Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junon) Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junon) Episode 20
وہ شام کو گھر واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں بہت سارے شاپنگ بیگ تھے تانیہ کو یہی لگا کہ وہ اپنی شاپنگ کرکے آیا ہے تھوڑی دیر پہلے وہ گھر آیا تو باہر سے ہی روحی کو بلا لیا اور روحی اس کے ساتھ کہیں چلی گئی تھی
اب ان کی واپسی تقریبا ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ہوئی تھی اس نے آج تک کبھی بھی ایام کو اپنے لئے شاپنگ کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا لیکن آج تو وہ بہت سارا سامان لے آیا تھا وہ اپنی شاپنگ ہمیشہ سے آن لائن ہی کرتا تھا ۔
سر یہ آپ نے اپنے لئے شاپنگ کی ہے یا روحی میڈم کے لئے کیونکہ آپ تو اپنے لئے صرف آن لائن شاپنگ کرتے ہیں۔اور روحی میڈم کو فی الحال شاپنگ کی ضرورت نہیں ہے وہ بڑی ہو رہی ہیں اور ان کی ساری نیو ڈریس چھوٹی ہو رہی ہیں ۔بلکہ ساری ویسٹ ہو رہی ہے کہنا زیادہ بہتر رہے گا ۔اس نے پیچھے ملازم کو بیگز تھامیں آتے دیکھ کر پوچھا تھا ۔
ام نے یہ شاری شوپگ ہونےوالی ماما دانی تے لیے تی اے(ہم نے یہ سارے شاپنگ ہونےوالی ماما جانی کے لئے کی ہے)
انوں نے اتے ٹائم شے شوپگ نی تی اش لیے ان تےلیے یہ شب کتھ لے تر ائے ہیں ( انہوں نے اتنے ٹائم سے شاپنگ نہیں کی نا اسی لئے ان کے لئے یہ سب کچھ لے کر آئے ہیں ۔)
روحی نے بڑی معصومیت سے اسے بتایا تھا جب کہ وہ بیگز تانیہ کے حوالے کرنے لگا ۔
تانیہ یہ سب ہیر کے حوالے کر دو ۔یہ ساری شاپنگ ہم نے اسی کے لئے کی ہے دیکھ لو اسے اگر کچھ پسند نہیں ہے تو ہم چینج کروا لیں گے ۔باقی یہ تمہارے لیے ہیں اس نے تین بیگ اس کی طرف بڑھا دیے۔
تھینک یو سو مچ سر مگر اس کی ضرورت نہیں تھی وہ شرمندہ سی ہو گئی
ضرورت کیوں نہیں تھی تم نے میرےایک بار کہنے پر اپنا گھر چھوڑ کر یہاں رہنا بہتر سمجھا میرے لئے بہت بڑی بات ہے اور یہ تم اپنے باس کی عنایت نہیں اپنے بھائی کا تحفہ سمجھ کر رکھو اس نے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔تو وہ بھی مسکرا دی
چیک کروا لو اسے پتہ نہیں اسے میری پسند کی گئی چیزیں پسند آئیں گی بھی یا نہیں کچھ ڈریس اس میں روحی نے پسند کیے ہیں باقی الموسٹ سب کچھ میں اپنی مرضی سے لے کر آیا ہوں ۔
اس کو دے دو یہ سب کچھ وہ بیگز اس کے حوالے کرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا جبکہ روحی کا ارادہ اپنی ہونے والی ماما جانی کو سب کچھ دکھانے کے لئے جانے کا تھا ۔
اسی لیے وہ تانیہ کے ساتھ ہی ہیر کے کمرے کی طرف چلی گئی تھی ۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب ایام کے جانے تک باہر نہیں نکلے گی ۔پتا نہیں وہ اس کے بابا کے سامنے کیوں نہیں آتی تھی
