60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junon) Episode 21

دن تیزی سے گزر رہے تھے اس کا بھائی ہر روز اسے فون کرتا اور اسے بلانے کی معلومات فراہم کرتا۔

وہ ان دنوں بے حد پرسکون تھی اس کا بھائی اس کے بارے میں سوچ رہا تھا اس کا خیال کر رہا تھا اس کے لیے یہی بہت بڑی بات تھی ۔

اور اب وہ اسے ہمیشہ کے لیے وہاں بلا رہا تھا اپنے پاس ابھی تو وہ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ وہ یہاں ایک اچھا لڑکا دیکھ کر اس کی شادی کر دے گا اور اس کا فیوچر محفوظ ہاتھوں میں سونپ دے گا ۔

لیکن وہ کبھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن فی الحال وہ یہ سب کچھ اسے بتا کر اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔

یہ ساری باتیں بعد کی تھیں ایک دفعہ وہ اپنے بھائی کے پاس پہنچ جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔بس وہ یہاں سے نکلنا چاہتی تھی جلد سے جلد اپنے بھائی کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی ۔

کل تو اتفاق سے اس کی بھابھی نے بھی فون پر اس سے بات کی تھیں اس کے لب و لہجے میں افسوس تھا۔کیونکہ جو کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا اور بقول اس کی بھابی کے کوئی چھوٹی سی بات نہیں تھی ۔

اور یہ بات تو وہ خود بھی بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی لیکن اس نے اپنی بھابھی کے انداز میں کسی طرح کا کوئی غصہ یا طنز محسوس نہیں کیا تھا شاید وہ بھی اس کی کنڈیشن کو سمجھ رہی تھی اور پھر بعد میں اس نے بہت پیار سے بات کی ۔

کافی دیر وہ دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتی رہیں۔اور پھر فون بند کرنے کے بعد بھی وہ اسی کے بارے میں سوچتی رہی تھی بہت جلد وہ اپنے بھائی اور بھابھی کے پاس ہوگی یہ احساس ہی اس کے لئے بہت خوبصورت تھا ۔

اب اسے ایام کا احسان اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی وہ خود ہی اپنے بھائی کے پاس جا رہی ہے ۔

°°°°°°

ہیر کو کیا ہر روز اس کے بھائی کا فون آتا ہے اور ان دونوں کی آپس میں کیا بات ہوتی ہے کیا اس نے تم سے کبھی بھی شیئر کیا ۔کیا اس نے تمہیں اس بارے میں کچھ بھی بتایا وہ آج صبح گھر سے نکلنے سے پہلے تانیہ سے پوچھنے لگا ۔

نہیں سر اس نے مجھے بتایا تو کچھ نہیں بس یہی بتایا کہ اس کے بھائی کا فون آتا ہے اور جب فون آتا ہے تب تک میں سو چکی ہوتی ہوں مجھے اندازہ نہیں ہے کہ ان دونوں میں کیا بات ہوتی ہے۔

اور ویسے بھی بہن بھائی کی پرسنل باتیں سننا مجھے کچھ مناسب بھی نہیں لگتا لیکن اگر آپ کہیں گے تو میں آپ کو بتا دوں گی ۔

تانیہ کو یہی لگا تھا کہ وہ جاننا چاہتا ہے کہ ہیر اپنے بھائی سے کیا باتیں کرتی ہے اور اتنے دنوں کے بعد اس کا بھائی اس سے رابطہ کیوں کر رہا ہے ۔۔۔۔۔”یقینا یہ سوال تو اس کے ذہن میں آنا ہی چاہیے تھا کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے تانیہ خود بھی یہی سوچ رہی تھی

نہیں اس کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں میں تمہیں اس پر نظر رکھنے کے لیے نہیں کہہ رہا میں صرف پوچھ رہا ہوں کہ وہ تم سے سب کچھ شیئر کرتی ہے تو یقیناً تمہیں اس بارے میں بھی کچھ نہ کچھ بتاتی ہوگی ۔

کیونکہ میرے خیال میں اس کا بھائی اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا تو اب یوں رابطہ کرنا کچھ عجیب لگ رہا ہے مجھے ویسے اسے اپنی بہن کی کبھی یاد نہیں آئی اور اب ہر روز اسے فون کرتا ہے ۔

