھا وہ بری طرح سے اسے مار رہا تھا بلکہ مار چکا تھا کہنا زیادہ بہتر رہے گا ۔عجیب پاگل پن سوار تھا اس پر ۔اس کے ساتھ آئے لوگ بھی اسے حیرانگی سے دیکھ رہے تھے ۔اس وقت ان میں بھی اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ آگے بڑھ کر اسے روک پاتے
ایام تو یہ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کہ اگر وہ تھوڑی دیر یہاں آنے میں مزید کر دیتا تو ہیر کے ساتھ کیا ہو سکتا تھا۔
اس وقت سب سے زیادہ اگر کسی پر غصہ آ رہا تھا تو وہ ہیر ہی تھی جس پر وہ اپنا غصہ نکال نہیں سکتا تھا اسی لیے تو ان سب کی درگت بنا رہا تھا ۔
سر آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں ہم پولیس کو فون کرتے ہیں گاڑد اسے پیچھے کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ اسے مارتے مارتے پاگل ہو رہا تھا اس سے پہلے کہ وہ آدمی مر جاتا یا کیس بڑا بن جاتا وہ اسے روکتے ہوئے کہنے لگا ۔
نہیں یہ پولیس کا نہیں ایام سکندر کا کیس ہے ان سب کو ۔تم نے کہاں پہنچانا ہے یہ تم جانتے ہو وہ ایک زوردار لات اس کے منہ پر مارتا سعد کی طرف آیا تھا جو ایک سائیڈ کھڑا کانپتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔
لالہ شکر ہے آپ آ گئے ۔ورنہ یہ لوگ ہمیں مار ڈالتے ۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ اچانک ایام نے اسے سر سے پکڑ کر اتنی شدت سے زمین پر مارا کے دوسری آواز اس کی نکلی ہی نہیں ۔
°°°°°°
اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور مچا ہوا تھا یہ بہت عجیب سی جگہ تھی اندھیرا سا چھایا ہوا تھا لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اندھیرا اس کی آنکھوں کے سامنے تھا یہ اس کے دماغ کے اندر ۔
ہیر پوری آنکھیں کھولتے ہوئے زمین سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی اس کا سارا دیہان سامنے کھڑے اس آدمی پر تھا جو کسی کو بری طرح سے پیٹ رہا تھا ۔اور کچھ لوگ اسے ایسا کرنے سے منع کر رہے تھے ۔
اس کا دماغ آہستہ آہستہ بیدار ہو رہا تھا ۔وہ سب کچھ سمجھ رہی تھی سعد ایک طرف کھڑا کانپ رہا تھا ۔ان لوگوں نے بڑی مشکل سے اس آدمی کو اس کے ہاتھوں سے بچایا تھا
اسے سعد کی آواز سنائی دی تھی وہ تیزی سے چلتا اس آدمی کے پاس آگیا اور اسے کچھ کہنے لگا لیکن اس کا ہاتھ اٹھا اس کے سر کے پیچھے گیا اور اگلے ہی لمحے وہ زمین بوس ہوا تھا ایک زوردار آواز کے ساتھ سعد زمین پر پڑا تھا۔ شاید وہ بے ہوش ہو چکا تھا ۔
اس کے جسم میں کسی طرح کی حرکت نہیں ہوئی تھی ۔اور اس کی حالت دیکھ کر اس کے وجود میں کپکپاہٹ شروع ہوگئی ۔
وہ اس کی طرف پلٹ کر غصہ بھری سرخ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا ۔اور تیز تیز قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر اس نے پیچھے قدم اٹھائے تھے جس پر اس کا غصہ مزید بڑھ گیا ۔
وہ ایک جھٹکے سے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا اور پھر وہ رکانہیں بلکہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوئے لے کر جا رہا تھا ۔
ہیر کو اپنے وجود میں جان محسوس نہیں ہو رہی تھی وہ بس اس کے ساتھ بھاگتے ہوئے آ رہی تھی ۔
یہاں کیا ہوا تھا اور کیا ہونے والا تھا اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا وہ اس جگہ پر کیسے آئی تھی اسے تو یہ بھی یاد نہیں تھا ۔