••••••
ارے اتنے سارے بیگز اتنی ساری شاپنگ کون کرکے آیا ہے یہ سب کہیں روحی تو نہیں لائیں اس نے کمرے کے اندر داخل ہوتی روحی کو دیکھا جو اپنا بیگ لیے اندر آ رہی تھی جب کہ تانیہ ساری چیزیں بیڈ پر رکھ رہی تھی ۔
یس میڈم روحی شاپنگ پر گئی ہوئی تھی بس ابھی اپنے بابا جانی کے ساتھ واپس آئی ہے اور یہ ساری چیزیں وہ تمہارے لئے لے کر آئی ہے چیک کرو اپنی شاپنگ وہ سارے بیگس اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔
میرے لئے۔۔۔۔۔۔۔؟ میرے لئے کیوں ۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے تو کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی میرے لئے اتنا کچھ لانے کی کیا ضرورت ہے بھلاوہ اچھی خاصی نروس ہو گئی تھی
وہ تو سر اور ان کی بیٹی ہی جانتی ہے کہ تمہارے لیے یہ سب کچھ لانے کی کیا ضرورت ہے ویسے مجھے بھی فائدہ ہو گیا ہے مجھے بھی اتنے پیارے پیارے ڈریسز ملے ہیں اپنے بھائی کی طرف سے ۔
پلیز اب مجھ سے یہ مت پوچھنا کہ تمہارا کون سا بھائی میرا کوئی بھائی نہیں ہے ایام سر ہی میرے بھائی ہیں وہ بڑے فخریہ انداز میں بولیں تو وہ مسکرا دی تھی ۔
ارے دیکھو نا اپنی شاپنگ پھر روحی بھی اپنی شاپنگ تمہیں دکھائے گی وہ روحی کے ہاتھ میں بیگز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔
نہیں مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی تمہیں کیا ضرورت تھی لے کر آنے کی تم یہ ساری چیزیں انہیں واپس کردو مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا اس طرح سے کسی سے کوئی چیز لیتے ہوئے اس نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا جب روحی نے منہ بنا لیا ۔
می انے پیال شے آپ تے لیے یہ شب کتھ لائی ہو اور آپ انتار تر رہی ہیں بیٹ مینرز ۔
(میں اتنے پیار سے آپ کے لیے یہ سب کچھ لے کر آئی ہوں اور آپ انکار کر رہی ہیں بیٹ مینرز ۔)
ایشے نہ ترتے دب توئی پیال شے کتھ دیتا ہے تو لکھ لیتے ہیں
(ایسے نہیں کرتے جب پیار سے کوئی کچھ دیتا ہے تو رکھ لیتے ہیں) اس نے کسی بڑی بوڑھی کے انداز میں کہا ۔
دیکھو یہ بچی کتنی سیانی ہے اور تم اتنی بڑی گوری جتنی ہو کر سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہی ہو وہ کتنے پیار سے تمہارے لئے چیزیں لے کر آئے ہیں اور ویسے بھی یہ مرد حضرات صرف شادی کے پہلے ہی شاپنگ کرواتے ہیں ۔
اسی لیے فائدہ اٹھا لینا چاہیے اور اب فضول کی کوئی بات نہیں جلدی سے یہ سب کچھ اوپن کرو اس میں کچھ ڈریس روحی کی پسند کے ہیں اور باقی سارے سر کی پسند کے ذرا دکھاؤ مجھے سر نے تمہارے لئے کیا پسند کیا ہے ۔
میں نے آج تک کسی مرد کو کسی عورت کے لئے شاپنگ کرتے نہیں دیکھا اسی لیے نہ مجھے کافی زیادہ ایکسائٹمنٹ ہو رہی ہے تانیہ نے اسے کھل کر اپنی فیلنگز بتائی تھیں جب کہ وہ خاموشی سے بنا کچھ کہے سارے بیگ کھولنے لگی تھی ۔