اسے ہیر کی طلاق کے بارے میں تو یقیناً پتہ چل ہی گیا ہوگا اور یہ بھی کہ وہ یہاں اس گھر میں رہتی ہے تو کیا اس نے اس کے گھر پر رہنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔بس میں یہ جاننا چاہتا ہوں اور کچھ بھی نہیں ۔اگر تم ہیر سے پوچھ کر بتا دو تو مناسب رہے گا ۔

وہ اپنی بات مکمل کرتا باہر نکل گیا تھا جب کہ تانیہ نے صرف ہاں میں سر ہلایا تھا وہ آج رات ہیر سے اس بارے میں بات کرنے والی تھی اور اگر ہیر نا بھی بتاتی تو بھی وہ اپنے سر کے لیے خود ہی کوشش کر سکتی تھی

•••••••

گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بھی وہ مسلسل ہیر کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ہیر کا بھائی اسے کبھی فون نہیں کرتا تھا وہ انسان جو ہیر کو اپنا بوجھ سمجھ کر سر سے اتار کر کسی کے ساتھ بھی باندھ کر چلا گیا تھا وہ اب اسے بار بار فون کر رہا تھا۔

کل رات وہ سٹڈی روم سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگا تو اس کے کمرے سے آواز سنائی دی تھی ۔

اس وقت شاید وہ اپنی بھابی سے بات کر رہی تھی ۔اور کہہ رہی تھی کہ بہت جلد میں آپ سے ملوں گی شاید وہ لوگ واپس آنے والے تھے ۔یا کوئی اور مسئلہ تھا فی الحال تو وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

لیکن اگر اس کا بھائی اس کی طلاق کے بارے میں جان چکا ہے تو یقیناً اس کے کسی غیر مرد کے گھر پر رہنے پر اعتراض تو ہوگا ہی ۔

حقیقتا وہ انسان اسے بالکل بھی پسند نہیں تھا لیکن وہ ہیر کا بھائی تھا ۔اور یقینا ہیر اس سے بہت محبت کرتی تھی شاید اسے ہیر کا رشتہ بھی اس سے مانگنا پڑ سکتا تھا ۔

ہیر کے لیے تو وہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار تھا اگر اسے رشتہ مانگنا بھی پڑتا ہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن نہ جانے کیوں اسے لگ رہا تھا کہ اس کی سوچ سے دور کچھ ہو رہا ہے جو نہیں ہونا چاہیے پتا نہیں اسے کیوں لگ رہا تھا کہیں نہ کہیں ہیر اس کے لیے کوئی مصیبت تیار کر رہی ہے ۔

وہ اسے کسی بھی طرح کی مصیبت کا شکار نہیں ہونے دے سکتا تھا بہت جلد وہ اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے والا تھا اس کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے وہ صرف اس کے سامنے نہیں جا رہا تھا اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اپنی من مرضی کرے

°°°°°°°

یار مجھے تم سے ایک سوال پوچھنا ہے جیسا کہ تمہارا تمہارے بھائی کے ساتھ رابطہ ہو چکا ہے۔

تو انہیں سب کچھ پتہ چل چکا ہے تمہاری طلاق کے بارے میں تو کیا انہوں نے تمہارے یہاں رہنے پر اعتراض نہیں کیا میرا مطلب ہے کہ وہ تمہیں ایک غیر مرد کے گھر پر کیوں رہنے دیں گے ۔۔۔۔۔”

مطلب وہ بھائی ہیں تمہارے توانہیں برا تو لگا ہی ہوگا نہ یہ جان کر کے تم کسی انجان مرد کے گھر پر ہو۔

ایام سر کوتو شادی سے پہلے تم جانتی بھی نہیں تھی اور پھر اس آدمی کا تعلق بھی تمہارے پہلے شوہر سے ہے میرا مطلب ہے کہ تمہارے شوہر کابھائی ہے۔تو انہوں نے کوئی اعتراض تو اٹھایا ہی ہوگا نا ۔۔۔۔۔”

وہ دونوں کچن میں کھڑی پاپکون بنا رہی تھی جب اس نے ہیر سے سوال پوچھ لیا پہلے تو ہیر نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔

کیوں کے فل حال وہ کسی کو بھی بتانا نہیں چاہتی تھی کہ وہ یہاں سے جانے کا ارادہ ارادہ رکھتی ہے ابھی تک وہ یہ بات صرف اپنے تک محدود رکھے ہوئے تھی اور آگے بھی ایسا ہی سوچا تھا ۔