اگر کچھ یاد تھا تو صرف اتنا کے وہ ایک کھنڈر میں تھی جہاں کسی نے اس کے منہ پر کچھ رکھا تھا
°°°°°°
گاڑی فل سپیڈ میں چل رہی تھی اس کی غصے سے رگیں باہر کو ابھری ہوئی تھیں وہ چاہ کر بھی اس سے کوئی بات نہیں کر پا رہی تھی ۔
اس وقت اس کے چہرے پر اتنی وحشت تھی کہ وہ اسے مخاطب تک نہیں کر پا رہی تھی ۔
یہ ہم کہاں آئے ہیں ایام۔۔۔۔۔۔وہ جو کب سے گاڑی چلا رہا تھا اچانک ایک جگہ میں بریک لگاتے ہوئے گاڑی کو روک گیا ۔
چپ ۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم چپ۔۔۔۔۔اب تمہارے منہ سے ایک لفظ نہ نکلے اب اگر تم کچھ بولو گی تو صرف تین دفعہ قبولیت کے الفاظ ۔
اس کے علاوہ اگر مجھے تمہاری آواز بھی سنائی دی تو وہ تمہاری زندگی کی آخری آواز ہوگی یاد رکھنا ۔
کیا سوچا تھا تم نے میری ناک کے نیچے سے تم اس طرح سے بھاگ جاؤ گی اور میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہوں گا۔۔۔۔۔۔؟
نو ڈارلنگ نو کیا کرنے جا رہی تھی تم اپنے بھائی کے ساتھ مل کر یہاں سے بھاگنے کی تیاری۔اتنا شوق ہو رہا سعودیہ جانے کا
تو ڈارلنگ ہنی مون پر تمہیں لے جاؤں گا تمہارے بھائی کے پاس اور وہاں پر تمہیں یہ بھی اچھے سے پتہ چل جائے گا کہ وہ تمہیں وہاں کیوں بلا رہا ہے ۔
کوئی دودھ کا دھلا نہیں ہے تمہارا بھائی ۔۔۔۔۔۔ جو اپنی بہن کو یہاں نہ حفاظت دے سکا وہ وہاں کیوں دے گا ۔
حمدان گیلانی سے تمہاری منہ مانگی قیمت وصول کرچکا ہے۔بکلہ مکان بھی نام۔کروا چکا ہے۔ اور جاننا چاہتی ہو حمدان گیلانی کون ہے میرا بزنس پارٹنراور میرا بہت قریبی دوست ۔
میری ہونے والی بیوی کو میرے دوست کے آگے بیچ رہا ہے تمہارا بے غیرت بھائی ۔
وہ اس کے سامنے اس کے بھائی کا اصل چہرہ لاتے ہوئے اس کے کانوں میں سیسہ اُنڈیھل رہا تھا ۔
جھوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھوٹ بولتے ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی کبھی ایسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد ثبوت بھی دکھا دوں گا تمہیں باہر نکلو وہ اسے گاڑی سے باہر نکلنے کا اشارہ کرنے لگا سامنے مسجد تھی ۔
پچھلی گاڑیوں سے آدمی نکل کر مسجد کے اندر داخل ہو چکے تھے جب کہ ہیرکی تو سانسیں تک خشک ہونے لگی تھیں یہ کیا ہونے جا رہا تھا اس کے ساتھ ۔
وہ تو اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لئے تو اس سے دور بھاگ رہی تھی لیکن یہاں تو اس کا ہر راستہ بند ہوچکا تھا ۔
ایام میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں م کرنا چاہتی میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی میں کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتی پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب اچانک اس نے اس کے ماتھے پر بندوق رکھی تھی ۔اس کی آواز اس کے حلق میں کہیں دب گئی تھی خوف سے آنکھیں پھیلائے وہ اس کا وحشت ناک چہرہ دیکھ رہی تھی ۔
دل کے ساتھ ساتھ اس کا جسم بھی ہولے ہولے لرزنے لگا تھا وہ اچانک اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولتا اس کے پاس آیا اور ایک بار پھر سے اس کا نازک سا ہاتھ تھام کر اندر کی طرف گھسٹتے ہوئے لے کر جا رہا تھا