°°°°°°°
ساری شاپنگ بے حد خوبصورت تھی وہ تو ایام کی پسند کو دیکھ کر حیران ہو گئی تھی جو شخص اپنے لئے شاپنگ نہیں کرتا اس کے لیے اتنی بہترین شاپنگ کرکے آئے گا یہ تو اس کو اندازہ بھی نہیں تھا ۔
روحی والی بھی سبی اچھی تھی لیکن شاید اس نے اس کے پردے کا خیال نہیں رکھا تھا کسی کی آستین نہیں تھی تو کوئی اتنی زیادہ سٹائلش تھی کہ وہ پہن نہیں سکتی تھی جب کہ ایام کی ساری ڈریس قابل تعریف تھی ۔
وہ سمجھ سکتی تھی اور روحی کو ان سب چیزوں کی سمجھ نہیں جو کلر اسے پسند آیا وہی اس نے اس کے لیے اٹھا لیا تھا اور ایام نے بھی اسے خوش کرنے کے لئے پیک کروا لی تھی
اور اب اس کی مجبوری یہ تھی کہ اسے ان سب ڈریس کی تعریف بھی کرنی پڑ رہی تھی جو اسے ہرگز پسند نہیں آئی تھی جبکہ روحی یہ سوچ کر خوش ہو رہی تھی کہ اس نے بہت ہی خوبصورت شاپنگ کی ہے یہاں تک کہ ایک ڈریس تو اپنا اور اس کا بلکل سیم لے کر آئی تھی ۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ ضرورت سے زیادہ شارٹ تھی یقینا وہ روحی پر بہت ہی خوبصورت لگتی ۔لیکن خود کو ایسی ڈریس پہنے ہوئے سوچ کر ہی اس کی کانوں کی لوح سرخ ہونے لگی تھی ۔
روحی آپ کے بابا جانی نے آپ کو یہ لینے سے منع نہیں کیا تھا تانیہ اس کی حالت دیکھتے ہوئے مزے سے روحی کو پاس بٹھا کر پوچھنے لگی جس پر روحی نے بھی بڑے مزے سے نفی میں سر ہلایا تھا
بابادانی نے بولاتا یہ والی ڈریش ماما دانی شرف بابادانی کے شامنے پہنے دی(بابا نے بولا تھا کہ یہ والی ڈریس ماما دانی صرف باباجانی کے سامنے پہنے گی)روحی نے بات مکمل کی ہی تھی کہ تانیہ کا بے اختیار قہقہہ بلند ہوا ۔
مجھے پہلے ہی اندازہ تھا مبارک ہو تمہارے ہونے والے شوہر کافی رومینٹک ثابت ہونے والے ہیں ۔وہ اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی تھی جبکہ ہیر کا تو وہاں ان کے سامنے روکنا ہی محال ہو گیا تھا ۔
بس بہت ہوگئی فضول باتیں ہٹو مجھے نماز ادا کرنی ہے جب دیکھو اس کے شیطانی دماغ میں کچھ نہ کچھ الٹا ہی چلتا رہتا ہے وہ تانیہ کو گھورتے ہوئے اٹھ کر وضو کی نیت سے واش روم میں چلی گئی تھی جبکہ وہ پیچھے اس کی ساری چیزیں سمیٹنے لگی ۔
جب کہ روحی بھی اپنا سامان لیے خوشی خوشی اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتی تھی ۔ویسے تو اس گھر میں اس کا ایک شاندار کمرا موجود تھا۔
لیکن ابھی وہ پرنسز اپنے بابا جانی کا کمرہ ان کے ساتھ شیئر کر رہی تھی اور کمرے کے ساتھ ساتھ الماری اور باقی ساری چیزیں بھی اسی لیے یہ سب کچھ ایام کے کمرے میں ہی جانے والا تھا۔
ایام نے اسے جلدی واپس آنے کے لیے کہا تھا کہ وہ اس کی ساری چیزوں کو سنبھال کر رکھ سکے ۔لیکن پھر بھی اپنی ماما جانی کو سب کچھ دکھاتے ہوئے اسے کافی وقت لگ گیا تھا
°°°°°°