اعتزاض تو ہوگا ہی نا۔ظاہر سی بات ہے لیکن اتنے دور بیٹھ کر وہ بھلا کیا کر سکتے ہیں اس وقت وہ بہت مجبور ہیں اور میں نے بھی ان کے سامنے ایام کی بہت تعریفیں کی ہیں انہیں بتایا ہے کہ ایام کتنے اچھے ہیں اور بنا کسی غرض کے مجھے یہاں رکھ رہے ہیں ۔میری مدد کر رہے ہیں۔اس لیے انھوں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا

بلکہ وہ تو ایام کے شکرگزار ہیں اور بات بھی کرنا چاہتے ہیں ان سے۔اس نے مسکرا کر جواب دیا

ہاں تم نے انہیں یہ بھی تو بتایا ہوگا نہ کہ تم دونوں کی جلدی شادی ہونے والی ہے تو ان کا اعتراض کرنا بنتا بھی نہیں ہے

۔کتنا اچھا ہوتا نہ کہ اگر وہ یہاں پر آجاتے تمہاری اور ایام سر کی شادی میں ابھی تو کافی سارا وقت ہے ۔آ نہیں سکتے کیا وہ تانیہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی تو اس نے صرف ہاں میں سر ہلایا تھا ۔

ہاں ابھی بہت وقت ہے میری تقریباً روز ہی ان سے بات ہوتی ہے میں ان سے ضرور کہوں گی یہاں آنے کے لیے اگر وہ آ جائیں گے تو اچھا ہو گا۔

لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ ممکن ہو سکے گا کیونکہ سعودی عرب سے یہاں آنے میں بہت خرچہ ہوتا ہے اور پھر میرے بھائی بہت زیادہ امیر نہیں ہیں ۔وہ پوپکون لے کر باہر نکل گئی تھی جہاں روحی باہر صوفے پر بیٹھی اس کی منتظر تھی کیونکہ آج وہ پھر سے اس کی پسند کی فلم دیکھنے والے تھے ۔

°°°°°°°

ایام شام کو گھر واپس آیا تو اسے ہیر اور روحی باہر باغ میں نظر آئی تھی۔جسے دیکھتے ہی ہیر چہرہ پھیر گئی جبکہ روحی اس کی جانب بھاگتے ہوئے آئی اور اسے ہگ کر لیا

وہ اسے اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے اس کے گال پر بوسہ دیتا خود فریش ہونے چلا گیا تھا جب کہ روحی واپس ہیر کے پاس چلی گئی تھی کیونکہ وہ اسے کلرز کی پہچان بتا رہی تھی ۔

وہ اندر داخل ہوا تو اسے سامنے سے ہی تانیہ آتی نظر آگئی ۔تانیہ بھی اسے دیکھتے ہی اس کی طرف قدم بڑھانے لگ گئی تھی وہ کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتا تھالیکن اس کے پاس ہی رک گیا ۔

ایام سر میں نے نہ آپ کا سوال اس سے پوچھ لیا تھا اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ اس کے بھائی کو یہاں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔

اور ویسے بھی ہیر اپنے بھائی کو آپ کے متعلق سب کچھ بتا چکی ہے اور اسے یہ بھی بتا دیا ہے کہ وہ آپ سے شادی کرنے والی ہے ۔

اور ہیر کے بھائی نے اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا میں نے اس سے کہا تھا کہ اگر ممکن ہوسکے تو وہ اپنے بھائی کو یہاں پر بلا لے آپ کی اور اپنی شادی میں لیکن ہیر نے کہا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا ۔

ہیرکا بھائی شاید یہ بات بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا ہے کہ آپ ایک اچھے انسان ہیں اور ہیر کو یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے اس نے مسکراتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تھی جس پر ایام صرف ہاں میں سر ہلاتا اپنے روم کی طرف چلا گیا تھا وہ مطمئن تو اب بھی نہیں ہوا تھا۔

لیکن ہیر کا اپنے بھائی کو یہ بات بتا دینا کہ وہ ایام سے شادی کرنے والی ہے اسے کافی پرسکون کر گیا تھا اگر اس بات کی وجہ سے ہیر کا بھائی کوئی اعتراض نہیں اٹھا رہا تھا تو یہ بہت اچھی بات تھی ۔

°°°°°°=

یہ لیجئے میڈم سر نے آپ کے لئے چائے بھجیی ہے وہ گرما گرم چائے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی جبکہ روحی کے فیڈر میں اس کا دودھ وہ اسے پہلے ہی تھما چکی تھی ۔