وہ ساری چیزیں آئے ہوئے کافی دن ہو چکے تھے لیکن ابھی تک اس نے کچھ بھی استعمال نہیں کیا تھا ۔
ویسے تو وہ اس کے سامنے نہیں جاتی تھی لیکن پھر بھی اس کے پیسوں سے ایسی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے اسے بہت عجیب لگ رہا تھا ایک تو پہلے ہی اس کے گھر پڑی تھی اس کا کھا رہی تھی اور اب وہ اس کے لئے شاپنگ بھی کر رہا تھا ۔
اتنا خیال تو سعد نے اس کی ضرورتوں کا نہیں رکھا تھا جتنا وہ غیر شخص رکھ رہا تھا ۔ناچاہتے ہوئے بھی اس کے دل میں عجیب طرح کے خیال آنے لگے تھے شاید وہ دل ہی دل میں اس کے اچھے انسان ہونے کا اعتراف کر رہی تھی ۔
لیکن وہ اچھا انسان کیسے ہو سکتا ہے جو اپنی ہی بھابھی پر نظر رکھے ہو اس کا دل کچھ اور دماغ کچھ اور کہتا تھا ۔اور ہر بار اس کا دماغ اس کے دل کی سوچ پر حاوی ہو جاتا تھا ۔
اس وقت وہ عجیب طرح کی کشمکش کا شکار تھی کبھی وہ شخص اسے حد سے زیادہ اچھا لگتا تو کبھی حد سے زیادہ برا لگنے لگتا اس کی سوچ ایک لمحے کو کچھ اور دوسرے لمحے کو کچھ اور ہونے لگتی تھی وہ اپنی ہی فیلنگز کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
وہ نماز پڑھ کے فارغ ہوتی بیڈ پر بیٹھی اسی کے متعلق سوچ رہی تھی جب اس کا فون بجنے لگا بلا اسے کس کا فون آسکتا تھا سوچ کر اس نے فون پر نظر دوڑآئی جہاں سعودی عرب کا نمبر جگمگا رہا تھا ۔
یہ نمبر اس کے بھائی کا تھا اس نے اگلے ہی لمحے ایک گہرا سانس کھینچ کر فون اٹھا لیا تھا وہ جو ایک ہفتہ پہلے اس کا فون کاٹ کر اس سے رابطہ ختم کر چکا تھا آج اتنے دنوں کے بعد پھر سے اسے فون کر رہا تھا ۔
لیکن آج اسے اس کی بہن کی یاد کیسے آگئی یہ جاننا تو ضروری تھا اب بلا اس کا بھائی اسے کیوں فون کر رہا تھا۔جبکہ اس دن کتنی امید سے اس نے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ وہ اسے یہاں سے لے جائے
۔اس دن اسے یقین تھا اس کا بھائی اسے ان سب چیزوں میں نہیں رہنےدے گا وہ کیسے بھی اسے اپنے پاس بلا لے گا لیکن اس دن اس نے ہیر کا مان توڑ دیا تھا اور آج اسے اس سے کوئی امید نہ تھی اس نے فون اٹھاتے ہوئے اپنے کان سے لگایا لیکن بولی کچھ بھی نہیں ۔
°°°°°°
السلام علیکم چھوٹی کیسی ہے تو طبیعت کیسی ہے تیری وہ کافی فکر مندی سے بول رہا تھا جبکہ اس کے انداز پر نہ جانے کیوں اس کے لبوں پرتلخ مسکراہٹ آ گئی ۔
الحمدللہ بالکل ٹھیک ہوں مجھے کیا ہوگا بھائی میں تو عیش میں ہوں یہاں کسی کے ٹکڑوں پر پڑی ہوں۔ شوہر تو چھوڑ چکا ہے بھائی چھوڑ کر دورسات سمندر پار بھاگ گیا میری ذمہ داری اٹھا نہیں سکتا یہاں تک کہ امید کے لیے اپنا کوئی سہارا تک چھوڑ کر نہیں گیا تو کیسی ہوسکتی ہے وہ بہن نجانے کیوں اس کے لبوں سے شکوہ پھسلا۔
تم ایسا نہیں کہہ سکتی ہیر میں تم سے دور ہوں لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ مجھے تمہاری فکر نہیں ہے میں پچھلے ایک ہفتے سے تمہارے ہی لیے خوار ہو رہا ہوں تم جانتی تک نہیں ہو کہ میں یہاں تمہارے لئے کیا کیا سوچے ہوئے ہوں۔
تم نے مجھے کہا کہ بھائی مجھے وہاں بلالیں۔ تو کیا میں اگلے ہی لمحے تمہیں بلا لوں گا مجھے یہاں کام کرنا پڑے گا ویزہ پاسپورٹ ہر چیز کی تیاری کرنی پڑے گی کسی غیر ملک میں جانے کے لیے پیپرز کی ضرورت ہوتی ہے اور تمہارے پاس ہے کیا ہر چیز مجھے دیکھنی پڑے گی نا ۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں غیروں کے بیچ میں چھوڑ دوں گا میں تو یہ سوچ سوچ کر سو نہیں سکا کے تم ایک غیر مرد کے گھر پر ہو۔پتہ نہیں وہ آدمی تمہارے بارے میں کیا کیا سوچتا ہوگا کس نیت سے اس نے تمہیں رکھا ہوگا تم سے زیادہ میں پریشان ہوں ۔
وہ بولا تو پھر بولتا ہی چلا گیا ہیر کوایک لمحے کیلئے اپنے الفاظ پر پچھتاوا ہوا تھا ۔
ایم ریلی سوری بھائی میں بہت فضول بول گئی میں بہت پریشان ہوں آپ جانتے ہیں میں یہاں کن حالات میں ہوں یہاں سے آپ ہی مجھے نکال سکتے ہیں پلیز مجھے جلدی سے جلدی وہاں بلا لیجیے وہ لمحے میں سب کچھ بھلا کر اپنے بھائی سے اپنا دکھ شیئر کرنے لگی ۔
ہاں میری جان میں تمہیں جلدی سے جلدی یہاں بلا لوں گا تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تم بس مجھے اپنے شناختی کارڈ کی تصویریں بھیج دو تاکہ میں تمہارے ویزا اور پاسپورٹ کا انتظام کر سکوں وہاں پاکستان میں بہت سارے لوگوں سے میرا رابطہ ہے ۔
جو تمہارے سارے کاغذی کام کروا دیں گے اس کام کے لیے تقریبا ڈھائی سے تین مہینے لگ جائیں گے تب تک تمہیں وہیں پر رہنا ہوگا کیونکہ اس وقت وہیں پر محفوظ ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ تم کسی بھی طرح کے مسئلہ کا شکار ہو میں جلد سے جلد تمہیں یہاں بلا لوں گا ۔
وہ اپنی بات ختم کرتے ہوئے بولا تھا جبکہ ہیر نے اس کی ایک ایک بات کو بہت غور سے سنا اسے اس کے شناختی کارڈ کی تصویریں وغیرہ چاہیئے تھی اور وہ فورا ہی کال ختم ہونے سے پہلے ہی ہر چیز نکال کر اپنے ہاتھ میں رکھ چکی تھی۔
اور پھر کال بند ہونے کے فورا بعد ہی اس نے ساری تصویریں بنا کر اسے سینڈ کر دی تھی اب یقینا وہ جلد سے جلد اسے یہاں سے نکال لے گا اسے کسی سے شادی نہیں کرنی پڑے گی وہ اپنے بھائی کے پاس رہے گی یہ احساس ہی اس کے لیے ایک نئی زندگی بخشنے والا تھا
°°°°°°°
دیکھو ایک بات میری کان کھول کر سن لو وہ آئے گی تو سارے کام وہی کرے گی میں کچھ نہیں کروں گی ویسے بھی یہاں کے ملازم کتنے پیسے لیتے ہیں اب تم جتنا خرچہ اس پر کرو گے نہ وہ تو تمہارے ۔۔۔۔۔۔۔۔
خاموش ہو جاؤ کوئی بھی بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں کیا لگتا ہے یہ سارا خرچہ اس پر میں کر رہا ہوں میرا دماغ خراب نہیں ہے ۔تمہیں پتا بھی ہے ایک انسان کو وہاں سے یہاں بلانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔
وہ تو پرانی تصویروں میں میرے کفیل حمدان گیلانی نے اس کی تصویر دیکھ لی اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے تمہیں اندازہ بھی ہے کہ مجھے کتنا فائدہ ہو سکتا ہے اس شادی سے یہ جس گھر میں ہم رہتے ہیں نا وہ گھر ہمارا ہو سکتا ہے ۔
لیکن تمہارا کفیل حمدان گیلانی تو پہلے سے ہی شادی شدہ ہے بلکہ ایک نہیں دو دو بیویاں رکھی ہوئی ہیں اس نے وہ کنفیوز ہو کر اس سے پوچھنے لگی ۔
پر یہاں پر سب الاؤڈ ہے یہاں ایک آدمی چار بیویاں بھی رکھ سکتے ہیں تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور ویسے بھی جتنی خوبصورت میری بہن ہے حمدان گیلانی پوری طرح اسی کے قابو میں ہوگا خوبصورتی کمزوری ہے اس کی میں تو ویسے بھی سعد کے ساتھ اس کی شادی کرکے پچھتارہا تھا ۔
تم یہاں دیکھنا میری بہن مہرانی بن کر رہے گی ۔قسمت بدل جائے گی اس کی یہاں آ کر ساری زندگی میراشکر ادا کرے گی ۔وہ خوش ہوتے ہوئے بولا تھا ۔
جبکہ بھابی کندھے اچکا کر رہ گئی کیونکہ ایک مرد یہ بات نہیں سمجھ سکتا تھا کہ ایک عورت کے لیے سوتن سے بڑا اور کوئی دکھ نہیں ۔بے شک اس کا شوہر اس سے کتنی ہی محبت کیوں نہ کرتا ہوں لیکن وہ اپنے مقام پر کسی عورت کو برداشت نہیں کر سکتی یہ بات اس کے شوہر کو سمجھ نہیں آنی تھی وہ تو اپنی طرف سے اپنی بہن کے لئے بہترین فیصلہ کر رہا تھا ۔
وہ پہلے بھی کہہ چکا تھا کہ فضول میں سعد کے ساتھ ہیر شادی کر دیں اگر وہ پہلے ہمدان گیلانی کی آفر کے بارے میں سوچتا تو شاید اس کی بہن نہ صرف اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتی بلکہ یہاں پر عیش کر رہی ہوتی اور جس گھر میں وہ رہتا ہے وہ گھر بھی اسی کے نام کروا چکی ہوتی ۔
اس نے پہلے یہ بات نہیں سوچی تھی لیکن اس کی بہن کی خوبصورتی کافی حد تک اس کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی تھی۔
کیونکہ اس کا کفیل حمدان گیلانی تو صرف اور صرف خوبصورتی کا شادائی تھا ۔خوبصورتی اس کی کمزوری تھی اور اتفاق سے اس کی دونوں بیویاں ہی خوبصورت نہ تھی اور اس کی بہن خوبصورتی میں کسی سے کم نہیں تھی۔
اس بات کا احساس اسے ہمدان گیلانی نے ہی دلایا تھا جب وہ پہلی دفعہ سعودیہ آیا تھا تب سے اس کے پاس ایک تصویر تھی جس میں اس کی ماں اور بہن اس کے ساتھ تھی ۔
جسے دیکھ کر حمدان گیلانی کی سوچ بدل گئی تھی اس نے جب بے تابی سے ہیر کے بارے میں پوچھا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ اس کی بہن شادی شدہ ہو چکی ہے اور اس کے بعد جب حمدان گیلانی نے اسے آفر کی تب نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس چیز کے بارے میں سوچنے لگا اور سعد اور ہیر شادی کو لے کر ایک پچھتاوا بھی اس کو ہو رہا تھا