تانیہ تم تو جانتی ہو نا کہ میں دن میں چائے نہیں پیتی مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے وہ تو اماں نے عادت لگا دی تھی اسی لیے صبح پی لیتی ہوں ورنہ مجھے چائے کا ذائقہ اتنا پسند نہیں ہے تم نے بیکار میں زحمت کی ۔

اس وقت میں ہرگز چائےنہیں پیتی وہ انکار کرنے لگی تھی یہ حقیقت تھی۔ کہ وہ صبح ایک کپ چائے کا لیتی تھی اس کے علاوہ اس نے کبھی چائے کی فرمائش نہیں کی تھی ۔

میڈم آپ نہ شادی سے پہلے چائے کی عادت ڈال لیں کیونکہ سر کو تو ہر گھنٹے کے بعد چائے پینے کی عادت ہے بلکہ بیماری ہے وہ چائے کے بنا رہ ہی نہیں سکتے ۔

آفیس میں بھی یہاں گھر پر بھی اور وہ کہیں باہر جاتےہیں تو بھی ہر گھنٹے کے بعد چائے کی طلب شدت سے جاگتی ہے اور وہ اس چیز پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتے ویسے تو میں جانتی ہوں کہ تم دوپہر میں چائے نہیں پیتی لیکن سر نے کہا کہ ایک کپ میرے لئے اور ایک ہیر کے لیے بناؤ ۔

تبھی تو میں تمہارے لیے بنا کر لائی ہوں وہ اسے تفصیل سے بتا رہی تھی جبکہ ہیر نے اب بھی چائے کا کپ نہیں تھاما کیونکہ وہ اسے پینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی اس کی نفی میں سر ہلانے پر تانیہ نے اسے گھور کر دیکھا جس پر وہ پیاری سی مسکان کے ساتھ ہنسی تھی ۔

میری پیاری سی دوست جو چیز مجھے پسند ہی نہیں ہے وہ بلا زبردستی کیوں پیوں گی۔ میں اسے کچن میں رکھ کر آتی ہوں تم تب تک روحی کے ساتھ کھیلو اس کے ناراضگی سے منہ بنانے پر وہ فورا اس کی نگاہوں کے سامنے سے اٹھ گئی تھی جبکہ تانیہ دور تک اس کی پیٹھ کو گھورتی رہی ۔

••••••••

وہ چائے کا کپ اندر کچن میں رکھ کر باہر نکلنے لگی تھی جب وہ اسے کیچن میں داخل ہوتا نظر آیا اس نے اگلے ہی لمحے اپنا چہرہ پھیر لیا تھا ۔جبکہ اس کی اس حرکت پر وہ بنا کچھ بولے آگے بڑھتا گیا

اور تیزی سے قدم اٹھاتا اپنا خالی رکھنے ہی لگا تھا جب ایک چائے کا بھرا ہوا کپ اسے نظر آیا ۔

یہ چائے کا کپ میں نے تمہارے لیے بنوایا تھا تم نے اس کو پیا کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔؟

وہ یونہی چہرہ پھیرے اس سے پوچھ رہا تھا ۔

میں دن میں چائے نہیں پیتی اور نہ ہی مجھے ایسی کوئی عادت ہے اور نہ ہی مجھے چائے ضرورت سے زیادہ پسند ہے میں صرف صبح کے وقت پیتی ہوں ۔اسی لئے میں واپس رکھنے کے لئے آئی تھی۔ وہ جواب تو نہیں دینا چاہتی تھی لیکن پھر بھی جواب دے دیا ۔

جانے کیوں ایام کا اس طرح سے چہرہ پھیر کر کھڑے رہنا اسے اچھا لگ رہا تھا وہ پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ وہ سعد کے نام پر اسے اپنی زندگی کے دن برباد نہیں کرنے دے گا لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس کے فیصلے کا اتنا احترام کر رہا تھا ۔

نا چاہتے ہوئے بھی اس کے دل میں ایام کے لیے ایک نرم گوشہ پیدا ہونے لگا تھا ۔

چائے تو آپ کو پینی پڑے گی محترمہ کیونکہ جو شخص چائے نہیں پیتا اس کے ساتھ میں یارانہ نہیں رکھتا۔اور یہ بات تو مجھے زندگی نے سکھائی ہے جو شخص چائے نہیں پیتا اس کے ساتھ دوستی نہیں کرنی چاہیے ۔چائے پینے والے وفادار ہوتے ہیں۔ اور آپ کے ساتھ تو بہت گہرا تعلق بنانا ہے ۔

اس کا لوجک اسے بہت عجیب لگا تھا ہیر نے حیرانگی سے اس کی پیٹھ کو دیکھا تھا ۔

اگر میں چائے نہیں پیوں گئی تو کیا میں وفادار نہیں ہوں گی اور آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہنا چاہتی تھی کہ اگر وہ چائے نہیں پئے گئی تو کیا وہ اس سے شادی نہیں کرے گا لیکن وہ پہلے ہی اس کی بات کاٹ گیا

چائے پینی پڑے گی تمہیں ہیر تم سے پہلی دفعہ کوئی فرمائش کی ہے۔اتنا تو حق رکھتا ہوں تم پر زندگی بھر کا ساتھ نبھانا ہے تمہارا۔ وہ اس کا کپ اٹھاتا وہیں کھڑے کھڑے اس کی طرف بڑھ چکا تھا ہیر نے کوشش کی تھی انکار کرنے کی لیکن نہ جانے کیوں وہ کر نا پائی۔

اس نے کہا تھا چائے نہ پینے والے بے وفا ہوتے ہیں وہ شاید خود کو بے وفا نہیں کہلوانا چاہتی تھی ۔حالانکہ وہ کیا سوچتا ہے اس بات سے توہیر کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا

۔عادت نہیں ہے مجھے ۔اس نے ایام کے ہاتھ سے کپ تھامتے ہوئے کہا تھا ۔

ڈال لو ۔۔۔”کتنا وقت لگتا ہے عادت ڈالنے میں وہ مسکرا کر کہتا کچن سے نکل گیا ۔جب کہ وہ جو واپس کپ رکھنے کا ارادہ رکھتی تھی یوں ہی کپ اٹھائے باہر نکل آئی

°°°°°

بابا دانی مامادانی تب شے امارے تمرے میں آ تر رہےدی (بابا جانی ماما جانے کب سے ہمارے کمرے میں آ کر رہیں گی )

آت تو بتایا تا نا کنگ اور کوئن ایک شات شوتے ہیں اول پرنشش بیت میں شوتی اے(آپ کو بتایا تو تھا کنگ اور کوئین ایک ساتھ سوتے ہیں اور پرنسیز بیچ میں سوتی ہے)

رات کو سونے کے لیے وہ اس کے کمرے میں آئی تو اس کا سوال سن کر مسکرا دیا ۔

آپ کی برتھ ڈے کے بعد اس نے بس اتنا سا جواب دیا اور لیپ ٹاپ پہ اپنے کام میں مصروف رہا جبکہ وہ فیڈر ہاتھ میں پکڑے اسے گھور رہی تھی ۔

اب کیا ہوگیا میرے بچے کو وہ اسے خود کو گھورتے پا کر اس کی طرف متوجہ ہو گیا تھا ۔

یہ لیپی ٹوپی اپ تی گودی می تیا تر رہا اے یہ تو میلی داگہ ہے نا(یہ لیپی ٹوپی آپ کی گودی میں کیا کر رہا ہے یہ تو میری جگہ ہے نہ )۔۔۔۔۔۔۔وہ غصے سے لیپ ٹاپ کو دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔

اس نے فورا اپنی ضروری فائل سیو کیے بنا ہی لیپ ٹاپ بند کر دیا تھا اپنی بیٹی کو غصے میں دیکھ کر وہ گھبرانے کی بھرپور اداکاری کر رہا تھا ۔

سو سوری جان کام کر رہا تھا لیکن اب صبح کرونگا وہ بھی اسے ٹیبل پر رکھ کر وہ اسے اپنی گود میں لیتے ہوئے پیار سے بولا تھا ۔

دندہ لیپی ٹوپی (گندا لیپی ٹاپی) ۔۔۔۔وہ اس کی گود میں لیٹی ہوئی اپنے منہ میں فیڈر ڈال چکی تھی جب کہ وہ مسکرا کر اس کا ماتھا چومتا اس پر کمبل سیٹ کرنے لگا ۔

شاید وہ اپنے باپ کو کسی کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار نہیں تھی یہاں تک کہ وہ اسےاپنے ٹویٹی کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دیتی تھی کہ کہیں اس کےٹیڈی کو اس کے باپ کا پیار نہ مل جائے اور ہیر کو وہ خود اپنے باپ کی زندگی میں شامل کرنا چاہتی تھی ۔

وہ جانتا تھا تھوڑی مشکل تو ہونے والی ہے اس کی زندگی لیکن شاید تھوڑی مشکلات کے ساتھ بہت ساری خوشیاں بھی اس کی زندگی میں آنے والی ہیں